Home / کالم / قرطبہ اور پاکستان کا قاضی ۔۔۔

قرطبہ اور پاکستان کا قاضی ۔۔۔

بیدار ہونے تک
عنوان: قرطبہ اور پاکستان کا قاضی ۔۔۔!!
 یہ  میرے بیتے ہوئے دنوں کی بات ہے جب میں طالبعلم تھا انہی دنوں اردو درسی کتاب میں ایک سبق قرطبہ کا قاضی بھی تھا ، اس سبق میں قاضی کی ذمہ داری، منصب سےوفاداری، دین اور معاشرے سے انصاف، اللہ اور اس کے حبیب ﷺ سے والہانہ محبت اور سب سے بڑھ کر انصاف کے توازن کا قائم رکھنا یہ سب کچھ بے انتہا اختیارات، طاقت کے باوجود ، خودی میں انکساری، عاجزی اور انسانیت کے دکھ درد کا احساس پنہا، قرطبہ کے قاضی کے پاس اپنے ہی اکلوتے بیٹےکا مقدمہ آیا جس میں اس سے نادانستگی میں قتل ہوجاتا ہے ، قاضی زمانے بھر میں بہت معروف تھا، ان کی شرافت کی دھوم دور دور تک تھی، قاضی کی بیوی کا انتقال ہوچکا تھا قاضی نے اپنے اکلوتے بیٹے کو ماں اور باپ دونوں کی شفقت میں  پالا تھا لیکن جب عدل و انصاف کا معاملہ آیا تو قاضی نے اپنے اسی لخت جگر اکلوتے بیٹے کو سزائے موت سنائی جس پر سارا شہر امنڈ آیا اور فریاد کرنے لگا کہ دیت پرحل کرلیں، موت کے سوا کوئی اور سزا دیدیں یا پھر جتنی دولت مخالف جماعت کو چاہیئے ہم سے لے لیں لیکن قاضی کا فیصلہ اٹل تھا حکم دیا سر قلم کردو ، جلاد کے ہاتھ کانپ اٹھے اس نے بھی انکار کردیا، ایسی صورتحال میں قاضی خود اٹھا جلاد سے تلوار لی اور اپنے ہاتھ سے اپنے لخت جگر کا سر قلم کردیا، انصاف تو کرڈالا لیکن اس غم میں کھلتے کھلتے موت کی آغوش میں چلا گیا، قاضی کا کہنا تھا کہ روز قیامت میں مجھ سے عدل و انصاف کے متعلق سوال کیا جائے گا اگر میں نے دنیا میں اپنے منصب پر رکھ کر عدل و انصاف نہ کیا تو مجھ سے اللہ کیونکر انصاف کریگا، اللہ کے حبیبﷺ کیونکر عدل فرمائیں گے اسی لیئے جب تک اس منصب پر ہوں عدل و انصاف کیلئے رشتوں کی زنجیر یں کچھ نہیں کرسکتی ۔معزز قارئین۔۔۔!!آج سے ستر سال کے بعد سے شروع ہونے والے منفی عناصرنے پاکستان کو اُس جگہ لاکھڑا کردیا جہاںاُسے اُن چند بدقسمت ممالک میں شامل کیاجہاں لوٹ مار، کرپشن، بدعنوانی، بےحیائی، بے غیرتی، بے شرمی، بے حسی کی فہرست میں صف اول پر پہنچ گیا تھا ، جہاں قتل و غارت، شراب نوشی، زناکاری، بد فعلی پر کوئی نہ رکاوٹ تھی اور نہ ہی پکڑ ،اسی طرح
۲
 وڈیرے، جاگیردار، لینڈ مافیا،انسانی اسمگلرز، منشیات اسمگلرزبے باک انداز میں اپنی منفی کاروائیوں میں مصروف رہتے تھے، ملک پاکستان کے کونے کونے میں دہشتگردوں نے اپنے پنجے گاڑ لیئے تھے ان سب کارفرمائی میں چند طبقہ جو مفاد پرست ، خود غرضی پر مشتمل تھا جسے وطن عزیز پاک کو زرہ برابر بھی خیال نہ تھا جو اپنے ناپاک عزائم سے اس عزیز پاکستان اور اس قوم کو ناتلافی نقصان سے دوچار کرنا چاہتے تھے ان میںکچھ سیاستدان، وزرا، بیوروکریٹس، این جی اوز، تاجر وں پر مشتمل ٹولہ تھا لیکن رب العزت نے اپنے حبیب ﷺ کے صدقے اسی وطن کے با غیرت، با حیا، با شرم، بہادر، نڈر، شجاعت پسند، ایماندار، سچے بندوں کا امتخاب کیا اور بگڑتے حالات کو قابو میں لانے کیلئے اپنے نیک بندوں کا انتخاب کیا جو دل میں اللہ کا خوف رکھتے ہیں اور مخلوق خدا سے محبت ،درد اور احساس کی کیفیت کا مادہ رکھتے ہیں، ان میں جہاں کچھ سیاسی لیڈران ہیں اور سپہ سالار تو وہیں نیک پاکزار جسٹس صاحبان بھی ہیں لیکن ان جسٹس صاحبان کے سپہ سالار جسٹس ثاقب نثار نے اللہ کے حکم دے جرات مندی کیساتھ گناہوں، کرپشن، بدعنوانی، لوٹ مار کے خلاج جس قدر جہاد کیا وہ تاریخ میں رقم ہوچکا ہے ، موجودہ وزیراعظم اور ان کے رفقائے کار بھی جس عزم کیساتھ کرپشن کے خلاف صف بندی کیئے ہوئے ہیں وہ بھی قابل تسائش ہے۔معزز قائرین۔۔۔!! سابقہ دو جمہوری حکومتوں نے پاکستان کی معاشی حالت ابتر کردی وہیں عوام میں وطن کے خلاف نفرت پھیلانے کی مزموم بھی کوشش کی، کیونکہ سابقہ دونوں حکومتوں نے دشمنانان پاکستان سے بھاری رقوم وصول کیں اور اداروں کو تباہ کرنے کا ٹاکس لیالیکن وہ کہتے ہیں کہ جسے اللہ رکھے اسے کون چکھے یہی ہوا کہ نامراد و ناکام ہوئے، سلام ہے اور شاباش ہے ہماری افواج پر جنھوں نے بہادری کیساتھ دہشتگردی کے قلع قمع کیلئے اپنے جوانوں کی قرنانیوں کے نذرانے پیش کیئے اور وطن عزیز کے زرہ زرہ چپے کی حفاطت کیلئے شب و روز کاروائیاں کی گئیں، پاکستان کے بارڈر کو فوج نے سنبھالا اور سول سطح پر معاشی دہشتگردی کے خاتمے کیلئے جس احسن طریقے سے جسٹس صاحبان نے قمر کسی وہ روشن تاریخ کا حصہ بن چکی ہیں،کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ ایسی ایسی سیاسی جماعتیں اور ان کے کارکنان تھے جن کے سامنے نہ سر اٹھایا جاسکتا تھا اور نہ ہی حق کی بات کی جاسکتی تھی یہ افواج پاکستان کے سپہ سالار ہی ہے جنھوں نے سیاسی و معاشرتی طور پر عوام کو آزادی کی سانس بخشی، دوسری جانب مہنگائی کے طوفان کو بپا کرنے والے عناصر کے خلاف ہر قانونی پہلوؤں کیساتھ خفیہ ایجنسیوں نے اداروں کو زندہ کرنے کیلئے وہ وہ معلومات فراہم کیں جس سے مکار، فریبی، جھوٹے، ریاکار اپنی ہر سازش میں خود پھنس کر رہ گئے، عوام کے کچھ طبقے ابھی تک ان کے سحر میں بندھے ہوئے ہیں لیکن وقت سب کچھ سیکھادے گا اور تاریخ کے اوراق اپنی تحریروں میں ان کی نسلوں کو ہمیشہ شرمندہ کرتی رہیں گے، ہوس اور خواہشات کی بھینٹ چڑھانے والے ان عناصر کو کبھی بھی یہ قوم معاف نہیں کرے گی، قرطبہ کے قاضی کا زمانہ مکتلف تھا لیکن موجودہ دورترقی یافتہ تو ہے لیکن اس ترقی میں مسائل بھی بہت ہیں ،ان مسائل کیساتھ ہی مقدموں کے فیصلے انہیں ہی کرنے ہیں اور فیصلے کی تاخیت بھی مقدمے کو کمزور کردیتی ہیں اسی بابت چیف جسٹس ثاقب
۳
 نثار نے اپنے محکمہ کے تمام جسٹس صحبان کو بآور کرادیا ہے کہ وہ فیصلے کو منطقی انجام تک پہنچانے کیلئے اپنی تمام تر سلاحیتیں برکار لائیں ،وطن عزیز پاکستان کع جلد از جلد دنیا کے سامنے ایک مثالی ،پر امن، پر فضا اور معاشی حب بنائیں اس کیلئے ایوان سے آئین کی کمزور شقوں کو درست کرنا ہے، عدلیہ قونین کو دور حاضر کے تقاضوں کے تحت ڈھالنا ہے تاکہ ایک غریب پاکستان کو بھی بآسانی مفت انصاف مل سکے، اس مشن میں پاک فوج شانہ بشانہ کھڑی ہے، اب ریکھنا یہ ہے کہ پاک فوج اور سپریم کورٹس کیساتھ جمہوری حکومت ایک پیج پر ہے بیرون ممالک کو یہ کب تک ہضم ہوگا یقیناً انہیں برداشت نہیں لیکن وہ اب یہ بھی جان چکے ہیں کہ ان تینوں کے پیچھے خود پاکستانی عوام بھی کھڑی ہے اور اب یہ کہ سکتے ہیں کہ قرطبہ کا قاضی نے جو فیصلہ دیا تھا دور حاضر میں ہمارے ہاں بھی اسے ہی قاضی موجود ہیں جو بڑے بڑے فیصلے دیکر پاکستان کو بچائیں گے اور پاکستان کی معاشی سلامتی کیلئے فی الفور فیصلے دیکر اس ملک کو بام بخشیں گے ۔ انشا اللہ ۔۔۔پاکستان زندہ باد، پاکستان پائندہ باد ۔۔۔!!

Check Also

Guangzhou Bases its Further Development on Green Innovation

Guangzhou Bases its Further Development on Green Innovation GUANGZHOU, China, Dec. 16, 2018 /Xinhua-AsiaNet/Knowledge Bylanes– ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *