Home / کالم / فضائل مکہ مکرمہ وفضائل مدینہ منورہ

فضائل مکہ مکرمہ وفضائل مدینہ منورہ

 

حافظ کریم اللہ چشتی پائی خیل،میانوالی
فضائل مکہ مکرمہ وفضائل مدینہ منورہ
کعبے کی رونق کعبہ کامنظراللہ اکبراللہ اکبر دیکھوں تودیکھے جاﺅں برابراللہ اکبراللہ اکبر
تیرے حرم کی کیابات مولاتیرے کرم کی کیابات مولا تاعمرکردے آنامقدراللہ اکبراللہ اکبر
ارش©©©ادباری تعالیٰ ہے ۔ترجمہ ”اورعرض کی ابراہیم نے کہ اے میرے رب اس شہرکوامان والاکردے اوراس کے رہنے والوں کوطرح طرح سے روزی دے جوان میں سے اللہ اورپچھلے دن پرایمان لائیں فرمایااورجوکافرہواتھوڑابرتنے کواسے بھی دوں گاپھراسے عذاب دوزخ کی طرف مجبورکروںگا اوروہ بہت بُری جگہ ہے پلٹنے کی اورجب اُٹھاتاتھاابراہیم اس کے گھرکی نیویں اوراسماعیل یہ کہتے ہوئے اے ربّ ہمارے ہم سے قبول فرمابے شک توہی سنتاجانتاہے اے ربّ ہمارے اورکرہمیں تیرے حضورگردن رکھنے والااورہماری اولادمیں سے ایک اُمت تیری فرمانبرداراورہمیں ہماری عبادت کے قاعدے بتااورہم پراپنی رحمت کے ساتھ رجوع فرمابے شک توہی ہے بہت توبہ قبول کرنیوالا مہربان“۔( پارہ۲آیت۶۲۱تا۸۲۱)
اللہ رب العزت نے بعض رسولوں کوبعض رسولوں پرفضیلت عطاکی ہے ۔اسی طرح دنوںمیں سے جمعة المبارک کو،مہینوں میں سے ،ماہِ رمضان المبارک کو،راتوں میں سے لیلة القدرکی رات کواسی طرح شہروں میں سے مکة المکرمہ اورمدینہ منورہ کوفضیلت عطاکی ہے۔شہرمکہ کی اللہ رب العزت نے قرآن پاک میں قسم اٹھائی ہے۔سوال پیداہوتاہے کہ اس شہرمیں اللہ رب العزت کاگھرہے،حجراسودجنتی پتھرہے میدان عرفات، مسجدنمرہ،جنت المعلیٰ قبرستان ہے۔اس لئے اللہ رب العزت نے اس شہرکی قسم اٹھائی ہے ۔نہیں! بلکہ اللہ رب العزت نے اس شہرکی قسم اس لئے اٹھائی ہے کہ اے محبوب علیہ الصّلوٰة والسلام اس (شہرمکہ)میں تم تشریف فرماہو۔لَااُق±سِمُ بِھٰذَال±بَلَدِ،وَاَن±تَ حِلّ’‘بِھٰذَال±بَلَدِ۔(پارہ 30) مجھے اس شہرمکہ کی قسم ،اس شہرمیں تم تشریف فرماہو۔قرآن پاک سے اس بات کاپتاچلاکہ جس جگہ محبوبان خداکے پاﺅں لگ جائیں وہ جگہ عام جگہ نہیں رہتی بلکہ اللہ پاک کی بارگاہ میں مقبول جگہ ہوتی ہے ۔جس پہاڑی پرحضرت اسماعیل علیہ السلام کی والدہ ماجدہ سیدہ ہاجرہ علیہاالسلام دوڑیں اللہ رب العزت نے ان پہاڑیوں کو”شعائراللہ”قراردیایعنی یہ کوئی دنیاوالی عام پہاڑیاں نہیں بلکہ میری نشانیاں ہیں ۔پس قیامت تک جوآدمی حج یاعمرہ کرے وہ ان پہاڑیوں پردوڑے تاکہ میری محبوب بندی حضرت ہاجرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی سنت زندہ رہے۔اسی طرح جوانسان نبی کریمصلی اللہ علیہ والہ وسلم کے ساتھ عشق و محبت کرتاہے وہ عام انسان نہیں رہتا۔بلکہ وقت کا غوث ،قُطب ،ابدال بن جاتاہے۔ شہرمکہ کی فضیلت کے بارے میں حدیث مبارکہ میں آتاہے ۔ حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضورنبی اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلمنے ارشادفرمایا”کوئی شہرایسانہیں جسے دجال نہ روندے سوائے مکہ مکرمہ اورمدینہ منورہ کے ان کے راستوں میں سے ہرراستہ پرصف بستہ فرشتے حفاظت کررہے ہیں۔(بخاری)حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے جب مکہ فتح فرمایا تو اس روزفرمایاکہ اس شہرکواللہ پاک نے اس دن سے حرمت عطافرمائی جس روززمین اورآسمان کوپیداکیاتھا۔ یہ اللہ تعالیٰ کی حرمت کے باعث تا قیامت حرام ہے اوراس میں جنگ کرناکسی کے لئے نہ مجھ سے پہلے حلال ہوااورنہ میرے لئے مگردن کی ایک ساعت کے لئے ، پس وہ اللہ تعالیٰ کی حرمت کے ساتھ قیامت تک حرام ہے نہ اس کاکانٹاتوڑاجائے اورنہ اسکاشکاربھڑکایاجائے اوراسکی گری پڑی چیزصرف وہ اٹھائے جس نے اعلان کرناہواورنہ یہاں کی گھاس اکھاڑی جائے۔(بخاری) حضرت عبداللہ بن عدی بن حمراءرضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہصلی اللہ علیہ والہ وسلمکومقام حزورہ پرکھڑے ہوکرفرماتے ہوئے سنا: اللہ کی قسم!اے مکہ تو اللہ تعالیٰ کی ساری زمین سے بہتراوراللہ تعالیٰ کوساری زمین سے زیادہ محبوب ہے اگرمجھے تجھ سے نکل جانے پرمجبورنہ کیاجاتاتومیں ہرگزنہ جاتا(ترمذی ،ابن ماجہ) حضرت جابررضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے نبی کریمصلی اللہ علیہ والہ وسلمکوفرماتے ہوئے سناکہ تم میں سے کسی کویہ جائزنہیں کہ مکہ معظمہ میں ہتھیاراٹھائے پھرے۔ (مسلم)ام المومنین سیدہ عائشة الصدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتی ہیں کہ رسول اللہصلی اللہ علیہ والہ وسلمنے فرمایاکہ ایک لشکرکعبہ معظمہ پرحملہ کرے گاتوجب میدانی زمین میں ہوں گے توانکے اگلے پچھلے سب کودھنسادیا جائے گامیں نے عرض کیایارسول اللہصلی اللہ علیہ والہ وسلم انکے اگلے پچھلوں کوکیسے دھنسادیاجائے گاان میں سوداگربھی ہوں گے اوروہ بھی جواس لشکرسے نہیں رسول اللہصلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایاکہ دھنسایا توسارے اگلے پچھلوںکوجائے گا پھراپنی نیتوں پراٹھائے جائیں گے(مسلم، بخاری)حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں رسول اللہصلی اللہ علیہ والہ وسلمنے مکہ معظمہ سے فرمایاتوکیسا پاکیزہ شہرہے اورتومجھے کیساپیاراہے اگرمیری قوم مجھے یہاں سے نہ نکالتی تومیں تیرے علاوہ کہیں نہ ٹھہرتا۔(ترمذی)حضرت ابوشریح عدوی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے انہوں نے عمروابن سعیدرضی اللہ تعالیٰ سے فرمایاجبکہ وہ مکہ معظمہ پرلشکربھیج رہاتھاکہ اے امیرمجھے اجازت دے کہ میں تجھے وہ فرمان پاک سناﺅں جسے کل فتح مکہ کے دن رسول اللہصلی اللہ علیہ والہ وسلمنے کھڑے ہوکرفرمایاجسے میرے کانوں نے سنااورمیرے دل نے محفوظ کیااور حضورصلی اللہ علیہ والہ وسلم کومیری آنکھوں نے کلام کرتے وقت دیکھاآپصلی اللہ علیہ والہ وسلمنے اللہ پاک کی حمدوثناءکی پھرفرمایاکہ مکہ کواللہ پاک نے حرم بنایاہے کسی انسان نے نہیں بنایاہے توکسی بھی اس شخص کوجواللہ اورقیامت کے دن پرایمان رکھتاہویہ جائزنہیں کہ وہاں خون بہائے اورنہ وہاں کادرخت کاٹے اگرکوئی رسول اللہصلی اللہ علیہ والہ وسلمکے جہادسے اجازت سمجھے تواسے کہہ دوکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کواسکی اجازت دے دی تھی اورتم کونہ دی رب نے مجھے دن کی ایک گھڑی اجازت دے دی تھی اب آج اسکی حرمت کل کی طرح ہی لوٹ آئی حاضرین غائبین کوپہنچادیں ابوشریح سے کہاگیاکہ پھرتم سے عمرونے کیاکہافرمایاوہ بولااے ابوشریح میں تم سے زیادہ جانتاہوں کہ حرم شریف نہ تومجرم کوپناہ دے سکتاہے نہ خون کرکے بھاگے ہوئے کونہ فسادکرکے بھاگے ہوئے کو۔(مسلم،بخاری)حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریمصلی اللہ علیہ والہ وسلمنے فرمایاگھرمیں آدمی کی نمازایک نمازکاثواب رکھتی ہے ، محلہ کی مسجدمیں نمازپڑھنے کاثواب پچیس نمازوں کے برابرہے،جوجامع مسجدمیںنمازپڑھے اسے پانچ سونمازوںکاثواب ملے گا۔جومسجداقصیٰ اورمیری مسجدیعن” مسجدنبوی“میں نمازپڑھے اسے پچاس ہزارکاثواب ملے گااورمسجدحرام میں نمازپڑھنے کاثواب ایک لاکھ نمازکے برابرہے ۔(ابن ماجہ)حضرت ابوذررضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میںنے نبی کریمصلی اللہ علیہ والہ وسلمکی بارگاہ اقدس میں عرض کیایارسول اللہصلی اللہ علیہ والہ وسلمزمین پرسب سے پہلے کون سی مسجدبنائی گئی ؟آقاصلی اللہ علیہ والہ وسلمنے فرمایابیت الحرام راوی فرماتے ہیں کہ میں نے پھرعرض کیایارسول اللہصلی اللہ علیہ والہ وسلماس کے بعد؟آپصلی اللہ علیہ والہ وسلمنے فرمایامسجداقصیٰ!پھر میں نے عرض کیایارسول اللہصلی اللہ علیہ والہ وسلم ان دونوں (مسجدوں )کی تعمیرکے درمیان کتناوقفہ ہے ؟آپصلی اللہ علیہ والہ وسلمنے فرمایاچالیس سال۔لیکن تم جہاں وقت ہوجائے اسی جگہ نمازپڑھ لیاکرواسی میں تمہارے لئے فضیلت ہے۔حضرت عیاش ابن ابوربیعہ مخزومی سے روایت ہے کہ رسول اللہصلی اللہ علیہ والہ وسلمنے فرمایایہ امت ہمیشہ خیرکے ساتھ رہے گی جب تک اس حرمت کی پوری تعظیم کرتی رہے گی اورجب لوگ اسے ضائع کردیں گے ہلاک ہوجائیں گے۔(ابن ماجہ)
فضائل مدینہ منورہ
کعبہ کی عظمتوں کامنکرنہیں ہوں لیکن ! کعبے کاہے کعبہ میرے نبیﷺکاروضہ
حاجیوآﺅشہنشاہ کاروزہ دیکھو کعبہ تودیکھ چکے اب کعبے کاکعبہ دیکھو
ارشادباری تعالیٰ ہے “اگرجب وہ اپنی جانوں پرظلم کریں تواے محبوبصلی اللہ علیہ والہ وسلم تمہارے حضورحاضرہوجائیںاورپھراللہ پاک سے معافی چاہیں اوررسولصلی اللہ علیہ والہ وسلم انکی شفاعت فرمائے توضروراللہ پاک کوبہت توبہ قبول کرنے والاپائیں گے۔(پارہ۵)اس آیت کریمہ سے معلوم ہواکہ دربارمصطفی صلی اللہ علیہ والہ وسلم پر حاضرہونے کے بغیر بخشش ناممکن ہے ۔امیرالمومنین حضرت علی المرتضیٰ شیرخداکرم اللہ وجہہ الکریم بیان فرماتے ہیں کہ آقاصلی اللہ علیہ والہ وسلم کواس دنیاسے ظاہراًپردہ فرماتے ہوئے تین دن ہی گزرے تھے کہ ایک اعرابی آپصلی اللہ علیہ والہ وسلمکی قبرانورپرحاضرہوااورقبرانورسے چمٹ گیااورقبرمبارک کی خاک سرپرڈالی اورعرض کرنے لگایارسول اللہصلی اللہ علیہ والہ وسلم !آپ نے جوخداسے سناہم نے آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلمسے سنااورجوکچھ آپصلی اللہ علیہ والہ وسلمنے خداسے لیاہم نے آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلمسے لیااس میں یہ آیت کریمہ بھی ہے ۔وَلَو±اَنَّھُم± اَذ± ظَّلَمُو±ااَن±فسَہُم± آخرالایہ میں نے بھی اپنے نفس پرظلم کیاہے ۔اللہ کے محبوب صلی اللہ علیہ والہ وسلمتیرے دربارمیں حاضرہواہوں تاکہ آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلممیری سفارش فرمائیں اعرابی جذبہ شوق سے یہ کلمات عرض کرتاہے اورادھرقبرانورسے آوازآتی ہے جاﺅتمہاری بخشش ہوگئی ہے ۔(جذب القلوب)جہاں پرذکرخداہوگاوہیں پرذکرمصطفیصلی اللہ علیہ والہ وسلمہوگا ۔ اگرکوئی لاکھ مرتبہ لاالہ الااللّٰہ کہے مسلمان نہیں ہوسکتا جب تک محمدرسول اللّٰہ(صلی اللہ علیہ والہ وسلم)نہ کہے گا۔کیونکہ آقائے دوجہاںسرورکون ومکانصلی اللہ علیہ والہ وسلمکی محبت دین حق کی شرط اّول ہے۔
محمدﷺکی محبت دین حق کی شرط اوّل ہے اسی میںہواگر خامی توسب کچھ نامکمل ہے۔
سرکاردوعالم نورمجسم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی مدینہ میں تشریف آوری سے پہلے مدینہ منورہ کاپرانانام یثرب تھامگرآپصلی اللہ علیہ والہ وسلم کی آمدکے بعدیہ نام(یثرب)ممنوع قراردیاگیا۔قرآن مجیدمیں ہے ۔اِذ±قَالَت± طَائِفَة’‘ مِن±ھُم± یَااَھ±لَ یَث±رِبَ الایہیثرب سے ممانعت کیوجہ یہ ہے کہ یہ نام جاہلیت کاتھااس لئے منع فرمایاگیا۔یایثرب ایک بت یاایک ظالم کانام تھا۔اس لئے اس نام سے روک دیاگیایااس لئے یثرب مشتق ہے ثَر±ب’‘ ثرب کے معنی فسادکے ہیں یامشتق ہے تثریب سے اورتثریب کے معنی مواخذہ اورسرزنش ہوتاہے کیونکہ اس شہرکریم کے مناسب یہ معنی نہیں تھے اس لئے یثرب بولنے سے نہی واردہوگئی اورقرآن میں جولفظ یثرب ہے وہ منافقوں کی زبان سے بیان کیاگیاہے ۔عیسیٰ ابن دینارمالکی رحمة اللہ علیہ نے فرمایاکہ جوکوئی شخص اس شہرکریم کویثرب کہے گاوہ گناہ گارہوگا۔امام بخاری رحمة اللہ علیہ نے اپنی تاریخ میں ایک روایت بیان فرمائی کہ اگرکوئی ایک دفعہ اس شہرکریم کویثرب کہدے تواسے چاہیے کہ اسکی تلافی کے لئے دس بارمدینہ کہے ۔ایک اورروایت میں ہے کہ جو”مدینہ پاک کویثرب کہے اسے چاہیے کہ اللہ سے استغفارکرے“ ۔کتناخوش نصیب ہے وہ مسلمان جومدینہ منورہ میں حاضرہوکراپنے آقاومولااوراللہ پاک کے محبوبصلی اللہ علیہ والہ وسلمکی زیارت سے مشرف ہو۔مدینہ منورہ اللہ پاک کواتناپیاراہے کہ جتنے شہربھی فتح ہوئے یہاں تک کہ مکہ معظمہ وہ تلوارسے فتح ہوئے ۔وہاں تلوارچلی لڑائی ہوئی خون ریزی ہوئی مگرجب مدینہ منورہ فتح ہوتاہے تونہ تلوارچلتی ہے نہ خونریزی ہوتی ہے نہ ہی لڑائی کی نوبت آتی ہے ۔بلکہ خودبخودفتح ہوجاتاہے ۔اللہ پاک کواتنابھی پسندنہیں کہ مدینہ کی گلیوں میں خون رواں ہو۔روایت ہے کہ تمام شہرتلوارسے فتح ہوئے مگرمدینہ منورہ قرآن پاک سے فتح ہوا۔(جذب القلوب)
مدینہ منورہ وہ مبارک شہرہے جس میں زمین کایک ٹکراجنت کاٹکڑاہے۔مدینہ کی مٹی میں شفاہے جوشخص مدینہ پاک کی تنگی اورسختی پرصبرکرے گا قیامت کے دن حضوراکرم نورمجسمصلی اللہ علیہ والہ وسلم اسکی شفاعت فرمائیں گے ۔اسی شہرمدینہ میں میرے آقاصلی اللہ علیہ والہ وسلمکاگنبدخضریٰ ہے۔یہ وہ گنبدخضریٰ ہے جس پرہروقت اللہ پاک کی نوری مخلوق ملائکہ کا ہجوم رہتاہے ۔سترہزارفرشتہ صبح کواورسترہزارفرشتہ شام کودرودپاک کے لئے حاضرہوتاہے جو فرشتہ آقاصلی اللہ علیہ والہ وسلمکی ذات اقدس پردوردِپاک پڑھنے کے لئے ایک مرتبہ حاضرہوجائے پھرقیامت تک اسے دوبارہ حاضری کا موقع نہیں ملتا ۔جس نے میرے آقاصلی اللہ علیہ والہ وسلم کی قبرانورمبارک کی زیارت کی حقیت میں اس نے آقاصلی اللہ علیہ والہ وسلم کی زیارت کی ۔اورجس نے میرے نبیصلی اللہ علیہ والہ وسلم کی زیارت کی سرکارِمدینہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم اس کی شفاعت فرمائیں گے ۔حد یث پاک میں آتاہےمَن± زَارَقَب±رِی± وَجَبَت± لَہ‘ شَفَاعَتِی±جس نے میری قبرکی زیارت کی اس کے لئے میری شفاعت واجب ہوگئی۔حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریمصلی اللہ علیہ والہ وسلمنے فرمایا”میرے گھراورمیرے منبرکے درمیان کاحصہ جنت کے باغوں میں سے ایک باغ ہے اورمیرامنبرمیرے حوض پرہے” ۔(بخاری)
ہم درِآقاﷺپہ سراپناجھکالیتے ہیں سچ بتاناارے دنیاہم تیراکیالیتے ہیں
حضرت ابن عمررضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مرفوعاًروایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلمنے فرمایاکہ جومیری وفات کے بعدحج کرے اورمیری قبرکی زیارت کرے اسکازیارت کرناایسے ہوگاجیسے میری زندگی میں میری زیارت کرے۔(بیہقی شعب الایمان)حضرت عبداللہ بن عمررضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایاجومیری زیارت کوآئے سوا میری زیارت کے اورکسی حاجت کے لئے نہ آیاتومجھ پرحق ہے کہ قیامت کے دن اس کاشفیع بنوں۔(طبرانی المعجم الکبیر)
امیرالمومنین سیدناحضرت عمرفاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کومیں نے فرماتے سناجوشخص میری زیارت کرے گاقیامت کے دن میں اسکاشفیع یاشہیدہوںگااورجو حرمین میںمرے گااللہ تعالیٰ اسے قیامت کے دن امن والوں میں اٹھائے گا۔ابن عدی کامل میں انہی سے روایت ہے کہ رسول اللہصلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایاجس نے حج کیااورمیری زیارت نہ کی اس نے مجھ پرجفاکیا۔زیارت اقدس قریب بواجب ہے بہت لوگ دوست بن کرطرح طرح ڈراتے ہیں راہ میں خطرہ ہے وہاں بیماری ہے یہ ہے وہ ہے ۔خبردار!کسی کی نہ سنواورہرگزمحرومی کاداغ لے کرنہ پلٹو۔جان ایک دن ضرورجانی ہے اس سے کیابہترکہ اُن کی راہ میں جاے اورتجربہ یہ ہے کہ جوان کادامن تھام لیتاہے اسے اپنے سایہ بآرام لے جاتے ہیں کیل کاکھٹکانہیں ہوتا۔
ہم کوتواپنے سایہ میں آرام ہی سے لائے حیلے بہانے والوں کویہ راہ ڈرکی ہے
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریمصلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایاکہ مدینہ کی تکلیف وشدت پرمیری امت میں سے جوکوئی صبرکرے قیامت کے دن میں اسکاشفیع ہوںگا (ترمذی)حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ لوگ جب پہلاپھل دیکھتے تواسے نبی کریمصلی اللہ علیہ والہ وسلمکی خدمت میں لاتے تھے جب حضورصلی اللہ علیہ والہ وسلم اسے لیتے تو فرماتے الٰہی ہمارے پھلوں میں ہمارے لئے برکت دے ہمارے مدینہ میں برکت دے ہمارے صاع میں ہمارے مدمیں ہمارے واسطے برکت دے الٰہی ابراہیم علیہ السلام تیرے بندے تیرے خلیل علیہ السلام تیرے نبی ہیں اورمیں تیرابندہ تیرانبی ہوں انہوں نے مکہ کے لئے دعاکی اورمیں مدینہ کے لئے ویسے ہی دعاکرتا ہوںجیسی انہوں نے مکہ کے لئے دعاکی اوراتنی ہی اسکے ساتھ اورفرمایاپھرکسی چھوٹے بچے کوبلاتے اسے یہ پھل عطا فرمادیتے۔(مسلم)
نہ جنت نہ جنت کی کلیوںمیں دیکھا مزہ جومدینہ کی گلیوںمیں دیکھا
ام المومنین سیدہ حضرت عائشة الصدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتی ہیں کہ جب رسول اللہصلی اللہ علیہ والہ وسلممدینہ تشریف لائے توحضرت ابوبکرصدیق وحضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہما کوبخارہوگیامیں آقاصلی اللہ علیہ والہ وسلمکی خدمت میں حاضرہوئی میں نے حضورصلی اللہ علیہ والہ وسلمکویہ خبردی توآقاصلی اللہ علیہ والہ وسلمنے فرمایاالٰہی مدینہ ہمیںایساپیاراکردے جیسے مکہ پیاراتھایااس سے بھی زیادہ اوراسے صحت بخش بنادے اوراس کے صاع ومدمیں ہمیں برکت دے اوریہاںکے بخارکومنتقل کرکے حجفہ میں بھیج دے۔(مسلم،بخاری)حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہصلی اللہ علیہ والہ وسلمنے فرمایامجھے ایسی بستی کاحکم دیاگیاجوتمام بستیوں کوکھاجائے لوگ اسے یثرب کہیں گے حالانکہ وہ مدینہ ہے لوگوں کوایسے صاف کردے گی جیسے بھٹی لوہے کے میل کو۔(مسلم ،بخاری)حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہصلی اللہ علیہ والہ وسلمنے فرمایاقیامت قائم نہ ہوگی حتیٰ کہ مدینہ منورہ برے لوگوںکویوں نکال دے گاجیسے بھٹی لوہے کامیل نکال دیتی ہے۔(مسلم شریف)حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہصلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا”اللہ جواہل مدینہ پرظلم کرے اورانہیں ڈرائے تواسے خوف میں مبتلاکراوراس پراللہ اورفرشتوں اورتمام آدمیوں کی لعنت اوراس کانہ فرض قبول کیاجائے نہ نفل ۔(طبرانی)حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہصلی اللہ علیہ والہ وسلمنے فرمایاکہ مدینہ منورہ کے راستوںپرفرشتے ہیں یہاں نہ طاعون آسکتی ہے نہ دجال۔(مسلم،بخاری)حضرت سعدبن ابی وقاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہصلی اللہ علیہ والہ وسلمنے فرمایاجو شخص مدینہ والوںکوتکلیف دیناچاہے تواللہ تعالیٰ دوزخ میں اسے اس طر ح پگھلائے گاجس طرح آگ میں سیسہ پگھلتاہے یاجس طرح نمک پانی میں پگھلتاہے۔حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریمصلی اللہ علیہ والہ وسلمکے سامنے احدپہاڑچمکاتوفرمایایہ پہاڑہم سے محبت کرتاہے اورہم اس سے محبت کرتے ہیں یقیناََ ابراہیم علیہ السلام نے مکہ معظمہ کوحرم بنایااورمیں مدینہ کے گوشوں کے درمیان کوحرم بناتاہوں۔(بخاری ،مسلم)حضرت سیلمان بن ابی عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے سعدبن ابی وقاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ کودیکھاکہ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس شخص کوپکڑلیاجوحرم مدینہ میں شکارکررہا ہے جسے رسول اللہصلی اللہ علیہ والہ وسلم نے حرم بنایاہے توآپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اسکے کپڑے اتارلئے پھراسکے مالک آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس آئے اور اس بارے میں آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کلام کیاآپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایاکہ رسول اللہصلی اللہ علیہ والہ وسلم نے اس حرم کوحرمت دی ہے اورفرمایاکہ جویہا ںکسی کوشکارکرتے ہوئے پکڑے تواس کے کپڑے چھین لے لہذاوہ مال میں تم کوواپس نہ دوں گاجومجھے رسول اللہصلی اللہ علیہ والہ وسلمنے عطاکیالیکن اگرتم چاہوتوتمہیں اسکی قیمت دے دوں (ابوداﺅد)حضرت ابن عمررضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہصلی اللہ علیہ والہ وسلمنے فرمایاجس سے ہوسکے مدینے میں مرے تومدینہ ہی میں مرے کہ جوشخص مدینہ میں مرے گامیں اس کی شفاعت فرماﺅں گا۔(ترمذی)امیرالمومنین سیدنا حضرت عمرفاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ یہ دعامانگاکرتے تھے مولا!مجھے اپنی راہ میں شہادت نصیب فرمااورمیری موت اپنے رسولصلی اللہ علیہ والہ وسلم کے شہرکریم میں مقررفرما۔اللہ تعالیٰ نے امیرالمومنین سیدنا حضرت عمرفاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی دعاقبول فرمائی کہ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اللہ پاک کے راستہ میں شہیدہوئے اورمدینہ طیبہ میں ہی مدفون ہوئے اورخاص کراپنے محبوب صلی اللہ علیہ والہ وسلمکے ساتھ اس روضہ اقدس میں جگہ پائی جس کورسول اللہصلی اللہ علیہ والہ وسلم نے رَو±ضَة’‘ مِّن± رِّیَاضِ ال±جَنَّةِ فرمایاہے ۔حضرت امام مالک ِ عالم مدینہ رحمة اللہ علیہ کے دل میں اتنی محبت تھی کہ شہرکریم سے باہرنکلناپسندنہ کرتے تھے محض اس اندیشہ سے کہ ایسانہ ہوکہ میں اس شہرکریم سے باہرجاﺅں اوروہاں میری موت آجائے تومدینہ پاک کے غبار،مٹی پاک اورقبرکی سعادت سے محروم رہ جاﺅں چنانچہ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ساری عمرمیں اک فرضی حج ادافرمایااوراپنی تمام عمرمدینہ طیبہ میں بسرکردی آخروہاں ہی مدفون ہوکرسعادت ابدی حاصل کی۔(جذب القلوب)حضرت عبداللہ بن عمررضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہصلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایاجواہل مدینہ کوایذادے گااللہ تعالیٰ اسے ایذادے گااوراس پراللہ اورفرشتوں اورتمام آدمیوں کی لعنت اوراس کانہ فرض قبول کیاجائے نہ نفل۔حضرت ابوبکرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلمنے فرمایامدینہ میں مسیح دجال کاعرب نہ آسکے اس دن مدینہ میں سات دروازے ہوںگے ہر دروازہ پردوفرشتے ہونگے۔(بخاری)حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلمنے فرمایاالٰہی جوبرکتیں تونے مکہ مکرمہ کودی ہیں اس سے دوگنی برکتیں مدینہ منورہ میں دے۔ (مسلم،بخاری)حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلمنے فرمایاایمان مدینہ کی طرف اس طرح سمٹ کرآجائے گاجس طرح سانپ اپنے سوراخ کی طرف سمٹ کر آجاتاہے ۔(بخاری)
اللہ رب العزت ہم سب کوباربارطواف ِکعبہ اورگنبدخضریٰ کی سنہری جالیوں کی زیارت نصیب فرمائے، بروزمحشرآقاصلی اللہ علیہ والہ وسلمکی شفاعت نصیب فرمائے وطن عزیزپاکستان کوامن وسلامتی کاگہوارہ بنائے۔ملک پاکستان میں نظام مصطفیصلی اللہ علیہ والہ وسلم نافذ فرمائے۔ مسلمانوں کوآپس میں اتفاق واتحاد نصیب فرمائے۔اللہ رب العالمین آقائے دوجہاں سرورکون ومکاںصلی اللہ علیہ والہ وسلم کی سچی اورپکی غلامی نصیب فرمائے۔کفارومشرکین،منافقین، حاسدین کامنہ کالافرمائے ۔حضورصلی اللہ علیہ والہ وسلمکے غلاموں کادونوں جہانوں میں بول بالافرمائے ۔آمین بجاہ النبی الامین

Check Also

بعثت و نبوتﷺ پر ایمان کی معراج

بعثت و نبوتﷺ پر ایمان کی معراج تحریر۔۔۔ رشید احمد نعیم ، پتوکی حضور صلی ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *