Home / کالم / (عوام کا پر سان حال کون)

(عوام کا پر سان حال کون)

 

نام ۔روفان خان

پی ٹی وی نیوز رپورٹر

(عوام کا پر سان حال کون)
شہر سے 60 کلو میٹر دو ربستی میں ایک شخص رہتا تھا ان کے دو بیٹے اور ایک بیٹی تھی ان کے ساتھ گھر میں ایک چھوٹا بھائی بھی رہتا تھا ان کے دونوں بچے ساتویں جماعت میں پڑھتے تھے جبکہ ان کی چھوٹی سی بچی پڑھائی میں شامل نہ تھی اور اپنی ماں کے ساتھ گھر کے میں ہاتھ بھٹاتی تھی ان کے والد محترم دور دراز علاقے میں ایک جاگیردار شخص کے ساتھ کاشتکاری کا کام کرتا تھااور ہمیشہ بچوں کو نصیحت کرتے ہوئے کہاکہ پڑھنا اور بڑے آفیسر بن جانا ساتھ ہی بچوں کو یہ بھی فرماتے کہ جو شخص نہیں پڑھتا ان کی زندگی نامکمل ہوتی ہے اور یہی وجہ تھی کہ ان کی خاص توجہ بچوں کی پڑھائی پر تھی ان کی تنخواہ دس ہزار روپے بنتی تھی جس میں گھر سارا بوجھ اور بچوں کے سکولوں کی فیس بھی اسی تنخواہ میں ادا کرنا پڑتی تھی اور اس لگن کی وجہ سے اس سے اپنا مالک بھی بہت خوش تھا کام بروقت کرتا اور مالک حق سے زیادہ پیسے دیتے تھے اس نے انتھک محنت اور ملنساری کی وجہ سے بستی میں ایک نام پیدا کیاتھا بستی میں دس سال کا طویل عرصہ نہایت عزت سے گزارا اور کسی کو بھی ناراضگی کا موقع دیا بستی والے اسے اپنے گھر کا فرد سمجھتے تھے ان کا اصل نام گل مرجان تھا لیکن خدمت کی وجہ سے خدمت گار کے نام سے مشہور تھا اس سے بستی والے لوگ بہت خوش تھے اس کی وجہ بڑی بیماری یہ تھی کہ سیاستدان سے دلی لگاﺅ زیادہ تھا جب بھی کام سے فارغ ہوتا تو گھر کا حال معلوم نہیں کرتا بلکہ فوراًجلسہ جلسوں میں خاضری لگانے کیلئے دوڑتا اور ہر وقت سیاستدان کے پیچھے بھگتا پھرتا نظر آتا تھا بڑے شوق سے اپنی تنخواہ سیاست میں خرچ کرتا تھا اس کے برعکس اس کے بچے بستی میں ایک دکان سے قرضہ پر سامان لیتے تھے تقریباً یہ سلسلہ بدستور تین ما ہ تک جاری رہا ایک دن ایک شخص نے اس سے عرض کیا کہ اپنے ساری زندگی سیاسی لیڈروں کو خوش کرنے کیلئے گزاری خدمت کے بدلے میںکچھ ملا ہے کہ نہیں ,ساتھ میں یہ بھی فرمایا آپکا چھوٹا بھائی بیروزگاری کی وجہ سے گلیوں اور محلوں میں گھومتا پھرتا ہے اس نے جواب دیا فلاں ایم پی اے سے نوکری کی بات ہوئی ہے اس نے کہاہے کہ تم فکر نہ کرو میں آپ کے بھائی کیلئے ایک اچھی نوکری ڈھونڈ رہاہوں اس دوران ان کو ایک کال آئی السلام و علیکم کہاسلام کے بعد عرض کیا کون صاحب بات کررہے ہو واپس جواب ملا اب مجھے جانتے بھی نہیں فلاں دکاندار بات کررہاہو جی فرمائے انہوں نے کہاکہ تین ماہ ہوہوگئے آپ کے بچے دکان سے سامان لے رہے ہیں لیکن آپ کی طر ف سے ادائیگی نہیں ہورہی ہے معلوم کرنے کیلئے اس نے عرض کیا کتنے پیسے ہیں دکاندار نے جواب دیا کہ تین ماہ کے ٹوٹل پیسے پچاس ہزار ہیں یہ بھی کہہ دیا کل تک مجھے پیسے بھجوادیں ورنہ آئندہ بچوں کو سامان نہیں دوں گا پھر کچھ دیر کیلئے سوچنے لگا تھوڑی دیر بعد دوسری کال آئی اس نے موبائل اٹھایا اور عرض کیا کہ کون بات کررہے ہو جی میں فلاں سکول کا پرنسپل بات کررہاہوں جی فرمائے عرض کیا فلاں فلاں بچے آپ کے بچے ہیں جی ہاں میرے بچے ہیں پرنسپل صاحب نے بولا کہ بچوں کی فیس باقی ہیں فیس کی عدم ادائیگی کی وجہ سے آپ کے بچے سکول سے خارج کردئیے گئے ہیں اس کے بعد فوراًمالک کی کال آئی اور مالک نے اس کو آزمائش میں ڈالتے ہوئے کہاکہ چند دنوں سے آپ چھٹی پر تھے آپ کی وجہ سے میراسارا کام رکا ہوا تھاہم نے دوسرا مزدور کاشتکاری کیلئے لگایا ہے آ پ مزید آنے کی زحمت نہ کریں پھر یہ بدقسمت شخص اکیلا بیٹھ کت رونے لگا اور کھویا ہوا مقام کو دوبارہ پانے کیلئے سوچتا رہا لیکن گیا وقت واپس نہیں آتا یہی حال آج کل ہمارے معاشرے کا ہے عوام کا اپنا قیمتی وقت اور تمام ترصلاحیتیں سیاسی لیڈروں پر قربان کرکے آخر خالی ہاتھ ہوکر بیٹھ جاتے ہیں۔بقول شاعر
نہ خدا سے ملے نہ وصال صنم
نہ ادھر کے رہے نہ ادھر کے رہے۔
ان تگ ودو کے بدلے محرومیوں کے سواءکچھ حاصل نہیں ہوتا اور معاشرے میں اسے مسترد شدہ افراد کے نام سے پکارا جاتا ہے عوام صرف الیکشن کے دنوں میں سیاسی پارٹیوں کے ساتھ نہیں دیتے بلکہ اس میں ایسے کارکناں بھی ہوتے ہیں کہ مالی نقصان کا بوجھ بھی برداشت کرنے سے کسر نہیں آتے جب انتخابات گزر جاتے ہیں اور ممبران اسمبلی تک پہنچ جاتے ہیں تو اسے کارکنوں کا بھی کچھ توقعات ضرور ہوتے ہوں گے پھر تو وہ ضروریات کو پورا کرنے کیلئے دوڑتے رہیں گے اگر ان کی ذاتی کام نہ بھی ہوگا تو کوئی دوست یا رشتہ دار کا تو ضرور ہوگاایک کارکن کو دوست کی کال آئی عرض کیا کہ فلاں ایم پی اے کے ساتھ میرا کام ہے حالیہ الیکشن میں اہنے ان کا ساتھ دیا تھا کل دونوں کام کے غرض سے فلاں ایم پی اے کے پاس تشریف لے گئے ایم پی اے کا گھر ان سے تھوڑے فاصلے پر تھا ایم پی اے کے ساتھ ملاقات ہوئی اور سرگردہ کارکن نے دوست کی فائل میز پر رکھ کر ایم پی اے سے عرض کیا کہ یہ شخص میرا دوست ہے ان کا کام کریں ایم پی اے نے کہاکہ تم فکر نہ کرو ان کا کام ہوجائے گا تم ایسا کرو کہ دوماہ بعد آجاﺅ اور کام کا پتا کرو دو ماہ گزارنے کے بعد انہیں ایم پی اے کے دفتر کی چوکھٹ پر سر لگایا چونکہ ایم پی اے صاحب دفتر میں تھے اس نے پی اے کے ساتھ ملاقات کی انہوں نے عرض کیا کہ تم تھوڑا انتظار کرو ایم پی اے صاحب آنے والے ہیں تقریباًپانچ گھنٹے تک انتظار کیا لیکن ایم پی اے صاحب نہیں آئے آنے والے اور جانے کا سلسلہ چار سا ل تک جاری رہا چار سال کے بعد انہوں نے پھر جانے کاارادہ کیا اس دوران گھر کے کام کے غرض سے بازار نکلا تو دوست نے ان سے پوچھا کہ بھائی کا م کیا بنا انہوں نے جواب دیا انشاءاللہ آج میں ایم پی اے صاحب کے پاس جارہاہوں دوست نے کہاپتا ہے اب جانے کی ضرورت نہیں اخبار دیکھوں الیکشن کمیشن نے تمام ممبران کے اختیارات پر پابندی لگائی ہے پھر حیران ہوا اور سوچنے لگا گیا وقت پھر ہاتھ نہیں آتا ۔

Check Also

غلامی سے نجات !

  جمہورکی آواز ایم سرورصدیقی حقیقت اور دعوےٰ دو الگ الگ باتیں ہیں یہ الگ ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *