Home / شوبز / قصور میں بچوں سے زیادتی پر شوبز فنکاروں میں بھی غم و غصہ

قصور میں بچوں سے زیادتی پر شوبز فنکاروں میں بھی غم و غصہ

قصور میں یہ سب نیا نہیں ہورہا اگر وزیراعلیٰ پنجاب پہلے نوٹس لے لیتے تو یہ واقعات ہوتے ہی نہیں، نادیہ جمیل فوٹوفائل

کراچی: قصور میں3 معصوم بچوں کے ساتھ زیادتی، بہیمانہ تشدد اور قتل پر جہاں ہر آنکھ اشکبار ہے وہیں شوبز فنکاروں نے بھی واقعے پر حکومتی نااہلی پر اظہار افسوس کیا ہے۔

گزشتہ روز پنجاب کے شہر قصور کے علاقے چونیاں انڈسٹریل اسٹیٹ سے 3 بچوں کی لاشیں برآمد ہوئی تھیں جن  میں سے ایک بچے کی شناخت سفیان کے نام سے ہوئی جب کہ دیگر دونوں بچوں کی لاشیں ناقابل شناخت تھیں۔ پوسٹ مارٹم رپورٹ میں بچے کے ساتھ زیادتی کی تصدیق ہوگئی تھی۔ اس واقعے نے گزشتہ برس قصور میں پیش آنے والے زینب قتل کیس کی یاد تازہ کردی اور لوگ ایک بار پھرحکومت اورانتظامیہ کی نااہلی پر برس پڑے جن میں شوبز فنکار بھی شامل ہیں۔

اداکارہ و سماجی کارکن نادیہ جمیل نے قصور میں تین بچوں کی ہلاکت پر شدید غم وغصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ میں لمبے عرصے سے قصور میں کام کررہی ہوں اور یہ دیکھنا تباہ کن ہے کہ وہاں بچوں کے ساتھ کیاہوتاہے، کیسے انہیں نام نہاد انصاف دیاجاتاہے۔

قصور واقعے پر وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کی جانب سے لیے جانے والے نوٹس پر نادیہ جمیل نے طنز کرتے ہوئے کہا کہ نوٹس؟ قصور میں یہ سب نیا نہیں ہورہا اگر آپ پہلے نوٹس لے لیتے تو یہ واقعات ہوتے ہی نہیں۔ خدا کے لیے ان بچوں کا بھی نوٹس لیں جو بچ گئے ہیں۔ وہ بچے جو درندگی کا شکار ہوتے ہیں انہیں انصاف نہیں ملتا اور دوسرے بچے مسلسل بدسلوکی ہونے کے ڈر میں جی رہے ہیں۔

نادیہ جمیل نے کہا قصور میں بچوں میں اعتماد آنے لگاتھا اور وہ محبت سیکھنے لگے تھے لیکن ہم نے انہیں دوبارہ ناکام کردیا۔

نادیہ جمیل نے واقعے کے خلاف احتجاج  پر اپنی رائے کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہم پھر سے اسی طرح جاگ اٹھے ہیں جس طرح سب نے 2013 میں آواز اٹھائی تھی، جیسے سب زینب واقعے پر اٹھ کھڑے ہوئے تھے۔ لیکن ایک بار پھر سے کچھ آوازیں اٹھیں گی، تھوڑا سا شور مچے گا اور پھر سب خاموش ہوجائیں گے، جب تک کہ دوسرے بچوں کے ساتھ زیادتی نہیں ہوگی اور وہ مر نہیں جائیں گے۔ یہاں بچوں کی حفاظت کے لیے کوئی منصوبہ بندی نہیں ہے۔

نادیہ جمیل نے وزیر اعظم سے درخواست کرتے ہوئے کہا کہ ان خوفزدہ بچوں کے آگے پوری زندگی پڑی ہے یہ وقت ان کے ہنسنے کھیلنے کا ہے لیکن ہم انہیں کیا بتا رہے ہیں ہماری ناکامی۔ بچوں کی حفاظت سب سے ضروری ہے، اور یہی ہماری پہلی ترجیح ہونی چاہیئے۔

نادیہ جمیل نے مزید کہا کہ بچوں کے ساتھ زیادتی اورقتل کے واقعات صرف قصور میں نہیں ہورہے بلکہ یہ ایک بیماری ہے جو ہمیں ختم کرسکتی ہے۔ یہ واقعات صرف پنجاب میں نہیں ہورہے بلکہ خیبرپختونخوا، سندھ اوربلوچستان میں بھی یہ سب ہورہا ہے میں آپ سے درخواست کرتی ہوں سر یہ ایک لعنت ہے جسے ختم کرنے کے لیے سنجیدہ منصوبہ بندی کی ضرورت ہے۔

Check Also

نیب میں منی لانڈرنگ اور دہشتگردوں کی مالی امداد کے خلاف شعبہ قائم

 اسلام آباد: قومی احتساب بیورو (نیب) کے ہیڈکوارٹرزمیں اینٹی منی لانڈرنگ اور کمبیٹنگ دی فنانسنگ آف ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *