تازہ ترین خبریں
Home / کالم / عید الا ضحی کی آمد آمد ہے

عید الا ضحی کی آمد آمد ہے

 

 

عید الا ضحی کی آمد آمد ہے
عید الا ضحی کی آمد آمد ہے ،اس دن اللہ عزول انسان سے چاہتا ہے کہ وہ خدا کے قر بت کی نیت سے جا نور ذبح کر کے اسکا قرب حا صل کرے ۔ یہ عید حضرت ابر اہیم ؑ اور ان کے فرزند حضر ت اسماعیل علیہ اسلام کے واقعے کی جا نب اشارہ کر تی ہے جس کا ذکر قرآن مجید میں بیان کیا گیا ہے ۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ یہ عید اسی قربانی کی یاد میں منائی جا تی ہے جسے ابر اہیم ؑ نے اللہ کا قرب حا صل کر نے کے لیے اسکی بارگا ہ میں پیش کیا اورا سکی راہ میں اپنے بیٹے کو ذبح کر نے پر آما دگی کا اظہار کیا اور اسماعیل علیہ اسلام جیسی محبو ب ہستی کی قربانی پر آما دگی کا اعلان کر کے اس بات کا اظہار کیا کہ وہ اللہ کی راہ میں اپنی جا ن فدا کر نے پر بھی تیار ہیں ۔ اسی منا سبت سے سنت ابراہیمی کی پیروی کا خو اہشمند وطن عزیز کا ہر کلمہ گو اسی کو شش میں ہے کہ کسی طر ح اس کی مالی گنجا ئش کے مطا بق قر بانی کا جا نور میسر آجا ئے تو اس فریضے کی ادائیگی ممکن ہو سکے ۔ اس فریضے کی ادا ئیگی کا فلسفہ اگر سمجھ میں آجا تے تو یقیناََ اس کا اثر عملی زند گی میں بھی نظر آنے لگے گا۔ رضا ئے الہٰی کے لیے کیے جانے والال کی جاتی تھی ۔ لیکن اسلامی تہو ارو ں نے عر ب رسو م ورواج اپنی جگہ بنانے کے ساتھ ساتھ اس قوم کی ایسی تربیت بھی کی کہ ان کی زند گیاں ایثار قربانی کا نمو نہ بن گئیں ۔ اسلام میں عید الفطر بقر عید عیش و عشرت یا دولت کی نمو دو نما ئش کا نا م نہیں بلکہ اپنی ضروریا ت اور خواہشات کو قربان کر کے غربا اور مساکین میں خو شیا ں با نٹنے کا نام ہے ۔ اس دن کو صر ف سیر و تفریح اور دو ست واجبات سے ملنے جلنے کا دن بنا ئے بیٹھے ہیں یا شکر انے کے طورپر اس دن کے ہر پل کو رضا ئے رب میں گزار رہے ہیں ۔
حدیث شریف میں کہا گیا ہے کہ ذی الج کا پہلا عشرہ انسا نی زندگی کا بہترین عشرہ ہے ۔ اس عشرے میں وہ نیکیو ں کا انبار لگا سکتا ہے لیکن کیا ہم نے کبھی احتساب کیا کہ ہمارا عمل رب چاہی ہے یا من چاہی ہم لہو لعب میں سارا وقت گزار دیتے ہیں اور یہ سمجھ لیتے ہیں کہ قربانی کا حق ادا ہو گیا ۔ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول نے فرمایا کہ ”ان دس دنو ں سے بڑ ھ کر اور کو ئی دن نہیں جن میں نیک عمل اللہ کو زیادہ محبو ب ہو ں ، پس ان دنو ں میں تکبیر و تحمید کثرت سے کر و “

زندہ معجزہ
عقل انسانی رنگ
پروردگار نے اپنے آخری بنی محمد مصطفےٰﷺپر آخری آسمانی کتاب قرآن مجید اتار کر تو حیدو رسالت کا کلمہ پڑ ھنے والو ں کو قیامت تک کے لیے منا بطہ حیات رہنے دیا ۔ اس کتا ب میں خدانے ”ما ضی حال اور مستقبل “ کی ایسی ایسی با تیں سمجھا ئیں ہیں کہ عقل انسانی رنگ ہے کیو نکہ اس میں ما ضی کے قصے کھو ل کھول کر سنائے گئے ہیں ۔ انبیا ءاکر ام اور ان کی امت پر نا زل ہو نے والے عذاب و ثواب کا نہ صر ف ذکر ہے بلکہ مستقبل کی بہتری اور قرب الہٰی کے حصو ل کے نسخے بھی مو جو د ہیں ۔ آسمان وزمین اور انہیں تسخیر کر نے کا پیغام بھی نما یا ں ہے اور اس بات کی تکر ار بھی ہے کہ مالک کائنا ت نے زمین وآسمان کی کو ئی شے بے مقصد نہیں بنا ئی ۔
فرما ن الہٰی ہے کہ ”اگراس کو ہم پہاڑ پر نا زل کر تے تو وہ ریز ہ ریزہ ہو جاتا “ قربا ن محسن کا ئنات محبو ب خدا آقائے دو جہا ں حضرت محمد ﷺ پر جنہو ں نے اپنی امت کی فلا ح وتر بیت کے لیے وصول کیا ۔ یہ حکمت ودانائی کا پرو انہ ہے جو ہمیں آپ اور دنیا کے کو نے کو نے میں بسنے والے تو حید ورسالت کے پر وانو ں کو نصیب ہو ا اس کی ” افادیت وخصو صیا ت“ اپنی جگہ یہ دنیا کی سب سے زیادہ پڑ ھی جا نے والی ایسی کتا ب ہے جس میں نزول سے اب تک کسی قسم کی تبدیلی نہیں کی جا سکی اس لیے رب العزت نے اس کی حفا ظت ذمہ داری بھی خود رکھی ہے ۔ قرآن مجید ایک آسمانی کتا ب ہی نہیں زند ہ معجزہ ہے جو اپنے چاہنے والو ں کی قدم قدم پر رہنما ئی بھی کر تا ہے اور اچھے بر ے کی تمیز کے ساتھ ”احترام انسا نیت “بھی سکھاتا ہے ۔ حلال و حرام سے آشنائی دیتا ہے قتل و غارت گر ی کی نفی کر کے صلح جو ئی ، رواداری اور ایک دوسرے سے محبت کا پر چار کر تاہے اور حضرت انسان کو خبر دار کر تاہے کہ دنیا ایک عارضی پڑاﺅ ہے اس کی رنگینیو ں میں گم نہ ہو بلکہ اس ”نسخہ کیمیا ئ“ سے فائدہ اٹھا تے ہو ئے رو ز” جزو سزا“ کی تیاری کر و یعنی یہ زندہ کتا ب ہے زندو ں کے لیے ہے ، اسے پڑ ھو ، سمجھو اور دو سرو ں کو بھی پڑ ھا ﺅ ۔۔۔ مالک کل اللہ تعالیٰ نے ”قران مجید کا رعب وجلا ل کا تذکر ہ اس لیے کیا ہے کہ ”توحید و رسالت “پر ایمان رکھنے والے اہمیت وفضیلت سے آگا ہ ہو جا ئیں لیکن یہ بھی حقیقت سب پر عیا ں ہے کہ محبو ب خدا حضور اکر م پر نا زل ہو نے کے بعد ”امت مسلمہ “ کے لیے یہ رعب و جلال ‘ کی بجائے ایسی ٹھنڈک ثا بت ہو ئی کہ ان گنت الفاظ اسے بخو شی ورضائے اسے اپنے سینے میں لیے پھر رہے ہیں بلکہ ہمارے چھوٹے چھوٹے معصو م بچے بھی اسے با آسانی حفظ کر لیتے ہیں ، یہ بات بھی کسی معجز ے سے کم نہیں ۔
قرآن کریم کو اللہ تعالیٰ نے اپنی بر کتو ں اور رحمتو ں کے مہینے رمضان المبارک کے آخری عشرے میں جہنم کی آگ سے مخصو ص رہنے کے لیے نا زل فرمایا اورکہا یہ لیلتہ القدر کی رات ہے اسے طاق راتوں میں تلا ش کر و ، کیو نکہ اس رات کی عبادت دوسری راتوں سے افضل ہے یعنی یہ رات قدرو منزلت اور رتبے والی ہے جس میں قرآن کر یم کو نا زل کیا گیا ۔ قرآن کی رو سے ہر کلمہ گو مسلمان ہے اور ہر مسلمان کے لیے تقویٰ اختیار کر نا نا گزیر ہے ، اس آسمانی کتا ب میں اللہ تعالیٰ نے اولاد آدم کو باربار خبردار کیا ہے کہ ہدا یت تقویٰ سے مشرو ط ہے تم میںکسی کو کسی پر فو قیت حا صل نہیں لیکن متقی دوسرو ں سے بہتر ملے ۔ اس کتا ب خدا وند ی میں شک وشبہ کی کو ئی گنجا ئش نہیں ، یہ جستجو قر ب الہٰی اور اللہ سے ڈرنے والو ں کے لیے ”صراط مستقیم “پر گامزن کر تی ہے ۔
یہ زندہ کتا ب زند ہ لو گو ں کے لیے با عث نجا ت ہے ایک مکمل ضا بطہ حیات ہم اسے مانتے ہیں ، جا نتے ہیں لیکن جس نے ہمارے لیے تحفہ بھیجا ، اس کی نہیں مانتے ،۔ وہ پر ودگار ، آقا و ما لک اور رحمان ورحیم سے ہم ڈر تے بھی ہیں ، جنت کی تمنا ، بھی کر تے ہیں لیکن اپنے رب کے نسخہ کیمیاءپر دھیان نہیں دیتے ، ہم احترام میں اسے کسی اونچی جگہ ”طاق “یا الماری میں سجا دیتے ہیں صرف اس خو ف سے کہ کہیں اس صحیفہ کی بے ادبی نہ ہو جا ئے ، اسے اپنی پر یشانیو ں اور بیماری کا علا ج بھی جا نتے ہیں لیکن خطر نا ک دواﺅ ں کی بنا ءکی طر ح ڈاکٹر کی ہدا یت کے بچو ں کی پہنچ سے دور رکھتے ہیں جبکہ حکم اسے بار بار سمجھ کے ساتھ ”پڑھنے اور پڑ ھانے“ کا ہے ۔ یہ کتا ب الہٰی زند گی کو دنیا اور آخر ت میں کا میابی کی کنجی ہے اورہم اسے زند گی ہارنے والے مردو ں کیلئے نجات کا تعو یز سمجھتے ہیں ۔
کتاب کی رو ح اور اقوال محسن کا ئنا ت کی رو شنی میں خالق حقیقی اپنی مخلو ق سے شدید محبت ”کتا ب “ کی رو ح اور اقوال محسن کا ئنا ت کی رو شنی میں خالق حقیقی اپنی مخلوق سے شدید محبت کرتا ہے لیکن اس نے نسل آدم کو اشرف المخلو قات ، عقل و دانش دے کر دنیا میں فتو حات اور دوسرو ں کی بھلائی کے لیے بھیجا ہے ، وہ اپنے بندے کی تما م تر صلا حیتو ں سے واقف ہے ، اس لیے مغفرت کرنے والا ہے ، اسی لیے اس نے تو بہ کے دروازے کھلے رکھے ہیں اور اپنے مہینے رمضان میں
پکارتاہے کہ کو ئی ہے رحمت کا طلبگار کوئی ہے جو مغفرت کی تمنا رکھتاہے ، کوئی ہے جو جہنم کے عذاب سے بچنے کا خوا ہشمند ہے ۔ اس نے آدمی کو انسان بنانے کے لیے قرآن حکیم کی مختلف آیات قرآن حکیم کی مختلف آیات میں قسم کھا کھا کر ہد ایت ، اچھا ئی اور برائی سے بچنے کی راہ دکھائی ہے لیکن ہم ”ضا بطہ حیا ت “ کو عقید ت واحترام میں صرف سنبھا لے بیٹھے ہیں ۔ بچیو ں کو تعلیم دیں یا نہ دیں ، وقت رخصتی سے قرآن عظیم کے سائے میں رخصت ضرور کر تے ہیں اور وہ بھی سسرال جاکر اسے عزت واحترام کے ساتھ الماری میں سجا دیتی ہے حا لا نکہ حکم پڑ ھنے ، پڑھانے سمجھنے اور سمجھا نے کا ہے ۔ ارشاد رب العزت ہے کہ ”قسم ہے زمانے کی انسان کھانے میں ہے “پھر بھی ہم زمانے کی رنگینیو ں میں گم مست ہا تھی کی زند گی گزارنے میں مگن ہیں ۔ قرآن کہہ رہا ہے کہ تم اپنے رب کی کو ن کو ن سی نعمت کو جھٹلا ﺅ گے “ہم نعمتو ں کا حق بڑی شان سے استعمال کر تے ہیں لیکن متقی اور پر ہیز گار ہونے کی بات انتہا ئی ڈھنا ئی سے نہیں مانتے بلکہ فخریہ کہتے نظر آتے ہیں کہ رب معا ف کر نے والا ہے تو بہ کے درو ازے کھلے ہیں بند ہ جب چاہے گا معافی مانگ لے گا۔ صیح وہ رب ہے مالک کائنا ت کا بندے سے کیامقابلہ ؟ لیکن زندگی بے ہند گی ۔ شر مند گی کے سوا کچھ بھی نہیں ہے ، اس لیے ”ضابطہ حیا ت “ قرآن مجید کا اس کا حقیقی مقام دینا ”کلمہ گو “کا فرض ہے لیکن ہم اس فریضہ سے نظر یں چراتے ہیں کیا یہ بے حر متی نہیں ؟ ۔۔۔

Check Also

‫شہر وجود پاتا ہے جب ہوائی اڈہ ابھرتا ہے: گوانگچو میں ورلڈ روٹس 2018ء شروع گوانگچو، چین، 17 ستمبر 2018ء/سنہوا-ایشیانی

‫شہر وجود پاتا ہے جب ہوائی اڈہ ابھرتا ہے: گوانگچو میں ورلڈ روٹس 2018ء شروع ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *