Home / کالم / عےد الاضحی ُپر قربانی کے احکام

عےد الاضحی ُپر قربانی کے احکام

 

 

عےد الاضحی ُپر قربانی کے احکام
تحریر:وسیم اسلم

قرآن مجےد پارہ نمبر 30سورہ کوثر، آےت نمبر 2مےں ارشاد باری تعالیٰ ہے:
”فَصَلِّ لِرَبِّکَ وَان±حَر±“
ترجمہ: ”تو تم اپنے رب کےلئے نماز پڑھو اور قربانی کرو۔“
مفسر قرآن حضرت قاضی ثناءاللہ پانی پتی رحمة اللہ علیہ نے اس آیت مبارکہ سے نماز عید اور قربانی کے واجب ہونے پر استدلال کیا ہے۔ چنانچہ وہ آےت بالا کے تحت تفسےر مظہری مےں مفسر قرآن حضرت عبداللہ بن عباس جیسے صحابہ کے شاگردوں حضرت عکرمہ حضرت قتادہ اور حضرت عطاءرضی اللہ عنہم کی روایت بیان کرتے ہےں کہ وہ اس آےت کے متعلق فرماتے ہیں: ” ےعنی تم قربانی کے روز اپنے رب کےلئے نماز عید پڑھو اور قربانیوں کے جانوروں کو ذبح کرو۔“ تفسےر قرطبی اور تفسےر جلالےن مےں بھی اس آےت کے تحت اےس ہی تحرےر ہے۔ جبکہ تفسیر ابی سعود اور کشاف میں ہے: ”کہا گیا ہے کہ اس آےت مےں نماز عید اور قربانی کرنا مراد ہے۔“
الغرض مشرکین بتوں کی عبادت کرتے تھے اور بتوں کے نام کی قربانی دیتے تھے۔ اس آیت مبارکہ میں نبی اکرمﷺ کی وساطت سے آپ کی امت کو توحید خالص کا حکم دیا گیا کہ وہ رب العالمین جل جلالہ و عم نوالہ کے لئے عبادت کریں اور اسی کےلئے قربانی دیں۔ نیز اس آیت مبارکہ میں اخلاص و للہیت کا حکم بھی دیا گیا ہے کہ مسلمان کے کسی عمل میں ریاءوسمعہ (دکھاوا اور شہرت حاصل کرنا) نہیں ہونا چاہئے بلکہ نیت میں یہ ہوکہ یہ کام محض اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کےلئے کیا جارہا ہے۔ چنانچہ قرآن مجید پارہ نمبر 3، سورہ بقرہ، آےت نمبر 264 میں ارشاد باری تعالیٰ ہوتا ہے: ترجمہ: ”اے ایمان والو! تم اپنے صدقات کو احسان جتا کر اور طعنے دے کر اس شخص کی طرح ضائع نہ کرو جو اپنا مال دکھاوے کےلئے خرچ کرتا ہے اور اللہ اور یوم آخرت پر ایمان نہیں رکھتا۔“ جبکہ ”سنن ابن ماجہ“ کتاب الزھد، باب الرےا والسمعة، حدےث نمبر 4194 میں نبی اکرمﷺ نے فرمایا: ترجمہ: ”کیا میں تمہیں اس چیز سے آگاہ نہ کروں جو مےرے نزدےک تمہارے لئے دجال کے فتنہ سے بھی زیادہ خطرناک ہے۔ صحابہ نے عرض کیا: ہاں! فرمایا: وہ شرک خفی ہے کہ ایک آدمی نماز کےلئے کھڑا ہو اور خوب اچھی طرح پڑھے اس لئے کہ کوئی دوسرا شخص اسے دیکھ رہا ہے“ اسی طرح مسلم شریف کتاب الامارہ میں ایک لمبی حدیث مبارک ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ قیامت کے روز سب سے پہلے جو فیصلہ ہوگا۔ ایک شخص جو بظاہر شہید ہوا دوسرا جس نے قرآن پڑھا اور پڑھایا اور تیسرا جس نے بظاہر فی سبیل اللہ مال خرچ کیا۔ ان تینوں کو اخلاص و للہیت نہ ہونے بلکہ دکھاوے اور شہرت پانے کےلئے یہ عظیم کارنامے انجام دینے کی وجہ سے گھسیٹ کر جہنم میں ڈال دینے کا حکم ہوگا۔ العیاذ باللّٰہ!
ےاد رہے کہ ہر مسلمان، عاقل، بالغ، آزاد، مقیم، مالک نصاب پر ماہ ذوالحج کی دسویں تاریخ کے دن شروع ہونے پر قربانی واجب ہوجاتی ہے۔
قربانی کےلئے یہ حکم ہے کہ جانور خوب صحت مند اور بے عیب ہو۔ جبکہ خصی جانور زیادہ پسندیدہ ہے۔ لنگڑا، اپاہج، کانا اور جسکا کوئی عضو مثلاََ کان وغیرہ تیسرے حصہ سے زیادہ کٹا ہوا ہو، اس کی قربانی جائز نہےں۔
جس شہر میں نماز جمعہ و عید پڑھی جاتی ہے، قبل نماز کے قربانی نہ کرے۔ عید کے روز قربانی کرنے تک کچھ نہ کھائے پیئے۔ قربانی کرکے وہ ہی گوشت کھائے، یہ مستحب ہے۔ ذبح خود کرے یا کسی دوسرے مومن کو اجازت دے کر اپنے سامنے کرائے، مگر اپنے ہاتھ سے ذبح کرنا افضل ہے۔ اگر کوئی کسی اور کی طرف سے قربانی کرے یا قربانی کا ثواب میت کو بخشے تو جائز ہے۔ جےسا کہ رسول اللہ ﷺ کی قربانی کے متعلق صحیح مسلم، سنن ابو داﺅد، اور مسند امام احمد میں حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے ایک مینڈھا کی قربانی کی اور عرض کیا:
ترجمہ: ”اے اللہ! میری طرف سے میری آل کی طرف سے اور میری امت کی طرف سے قبول فرما۔“
جبکہ جامع ترمذی و صحیح ابو داﺅد میں حضرت حنش رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ”میں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو دو قربانیاں دیتے ہوئے دیکھ کر پوچھا کہ آپ دو قربانیاں کیوں کررہے ہیں؟ تو فرمایا: رسول اللہﷺ نے مجھے وصیت فرمائی تھی کہ میں ایک قربانی آپکی طرف سے کیا کروں لہٰذا میں ایک قربانی آپکی طرف سے کرتا ہوں.“ حوالہ: ”سنن ابو داو¿د“ کتاب الضحاےا، باب الاضحےة من المےت، حدےث نمبر 2408۔
قربانی کے گوشت کے تین حصے کرے، ایک حصہ آپنے اور اہل و عیال کےلئے رکھے، دوسرا رشتہ داروں میں، تیسرا مساکین و فقراءمیں تقسیم کرے۔ جبکہ قربانی کے گوشت یا کھال کو اجرت قصاب میں دینا جائز نہیں۔ ہاں کھال خود استعمال کرسکتا ہے، موزہ بنوائے یا جائے نماز وغیرہ، اگر بیچے تو قیمت خود پر خرچ نہیں کرسکتا بلکہ کسی مستحق کو دے دینا لازم ہے۔
قربانی دس، گےارہ، بارہ ذوالحج تک کی جاسکتی ہے۔ نویں تاریخ کی صبح کی نماز کے بعد سے ہر نماز کے بعد تکبیرات تشریق:
اللّٰہ اکبر اللّٰہ اکبر لا الہ الا اللّٰہ واللّٰہ اکبر اللّٰہ اکبر وللّٰہ الحمد“
تیرہویں تاریخ کی عصر کی نماز تک پانچ دن پڑھتے رہنا چاہئے۔ دسویں تاریخ کو چاشت کے وقت نماز کےلئے عید گاہ جائیں اور جاتے آتے ہوئے باآواز بلند یہی درج بالا تکبیر پڑھتے رہیں۔ اور جس راستہ سے جائیں واپسی اس کے سوا دوسرے راستہ سے آنا بہتر ہے۔
سنن ابن ماجہ کی کتاب الاضاحی، باب ثواب الاضحےة، حدےث: 3118 مےں ہے: ”حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ کے صحابہ نے عرض کیا: یارسول اللہ! یہ قربانیاں کیا ہیں؟ فرمایا: تمہارے باپ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی سنت۔ انہوں نے عرض کیا: یارسول اللہ! ان میں ہمیں کیا ملے گا؟ فرمایا: ہر بال کے عوض نیکی۔ انہوں نے عرض کیا: یارسول اللہ! اون؟ تو آپ نے فرمایا: اون کے ہر بال کے عوض نیکی۔
جبکہ سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرمﷺ نے فرمایا: ”جو شخص دل کی خوشی سے اور ثواب پانے کی نیت سے قربانی کرے تو قربانی اس شخص کےلئے آگ سے رکاوٹ بن جائےگی“
ایک حدیث میں ہے کہ ”قربانی کے جانوروں کو خوب پالو! کہ وہ پل صراط پر تمہارے لےے سواری ہوں گے۔“ ایک اور حدیث میں ارشاد ہے : ”قیامت کے روز قربانی ایک خوبصورت جانور کی شکل میں قبر پر کھڑی ہوگی اور قربانی دینے والے کو اپنے اوپر سوار کرکے عرش معلی کے سایہ تلے پہنچائے گی“
بہتر یہ ہے کہ خود ذبح کرے اگر خود نہ جانتا ہو تو کسی صحیح العقیدہ مسلمان کو اپنی طرف سے ذبح کرنے کےلئے کہے۔ اور بوقت ذبح خود موجود رہنا زےادہ بہتر ہے۔ ذبح کرنے والے کےلئے تکبیر ذبح ” بسم اللہ، اللہ اکبر“ کہنا لازم ہے اور یہ کلمات کہنا مسنون ہے:
”اِنِّی± وَجَّھ±تُ وَج±ھِیَ لِلَّذِی± فَطَرَ السَّمٰواتِ وَال±اَر±ضَ حَنِی±فًا وَمَا اَنَا مِنَ ال±مُش±رِکِی±ن اِنَّ صَلاَ تِی± وَنُسُکِی± وَمَح±یَایَ وَمَمَاتِی± لِلّٰہِ رَبِّ ال±عالَمِی±ن لاَشَرِی±کَ لَہ¾ وَبِذَالِکَ اُمِر±تُ وَاَنَا مِنَ ال±مُس±لِمِی±ن اَللّٰھُمَّ لَکَ وَمِن±کَ، بِس±مِ اللّٰہِ، اَللّٰہُ اَک±بَر±۔
مسئلہ : اونٹ کےلئے پانچ سال، گائے بھینس کے لےے دو سال، بکری کےلئے ایک سال کا ہونا ضروری ہے۔ اگر عمر اس سے ایک دن بھی کم ہو تو قربانی جائز نہیں ہوگی۔ بھیڑ بھی ایک سال کی ہونی چاہئے، لیکن اس میں یہ تخفیف فرما دی گئی کہ چھ ماہ سے زیادہ عمر کی بھیڑ (بشرطیکہ اتنی صحتمند ہو کہ دیکھنے میں ایک سال کی محسوس ہوتی ہو۔) اس کی قربانی جائز ہے۔
مسئلہ : اندھے، کانے، لنگڑے، نہایت لاغر، ایک تہائی سے زیادہ کان یا دم کٹے، جس کا سینگ جڑ سے مع گودے کے ٹوٹ گیا ہو، جو جانور گندگی کھاتا ہو اور اسکے جسم سے بدبو آتی ہو، جسکے نصف یا زیادہ دودھ والے اعضا سوکھ چکے ہوں، جسکے زیادہ دانت نہ ہوں اور ناک کٹے کی قربانی جائز نہیں۔
مسئلہ :گائے، بھینس اور اونٹ میں سات آدمی شریک ہو سکتے ہیں۔ چاہے سب قربانی کرنے والے ہوں اور چاہے بعض قربانی کرنے والے اور بعض عقیقہ کرنے والے۔ لیکن کسی ایسے شخص کو شامل نہ کیا جائے جو بد مذہب ہو ورنہ کسی کی بھی قربانی نہیں ہوگی۔
مسئلہ : قربانی کی کھال کوباقی رکھتے ہوئے مصلی، مشکیزہ یا ڈول وغیرہ بنا کرخود بھی استعمال کرسکتا ہے اور کسی کار خیر میں بھی دے سکتا ہے۔ لیکن قربانی کی کھال کو بیچ دینے کی صورت میں اس کی قیمت کا صدقہ کرنا واجب ہے۔ سکول، نالی، قبرستان، یا مسجد میں اسے خرچ نہ کیا جائے۔ ایسے ہی قربانی کی کھال قصاب کو معاوضے میں نہ دے اور نہ ہی امام کو امامت کے صلہ میں دے۔ البتہ اگر امام مسجد ضرورت مند ہو تواس بناءپر دے سکتا ہے۔ نوٹ: اس پر فتن دور میں چرم قربانی، زکوة وصدقات کا بہترین مصرف دینی مدارس کے طلبہ ہیں۔ اس میں دوہرا ثواب ہے، ایک صدقہ جاریہ کا اور دوسرا دین مصطفیﷺ کی خدمت اور اشاعت وترویج کا۔
مسئلہ : کچھ لوگوں کا ےہ وسوسہ کہ قربانی سے مویشیوں میں کمی آتی ہے درست نہیں۔ کیونکہ ہم دیکھتے ہیں کہ جن جانوروں کی قربانی نہیں کی جاتی، وہ جانور کم ہیں لیکن قربانی والے جانوروں کی ہمیشہ بہتات رہتی ہے۔ دراصل جب یہ جانور اللہ کی محبت میں اللہ کے نام پر قربانی کر دےے جاتے ہیں تو ان میں بے پناہ برکت ڈال دی جاتی ہے۔
نو ٹ۔اسلامی مضمین لکھنے میں انسان سے غلطی ہو جاتی ہے اس بندہ نا چیز سے اگر لکھنے میں کو کمی پیشی ہو گئی ہو تو اللہ تعالی معاف فرمایا(آمین)

Check Also

بعثت و نبوتﷺ پر ایمان کی معراج

بعثت و نبوتﷺ پر ایمان کی معراج تحریر۔۔۔ رشید احمد نعیم ، پتوکی حضور صلی ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *