Home / کالم / غضب کیا جوتیرے وعدے پہ اعتبارکیا

غضب کیا جوتیرے وعدے پہ اعتبارکیا

 

غضب کیا جوتیرے وعدے پہ اعتبارکیا
تحریر:علی جان
ای میل aj119922@gmail.com
پاکستان کی آزادی کے سال جوں جوں گزررہے ہیں کرپشن کنگ اتنے زیادہ بڑھ رہے ہیں اورکرپشن ایک سویادوسوکی نہیں نہ ہی ہزاروں لاکھوں کی بلکہ اربوں کھربوں کی کرپشن پھربھی ہرنئی حکومت کے سیاستدان اسی بات کاروناروتے ہیں کہ ملک کاخزانہ خالی ہے بھئی اگرخزانہ خالی ہے توالیکشن پرکروڑوں کیوں خرچ کرتے ہواپنے اسی کروڑوں میں لگاکراپنابزنس کرومگرنہیں اب سیاست بھی توبزنس بن چکاہے حالانکہ عمران خان نے الیکشن سے پہلے کہا تھا کہ چاہے کوئی بھی کرپشن میں ملوث ہوگااسے جیل کی ہواکھانی پڑے گی اب اگریہاں جہانگیرترین کاذکرنہ کروں توایسی شخصیت کی توہین ہوگی الیکشن سے پہلے دوسری پارٹیوں کاپاکستان تحریک انصاف کے ساتھ ملاپ ہویاالیکشن کے بعد ایم این ایز وایم پی ایز کو جہاز پرلے آنے جانے کوکون بھول سکتاہے حالانکہ یہ ہستی تاحیات نااہل ہوچکی تھی مگرپاکستان تحریک انصاف کی حکومت میں انٹری کے بعدایسے کئی منصوبے ہیں جن کاافتتاح جہانگیرخان ترین نے کیااسمبلی کے دروازے چوبیس گھنٹے کھلے ہیں وزیراعظم ہاﺅس ووزیراعلیٰ ہاﺅس جہانگیرخان نے خریداہواہے گورنرہاﺅس کی توبات ہی نہ کریں جہانگیرخان ترین کی لاہورمیں بیٹھک ہی گورنرہاﺅس ہے اب ایک بارپھرجہانگیرخان ترین کے فلیکسز لاہورمیں لگے نظرآرہے ہیں ۔
عمران خان نے کہاتھا کہ اقتدارمیں آنے کے بعد مہنگائی،بے روزگاری اورغربت کوختم کردیں گے مگرالیکشن کے بعدپتہ چلاکہ حکومت نے تونظرکاچشمہ تبدیل کرکے کالاچشمہ لگالیاہے جس میں اب انہیں صاف صاف نظرآنابندہوگیاہے اورکالے چشمے میں عوام کے مسائل نظرنہیں آتے اوروہ اپنی اس کالی عینک سے صرف لائن میں لگی غلام عوام کوسڑک پرکھڑے استقبال کرتے نظرآناپسندکرتے ہیں ۔کچھ وقت تک حکومت پرائیویٹ سکولز کے خلاف کریک ڈاﺅن شروع کیاکہ پرائیویٹ سکولزبہت زیادہ فیسیں لیتے ہیں جوکئی سفیدپوش لوگوں کی جیب پرڈاکہ ہے اپنے قارائین کوبتاتاچلوں کہ راقم نے کچھ پرائیویٹ سکولز کاوزٹ کیاجس میں پتہ چلاکہ اس میں کئی ایسے اساتذہ ہیں جو سرکاری سکولز کے ٹیچرزہیں یاوہی ٹیچرز نے ہی پرائیویٹ سکولز بنائے ہوئے ہیں میں یہ بات سوچنے پرمجبورہوگیاکہ کیایہ ٹیچراتنااہل ہے کہ پرائیویٹ وسرکاری سکولز کوٹائم دیتاہے کچھ ٹیچرزکاتواتناتک پتاچلاکہ وہ اپنی کلاس کے بچوں کو اپنے پرائیوٹ سکول میں پڑھنے کوکہتے ہیں اگرمیں اپنی ہی بات کروں توجب ہم میٹرک میں تھے تواکیڈمی میں پڑھتے تھے جس میں تمام کے تمام ٹیچرز گورنمنٹ ہائی سکول کے تھے اب یہ بات سمجھ آتی ہے اگریہی ٹیچرسکول میں ہی ایمانداری سے پڑھائیں تو ٹیوشن اکیڈمی کی ضرورت ہی نہ پڑے مگرکیاکریں سیاست کی طرح سکول بھی بزنس بن چکے ہیں۔اس وقت ملک کے 80%لوگ پینے کے صاف پانی سے محروم ہیں کروڑوں افرادبے روزگاراورعلاج کیلئے سہولت نہیں آج اس ترقی یافتہ دورمیں بھی لوگ جانوں کے ساتھ پانی پینے پرمجبورہیں اور55%لوگ غربت کی لکیرسے نیچے زندگی گزاررہے ہیں اوراوپرسے اس مہنگائی نے عوم سے جینے کاحق بھی چھین لیاروز اخبارایسے سرخیوں سے بھرے پڑے ہوتے ہیں فلاں گھرمیں اتنے لوگوں نے غربت سے تنگ آکرموت کوگلے سے لگالیااس مہنگائی کے سونامی نے عوام کی امیدوں کوبہاکرلے گیاہے جوتبدیلی کے نعرے لگاتے تھے آج وہ لوگوں کے بیچ بیٹھنے سے ڈرتے ہیں اگرکوئی ان کے ساتھ آکربیٹھ بھی جائے توڈھیٹ پن کامظاہرہ کرتے ہیں کہ سب ن لیگ اورپی پی کاکیادھراہے ۔ پاکستان اورآئی ایم ایف جائزہ مشن کے درمیان اس بات پر اتفاق ہوگیا ہے کہ ایف بی آر کے سالانہ ٹیکس ہدف میں 233ارب روپے کی کمی کردی گئی ہے یادرہے ٹیکس کمی کی درخواست اس لیے کی گئی کہ ملک کی 50فیصدآمدنی ،درآمدات کے ذریعے ہوتی ہے جبکہ دیگرٹیکسزجیساکہ انکم ٹیکس،جی ٹی ایس،جوودہولڈنگ ٹیکس کی صورت میں درآمدات کے ذیل میں ہوتاہے بزنس مینوں سے ٹیکس وصول کرکے حکومت نے ملک کیلئے اچھی شروعات کی ہے اس کے ساتھ سال 2019میں ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں سے بھی کروڑوں روپے وصول کیے جس وجہ سے لوگ قانون کی پاسداری کی طرف آرہے ہیں ٹریفک قوانین کیلئے ٹریفک پولیس کے ساتھ ساتھ عوام کوبھی اپنے فرائض انجام دینے ہونگے اس کے علاوہ ماحول کوآلودگی سے بچانے اورسموگ سے صاف کرنے کیلئے کروڑوں درخت لگائے ان سب خوبیوں کے باوجود میں آخرمیں وزیراعظم پاکستان عمران خان سے اتناعرض کرناچاہوں گاکہ آئے روز آپکی مدینہ ریاست پربننے والے نئے پاکستان میں آئے روز وزراءکی عیاشیوں کی ویڈیوز،آڈیوز اوربے ہودہ تصاویراورسکینڈلزسامنے آرہے ہیں کیا22سالہ جدوجہداورقربانیوں کامنطقی مقصدفقت یہی عیش وعشرت تھا؟اب دیکھنایہ ہے کہ عمران خان نے الیکشن سے پہلے جوبھڑکیں ماری وہ پوری کرپاتے ہیں یاصرف عوام کواذیت دے کے رخصت ہوجاتے ہیں ۔

Check Also

غلامی سے نجات !

  جمہورکی آواز ایم سرورصدیقی حقیقت اور دعوےٰ دو الگ الگ باتیں ہیں یہ الگ ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *