Home / کالم / فلمی دنیا کے وہ ستارے جو 2019میں مرجھا گئے

فلمی دنیا کے وہ ستارے جو 2019میں مرجھا گئے

 

فلمی دنیا کے وہ ستارے جو 2019میں مرجھا گئے
تحریر عقیل خان
aqeelkhancolumnist@gmail.com
انسان دنیا میں آتاتو ایک ترتیب سے ہے مگر جانے کی کوئی ترتیب نہیں۔ موت برحق ہے اور کفن پر شک ہے ۔ اس کے باوجود ہمیں زندگی سے پیار ہے۔ جو عارضی زندگی ہے اس کے لیے ہم کیا کچھ نہیں کرتے ۔کھانے پینے سے لیکر آنے والی نسلوں تک کا سوچتے ہیں مگر ہمیں کسی کے نہ پل کا پتا اور نہ کل کا۔ زندگی انسان کو بہت پیاری ہے تاہم موت سے بھی کسی کو انکار نہیں۔ بہت سے لوگ گم نامی کی زندگی جی کر مر جاتے ہیں اور کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جو اپنے کارناموں کی وجہ سے دنیا میں یاد رکھے جاتے ہیں۔ یادیں پھر یادیں ہی رہ جاتی ہیں اور جانے والے چلے جاتے ہیں۔ سال کا آخری ماہ جاری ہے اور 2019ہم سے جدا ہونے والا ہے۔2019میں بہت سے ہمارے اپنے پیارے ہمیں روتا چھوڑ کر اپنے اصلی گھر کی طرف چلے گئے ۔ فلمی دنیاکے چند ان انمول ہیروں کا تذکرہ کرنا ضروری سمجھتا ہوں جو اب ہم میں نہیں ہیں
روحی بانو: اداکارہ روحی بانو 10 اگست 1951 کو کراچی میں پیدا ہوئیں۔ ا±ن کے والد طبلہ نواز استاد اللہ رکھا تھے۔روحی بانو نے 1970سے 1980 کے عشرے میں کئی ڈراموں میں کام کیا جن میں کرن کہانی، زرد گلاب، دروازہ اور دیگر بے شمار مقبول ڈرامے شامل ہیں۔آپ کی عمدہ اداکاری کی بدولت 1981میں حکومت پاکستان کی جانب سے صدارتی تمغائے حسن کارکردگی سے نوازا گیا۔2005 میں روحی بانو کے 20 سالہ بیٹے کو کسی نے قتل کر دیا تھا جس کے باعث وہ اپنا ذہنی توازن کھو بیٹھیں۔ طویل علالت کے بعد15 جنوری 2019کو ا±نہیں طبیعت ناساز ہونے کے بعد وینٹی لیٹر پر لگا دیا گیا جہاں 10 دن کے بعد وہ استنبول کے ایک مقامی ہسپتال میں 25 جنوری 2019کو انتقال کرگئیں
شہناز رحمت اللہ (پیدائش: 2 جنوری 1952ئ — وفات: 23 مارچ 2019ئ ) بنگلا دیش سے تعلق رکھنے والی گلوکارہ تھیں۔ ا±ن کی وجہ شہرت ملی نغمے سوہنی دھرتی اور جیوے پاکستان ہیں
شہناز بیگم 2 جنوری 1952 کو ڈھاکا میں پیدا ہوئیں۔ نو عمری میں ہی وہ موسیقی سے منسلک ہوگئیں۔شہناز بیگم کی شادی میجر ریٹائرڈ ابوالبشر رحمت اللہ سے ہوئی۔مشرقی پاکستان سے تعلق رکھنے والی وہ پہلی گلوکارہ تھیں جنہوں نے اردو زبان میں ملی نغمے گائے۔ شہناز بیگم پانچ دہائیوں تک فن سے وابستہ رہیں۔ شہنشاہ غزل مہدی حسن ان کے استاد تھے۔ملی نغمے جیوے جیوے پاکستان اور سوہنی دھرتی اللہ رکھے شہناز رحمت اللہ کی وجہ شہرت بنے۔ بنگلا دیش کے قیام کے بعد وہ وہاں منتقل ہوگئیں اور اپنے آبائی ملک بھی گلوکاری کا سلسلہ جاری رکھا۔ 1990میں انہیں فلم چھوتر پھاندے میں بہترین گلوکاری پر نیشنل ایوارڈ سے نوازا گیا جبکہ 1992میں ا±نہوں نے ایکوشے پدک ایوارڈ بھی جیتا۔ عمرہ کی ادائیگی کے بعد ا±نہوں نے گلوکاری کو خیرباد کہہ دیا تھا۔شہناز بیگم نے سوگواران میں شوہر، بیٹا اور بیٹی کو چھوڑا ہے۔23 مارچ 2019کو شہناز بیگم دورہ قلب سے 67 سال کی عمر میں انتقال کرگئیں۔
ذہین طاہرہ : پاکستان ٹیلی ویژن کی ایک تجربہ کار اور اولین اداکاراو¿ں میں سے ایک تھیں۔ انہوں نے فلم کے لیے بھی کام کیا، اداکاری کے علاوہ ذہین طاہرہ پروڈیوسر اور ہدایتکار بھی تھیں۔ انہوں نے ریڈیو پاکستان اور اسٹیج کے لیے بھی کام کیا۔ طاہرہ 1940میں بھارتی شہر لکھنو¿ میں پیدا ہوئیں، مرحومہ 45 برس ٹیلی ویڑن سے منسلک رہیں۔ انہوں نے ساٹھ، ستر اور اسی کی دہائیوں میں پاکستان ٹیلی ویڑن کراچی مرکز سے بے شمار ڈراموں میں انتہائی جاندار کردار ادا کیے۔ذہین طاہرہ نے سات سو ڈراما سیریز میں مرکزی اور اہم کردار ادا کیے۔ انہوں نے چند ایک ٹیلی ویڑن سیریز کی ہدایتکاری بھی کی۔ آخری سالوں میں انہوں نے زیادہ تر نجی ٹیلی ویڑن چینلوں کے ساتھ کام کیا۔ انہوں پاکستان ٹیلی ویڑن سے نشر ہونے والے شوکت صدیقی کے لکھے ہوئے ریکارڈ توڑ ڈرامے خدا کی بستی میں مرکزی کردار ادا کیا تھا اس کے علاوہ ذہین طاہرہ نے عروسہ، دستک، دیس پریس، کالی آنکھیں، کہانیاں، وقت کا آسمان، ماسی اور ملکہ، راستے دل کے، کیسی ہیں دوریاں، شمع، دل دیا دہلیز، چاندنی راتیں، آئینہ، تجھ پے قربان سمیت کئی ڈراموں میں کام کیا۔
حکومت پاکستان نے شوبز انڈسٹری کے لیے لازوال خدمات کے اعتراف میں 2013 میں انہیں تمغائے امتیاز سے بھی نوازا تھا۔ہم ٹی وی لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ 2013 بھی ملا تھا۔ذہین طاہرہ گزشتہ کافی عرصے سے شدید علیل تھیں جب کہ گزشتہ ماہ انہیں عارضہ قلب کے باعث وینٹی لیٹر پر منتقل کیا گیا تھا۔ ان کے بیٹے نے ان کی صحت یابی سے آگاہ کر دیا تھا، پھر اچانک طبیعت خراب ہونے پر کراچی کے نجی ہسپتال میں داخل کرایا گیا، جہاں 9 جولائی 2019کو وفات پا گئیں۔
عابد علی:عابد علی 29 مارچ 1952 کو کوئٹہ میں پیدا ہوئے تھے ۔ ان کی تین بیٹیاں ہیں جبکہ ایک بیٹی ایمان علی نے جیو کی فلم ’بول‘ سے شہرت حاصل کی۔عابد علی نے دو شادیاں کی تھیں، ان کی پہلی بیگم حمیرا علی اور دوسری رابعہ نورین ہیں اور ان دونوں کا تعلق بھی شوبز سے ہے۔عابد علی کو امجد اسلام امجد کے لکھے ہوئے ڈرامے ’وارث‘سے شہرت حاصل ہوئی، انہوں نے سیکڑوں ٹیلی وڑن ڈراموں اور درجنوں فلموں میں کام کیا۔بہترین اداکاری پر عابد علی کو 1985 میں صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی سے بھی نوازا گیا، انہوں نے مشہور نگار ایوارڈ بھی اپنے نام کیا تھا۔عابد علی نے سال 2018میں حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کی تھی۔ موت سے زندگی کی جنگ لڑتے لڑتے 5ستمبر کوہار گئے ۔ انہیں کراچی میں سپردخاک کیا گیا۔
اشرف راہی: ا شرف راہی اسٹیج اداکار کی حیثیت سے گزشتہ 4 دہائیوں سے پاکستانی شوبز انڈسٹری کا حصہ رہے ہیں۔انہوں نے اپنے کیریئر میں 3 ہزار سے زائد ڈراموں میں کام کیا، جبکہ ‘عینک والا جن’ اور ‘خوفیہ جزیرہ’ ان کے مقبول ڈراموں میں شمار کیے جاتے ہیں۔اشرف راہی ‘مہندی والے ہاتھ’ نامی فلم میں بھی جلوہ گر ہوچکے ہیں جبکہ انہوں نے ایک بھارتی پروجیکٹ ‘پنجاب دی کڑی’ میں بھی کام کیا۔مزاح اور جملوں کی برجستہ ادائیگی میں منفرد مقام رکھنے والے اشرف راہی نے ‘شرطیہ مٹھے’، ‘مس رانگ کال’، ‘ماہی مینوں چھلا پوا دے’ اور ‘مجاجن’ جیسے پروجیکٹس میں بھی صلاحیتوں کے جوہر دکھائے۔مرحوم اشرف راہی نے سوگواران میں تین بیٹے اور ایک بیٹی چھوڑی ہے۔اسٹیج ڈراموں، ٹی وی اور فلموں میں صلاحیتوں کے جوہر دکھانے والے پاکستان کے نامور کامیڈی اداکار اشرف راہی 65 سال کی عمر میں دل کا دورہ پڑا۔ اداکار کو دل کا دورہ پڑنے کے بعد فوری طور پر لاہور کے ایک ہسپتال منتقل کیا گیا جہاں وہ جانبر نہ ہوسکے۔وہ گزشتہ کئی سالوں سے ذیابیطس اور ہیپاٹائٹس جیسی بیماریوں کا شکار بھی تھے۔26دسمبر وہ دنیا فانی سے کوچ کرگئے۔
ان تمام عظیم شخصیات کو ہمیشہ تاریخ سنہری لفظوں میں یاد رکھے گی، اللہ سے دعا ہے کہ ان کے درجات بلند فرمائے اور ان کے لواحقین کو صبر و جمیل عطا فرمائے۔

Check Also

ذخیرہ اندوز اور حکومتی کریک ڈاﺅن۔

  ذخیرہ اندوز اور حکومتی کریک ڈاﺅن۔ تحریر: ملک عاطف موجودہ مہنگائی کی لہر نے ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *