Home / کالم / عشقِ حسین ؓمیری زندگی

عشقِ حسین ؓمیری زندگی

حسینؓنے وعدہ وفا کردیا
حسینؓ سب کا حسینؓرب کا
علی جان (لاہور)
وہ جس نے ناناﷺ کاوعدہ وفاکردیا
گھرکا گھرجس نے سپردخداکردیا
کربلاکا دلخراش واقعہ 10محرم الحرام 61ھ 10اکتوبر680عیسوی کو پیش آیاچھ ماہ کے علی اصغرؓکوگلے میں تیرمارکرشہیدکردیا گیا حالانکہ 6ماہ کابچہ شیرخوارہوتا ہے اسے نہ دنیا کا پتہ ہوتا ہے نہ دنیاکی لڑائی سے کوئی غرض نہ تھی ۔اگرحضرت امام حسین ؓ کو اپنی اور اپنے خاندان کی جان بچانی ہوتی تو یزیدکے آگے ہتھیارڈال دیتے مگرمیرے پیارے آقاﷺ کے خاندان نے اللہ کے سوا کسی کے آگے جھکنے کا سوچا تک نہیں اس وجہ سے قرآن پڑھتے رہے اللہ کا وردکرتے رہے چاہے سرقلم کیوں نہ ہوگیااسی لیے کسی شاعرنے کیا خوب کہا ہے
سرکٹ گیا بدن سے تلاوت نہیں رکی
قرآن سے حسین کارشتہ عجیب ہے
آخرکیا اسباب وعوامل تھے کہ حسینؓنے یزیدکی بیعت نہ کی بلکہ شہیدہونا قبول کیا:1۔حضرت امام حسین ؓ اس وجہ سے یزید کے آگے نہ جھکے کیونکہ آپ دین اسلام کی حفاظت اورفسق وفجوز کا خاتمہ چاہتے تھے اگرآپ یزیدکے آگے ہتھیارڈال دیتے تو آج دین کا شاید صرف نام ونشان ہوتاجسے آپ ؓ کے ناناﷺ پوری دنیا کی بھلائی کیلئے لائے تھے اسلام کی بے راہ روی بڑھ جاتی اگریزید کے بیعت کرلیتے اللہ تعالیٰ نے کسی ایسے شخص کی تابعداری کرنے سے منع فرمایا جو اپنی خواہش کا غلام ہواورفسق وفجوز میں مبتلا ہوارشاد باری تعالی ہے کسی ایسے شخص کی تابعداری نہ کرو جس کے دلوں کو ہم نے اپنی اطاعت سے غافل کردیانہ اس شخص کی جو اپنی خواہش کی اتباع کرے اور اس کا معاملہ حدسے بڑھا ہوا ہے (کہف:28)2۔جس طرح کوفیوں نے باربارخط لکھ کرحضرت امام حسین سے مدد طلب کی اگرآپ مدد کو نہ جاتے تو لوگ آپ ؓ کو ذمہ دار ٹھہراتے کہ کوفی فسق وفجوز کے خاتمے کیلئے مدد مانگ رہے تھے پرامام حسین ؓ نے مددنہ کی اسی طرح آپ نے فسق وفجوذ سے سمجھوتہ نہ کیا3۔حضرت امام حسینؓ نے کربلا جانے سے پہلے اپنے چچا زاد بھائی کو کوفہ بھیجا تاکہ حقیقت کا پتا چلے کہ وہ دین کے خیرخواہ ہیں یا نہیں امام حسینؓ کو حکومت مدینہ سے غرض نہ تھی اورنہ ہی فاسق وفاجرشخص کی بیعت کرنا چاہتے تھے علامہ اقبال :دشت کربل میں کھڑاسوچ رہا تھا اسلام……فائدہ کیا ہواکافرکومسلمان کرکے 4۔پھرجب امام حسین ؓ کربلا پہنچے تویزیدی سپہ سالارسے ملاقات کی اور تین شرطیں رکھیں)۱)یزیدسے ملنے کا موقع دیاجائے (۲)مجھے سرحد کی طرف جانے کا موقع دیا جائے)۳)ہمیں مدینہ منورہ لوٹ جانے دیا جائے ۔اس سے یہ بات نہیں تھیں کہ آپ یزیدسے ڈرگئے تھے بلکہ آپ مسلمانوں کو شروفسادسے دوررکھنا چاہتے تھے ورنہ ایسی شرطیں کیوں رکھتے آپ نے یزید کی بیعت سے انکاراس لیے کیا کیوں کہ یزیدکھلم کھلا فسق وفجوز میں مبتلا تھااسی لیے حسین کریمین کے کنبے سمیت کئی فدائیوں کو شہیدکرکے سمجھے کہ ان کی جیت ہوئی یزید کی اس غفلت پرشاعرنے کیاخوب کہا ہے :
کربلا میں اولادیں کٹیں حسینؓ کی
مگر…نسلیں مٹ گئیں یزید کی
محرم الحرام کے مہینے کے بارے میں رسول نبی کریمﷺ نے فرمایا یہ اللہ پاک کا مہینہ ہے ویسے تو سارے دن اللہ تعالٰی کے ہیں مگر کچھ مہینوں کو اللہ پاک کی نسبت سے اسکی فضیلت ظاہرہوتی ہے ۔محرم الحرام ان چارمہینوں میں سے ایک ہے جنہیں اللہ پاک نے حرمت والے مہینے کہا ہے اور رمضان کریم کے روزے کے بعد سب سے زیادہ ثواب عاشورہ کے روزہ کا ہے ۔ہمارے معاشرے میں لوگ کہتے ہیں کہ حضرت امام حسین شہیدہیں اورشہیدزندہ ہوتا ہے زندہ لوگوں کا ماتم تو نہیں کیا جاتا اور حسین ہمیشہ کیلئے زندہ ہیں اس حوالے سے میں نے کئی علماءسے ذکرکیا تو ہرعلماءنے پہلے یہیحدیث مبارکہ سنائی ”حسین منی وانامن حسین“ جس کا ترجمہ ہے حسین مجھ سے ہے اور میں حسین سے ہوں اور آگے آپ ﷺ نے فرمایا اللہ پاک اسے دوست رکھے جو حسین کو دوست رکھے ۔توایک عالم نے کہاوہ لوگ ماتم کرتے ہیں اور روتے ہیں جن کے دل میں عشق حسین ہے ایک شاعرنے کیا خوب لکھا ہے کہ:
یارب غم حسینؓ کے رونے کے واسطے
آنکھوں میں آنسوﺅں کا سمندراتاردے
آپ نے آخری بار حجت کے طورپر عمرسعدکوبلایا اور فرمایا میرے قتل سے باز آجاﺅ اورمجھے پانی دے دو اگریہ قبول نہیں تو ایک ایک کرکے اپنے سپاہی کٹنے کیلئے بھیجوتو عمرسعدنے ایک ایک سپاہی بھیجنے کا معاہدہ کیا مگرایک کے بعدایک حضرت امام حسینؓ کی تلوار سے گاجرمولی کی طرح کٹنے لگے توعمرسعدنے اپنے لشکرسے کہا دیکھ کیا رہے ہو سب ایک ہوکے حملہ کرویہ علی کا شیرہے اس سے ایک ایک کرکے کامیابی حاصل نہیں کرسکتے پہلے حملے میں آپکی تلوار سے ایک ہزارنوسوپچاس یہودی مارے گئے ابھی آپ سانس نہ لے پائے تھے کہ 28,000دشمنوںکالشکرآن ٹوٹاآپ پرمسلسل حملوں کی وجہ سے ایک پتھرآپ کی پیشانی اقدس پرلگا اس کے فوراًبعدابوالحتوف ملعون نے آپکی جبین مبارک پر تیرماراجسے آپ نے نکال کرپھینکا اور کچھ پوچھنے ہی والے تھے کہ ایک اورتیرسہ شعبہ پیوست ہوگیاجو زہریلا میں ڈبوکرلائے تھے اسکے بعدصالح ابن وہب لعین نے آپ کے پہلوپرپوری طاقت سے نیزاماراجس کی تاب نہ لاتے ہوئے آپ تپتی زمین پر رخسارکے بل گرے اور فوراًاٹھ کھڑے ہوئے ورعہ ابن شریک لعین آپ کے دہنے شانے پروارکیاملعون نے دوسری طرف وارکیاتوآپ دوبارہ زمین پرگرپڑے اتنے میں سنان بن انس نے آپؓ کی ہنسلی پرنیزہ مارااوراسے کھینچ کردوسری مرتبہ سینہ اقدسپرماراآخرمیں شمرملعون نے آپ کے کندھے پر سوارہواتوآپ نے پوچھا کون ہوتو اس نے کہامیں شمرہوں اور مجھے ایسا کرنے سے یزیدسے مال وزرملے گا حضرت امام حسین نے اپنے ساتھیوں کو اپنے ناناﷺ کو اوراللہ رب العزت کو یادکرتے کرتے شہادت کے رتبے پرفائض ہوگئے:
خوش نصیب ہے وہ جسے شہادت ملے
شہادت خوش نصیب ہے حسین ؓ مل گیا
قارائین آپ میرے کالم ٹویٹرپرپڑھ سکتے ہیں
twitter@aj4641924

Check Also

لمحہ فکریہ

  لمحہ فکریہ تحریر ۔۔۔ شیخ توصیف حسین گزشتہ روز میں نے ایک عمر رسیدہ ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *