Home / کالم /  قربانی

 قربانی

ازقلم: نادیہ طاہر گھمن
ذی الحج حج اور قربانی کا مہینہ،عرفات میں حاضری کا مہینہ،ثواب کا مہینہ،اللہ کو پانے کا مہینہ،معافی کمانے کا مہینہ اس سے قربت کا مہینہ اپنے بندوں کواپنے در پر دیکھ کر،خالق کے فخر کا مہینہ،دعائیں مانگنے کا مہینہ،قبولیت کا مہینہ،عمروعثمان کا مہینہ،امام حسن و حسین کا مہینہ،آدم و ابراہیم کا مہینہ،امتحان کا مہینہ،اسماعیل جیسے بیٹے کی بہادری کا مہینہ،فلسطین سے بوڑھے باپ کی ہجرت کا مہینہ،بیٹے کی گردن پر خنجر رکھے،
قربانی کے لیے تیار بوڑھے باپ کا مہینہ،سبھی افضل مہینوں میں،ذی الحج ہے ایک مہینہ
اے امتِ مسلماں! آ¶ اک دستاں سنا¶ں،
آج پھر اس داستاں کا اک باب دہرا¶ں،
اے امتِ مسلماں! آو اک داستاں سنا¶ں!
اس داستاں کا تعلق ہے اللہ کی ان ایام کی اٹھائی جانے والی خوبصورت قسموں سے،باپ بیٹے کی محبت سے، ہمت سے اور اپنے رب کے لیے سب کچھ لٹا دینے کے جزبے سے،اس کا تعلق ہے اللہ کی اپنے بندے کی آزمائش سے، خالق اور بندے کی محبت کی لاج سے،
ماں کے صبر سے، باپ کے حکمِ الہی سے بیٹے کی گردن پر رکھے خنجر سے،اللہ کے نبی اور بندے ابراہیم و اسماعیل سے،حضرت ابراہیم کو کئی سال گزر گئے اولاد کے لیے اپنے رب کے حضور دعائیں مانگتے مگر شاید اللہ نے ان کے لیے بڑھاپے کی اولاد لکھی تھی تو دعائی تقریباًچھیاسی برس کی عمر میں رنگ لائیں اور اللہ تعالٰی نے انہیں حضرت اسماعیل جیسی نیک اولاد سے نوازاحکم ہوا کہ جبرائیل ابراہیم کو میرا حکم سنا دو اور جبرائیل انسانی شکل میں آئےاور حضرت ابراہیم کو اللہ کے حکم سے آگاہ کیا کہ اللہ چاہتا ہے آپ حضرت اسماعیل کو اس جگہ چھوڑ آئیں جہاں اللہ نے انہیں چھوڑ آنے کاحکم دیا ہے۔حضرت ابراہیم کی آزمائش اللہ نے اور طویل کرنے تھی تو وہ اللہ کی مرضی اور حکم کو مانتے بیٹے کو لیے اونٹنی پر بیٹھے فلسطین سے روانہ ہوئے چلاتے چلاتے وہ مکہ کے کالے پہاڑوں میں پہنچ گئے جہاں نہ پانی تھا نہ سایہ حضرت ابرہیم پریشان ہو گئے اللہ سے دعائیں کرتے رہے کہ شاید یہ آزمائش ہے تو اللہ ختم کر دے پھر حکم ہوا بیتُ اللہ کے ٹیلے کے پاس اسماعیل کو چھوڑ کر لوٹ جائیے وہ ابراہیم جو آگ سے نہ گھبرائے بیٹے کو وہاں چھوڑنے سے گھبرا گئے اور پوچھنے لگے یہاں تو کچھ بھی نہیں اپنے ننھے فرزند کو کیسے یہاں چھوڑ دوں؟جبرائیل گویا ہوئے
”کہ اے ابراہیم یہ اس رب کی مرضی ہے جس کے تم برگزیدہ بندے ہو”
تو سن کر بیٹے کی محبت کو وہ دل میں دبائے اس اپنے رب کی بات کو مانتے وہ وہاں اکیلے حضرت اسماعیل کو چھوڑ کر چل دیئے ماں نے کئی میلوں سفر کرتے تڑپ تڑپ کر پوچھا تھا، اے ابراہیم کیوں, اور کہاں چھوڑتے ہو اپنے فرزند کویہی سوال وہ کئی بار دہراتی رہیں جب حواس بحال ہوئے تو جانا کہ ابراہیم باپ سے پہلے اللہ کے نبی ہیں تو جب پوچھا” کس کا حکم ہے؟ اور بتایا گیا اللہ کا تو کہا اللہ کی مرضی پر ہم راضی تو جا¶ اسمائیل اللہ تمہیں ضائع نہیں کرےگا،کءسال گزرے اور اسماعیل جوانی کو پہنچے اللہ تبارک وتعالٰی کا حکم ہوا جا¶ اور بیٹے کو جہاں چھوڑا تھا اسے پا¶ اور ذبح کر دو.اللہ کے حکم کو پھر سے مانتے بوڑھے ابراہیم پھر سے فلسطین سے مکہ کو چل دیے جب اسمائیل کو پا لیا تو انہیں منٰی میں لے آئے اور اللہ کا حکم سنایا تو اسمائیل نے جواب دیا!
جانتا ہوں میں وہ ملے گا مجھے آپ کے بعد،
جنت پالوں گا یہاں سے رخصت کے بعد،
تو کیا غرض مجھے اس دنیائے فانی کی،
خیال رکھیے گا تو فقط اس بات کا بابا،
سیاہ پٹی آنکھوں پر باندھنا میرے،
خنجر چلا کے کر دینا اللہ کے حوالے تو مجھے،
حکم الہی سے باپ بیٹے کی آزمائش بہت بڑی تھی بیٹے کی بہادری دیکھ کر حضرت ابراہیم نے اپنا خنجر حضرت اسماعیل کو الٹا لٹا دیا اور ہاتھ پا¶ں باندھ دیے کہ کہیں باپ بیٹے کی محبت حکم الہی کے درمیان نہ آ جائے،آپ نے حضرت اسماعیل کی کمر پر اپنا گھٹنا رکھا اور نگاہیں آسمان کی طرف اٹھا لیں اور فرمایا”میرے اللہ تو مجھ سے ناراض ہو گیا ہے کہ میرے دل میں اسماعیل کی محبت نے جگہ پکڑ لی ہے۔نہیں میرے مالک میرے دل میں تیرے سوا کو ئی نہیں اگر یہ میرا امتحان ہے تو یا رب اس میں مجھے سُرخرو کر دے اگر تو مجھ سے خفا ہے تو مجھے معاف کر دے کہنے کی دیر تھی کہ حضرت ابراہیم نے خنجر چلا دیا تو اللہ کی کرنی یوں ہوئی کہ اس نے اسماعیل کی بجائے وہاں چھترے کو بھیج دیاحضرت ابراہیم نے اپنی آنکھوں سے پٹی ہٹائی تو وہاں بیٹے کی بجائے قربانی کا جانور تھاوہ اللہ کہ شکر گزار بندے اور نبی تھے ان کی آزمائش اس لیے تھی محظ کہ ہم ان کے اللہ پر توکل کو سمجھ سکیںیہ مبارک مہینہ اس واقعہ سے ہمیں قربانی کا سبق دیتا ہے عبادت کا اور اس ذات پربے حد توکل کا سبق دیتا ہے۔توپھر اس کو اپنا مان لیں ایک وہی تو اپنا ہے باقی سب فانی ہے۔

Check Also

چابی کے کھلونے

    چابی کے کھلونے جمہورکی آواز ایم سرورصدیقی کرونا وائرس کے حوالے سے لوگوںمیں ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *