Home / کالم / عنوان:ذہنی تخریب کاری ،پاک فوج بہانہ، پاکستان نشانہ

عنوان:ذہنی تخریب کاری ،پاک فوج بہانہ، پاکستان نشانہ

ٓآرزوئے سحر
تحریر :انشال راؤ
عنوان:ذہنی تخریب کاری ،پاک فوج بہانہ، پاکستان نشانہ
فضا ء میں معلق گردو غبار ہو تو پھر ہر شخص مجبور ہوتا ہے کہ وہ اسے جذب کرے جب جب کوئی سانس لے گا تو گرد لامحالہ اس کے پھیپھڑوں میں جائے گی اسی طرح پاکستان کی فضاء کو بیرونی و اندرونی عناصر (مخصوص صحافی، مخصوص سیاستدان، نام نہاد لبرلز، سوشل میڈیا ایکٹوسٹ) نے گھیرا ہوا ہے جو نہ صرف پاکستان کی نظریاتی اساس پر حملہ آور ہیں بلکہ عوام میں ہر طور سے ذہنی تخریب کاری کے فروغ میں مصروف عمل ہیں جن کا پرائم ٹارگٹ ملکی سلامتی کے ادارے اور ملکی معیشت ہے یعنی نشانہ پاکستان کی سلامتی ہے یہ مخصوص ٹولہ کسی نا کسی حد تک گرد آلود اور گھٹن کا ماحول پیدا کرنے میں تو کامیاب ہوگیا اور سانس لینے والوں میں یہ کسی کے کم، کسی کے زیادہ سرائیت کرگئی اسے ہی ففتھ جنریشن وار یا ذہنی تخریب کاری کہا جاتا ہے اس کی مختلف جہتیں ہیں کہیں مذہبی تو کہیں لسانی منافرت پھیلانے کی کوشش کی جارہی ہے ایک طرف ظالم کو مظلوم اور مجرم کو ملزم بنا کر معاشرے میں جگہ دینے کی کوششیں تیز تر ہیں تو دوسری طرف جمہوریت کو خطرہ بتاکر کرپشن سے منی لانڈرنگ تک غرض یہ کہ معاشی دہشت گردوں کو محفوظ راستہ دینے یا دلوانے کے لئے زور لگایا جارہا ہے اس کے علاوہ ستم بالائے ستم یہ کہ کل تک جو پارلیمنٹ مقدس ہوا کرتی تھی آج صرف اس لئے مشکوک ہوگئی کہ روایتی اور نسل درنسل قوتوں کی مستقل چھٹی ہوتی نظر آرہی ہے اور ان سب سے بڑھ کر ملکی سلامتی کے اداروں کو زوم ;90797977;کرکے ٹارگٹ پر رکھا ہوا ہے جس کے تحت ایک طرف تو عالمی سطح پر دہشت گردوں کی معاونت کا الزام لگا کر دشمن قوتوں کے بیانیے کو آگے بڑھایا جارہا ہے تو دوسری طرف قومی سطح پر عوام کے دلوں سے دور کرنے کی ناکام کوشش کی جارہی ہے اور کون نہیں جانتا کہ اس کے پیچھے بیرونی دشمن کی سوچ کارفرما ہے جس کا اکثر و بیشتر مودی سے لے کر افغان و امریکی مقتدر حلقوں کی جانب سے اظہار کیا جاتا رہا ہے اور اس ضمن میں پاکستان کو عالمی سطح پر تنہا کرنے، مزہ چکھانے، بہت کچھ کھو دینے اور بھاری قیمت چکانے جیسے دھمکی آمیز بیانات ریکارڈ پر موجود ہیں ہم نے یہ بھی دیکھا کہ ایک پولیس افسر کو اغواء کرکے شہید کردیا جاتا ہے اور پروپیگنڈہ فوج کے خلاف، ہم نے یہ بھی دیکھا کہ لوگ شام اور یمن جا کر لڑتے مارے گئے یا افغانستان یا کسی اور ملک میں بیٹھ کر مسنگ پرسن بن گئے ہم نے یہ بھی دیکھا کہ کس طرح معصوم فرشتہ کے قتل کے واقعہ کو پاک فوج کے خلاف استعمال کیا گیا بھارت اسرائیل و افغان گٹھ جوڑ اور ان کی دہشت گردانہ کاروائیوں کے نتیجے میں ہم نے اپنے ہزاروں شہریوں اور سیکورٹی اہلکاروں کے اعضاء بکھرتے بھی دیکھے مگر کلبھوشن یادیو جیسے جاسوس کی گرفتاری اور اعتراف جرم کے باوجود ذہنی تخریب کاروں کی ڈھٹائی کا یہ عالم ہے کہ وہ اس پر بھی فوج کو مؤرد الزام ٹھہراتے نظر آتے ہیں اور انہیں کراچی بلوچستان و فاٹا میں بیرونی سرپرستی میں ہونے والی دہشت گردی پر تو کوئی دکھ ہے نہ تشویش مگر افغانستان میں بد امنی کا ذمہ دار پاک فوج اور آئی ایس آئی کو قرار دیتے پھرتے ہیں تاریخ سے نابلد لوگ یہ بھی نہیں جانتے کہ افغانستان اپنے وجود سے ہی بد امنی کا شکار رہا ہے ۔ 18ویں صدی سے پیشتر دنیا کے نقشے پر افغانستان کا وجود تک نہیں تھا نادر شاہ نے سب سے پہلے1737ء میں افغانوں کو قندھار سے باہر نکالا اس سے پیشتر اس کا ایک حصہ ایران کے ماتحت تھا دوسرا ہندوستان کی مغلیہ سلطنت اور تیسرے حصے پر بخارہ کے خوانین قابض تھے خود نادر شاہ کے ہاتھوں بہت سے افغان قتل ہوئے اور پھر نادر شاہ بھی قتل ہوئے جس کے بعد عنان اقتدار احمد شاہ ابدالی نے سنبھالی اور یہی موجودہ افغانستان کے بانی ہیں احمد شاہ ابدالی کے بعد ان کے بیٹے تیمور شاہ کو اس قدر شورش کا سامنا کرنا پڑا کہ انہیں دارالحکومت قندھار سے کابل منتقل کرنا پڑا لیکن خاندانی جھگڑے ختم نہ ہوئے اور1839تک ابدالی خاندان کا سورج غروب ہوگیا اس کے بعد امیر دوست محمد خاں افغانستان کا تاج سجانے میں کامیاب ہوا لیکن محض دو تین سال میں ہی اسے شدید بغاوت کا سامنا کرنا پڑا اور اس ہنگامے میں شاہ شجاع اور چار پانچ ہزار انگریز سپاہی قتل کردئیے گئے جس کے رد عمل میں انگریزوں نے1842 میں کابل کو جلا کر راکھ کردیا اگر افغانستان کی تاریخ کا احاطہ کریں تو نادر شاہ سے لیکر ببرک کرمل تک متعدد افغان رہنما و بادشاہ قتل ہوئے متعدد کو جلا وطنی اختیار کرنا پڑی اور یہ سلسلہ آج تک جاری و ساری ہے افغانستان میں اسلام پسند اورمخالفین کے درمیان شروع سے ہی لڑائی چلی آرہی ہے1919 میں امیر حبیب اللہ خان کا قتل اور 1929امیر امان اللہ خان کی پھانسی اس بات کی واضح دلیل ہے کہ پاک فوج اور پاکستان کا افغانستان میں جہادی قوتوں کی پیدائش میں دور دور کا تعلق نہیں ہے اس ضمن میں 1938ء میں کنگ ظاہر شاہ کی مغربانہ ذہنیت کے خلاف شامی پیر نامی مذہبی رہنما کی بغاوت شکست اور وزیرستان فرار بھی روشن دلیل ہے اور یہ بات بھی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں کہ روسی جارحیت سے پہلے ہی گلبدین حکمتیار، برہان الدین ربانی، احمد شاہ مسعود جیسے اسلام پسند رہنما اور ان کی جنگ جوانہ کاروائیاں بائیں بازوکے گروہوں کے خلاف جاری تھیں افغانستان کی بد امنی و عدم استحکام کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ 1978-79ایک ہی سال میں محمد داءود خان، حفیظ اللہ امین، نور محمد ترکئی سمیت متعدد افغان رہنما قتل ہوئے اور ببرک کرمل کہ رضا مندی سے روسی جارحیت کے خلاف پہلے دن سے ہی اسلام پسندوں کی مزاحمت اس بات کا ثبوت ہے کہ پاک فوج اس کھیل کا حصہ نہیں لیکن روسی غلبے کے بعد عین ممکن تھا کہ روسی کلچر مفتوحہ افغان کلچر پر غالب آجاتا اور وہ اپنی تمام اقدار کھو چکے ہوتے ایسے میں پاکستان کا افغانوں کی مدد کرنا اور تیس لاکھ افغانوں کا بوجھ اٹھانا ان کے کلچر کے تحفظ کو یقینی بنانے سے بڑھ کر اور کیا احسان کیا جاسکتا ہے اٖفغان جنگ کے بعد طالبان دور افغانستان کا سنہرا ترین دور ہے جس میں بد امنی و کرائم ریٹ آٹے میں نمک کے مترادف تھا لیکن طالبان حکومت کے خاتمے کے بعد ایک بار پھر سے افغانستان عدم استحکام کا شکار ہے اور گذشتہ الیکشن میں اشرف غنی اور عبداللہ عبداللہ کی اقتدار کی رسہ کشی کے لئے آپس میں ٹھن گئی جسے امریکہ و بھارت نے بیچ میں پڑ کر رفع دفع کیا یاد رہے افغان جہاد کے وقت شمالی اتحاد بھی روس کے خلاف برسر پیکار تھا لیکن آج وہ امریکہ کی گود میں بیٹھ کر پر امن لوگ کہلائے اور جنہوں نے امریکہ کے سامنے سجدہ ریز ہونے سے انکار کیا وہ دہشت گرد قرار دے دئیے گئے ۔ ایسے میں پاک فوج کو افغانستان کے عدم استحکام اور دہشت گردوں کی معاونت کا الزام دینا کسی طور بھی مناسب نہیں اور افغانوں کی احسان فراموشی پر بس اتنا ہی کہوں گا کہ
الٹی شکایتیں ہوئیں احسان تو گی

Check Also

عشق رنگ

    کالم : بزمِ درویش تحریر:پروفیسر محمد عبداللہ بھٹی عشق رنگ روز اول سے ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *