Home / کالم / علامہ محمد اقبالؒ اور نظریہ پاکستان کی تشکیل

علامہ محمد اقبالؒ اور نظریہ پاکستان کی تشکیل

 

 

علامہ محمد اقبالؒ اور نظریہ پاکستان کی تشکیل
تحریر میاں نصیراحمد
تصور پاکستان شاعر مشرق علامہ محمد اقبال رحتمہ اللہ علیہ کو پاکستان کے قومی شاعر کی حیثیت سے جوعظمت و احترام اور مقبولیت ملی ،وہ شاید ہی کسی اور شاعر کو نصیب ہوئی ہو، علامہ محمد اقبال رحتمہ اللہ علیہ پیشے کے اعتبار سے قانون دان تھے،لیکن ان کی شہرت روح بیدار کرنے والی لازوال شاعری کی وجہ سے ہوئی جسے آج بھی پڑھا جاتا ہے،شاعر مشرق علامہ محمد اقبال رحتمہ اللہ علیہ 9نومبر 1877کو پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم سیالکوٹ میں حاصل کی اور گورنمنٹ کالج لاہور کے علاوہ، انگلینڈ اور جرمنی کے مختلف اداروں میں بھی تعلیم حاصل کی، ان کو اردو، فارسی، عربی اور انگلش زبانوں پر مکمل عبو رحاصل تھا،شاعر مشرق علامہ محمد اقبال رحتمہ اللہ علیہ کو بچپن میں ہی سید میر حسن جیسے استاد کی شاگردی کا شرف حاصل ہوا تو ان کی طبیعت میں بھی تصوف، ادب اور فلسفے کا رنگ غالب آگیا(لب پہ آتی ہے دعا بن کے تمنا میری۔ زندگی شمع کی صورت ہو خدایا میری )ڈاکٹر علامہ محمد اقبال رحتمہ اللہ علیہ بیسویں صدی کے ایک معروف شاعر، مصنف، قانون دان، سیاستدان، مسلم صوفی اور تحریک پاکستان کی اہم ترین شخصیات میں سے ایک تھے، اردو اور فارسی میں شاعری کرتے تھے اور یہی ان کی بنیادی وجہ شہرت ہے۔ شاعری میں بنیادی رجحان تصوف اور احیائے امت اسلام کی طرف تھا،علامہ اقبال کو دور جدید کا صوفی سمجھا جاتا ہے۔ بحیثیت سیاستدان ان کا سب سے نمایاں کارنامہ نظریہ پاکستان کی تشکیل ہے جو انہوں نے 1930ء میں آلہ اباد میں مسلم لیگ کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے پیش کیا تھا، یہی نظریہ بعد میں پاکستان کے قیام کی بنیاد بنا۔ گو کہ انہوں نے اس نئے ملک کے قیام کو اپنی آنکھوں سے نہیں دیکھا لیکن انہیں پاکستان کے قومی شاعر کی حیثیت حاصل ہے۔ان کی فارسی شاعری ،اردو شاعری سے بھی زیادہ گہری اورپ±ر اثر ہے۔ وہ آزادی وطن کے علمبردار تھے۔ سیاسی تحریکوں میں حصہ لیتے تھے۔ آ پ مسلم لیگ میں شامل ہوگئے اور آل انڈیا مسلم لیگ کے صدر منتخب ہوئے آپ کا آلہ اباد کا مشہور صدارتی خطبہ تاریخی حیثیت رکھتا ہے اس خطبے میں آپ نے پاکستان کا تصور پیش کیا۔ 1931ءمیں آپ نے گول میز کانفرنس میں شرکت کرکے مسلمانوں کی نمائندگی کی ۔ یہاں پربڑی غورطلب بات یہ ہے کہ علامہ محمد اقبال کیؒ تعلیمات اور قائداعظم کی ان تھک کوششوں سے ملک آزاد ہوا اور پاکستان معرض وجود میں آیا۔شاعر مشرق علامہ اقبال حساس دل و دماغ کے مالک تھے آپ کی شاعری زندہ شاعری ہے جو ہمیشہ مسلمانوں کے لیے مشعل راہ بنی رہے گی، یہی وجہ ہے کہ کلام اقبال دنیا کے ہر حصے میں پڑھا جاتا ہے اور مسلمانان عالم اسے بڑی عقیدت کے ساتھ زیر مطالعہ رکھتے اور ان کے فلسفے کو سمجھتے ہیںعلامہ محمد اقبال رحتمہ اللہ علیہ نے نئی نسل میں انقلابی روح پھونکی اور اسلامی عظمت کو اجاگر کیا، ان کی کئی کتابوں کے انگریزی ، جرمنی ، فرانسیسی، چینی ، جاپانی اور دوسرے زبانوں میں ترجمے ہو چکے ہیں۔ جس سے بیرون ملک بھی لوگ آپ کے متعرف ہیں، بلامبالغہ علامہ اقبال ایک عظیم مفکر مانے جاتے ہیں حکیم الامت علامہ اقبال صحیح معنوں میں اسلامی نظام کے حامی تھے۔تصور پاکستان شاعر مشرق علامہ محمد اقبال رحتمہ اللہ علیہ نے پاکستان کا خواب دیکھا یہی وجہ ہے کہ قائد اعظم محمد علی جناح ، علامہ اقبال کو اپنے لےے مشعل راہ مانتے تھے ،لاہور اورینٹل کالج میں 1893 سے لے کر 1897 تک سرایڈون آرنلڈ کے زیرسایہ تعلیم حاصل کرنے کے دوران اقبال نے پہلی مرتبہ جدید فکر کا مطالعہ کیا تھا اور1899 میں یہاں سے ایم۔ اے فلسفہ کیا، اور ساتھ ہی عربی شاعری پڑھانا شروع کی اور معاشرتی و معاشی مسائل پر قلم اٹھایا،شعر و شاعری کا شوق بھی آپ کو یہیں پیدا ہوا اور اس شوق کو فروغ دینے میں آپ کے ابتدائی استاد مولوی میر حسن کا بڑا دخل تھا۔ یونیورسٹی آف کیمبرج سے لاءکرنے کے لئے آپ نے نے 1905 میں ہندوستان چھوڑا لیکن یہ فلسفہ ہی تھا جس نے آپ کی سوچ پر غلبہ کر لیا۔ٹرینٹی کالج میں ہیگل اور کانٹ کا مطالعہ کرنے کے بعد وہ یورپی فلسفہ کے بنیادی رجحانات سے واقف ہوگئے، فلسفہ میں دلچسپی نے انہیں1907 میں ہائیڈ لبرگ اور میونح پہنچایا جہاں نطشے نے ان پر گہرے اثرات مرتب کئے ،یہاں بڑی غور طلب بات یہ ہے کہ اقبال نے نئی نسل میں انقلابی روح پھونکی اور اسلامی عظمت کو اجاگر کیا، ان کی کئی کتابوں کے انگریزی، جرمنی، فرانسیسی، چینی، جاپانی اور دوسری زبانوں میں ترجمے ہو چکے ہیں اور اس دور میں مسلم امہ میں موجود مایوسی کے باوجود وہ روشن مستقبل کی توقعات کا اظہار ان الفاظ میں کرتے تھے ،آپ کی شاعری زندہ شاعری ہے جو ہمیشہ مسلمانوں کے لیے مشعل راہ بنی رہے گی ،اس زمانے میں آپ نے بچوں کے لئے بھی بہت سی نظمیں لکھی ہیں، اس کے ساتھ ساتھ مکالماتی بیان مثلا مکڑا اور مکھی، پہاڑ اور گلہری، گائے اور بکری کو بھی نہایت خوبصورت پیرائے میں تخیل کا جز بنا دیا۔ کبھی بچے کی دعا کہہ گئے، جو ہر اسکول کے بچے کی زبان پر ہے ،(لب پہ آتی ہے دعا بن کے تمنا میری۔ زندگی شمع کی صورت ہو خدایا میری )یہاں پر بڑی غور طلب بات یہ ہے کہ علامہ اقبال کے نزدیک انسان ہی سب سے اعلیٰ و ارفع مخلوق ہے۔ اسی کی وجہ سے کائنات وجود میں آئی۔ ہر شے کی حقیقت انسان ہے ،ایک سچے اور پکے مسلمان ہونے کے ساتھ ساتھ علامہ اقبال ایک سچے اور پکے عاشق قرآن اور عاشق رسول ﷺ بھی تھے اور شاعر مشرق علامہ محمد اقبال رحتمہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ اس دنیا کی تخلیق کی اصل وجہ ذات نبیﷺہے ©©،کی محمدﷺ سے وفا تونے تو ہم تیرے ہیں یہ جہاں کیا چیز لوح قلم تیرے ہیں ، علامہ اقبال خوددار تھے ، شاہین صفت تھے ، شفیق تھے ، مرد مومن تھے ، صاف گوتھے ،جمہوریت پسند تھے،آپ کی شاعری کا سب سے بڑا وصف یہی ہے کہ آپ نے ان دونوں بنیادی ماخذ قرآن کریم اور احادیث نبوی ﷺ سے جو کچھ حاصل کیا، اسے اپنی اردو اور فارسی شاعر کے علاوہ اپنے تمام خطبات، مضامین و مقالات ، تحریر و بیانات اور مکاتیب و پیغام میں پیش کر دیاجن سے اہل دانش اور اہل اصحافب فکر و نظر استفادہ کرتے رہتے ہیںاورشاعر مشرق علامہ اقبال حساس دل و دماغ کے مالک تھے آپ کی شاعری زندہ شاعری ہے جو ہمیشہ مسلمانوں کے لیے مشعل راہ بنی رہے گی۔ یہی وجہ ہے کہ کلام اقبال دنیا کے ہر حصے میں پڑھا جاتا ہے ۔ شاعر مشرق علامہ محمد اقبال رحتمہ اللہ علیہ ایک جگہ فرماتے ہیں کہ اگر انسان واقعی قیمتی بننا چاہتا ہے اور بلند مقام پر فائز ہونے کی آرزو رکھتا ہے تو اس کو اپنی خودی کی حفاظت کرنی ہوگی ورنہ ا س کا مقام بھی دوسرے جانداروں سے مختلف نہیں ہوگا۔یہاں پر بڑی غور طلب بات یہ ہے کہ یہ علامہ اقبال رحتمہ اللہ علیہ ہی تھے جنہوں نے قائد اعظم محمد علی جناح کو انگلستان سے واپس بلا کر انہیں ایک بار پھر ہندوستان کی سیاست میں متحرک کرنے کے لئے ہر ممکن کوشش کی کیونکہ آپ جانتے تھے جناح ہی وہ واحد فرد ہیں جو اپنے انتھک عزم اور سیاسی بصیرت کے باعث مسلمانوں کے حقیقی لیڈر بننے کے اہل ہیں اور جناح کی لیڈرشپ ہی بے شمار مسائل میں جکڑے مسلمانوں کی دوا بنے گی۔ ہم باآسانی یہ کہہ سکتے ہیں کہ اگر فکرِ اقبال نہ ہوتی تو ایک الگ وطن کا اتنا واضح نظریہ سامنے نہ آتا اور نہ ہی قائداعظم میں وہ تحریک پیدا ہوتی جس نے مسلم لیگ کے پلیٹ فارم کو استعمال کرتے ہوئے کانگریس کے مسلمانوں کو اقلیت قرار دے کر ہندو مطلق العنانی کے خواب کو چکناچور کردیا، ساتھ ہی تاج برطانیہ پر بھی واضح کردیا کہ مسلمانوں کے جداگانہ تشخص کو مانے بغیر ہندوستان میں سیاسی استحکام نہیں آسکتا اور یہ اسی وقت ممکن ہے جب ہندوستان کو دو الگ اور آزاد ریاستوں میں تقسیم کردیا جائے۔ اس طرح علامہ اقبال نے آلٰہ آباد میں جوخواب دیکھا اس کی تعبیر 14 اگست 1947 کو پاکستان کی صورت میں مسلمہ حقیقت بن کر ابھری ،اور آپ نے مسلمانوں کے ذہنی اور فکری جمود کو اپنی شاعری سے جھنجھوڑ ڈالا اور غفلت کی نیند سوئی قوم کو بیدار کردیا۔آپ نے تمام عمر مسلمانوں میں بیداری و احساس ذمہ داری پیدا کرنے کی کوششیں جاری رکھیںپاکستان کی آزادی سے پہلے ہی علامہ انتقال کر گئے تھے،علامہ اقبال کا فلسفہ خودی اور مرد مومن کا تصور ہر مسلمان نوجوان کیلئے تھا اور آج بھی اگر امت مسلمہ افکارِ اقبال پر عمل کرتی ہے تو اسکے مسائل حل ہوجائیں گے ،علامہ اقبال کا خطبہ آلٰہ آباد درحقیقت مطالبہ پاکستان ہی تھا کیونکہ انہوں نے اس میں مسلم اکثریت کے علاقوں پر مشتمل ایک خود مختار ریاست کا تصور دیا تھا،علامہ اقبال عاشق رسول تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات مبارکہ کو مشعل راہ سمجھتے تھے۔ حکیم الامت ہمیشہ نوجوانوں کی تربیت اور پرورش اسلامی خطوط پر کرنے کو ترجیح دیتے رہے ،اگر آج ان کے کلام کو سمجھ کر اس پر عمل کیا جائے تو امت مسلمہ اپنی کھوئی ہوئی عظمت دوبارہ حاصل کرسکتی ہے ،پاکستان کی آزادی سے پہلے ہی 21 اپریل 1938 کو علامہ اقبال انتقال کر گئے تھے تااہم ایک عظیم شاعر اور مفکر کے طور پر قوم ہمیشہ ان کی احسان مند رہے گی،جس نے پاکستان کا تصور پیش کرکے برصغیر کے مسلمانوں میں جینے کی ایک نئی اس پیدا کی آج ہم انفرادی اور اجتماعی طور پر جس طرح زوال کا شکار ہیں ہمیں اقبال کے افکار سے علمی استفادہ حاصل کرنے کی اشد ضرورت ہے۔
ہزاروں سال نرگس اپنی بے نور پہ روتی ہے بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پید

Check Also

بعثت و نبوتﷺ پر ایمان کی معراج

بعثت و نبوتﷺ پر ایمان کی معراج تحریر۔۔۔ رشید احمد نعیم ، پتوکی حضور صلی ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *