Home / کالم / قانون اورکمزور

قانون اورکمزور

 


تحریر:قاری محمد عبدالرحیم

روزِ ازل سے طاقت اورظلم ایک ساتھ چلتے آرہے ہیں ،اور کمزور ی اورفریاد بھی ایک ساتھ چل رہے ہیں ،لیکن خالقِ عالم نے ظاقتور اور کمزور کے درمیان ایک ضابطہ رکھا ہے ،جسے قانون کا نام دیا گیاہے،قانون دراصل طاقت ور اورکمزور کے درمیان وہ حدِ فاصل ہے جس کی وجہ سے بہکی ہوئی طاقت کمزوروں کو کچلنے سے رکی رہتی ہے،لیکن قانون جہاں حدِ فاصل ہے وہاں ہی طاقت کے لیے ایک ذریعہِ جبر بھی ہے، جب وہ دجل وفریب کی قوتوں کی دست برد میں آتا ہے توکمزور کو کچلنے کے ساتھ اس کی فریاد پر بھی پہرہ لگا دیتا ہے،اب بے گناہ بھی دارورسن پربے لب وزبان جھول جاتا ہے،اورتاریخ لکھتی ہے کہ منصور حلاج کو ”اناالحق“کہنے کی سزادی گئی کہ اس نے ذاتِ حق کا شریک بنناچاہا ، حالانکہ ہردور میں ہر طاقت ور اناالحق،اناالحق کہہ رہا ہے،کب ، کہاں اور کس کو سزادی گئی ؟اسی لیے کہاجاتا ہے کہ قانون اندھا ہوتاہے،اور کہا جاتا ہے کہ قانون مکڑی کا جالا ہے ،کمزور اس میں پھنس جاتا ہے اور طاقت ور اسے توڑ کرنکل جاتا ہے،قانون کی عمل داریاں اور قانون کی شکستگیاں ان کے درمیان ایک نہ نظر آنے والا فرق ہوتا ہے ،جس سے چابک دستان قانون ہی آگا ہوتے ہیں،عام لوگ کیا بڑے بڑے علم وفن والے بھی اس سے بے خبر ہوتے ہیں ،یہی قانون کی بے راہ رویاں ہی تھیں کہ میرے آقا کریم ﷺ نے فرمایا پچھلی قومیں اسی لیے تباہ ہوئیں کہ وہ غریبوں پر حد نافذکرتے تھے اور امیروں کو معاف کردیتے تھے،آج دنیا ایک دو ملکوں کے سوا قانون کو ظلم کے ہتھیار کے طور پر استعمال کررہی ہے،جس کی بنا پر دنیا کی ہر زندہ مخلوق قیامتِ صغریٰ میں مبتلا ہے،بالخصوص پاکستان میں جو ایک اسلامی ریاست کے نام پر وجود میں آیا،قانون صرف اورصرف طاقت ور کا ہمنوا ہے ، کمزور کسی اپنے سے زیادہ کمزور کو توقانون سے زیر کرسکتا ہے ،بالا تر کو نہیں ،ایک لطیفہ ہے کہ حضرت عمررضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس ایک بندہ فریادلے کر گیا کہ حضور فلاں بندے نے مجھ سے دھوکا کیا ہے تو آپ نے اس کو بغور دیکھا اور فرمایا کہ یہ نہیں ہوسکتا کہ تم سے کوئی دھوکا کرسکے اس نے عرض کیا کیوں جناب ؟تو آپ نے فرمایا کہ میرے نبی کریم ﷺ نے فرمایا ہے کہ چھوٹے قد والا آدمی دھوکا نہیں کھا سکتا تو اس بندے نے عرض کیا حضور جس بندے نے مجھے دھوکا دیا ہے وہ مجھ سے بھی چھوٹے قد کا ہے تو آپ نے فرمایا ہاں پھر ہو سکتا ہے،اسی طرح پاکستان میں اپنے سے کمزور آدمی کو تو آپ قانون کی زد میں لاسکتے ہیں ،لیکن کسی معمولی سے طاقتور کے بارے میں سوچیں بھی مت،انصاف انصاف کرتے کئی لوگ صفحہِ ہستی سے صاف ہوگئے لیکن انصاف ان کو نہ مل سکا،ابھی پچھلے چنددنوں کی بات ہے، الیکشن مہم زوروں پرتھی،اوراس جہالت زدہ قوم کے جدید نوجوانان جانورانِ بے زبان اور بے گناہ کومخالفین کی نفرت میں ظلم کا شکار بنارہے تھے،کہیں گدھوں کو مخالفین کے ناموں اور جھنڈوں سے مزین کرکے سرے عام جلوس کی شکل میں نعرے بازی کے ساتھ ان پر تشددِ بہیمانہ کیا گیا،کہیں بے چارے کتوں کی شامت آئی ہوئی تھی،کوئی نہ تھا کہ اس ظلم پر نظررکھے کہ یہ توجرمِ ضعیفی کی سزا ہے ،کوئی کیوں اسے ٹالے،لیکن یہاں بھی قانون کی زد میں پھنسی ایک پارٹی کے کارکنوں کو جنہوں نے کمزور ہونے کے باوجودجہالت کا مظاہرہ کیا کہ ایک کتے پر مخالف پارٹی کا جھنڈاباندھ کر اسے گولی مار کرہلااک کردیا،وہ قانون کی زد میں آگئے،تو میں نے سوچا کہ گدھوں پر ڈنڈوں پتھروں اور لاتوں مکوں سے ایک طویل وقت تک تشدد کرنے والے حتیٰ کہ گدھے کی ٹانگیں ٹوٹ گئیں اوروہ گر گیا،وہ لوگ کیوں قانون کو نظر نہیںآئے ؟کیو نکہ قانون اندھا ہوتا ہے، اور دوسرا شاید اسلامی تاریخ میں کتے کے بارے میں ذکر ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا ہے کہ اگر کہیں کتا بھوکا مرگیا تو عمر سے پوچھا جائے گا،لیکن انہوں نے گدھے کے بارے میں نہیں فرمایا،لہذاہمارے بھی صاحبانِ اختیا ر نے اسی وجہ سے گدھوں پر ہونے والے ظلم کا کوئی نوٹس نہیں لیا،کہ کتے پر ظلم کی تو پرسش ہوگی البتہ گدھے پر ظلم کی پرسش کسی صحیح سند سے ثابت نہیں ،لہذااگرلوگ اس ظلم سے ”دل پشوری“کریں توقابلِ مواخذہ نہیں۔اللہ تعالیٰ ہمارے صاحبانِ اختیاراور عوام سب کو ہدایت دے،اورسب کو اپنے اختیاروطاقت کو حق وانصاف میں استعمال کرنے کی توفیق دے،سورہ والعصر میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے، قسم ہے زمانے کی ،انسان خسارے میں ہے،سواے اس کے جو ایمان والے ہیں ،اوراچھے اعمال کرتے ہیں ،اورآپس میں حق کی وصیت کرتے ہیں ،اورصبر کی وصیت کرتے ہیں۔لہذا حق کو پہچاننا،حق پہچانا، حق لینااور حق کی خاطر مصائب کو برداشت کرنا،اورطاقت یا اختیار کو بے جا نہ استعمال کرنا،یہ سب چیزیں ایمان اور عملِ صالح کے بعد ضروری ہیں جن سے انسان ابدی خسارے سے بچ سکتا ہے،اللہ تعالیٰ ہر کمزورو طاقتور کو اپنے احکام پر عمل پیرا ہونے کی توفیق عطا فرماے ،آمین ۔

Check Also

بعثت و نبوتﷺ پر ایمان کی معراج

بعثت و نبوتﷺ پر ایمان کی معراج تحریر۔۔۔ رشید احمد نعیم ، پتوکی حضور صلی ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *