Home / کالم / عمران خان کی باری ، اپوزیشن کی تیاری

عمران خان کی باری ، اپوزیشن کی تیاری

 

 

عمران خان کی باری ، اپوزیشن کی تیاری
تحریر عقیل خان
الحمدا للہ 25جولائی کو پاکستان میں جنرل الیکشن مکمل ہوگیا۔ سب سے زیادہ خوشی اس بات کی ہے کہ الیکشن پرامن طریقے سے اپنے انجام کو پہنچا۔اس الیکشن میں چھوٹے موٹے واقعات کے علاوہ کوئی بڑا واقعہ نہیں ہوا۔ جس کا سارا کریڈیٹ پاک فوج کو جاتا ہے ۔یہ الگ بات ہے کہ پولنگ ختم ہوتے ہی الیکشن کے شفاف ہونے پرانگلیاں اٹھنا شروع ہوگئیں۔ سب سے پہلے ایم کیو ایم ، پھر متحدہ مجلس عمل، پھر ن لیگ ، پھر پیپلز پارٹی اور اے این پی نے بھی الیکشن میں دھاندلی کا الزام لگا دیا۔اگر میںکہوں کہ زیادہ تر سیاسی جماعتوں نے الیکشن کے شفاف ہونے پر اعتراض اٹھا دیا تو شاید یہ غلط نہ ہو۔
بہر حال سیاست میں الزام تراشی تو چلتی رہتی ہے مگرموجودہ نتائج کے مطابق تحریک انصاف نے الیکشن میں پہلی پوزیشن حاصل کی اور مرکز میں حکومت بنانے کی پوزیشن میں آگئی ہے۔ اگر پی پی اور ن لیگ ہمت کریں تو یہ بھی اس پوزیشن میں ہیں کہ اتحادیوں کے ساتھ ملکر حکومت بنالیں مگر ایسا لگتا نہیں۔صوبائی سطح پر اب تک کی صورتحال کے مطابق خیبر پختونخواہ میں تحریک انصاف ، سندھ میں پیپلز پارٹی باآسانی حکومت بنالیں گی مگر بلوچستان اور پنجاب میں اتحادیوں کے سر پر ہی حکومت قائم ہوسکتی ہے۔
مزید تفصیلات میں جانے سے پہلے ایک بات واضح کردوں کہ حکومت اور قلمکاروں کی آپس میں بہت کم بنتی ہے کیونکہ کالم نگار نے حکومت کو ہدف تنقید بنانا ہوتا ہے مگر اچھے کاموں پرتعریف کرنا بھی کالم نگار کی ذمہ داری ہے۔اب یہ آگے آگے وقت بتائے گا کہ خانصاحب اپنے کاموںکی بدولت قلمکاروں سے تعریفی کالم لکھواتے ہیں یا تنقید برائے تنقید والے۔خانصاحب نے جس طرح اپوزیشن میں رہتے ہوئے میاں صاحبان کو ٹف ٹائم دے رکھاتھا اب یہ دیکھنا ہے کہ خود وزیراعظم بن کر کیا کرتے ہیں؟ کچھ ایسی باتیں آن دا ریکارڈ موجود ہیں کہ خانصاحب نے اپوزیشن کے دور میں کئی بار اپنے ہی کیے گئے اعلانات کے بعد یوٹرن لیتے رہے۔
سب سے پہلے تو عمران خان نے اقتدار حاصل کرنے کے لیے کسی سےاسی اتحاد نہ کرنے کا اعلان کررکھا ہے اب دیکھنا ہے وہ اس پر پورا اترتے ہیں یا پھر حسب روایت سیاستدانوں کی طرح اقتدار کی خاطر سب کچھ بھول کر یوں ٹرن لیں گے۔ دوسرے عمران خان نے جیت کے بعد جو اپنا پہلا خطاب کیا اس میں اپوزیشن والے عمران خان نظر نہیں آئے بلکہ ایک مدبر سیاستدان کی صورت میں نظر آئے ۔ انہوں نے کہا کہ ©©©” احتساب سب سے پہلے عمران خان سے شروع ہوگا، اس کے بعد میرے وزراءکا احتساب ہوگا۔ 22 سال کی جدوجہد کے بعد اللہ نے مجھے موقع دیا ہے کہ میں اپنے خواب کو پورا کر سکوں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کو ایسی گورننس دیں گے جو آج سے پہلے کسی حکومت نے نہیںدی۔ جانوروں کا نظام اور جس کی لاٹھی بھینس والا نظام نہیں چل سکتا ، میں آپ کو ثابت کرکے دکھاوں گا کمزور طبقے کو اوپر لے جانے کے لیے پالیسی بناو¿ں گااور کوشش ہوگی کہ نیچے کا طبقہ اوپر آجائے۔میرے اوپر ذاتی حملے کیے گئے جو کسی سیاستدان پر نہیں ہوئے، وہ سب باتیں میں بھول چکا ہوں ، کسی کو سیاسی انتقام کا نشانہ نہیں بنائیں گے جبکہ ہم ایسے مضبوط ادارے بنادیں گے جو کرپشن روکیں گے۔ عمران خان نے اس موقع پر خارجہ پالیسی کا بھی ذکر کیا۔ عمران خان نے پاک امریکہ تعلقات کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ان کی حکومت کی ترجیح ہو گی کہ وہ امریکہ کے ساتھ دو طرفہ مفادات پر مبنی سنجیدہ اور باوقار تعلقات قائم کر یں۔بھارت کے ساتھ تعلقات کا بھی ذکر کرتے ہوئے بھارت کو باقاعدہ مذاکرات کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ بھارت اگر پاکستان کی طرف دوستی کا ایک قدم بڑھائے گا تو ہم دو قدم اس کی جانب بڑھائیں گے مگر یکطرفہ طور پر کسی قسم کی پیش رفت ہونا ممکن نہیں۔ خان صاحب نے اپنی پریس کانفرنس میں چین کے ذکر نہیں کیا اور نہ ہی انہوں سی پیک کے حوالے سے اپنی حکومت کی ترجیحات کا کوئی ذکر کیا ۔ ایران کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ ایران کیساتھ تعلقات کو بہتر بنانا چاہتے ہیں۔ عمران خان نے سعودی عرب اور عرب ممالک کے ساتھ تعلقات اور مشرق وسطیٰ کی صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب اور عرب ممالک کیساتھ پاکستان کے تعلقات اہمیت کے حامل ہیں جنہیں مزید مضبوط بنایا جائے گا جبکہ پاکستان مشرق وسطیٰ کے تنازعات میں مثبت اور ثالث کا کردار ادا کرنے کیلئے تیار ہے۔
عمران خان کے خطاب کے بعد یہ بات تو واضح ہوگئی کہ خانصاحب جارحانہ اننگز نہیں کھیلنا چاہتے ہیںبلکہ وہ صبر و تحمل کے ساتھ اپنا کام کرنا چاہتے ہیں۔جس طرح خانصاحب نے خطاب کیا اور جو پہلے سو دن کا پلان دیا اگر اس پر عمل کرلیا تو میں یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ تحریک انصاف کا مستقبل روشن ہوجائے گا۔ اب دیکھنا یہ بھی ہے کہ تحریک انصاف اپنے اقتدار میں جو پلان دیا ہے اس پر عمل کرتی ہے یا پھر خزانہ خالی کا نعرہ لگا کر ہرکام سے بری ذمہ ہوتی رہے گی۔ دوسری طرف اپوزیشن سے امید رکھتا ہوں کہ وہ خانصاحب کے منیڈیٹ کو تسلیم کرتے ہوئے انہیں کام کرنے کا پورا پورا موقع دیاجائے۔ دھرنے ، روڈ بلاک اور دوسری ایسی کوششوں سے اجتناب کیا جائے جس سے ہمارے ملک اور عوام کا نقصان ہومگر اب تک کی رپورٹ کے مطابق اپوزیشن کے تیور احتجاجی نظر آرہے ہیں۔
آخر میں ،میں خانصاحب اور ان کی ٹیم کو مبارکباد پیش کرتا ہوں کہ انہوں نے جنرل الیکشن میں کامیابی حاصل کی۔ دعاگو ہوں کہ ان کی حکومت پاکستان اور ہماری عوام کے لیے سودمند ثابت ہو۔اللہ تعالیٰ پاکستان کو نظر بد سے بچائے اور اس کے دشمن کو نیست و نابود کرے۔

Check Also

پریشان حال چھوٹے کسان

    پریشان حال چھوٹے کسان چوہدری ذوالقرنین ہندل:لکھاری گوجرانوالہ سے تعلق رکھتے ہیں،مکینیکل انجینیئر ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *