تازہ ترین خبریں
Home / کالم / قدم بڑھاﺅ ۔۔۔۔منزل دور نہیں

قدم بڑھاﺅ ۔۔۔۔منزل دور نہیں

 

 


قدم بڑھاﺅ ۔۔۔۔منزل دور نہیں
تحریر : ڈاکٹر شجاع اختر اعوان
چیف جسٹس سپریم کورٹ آف پاکستان میاں ثاقب نثار نے کچھ عرصہ قبل ڈیمز کی تعمیر کے لیے فنڈز جمع کرنے کا جو سلسلہ شروع کیا تھا۔ اس سلسلے کو آگے بڑھاتے ہوئے وزیر اعظم پاکستان عمران خان نے اندرون اور بیرون ملک پاکستانیوں سے اس فنڈ میں حصہ ڈالنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ بیرون ملک مقیم نوے لاکھ پاکستانی فی کس ہزار ڈالر بھیجیں تو دونوں ڈیمز بن جائیں گے۔ اور زرمبادلہ کا مسئلہ بھی حل ہو جائے گا۔ مزدور پیشہ حسب استطاعت ، مالدار زیادہ سے زیادہ حصہ ڈالیں۔ وطن عزیز میں پانی کی شدید قلت پیدا ہو رہی ہے۔ اورپانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش ایک ماہ سے بھی کم ہے۔ جبکہ یہی صورت حال برقرار رہی تو 2025 تک ملک قحط سالی کا شکار ہو جائے گا۔ فصل اگانے کے لیے تو درکنار پینے کا صاف پانی تک میسر نہیں رہے گا۔ ان حالات کو مد نظر رکھتے ہوئے موجودہ حکومت نے دیا میر بھاشا ڈیم کی تعمیر کو یقینی بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔ دیامیر بھاشا ڈیم گلگت بلتستان کے ضلع دیا میر میں دریائے سندھ پر گلگت اور چلاس کے درمیان تعمیر کیا جائے گا۔ منصوبے پر مجموعی لاگت کا تخمینہ 14 ارب ڈالر بیان کیا گیا ہے۔ ڈیم کا پانی آبپاشی اور پینے کے لیے استعمال کیا جائے گا۔ بھاشا ڈیم کے لیے جب 2009 میں پی سی ون بنا تو اس کی تعمیر پر 894 ارب روپے تخمینہ لگایا گیا تھا۔ مگر مسلسل نظر انداز کیئے جانے کی وجہ سے اب اس کی لاگت 14 ارب ڈالر کے لگ بھگ پہنچ چکی ہے۔ بھاشا ڈیم کی تعمیر میںتاخیر سے یہ لاگت ہر سال بڑھتی جا رہی ہے۔ دیا میر بھاشا ڈیم چار سے چھ ملین ایکڑ پانی ذخیرہ ہو گا۔ جس سے 45 سو ہزار میگاواٹ بجلی حاصل ہو گی۔ ڈیم کی تعمیر کے لیے مطلوبہ رقم بروقت اکٹھی ہونے کی صورت میں پانچ سا ل میں اس کی تکمیل ہو سکتی ہے۔ جس کی بدولت نہ صرف ہمیں سستی بجلی میسر آئے گی بلکہ خشک سالی اور قحط سے بچاﺅ بھی ممکن ہے۔ وزیر اعظم عمران خان نے قوم پر واضح کیا ہے کہ ملکی قرضے تیس ہزار ارب سے تجاوز کر چکے ہیں۔ اور مزید اب کوئی ملک قرضہ دینے کے لیے تیار بھی نہیں۔ ایسے حالات میں ڈیم کی تعمیر کے لیے اتنی بڑی رقم کوئی ملک نہیں دے گا۔ اور آئندہ نسلوں کے بچاﺅ کے لیے ڈیم بھی ہر حال میں بنانا ہو گا۔ اپنی مدد آپ کے تحت آئندہ نسلوں کے تحفظ اور انہیں بھوک اورپیاس سے بچانے کے لیے ہمیں عملی اقدامات کرنے ہوں گے۔ وزیر اعظم کے ڈیمز کے لیے چندہ اکٹھا کرنے کی اپیل پر بعض سیاسی جماعتوں ، شخصیات اور مخصوص طبقہ نے اپنے رد عمل کے طور پر اسے غیر سنجیدہ قرار دیتے ہوئے موقف اختیار کیا ہے کہ اتنے بڑے منصوبے چندوں سے پائیہ تکمیل کو نہیں پہنچ سکتے ان عناصر کا موقف بے معنی ہے اگر وزیر اعظم عمران خان اس سلسلہ میں جھولی پھیلاﺅمہم بھی شروع کریں تو کوئی حرج نہیںاور حقیقت یہی ہے کہ جب کوئی قوم کسی کام کا ٹھان لیتی ہے اور اسے مکمل کرنے کا ارادہ کر لیتی ہے تو وہ کام اور منصوبہ ضرور مکمل ہو کر رہتا ہے۔ اندرون اور بیرون ملک پاکستانیوںنے ڈیم کی تعمیر کے لیے فنڈز جمع کرنے میںگہری دلچسپی کا اظہار کرتے ہوئے فنڈز کی فراہمی کا عملی نمونہ پیش کرناشروع کر دیا ہے۔ جو قابل ستائش ہے۔ روزانہ کی بنیادپر کروڑوں روپے اس فنڈ میں آرہے ہیں۔ اور اب تک کئی ارب روپے سے زیادہ رقم جمع ہو چکی ہے۔ انشا ءاللہ وہ وقت دور نہیں جب ڈیم کی تعمیر کے لیے فنڈز کا مطلوبہ ہدف حاصل ہو جائے گا۔ جس سے دیامیر بھاشا ڈیم کی تعمیر مکمل ہو سکے گی۔ اب اس قوم نے بیرونی قرضوں اور غیر کی امداد پر تکیہ کرنے کی بجائے اپنی مدد آپ کے تحت اس منصوبے کو مکمل کرنے کا جو فیصلہ کیا ہے اس یہ منصوبہ پائیہ تکمیل کو پہنچتا نظر آتا ہے۔ کچھ عرصہ قبل کسی کتاب میں ایک کہانی نظر سے گزری جو بیان کیئے دیتا ہوں۔ کسی باغ میں ایک درخت پر کبوتر کا گھونسلا تھا جس میں کبوتر اور اس کے بچے رہتے تھے ایک دن جب شام کے سائے ڈھلے اور کبوتر اپنے گھونسلے میں واپس لوٹا تو اپنے بچوں کو پریشانی کے عالم میں پایا وجہ پوچھنے پر بچوں نے بتایا کہ آج باغ کا مالک اور اس کا بیٹا آئے تھے وہ آپس میں باتیں کررہے تھے کہ اگلے ہفتے کچھ آدمیوں کو ساتھ لائیں گے اور باغ کے سارے درخت کاٹ دیں گے۔ کبوتر کے بچوں کو تشویش تھی کہ انکا ٹھکانہ ختم ہو جائے گا کبوتر نے جب بچوں کی بات سنی تو بڑے اطمینان سے انہیں کہا کہ آپ بے فکر رہو آئندہ ہفتے وہ درخت نہیں کاٹیں گے ہفتہ گزر جانے کے بعد جب مالک اور اس کا بیٹا دوبارہ باغ میں آئے تو ان کے ساتھ کوئی تیسرا نہ تھا انہوں نے وہی پچھلے ہفتے والی بات دہرائی کہ ہم اگلے ہفتے آئیں گے۔اور آدمیوں کو ساتھ لے کر آئیں گے اور سارے درخت کاٹ دیں گے۔کبوتر نے شام کو بچوں کی یہ بات سن کر دوبارہ انہیں حوصلہ دیا کہ درخت نہیںکاٹے جائیںگے ۔ اگلے ہفتے دونوں باپ بیٹا باغ میں آئے اب باپ نے بیٹے سے کہا کہ بیٹا ہم غیروں پر انحصار کرتے رہے مگر کوئی آدمی ہمارے ساتھ نہیں آیا اب اگلے ہفتے ہم دونوں مل کر اس باغ کے درخت کاٹ ڈالیں گے شام کو کبوتر کی واپسی پر جبب بچوں نے اسے باغ کے مالک اور اس کے بیٹے کے درمیان ہونے والی گفتگو کا بتایا تو کبوتر سخت پریشان ہو گیا اس نے اپنے بچوں سے کہا کہ اب باغ کے مالک نے دوسروں پر انحصا ر کرنا چھوڑ دیا ہے اور خوداس نے اپنا کام کرنے کا ارادہ کیا ہے تو ضرور وہ باغ کے درخت کاٹ دے گا۔ اس لیے ہمیں اب اپنا گھونسلا بدلناہو گا۔ کوئی قوم جب کسی منصوبے کو اپنے زور بازو پر مکمل کرنے کا ارادہ کر لیتی ہے تووہ ہر حال میں مکمل ہوہی جاتاہے اسے کوئی نہیں روک سکتا۔ جدوجہد کیئے بغیر کوئی قوم اپنی حالت نہیں بدل سکتی بقول اقبال
خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی
نہ ہو جس کو خیال آپ اپنی حالت کے بدلنے کا

ڈاکٹر شجاع اختر اعوان
37101-1774390-5

Check Also

کاش بیگم کلثوم نواز زندہ ہوتی “

      ”کاش بیگم کلثوم نواز زندہ ہوتی “ یہ بہادر بیٹی کیوں رو ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *