Home / کالم / عنوان:فضیلت جشن میلادالنبی ﷺ

عنوان:فضیلت جشن میلادالنبی ﷺ

 

 

 

عنوان:فضیلت جشن میلادالنبی ﷺ
کالم:خوشبوءیوسف
تحریر:ڈاکٹرقاضی واصف رضا
عربی میں ربیع بہار کو کے موسم کو کہتے ہیں اورہمارے پیارے آقاحضرت محمد مصطفے ،احمد مجتبی ﷺ کی ولادت باسعادت ربیع الاول شریف میں ہوئی حضرت سعید بن مسیب رضی اللہ عنہ تعالی عنہ فرماتے ہیں :وکان ذالک فی فصل الربیع۔”حضور ﷺ کی ولادت موسم بہار میں ہوئی”۔قدرت کا یہ کتنا حسین فیصلہ ہے کہ جب ہمارے پیارے آقاﷺ کی ولادت باسعادت ہوئی تو موسم خزاں اپنی بساط لپیٹ چکا تھا ۔ہر طرف خوشی ومسرت کے نغمے تھے ، بہار اپنی پوری رعنائیوں کے ساتھ جلوہ افروز ہوچکی تھی ہر طرف رحمتوں اوربرکتوں کی اتنی بھرمار ہوگئی کہ وہ سال خوشی ومسرت کا سال کہلایا۔کیوں نہ کہلاتا کہ کائنات ِ ارض وسماءکے بادشاہ انسانیت کے محسن ، تاجدارارض وسما ء، محبوب کبریاءمحمد مصطفے ، احمد مجتبٰیﷺ کی آمد کا سال تھا جن کی تشریف آوری پر جہاں رنگ وبو میں خوشی ومسرت کی لہر دوڑ گئی اوربزم حسینان عالم پکار اٹھی۔
معنٰی ہے ربیع الاول کا آمد ہے بہار اول کی
سرکاردو عالم کے صدقے ہر حسن پہ نکھار آ جائے گا
حضرت امام نبہانی رحمة اللہ علیہ فرماتے ہیں ۔سب راتیںفضیلت والی ہیں لیکن شب میلاد رسول ﷺ سب سے افضل ہے ۔جس طرح اللہ تبارک وتعالیٰ نے فضلنا بعضکم لبعض کہ ہر بعض کو بعض پر فضیلت دی ہے اسی طرح لیلة القدر کو سال کے تمام مہینوں کی تمام راتون پر فضیلت حاصل ہے لیکن شب میلاد ِمصطفےٰﷺ شب قدر سے بھی افضل ہے کیونکہ شب ولادت آپﷺ کے ظہور کی رات ہے اورشب قدر آپ کو عطاکی گئی ہے ۔شب ولادت آپﷺ کے ظہور کی وجہ سے شرف وفضیلت رکھتی ہے اورشب قدر ملائکہ کے نزول کی وجہ سے افضل ہے ۔شب ولادت میں تمام کائنات پر فضل عظیم ہوا۔شب قدر میں صرف امت محمدیہ پر فضل ہوا۔جیساکہ اللہ تبارک وتعالیٰ نے فرمایا:وماارسلنٰک الا رحمة اللعالمین۔”اے محبوبﷺ !ہم نے آپ کو تمام جہانوں کے لئے رحمت بناکر بھیجاہے “۔ ولادت یا پیدائش ہر انسان کے لئے خوشی کا باعث ہے ۔ قرآن کے نکتہ نظر کے مطابق ہر نبی کا یوم ولادت خاص اہمیت کا حامل ہے اوراللہ رب العزت نے اس دن پر سلام بھیجا ہے فرمایا حضرت یحی علیہ السلام کے بارے میں سلام علیہ یوم ولدویوم یموت ویوم یبعث حیا۔”سلام ہو یحی پر ، ان کے میلاد کے دن اوران کے وفات کے دن اورجس دن وہ زندہ اٹھائے گئے “۔حضرت عیسٰی علیہ السلام کے بارے میں لیکن حضور ﷺ کے بارے میں صرف ولادت کا تذکرہ نہیں کیا بلکہ آپ کے جائے ولادت آباءواجداداورآپ کی قسم اٹھا کر کہا۔ میں اس شہر (مکہ)کی قسم کھاتاہوں۔ اے حبیب مکرمﷺ !اس لئے کہ آپ اس شہر میں تشریف فرما ہیں اورآپ کے والد اور(ان کی )قسم جن کی ولادت ہوئی ۔ولادت کا ذکر سنت الٰہیہ ہے اوردلیل توحید ہے ۔اللہ تبارک وتعالیٰ نے اس نعمت کا احسان جتایا ہے قرآن پاک میں لقدمن اللہ علی المو¿منین اذبعث فیھم رسولا۔اللہ تعالیٰ نے حضورﷺ کو کائنات کی سب سے بڑی نعمت اورفضل قرار دیا ہے یہ فرما کر کہ قل بفضل اللہ وبرحمتہ فبذلک فلیفرحوا۔ مولانا اشرف علی تھانوی لکھتے ہیں ۔یہاں رحمت وفضل سے مراد حضورﷺ ہیں جن کی ولادت پر اللہ تعالیٰ خوشی منانے کا حکم دے رہے ہیں ۔پہلی امتیں نعمت کے ملنے پر عید مناتی تھیں۔ عیسائی مائدہ جیسی نعمت کے دن کو “عید”مناتے ہیں اسی طرح یوم عاشورہ عید کے طورپر منایا جاتا۔ولادت پر خوشی منانا سنت انبیاءعلیھم السلام ہے ۔(میلاد النبیﷺ ازشیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہر القادری)۔غلاف کعبہ کا دن یوم عید تھا ۔فضیلت جمعہ کے ذریعے یوم تخلیق آدم علیہ السلام منایا جاتا۔لہذاامت مسلمہ کے لئے حضور ﷺ سے بڑھ کر کوئی نعمت نہیں لہذاحق بنتاہے کہ اس دن کو عید کے طورپر منایا جائے ۔ولادت پر خوشی منانا سنت مصطفےﷺ ہے ۔ حضوراکرم ﷺ نے اپنامیلاد خودمنایا اوربکرے ذبح کئے ۔(الھاوی للفتاوٰی)۔حضور ﷺ نے یوم میلاد پر روزہ رکھ کر خوشی منائی ۔(صحیح مسلم )ابن ابی قتادہ انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ۔ان الرسول اللہ سئل عن صوم یوم الاثنین قال ذاک یوم ولدت فیہ ویوم یبعث اوانزل علی فیہ (صحیح مسلم )۔گویا یوم میلاد پر اظہار مسرت سنت مصطفےﷺ ہے حضور ﷺ نے اپنے بیان میلاد کے لئے جلسہ کا اہتمام کیا۔(ترمذی الجامع الصحیح)حضرت مطب بن ابی داو¿ودرضی اللہ عنہ سے روایت ہے حضورﷺ منبر پر قیام فرماہوئے اورفرمایا میں کون ہوں؟سب سے عرض کیا آپﷺ اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں آپ نے فرمایا میں عبداللہ بن عبدالمطلب کا بیٹامحمد ﷺ ہوں۔ اللہ تعالیٰ نے مخلوق کو پیداکیا اورمخلوق میں سے بہترین مخلوق کے اندر مجھے پیدافرمایااس بہترین مخلوق کے دوحصے کئے اوران دونوں میں سے بہترین حصہ عرب میں مجھے پیدافرمایا اورپھر اللہ تعالیٰ نے اس حصے کو قبائل بنائے اوران میں سے بہترین قبیلہ (قریش)کے اندر مجھے پیداکیا پھر اس بہترین قبیلہ کے گھر بنائے تومجھے بہترین گھر اورنسب (بنوہاشم)میں پیداکیا۔ان تمام حقائق سے واضح ہوتاہے کہ اللہ تبارک وتعالیٰ نے ولادت مصطفٰے ﷺ اوراس نعمت عظمٰی کے حصول پر ناصر ف جشن منانے کا حکم دیا ہے بلکہ اپنے عمل اورسنت مبارکہ سے دکھایا بھی ہے اورولادت رسول ﷺ کو ایسی امتیازی شانیں عطا کی ہیں جو اس سے پہلے کسی کو نہیں دیں۔ولادت کے موقع پر زمین وآسمان کی آرائش وزیبائش کی گئی آسمانوں اورجنتوں کے دروازے کھول دیئے گئے ۔شیاطین کو زنجیروں سے جکڑ کر الٹا لٹکادیا گیا، حوض کوثر کے کنارے کستوری کے درخت لگائے گئے ،ستارے قمقمے بنے اورپرچم لہرائے گئے ۔پوراسال خواتین کو لڑکے عطاکئے گئے ۔ ظہور کے وقت اللہ تعالیٰ نے جشن منایا ، حوران بہشت نے استقبال کیا۔ پرندوں نے استقبال کرتے ہوئے خوشی منائی سورج کو نور کی چادر اوڑھا دی گئی ۔الغرض ہر جگہ شرق تاغرب اعلانات کردیئے گئے کہ حق آیا اورباطل مٹ گیا۔آج تمام عاشقان رسول ﷺ میلاد اس لئے مناتے ہیں تاکہ سیرت مصطفےﷺ کے مختلف پہلوو¿ں کو اجاگر کیاجائے اورحیات سیرت مصطفےﷺ کے تابع ہوکر صالحیت سے ہمکنارہو۔ بطور امت مسلمہ مذہبی وقومی تشخص کا اجاگر کیاجائے ۔حضور ﷺ سے ٹوٹے ہوئے تعلق کو بحال کرکے آئندہ نسلوں میں محبت وعشق مصطفےﷺ کی تڑپ پیداکی جائے ۔ حضور ﷺ کی عظمت وتعظیم کو اجاگر کیاجائے تاکہ ادب مصطفےﷺ کا فریضہ انجام پائے ۔کتاب وسنت سے تمسک اورسنت مصطفےﷺ کی پیروی کا ذوق وشوق پیداکیاجائے ۔امت مسلمہ سال کے گیارہ مہینے تعلیمات نبویﷺ کے دروس اوردروس قرآن سے مستفید ہوتی ہے لیکن ربیع الاول ایسا مہینہ ہے جس میں محبت وعشق رسول ﷺ کا پیغام عام کیاجاتاہے تاکہ نبی آخرالزمان ﷺ کی محبت وعشق کے چراغ سینہ بہ سینہ منتقل ہوتے چلے جائیں ان محافل میلاد کے ذریعے اخلاق وآداب مصطفےﷺ اورسیرت طیبہ کو شخصیت کا خاصہ بنانے کے لئے خوشی ومسرت سے اہتمام کیاجاتاہے تاکہ آئندہ آنے والی نسلوں کو عشق رسول ﷺ سے آشنا کیاجائے ۔آج امت مسلمہ تعلیمات نبوی ﷺ کو بھلاکر اورعشق رسول ﷺ کی شمعیں دلوں سے بجھاکر انتشار وافتراق کا شکار ہے اورعالم کفر اپنی اس سازش میں کامیاب ہورہاہے” روح محمدﷺ ان کے بدن سے نکال دو”آج امت مسلمہ بے کسی وبے بسی کاشکارہے ،ان حالات میں امت کے دکھوں کا مداوا صرف اورصرف تعلق ونسبت مصطفےﷺ اورعشق محبت مصطفےﷺ ہے اوراس کا واحد ذریعہ محافل میلاد منعقد کرناہے ۔آئیے مل کر باعث کون ومکاں کے میلاد کا جشن مناتے ہوئے اس پیغام کو عام کریں کہ دور حاضر میں امت مسلمہ کی احیاءکا ذریعہ عشق رسول ﷺ کی شمعیں جلاناہے اورایسا کردار پیداکرناہے جس میں عشق بلالی کی تڑپ بھی ہو، اویس قرنی کی سی دیوانگی بھی ہو، رومی کا سوز،اقبال کا سا ساز بھی ہو۔تاکہ آئندہ آنے والی نسلیں اپنے دامن میں عشق مصطفےﷺ کی خیرات لے کر پروان چڑھیں اورہر زمانہ محبت وعشق رسولﷺ کا زمانہ ہو،میلاد مصطفے ﷺ کا زمانہ ہو۔

Check Also

Guangzhou Bases its Further Development on Green Innovation

Guangzhou Bases its Further Development on Green Innovation GUANGZHOU, China, Dec. 16, 2018 /Xinhua-AsiaNet/Knowledge Bylanes– ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *