تازہ ترین خبریں
Home / کالم / قربانی قربانی

قربانی قربانی

 

 

قربانی قربانی
تحریر ۔۔۔ڈاکٹر ندیم ملک
کیا آپ نے قربانی کا بکرا لے لیا ہے ؟ جی ہاں کتنے میں خریدا بڑے فخریہ لہجے میں بتایا جاتا ہے 40ہزار بڑا مہنگا ہے اجی سستی کون سے چیز ہے مہنگائی کا دور ہے ذرا بکرا منڈی تو جائیں عقل ٹھکانے آجائے گی واقعی آپ کہتے تو ٹھیک ہیں سستی تو کوئی چیز بھی نہیں میں اس لئے پوچھ رہا تھا کہ ہم نے بھی کل بکرا خرید لیا ہے بھیا آپ کہاں جارہے ہیں ؟ میں بکرا منڈی بکرا خریدنے جا رہا ہوں آپ کہاں سے آرہے ہیں ؟ میں بکرا منڈی سے آرہا ہوں بکرا بکرا بکرا ان دنوں بقر عید ہے اور بکروں کی خریداری زوروں پر ہے ہر کوئی بکروں کی خریدو فروخت میں دلچسپی لے رہا ہے سو ہم نے بھی سوچا بکرا خریدنے والوں اور بکروں کو دیکھا پرکھا جائے اور بکرا خریدنے کا تجربہ اور فن حاصل کیا جائے کبھی زندگی میں کام آئے گا مثلاً کس بکرے کی قربانی جائز ہے دوندے یا کھیرے کی اور ان کی نشانی کیا ہے آنڈل بکرا ٹھیک ہے یا کھسی دنبے کی قربانی کا ثواب زیادہ ہے یا لیلے کی ان باتوں کی سمجھ تو شائد آئی یا نہ آئی لیکن ایک اور چیز بکرا خریدنے والوںکے چہروں پر نظر آئی میں نے محسوس کیا کہ جو شخص بکرا خرید کر آتا ہے اس کے چہرے پر عجیب سا فخر وانبساط کا عالم ہوتا ہے جیسے یہ بکرا خریدتے ہی اس کی قربانی قبول ہوگئی ہے جس طرح اللہ تعالیٰ نے قابیل کو حکم دیا کہ وہ قربانی کریں جس کی قربانی کو آسمانی آگ لے جائے گی اس کی قربانی قبول ہوگی شائد اسی طرح آج کے مسلمانوں نے سن لیا ہو کہ جس نے بھی قربانی کا بکرا خرید لیا اس کی قربانی قبول ہوگی اورچہروں پر قربانی کی قبولیت کی خوشی میں رونق دوڑجاتی ہو پھر میں نے سوچا شائد واقعی یہ مذہبی جوش وخروش ہے جو ایک دینی کام (واجب)پورا ہونے کی خوشی میں آدمی کے چہرے پر جلترنگ دوڑ جاتی ہے لیکن پھر مجھے جواب ملا کہ دینی فرائض تو اسلام میں اور بھی بہت ہیں ان فرائض کے چھوٹ جانے پر کسی کو افسوس تک نہیں ہوتا جن کے ادا نہ کرنے سے آدمی کی پکڑ ہے اور پھر قربانی کا تو معاملہ ہی دوسرا ہے یہ فرض نہیں واجب ہے اگر انسان استطاعت نہیں رکھتا تو معاف ہے پکڑ نہیں گناہ نہیں پھر بھی ہر کوئی قربانی کا بکرا خریدنے کے چکروں میں ہوتا ہے اب مثال کے طور پر نماز دین اسلام کا اہم رکن اور فریضہ ہے لیکن کبھی آپ سے باقاعدہ کسی نے یہ پوچھا ہے کہ آپ نے نماز پڑھ لی ہے؟ ذکوٰة فرض ہے کوئی دوسروں سے یہ پوچھتا ہے کیا آپ نے حقداروں کو ذکوٰة ادا کردی ہے نہیں ناں تو پھر قربانی کے بارے میں اس قدر بے چینی وبے تابی اور اہتمام سے کیوں پوچھا جاتا ہے کیا سفید پوش اور کیا شاہ پوش سب ہی قربانی خریدنے کے چکروں میں ہوتے ہیں دوسرے فرائض نماز روزہ ذکوٰة کے بارے میں کہا جاتا ہے اوہ کوئی نئیں گل اللہ معاف کرے گا جبکہ قربانی فرض نہیں واجب ہے اور لوگ اس میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں پتہ نہیں واجب کیلئے لوگ اتنے مذہبی کیوں ہوجاتے ہیںقربانی خریدنے کیلئے اتنے بیقرار کیوں ہوتے ہیں ذرا غور کیا تو تمام گتھیاں سلجھ گئیں اور مجھ پر یہ انکشاف ہوا کہ یہاں بھی کاغذ دیوتا کے پجاری مصروف عبادت ہیں یہاں بھی فرائیڈ کا تسلیم ذات کا قانون کارفرما نظر آتا ہے قربانی کی اصل روح وفلسفہ کا دور دور تک نام ونشان نظر نہیں آتا ایثار وقربانی عجزوانکسار فرمانبرداری اور رضائے الٰہی کا شائبہ تک نہیں پایا جاتا یہاں بھی جھوٹی عزت کا بھرم قائم رکھا جاتا ہے ہماری اناﺅں کے جھوٹے بتوں کو سہارا ملتا ہے قربانی کے جانور کی خریداری کے بعد چہروں پر دنیاوی جوش اور غرورو تمکنت ہوتا ہے بالکل اسی طرح جیسے کوئی شخص اپنی حیثیت ومرتبے کو منوانے کیلئے قیمتی کپڑے پہنتا ہے نئی گاڑی اور مہنگا موبائل خریدتا ہے بہترین اور قیمتی بنگلہ خریدتا ہے اور اس خواہش کی تکمیل کے بدل میں اسے جو خوشی ملتی ہے اس کی اناکی تسکین ہوتی ہے بالکل وہی چیز قربانی کا جانور خریدنے والے شخص کے چہرے پر آپ کو باآسانی مل جاتی ہے وہی تسکین انا وہی احساس برتری آپ کہیں گے کہ کہاں ایک بکرا اور کہاں گاڑی وبنگلہ تو بھائی میرے بات تو ایک ہی ہے دونوں کا مطلوب تو احساس برتری ہے اپنی امیری اور طاقت کا اظہار کرنا ۔آقائے نامدار محسن انسانیت کا فرمان ہے کہ اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے اسلام میں جتنی بھی عبادات وریاضات ہیں ان سب میں نیت کو ہی عبادت کا اصل مغز اور روح قرار دیا ہے ۔امام غزالی نے خیال (نیت)کی درستگی وپختگی کو ہی عمل قرار دیا ہے بعض سفید پوش گھرانوں میں دیکھا گیا ہے کہ قربانی دینے کی گنجائش نہ بھی ہو تو قر ض اٹھا کر بھی قربانی دی جاتی ہے یا اپنی دوسری ضروریات زندگی کو چھوڑ دیا جاتا ہے صرف اس لئے کہ ہماری جھوٹی عزت کا بھرم قائم رہے لوگ یہ نہ کہیں او رہ گئے نی اور بھکے ہوگئے نیں صد افسوس ہے ایسی قربانیوں پر اور ایسی سوچ پر قربانی دینے والوں سے یہ پوچھا جائے کہ قربانی کی فلاسفی کیا ہے ؟ آپ کیوں قربانی دیتے ہیں ؟ شائد 10میں سے 5آدمی اس سوال کی وضاحت کرسکیں جس عظیم پیغمبر کی ہم سنت کو ادا کررہے ہیں اس نے تو خدا کی فرمانبرداری اور اطاعت میں اپنے اس بیٹے کی گردن پر چھری چلا دی جو بڑھاپے کی اولاد تھا آپکو مقصود صرف خدا کی خالص رضا تھی نہ کہ اپنی انا اللہ تعالیٰ کو حضرت اسماعیل کا خون مطلوب نہیں تھا بلکہ ایمان ابراہیمی کا امتحان تھا آپ کی نیت وارادے کو پرکھنا ہی مقصود تھا حضرت ابراہیم نے جس عجزوانکساری اور فرمانبرداری کا ثبوت دیا اللہ تعالیٰ کو یہ ادا اس قدر پسند آئی کہ اللہ نے اپنے فرشتوں سے فرمایا کہ فرشتو گواہ رہنا میں اپنے ابراہیم کی سنت کو قیامت تک زندہ کردوں گا اب سوال یہ ہے کہ واقعی ہم حضرت ابراہیم کی سنت کو زندہ کرتے ہیں اور کیا ہم حقیقتا ً خالص خدا کی رضا کے واسطے قربانی دیتے ہیں یا صرف قربانی کا بکرا اس لئے خریدتے ہیں کہ بچے کھلا گوشت کھان گے قربانی دیتے اور خریدتے ہوئے ہماری مدنظر دنیاوی شان وشوکت تو نہیں ؟ کیا ہمارے دل میں غرور وتکبر تو نہیں کیا ہم قربانی کے فلسفے کو سمجھتے ہوئے قربانی کو صحیح معنوں میں حقداروں تک پہنچاتے ہیں اور قربانی کا گوشت تقسیم کرنے کا شریعت میں جو طریقہ بیان کیا گیا ہے اس کے مطابق چلتے ہیںقربانی کے گوشت کو تین حصوں میں بانٹنے کا حکم ہے پہلا حصہ اپنا دوسرا حصہ اقربا ورشتہ داروں کا تیسرا حصہ ہمسایوں کا اب اگر ذرا غور کیا جائے تو جب ہم اپنے دستوں،ہمسایوں اور رشتہ داروں کو قربانی کا گوشت بھیجتے ہیں تو ان کے دلوں میں ہمارے لئے خلوص کے جذبات کس قدر موجزن ہوں گے اور دلوں سے نفرت وکینہ دور ہوگا اور شفقت ومحبت کے جذبات پیدا ہوں گے اس کے ساتھ تجدید تعلقات کا انمول خزانہ ملے گا بعض لوگ کمال ڈھٹائی کا ثبوت دیتے ہوئے قربانی کا لیبل لگا کر گوشت خود ہی کھا جاتے ہیں گوشت کے واقعی تین حصے کرتے ہیں فریج کا اوپر والا حصہ، درمیانہ حصہ اور سب سے نیچے والا حصہ خود بھی خوش خدا بھی خوش کچھ لوگ اپنے باضمیر اور سوشل ہونے کا ثبوت کچھ اس طرح سے دیتے ہیں کہ جن دوست احباب نے قربانی دی ہوتی ہے ان کے ساتھ سالم رانوں کا تبادلہ کر لیتے ہیں اور مزے سے گوشت کھا کر ثواب حاصل کرتے ہیں اصولی طور پر ج لوگوں نے قربانی دی ہوتی ہے ان کو گوشت قطعاً نہیں بھیجنا چاہئے
آخر میں میں یہ کہنا چاہوں گا کہ یہ میرا ذاتی خیال اور مشاہدہ ہے جو حرف آخر نہیں یقینا سب لوگ قربانی کے بارے میں اس طرح نہیں سوچتے ہوں گے اچھے لوگوں اور اچھے مسلمانوں کے مدنظر یقینا خالص رضائے خدا وندی ہوتی ہوگی اور سنت ابراہیمی کو زندہ کرنا ہوتا ہوگا میرا مقصد قربانی کی نفی نہیں اور نہ ہی کسی کی دل آزاری کرنا ہے اگر کسی کو میرے الفاظ اور تحریر سے تکلیف پہنچی ہو تو میں معذرت خواہ ہوں میں نے تو اپنے محسوسات کو الفاظ کا روپ اس نیت سے دیا ہے کہ ہم سب اپنا قبلہ درست کرلیں انماالاعمال باالنیات

Check Also

‫شہر وجود پاتا ہے جب ہوائی اڈہ ابھرتا ہے: گوانگچو میں ورلڈ روٹس 2018ء شروع گوانگچو، چین، 17 ستمبر 2018ء/سنہوا-ایشیانی

‫شہر وجود پاتا ہے جب ہوائی اڈہ ابھرتا ہے: گوانگچو میں ورلڈ روٹس 2018ء شروع ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *