تازہ ترین خبریں
Home / کالم / قوم کے اعتماد کو ٹھیس مت پہنچائیں

قوم کے اعتماد کو ٹھیس مت پہنچائیں

 

 

قوم کے اعتماد کو ٹھیس مت پہنچائیں
تحرےر:قاری محمد عبدالرحیم

حق رائے دہی اور ٓزادیِ رائے انسانی حقوق میں سرِ فہرست ہے،اور تمام مہذب اورتعلیم یافتہ معاشرے اس حق کا استعمال ہر معاملے میں کرتے ہیں بالخصوص جمہوری حکومتوں والے ممالک جہاں پر جمہوریت ہے ،وہ کم ازکم حقِ حکمرانی کے لیے عوامی رائے یا ووٹ کا سہارا لیتے ہیں،اور اکثر جمہوری ممالک میں رائے دہی کے لیے عوام کو آزادانہ ماحول دیا جاتا ہے،کہ وہ بلا خوف وخطر اپنی رائے یا ووٹ کا استعمال کریں اور امِّ جمہوریت برطانیہ میں اس کے لیے بیلٹ پیپر یا چناﺅ والا کاغذ لوگوں کے گھروں تک پہنچادیا جاتا ہے، یا وہ خود آکر لے لیتے ہیں،اور پھر وہ چاہے اسی وقت یا بعد میں یا بذریعہ ڈاک پولنگ اسٹیشن کو واپس بھیج دیتے ہیں ،کسی قسم کی دھاندلی یاٹمپرنگ کا شور نہیں اٹھتا،کیا وہاں دھاندلی سے فائدہ اٹھانے والے لوگ نہیں ہیں ؟کیا وہاں لالچی لوگ نہیں ہیں ؟کیا وہاں پاکستانی لوگ نہیں جورشتہ داری ،دوستی اور روپوں کے لیے اپنا ووٹ دے دیتے ہیں ؟اور کیا وہاں ایسا ہوبھی نہیں رہا کہ پاکستانیوں کو گوروں کے مقابلے میں ، برادری اور علاقائی تعصب کی بنیاد پر پاکستانیوں نے اچھے لوگوں کے بجائے اپنے لوگوں کو ووٹ نہیں دئیے؟ یا ذاتی اور مالی مفاد کی بنیاد پرمسلمانوں کو چھوڑکر یہودیوں اور عیسائیوں کوووٹ دینے اور دلانے کاکام نہیں چلتا جس کی ایک مثال عمران خان کا اپنے سابقہ سالے جوایک کٹر یہودی ہے کے لیے انگلینڈ جاکر ایک مسلمان کے مقابلے میں لوگوں سے ووٹ مانگنا ہے،تو کیا وہاں لوگوں کی اس مفاد پرستی، علاقہ پرستی،قوم پرستی،یا مذہب پرستی کے رجحان کے باوجودووٹ کسی سخت پہرے یا کسی خفیہ مشن کی طرح تہ در تہ خانوں میں چھپا کر نہیں لیا جاتا حالانکہ ان کویہ بھی معلوم ہے کہ ان کی غلام قومیں کسی وقت انہیں کے ملک میں ان پر غالب آکر کہیں ان سے بدلا نہ لے لیں ،لیکن وہاں صرف آزادی رائے دہی اورقانون کی پاس داری ہے ،اور قانون کی پاسداری اسی وقت پیدا ہوتی جب آزادیِ رائے کو بے خوف وخطرماحول دیا جائے،اور جب قانون چلانے والے جواب دہ ہوں ،چونکہ قانون کی خلاف ورزی کرنے والے تو قانون کے شکنجے میں آجاتے ہیں ،لیکن اس شکنجے کو ہر کس وناکس پر کسنے والے بھی جواب دہ ہونے چاہئیں کہ وہ قانون کس پر کس طرح اور کیونکر لاگو ہوا؟ اور یہ ماحول پیدا کرنے کے لیے عوام یاقوم کو آزادی اظہاراور آزادیِ رائے کا حق دینا پڑے گا ،اور پھر ووٹنگ کے لیے لاکھووں فوجیوں، تمام انتظامی فورسز اورلامتہیٰ وسائل جھونکنے کی ضرورت نہیں پڑے گی،ہمارے ملک میں جس طرح ووٹنگ کا عمل کرایا جاتا ہے یہ بذاتِ خود ایک دھاندلی ہے،اس کو منصفانہ ، غیر جانبدارانہ، اور شفاف کہنا ہی ان الفاظ کی توہین ہے،جب ایک ووٹ دینے والا خود کوغیر محفوظ سمجھے، جب وہ ووٹ دینے کے لیے خفیہ خانے کا طلبگار ہو،جب وہ ایک پارٹی ورکر یا ووٹر ہونے کے باوجودکسی کے سامنے اپنی پارٹی کو ووٹ نہ کر سکتا ہو،جب اس پر پابندی ہو کہ وہ ووٹ ڈالنے کے وقت اپنی پارٹی کے نشان والا سٹکر یا کوئی ایسی علامت ساتھ نہیں رکھ سکتا،تو کیا پھر وہاں دھاندلی نہ ہوگی تو کیا ہوگا؟الیکشن کرانے والا عملہ صرف ووٹوں کے بکس یا بیلٹ پیپرز کی حفاظت اور ان کو عوام تک محفوظ پہنچانے اور عوام سے لے کر الیکشن کمیشن تک محفوظ پہنچانے کا ذمہ دار ہے ،اس کے علاوہ کسی زور زبردستی یا چھینا جھپٹی کے خلاف انتظامیہ کی ذمہ داری ہے ،اور ایسے کسی بھی فعل پر خود ووٹر کا حق ہے کہ وہ انتظامیہ کو مطلع کرے نا کہ کسی سیاسی پارٹی یا امیدوار کا،اورووٹر کے اس حق پر انتظامیہ بغیر کسی سفارش وحکم کے اگر ایکشن لے تواسی فی صد ووٹنگ کا عمل درست اوربے خوف ہوسکتا ہے،پاکستان میں ہر انتخابات کے بعددھاندلی اور اداروں کی مداخلت کے شورکا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہوجاتا ہے،اورپھر اکثر سیاسی پارٹیاں اور ممبران پاکستان پر احسان چڑھاتے ہوے ان نتائج کو قبول کر لیتے ہیں ،اور کچھ لے دے کر عوام یا قوم کے ووٹ کو بیچ دیتے ہیں ،یہی وہ اصل وجہ ہے کہ پاکستانی قوم کو اپنے ووٹ کی کوئی اہمیت نظر نہیں آتی وہ ووٹنگ کو ایک پکنک ڈے یا ہلہ شیری اور موج مستی کا دن سمجھ کر سارا دن پولنگ اسٹیشن پر گزار کر اگلے دن نتیجے کی قرعہ اندازی کا انتظار دعاﺅں اور منتوں کے ساتھ کررہے ہوتے ہیں ،جس پولنگ اسٹیشن پر انہوں نے خود ووٹ ڈالے ہوتے ہیں انہیں اس کے نتیجے پر بھی یقین نہین ہوتا کہ وہ بھی ان کے حق میں ہوگا،یا مخالفت میں ؟اس لیے کہ ووٹ اس خوف کے سائے میں دیا جاتا ہے کہ اداروں کی جدھر مرضی ہوگی جیت اسی کی ہوگی حالانکہ یہ بات بذاتِ خود دھاندلی ہے ، الیکشن کمیشن اوراداروں کواس بات کا نوٹس لیناچاہیے اور عوام کے سامنے اس بات کی تردید کرنی چاہیے ،اور ہرسیاسی پارٹی کوادارے یکساںمقام دیں،تاکہ عوام بخوبی اس بات سے آگاہ ہوسکیں کہ ادارے عوام کی رائے میں رکاوٹ نہیں بن رہے اور نہ اپنی کوئی ڈکٹیشن دے رہے ہیں ،اورجو پارٹی بھی الیکشن میں اداروں کے قرب کا عندیا دے اسے سرزنش کی جائے ،انتخابی بینرز وغیرہ پر اداروں کے سربراہوں کے فوٹو لگانا ان کے حق میں نعرے لگانا اسی طرح ممنوع قرار دئیے جائیں جس طرح ان کے خلاف یہ کام کرنا ممنوع ہے،پھراگر سیاسی پارٹی یا امیدوار کو یقین ہے کہ عوام اس کے حق میں ہیں اور کوئی ان دیکھی طاقت یا ادارہ اس کے مینڈیٹ کو چرارہا ہے تو اس پارٹی یا امیدوار کو ہر گز نتائج قبول نہیں کرنے چاہئیں،اور دوبارہ الیکشن اسی وقت کرانے چاہئیں ،اسی میں ملک ،جمہوریت ،عوام اوراداروں کا بھلا ہے،کیونکہ جب تک عوام کو یقین نہیں ہوتا کہ ان کے ووٹ کوکوئی چرا نہیں سکتا،اس وقت تک وہ اپنے ووٹ کی طاقت لاٹری کے ٹکٹ کے مطابق ہی سمجھیں گئے کہ لاٹری کا نمبر ڈال دیا ہے اب نکل آئے تووارے نیارے اگر نہ لگے تو قسمت کی بات ہے،تو پھر یہ پارٹیوں کے منشور ، عوامی جلسے،لوگوں میں دنگے فساد یہ سب کیوں ہے؟ کیا قوم اپنے شعور اور منشور کے لیے لاٹری ڈالتی ہے؟ اگر نہیں تو لیڈرانِ کرام قوم کے دئیے گئے مینڈیٹ کومصلحتوں کی منڈی میں اپنے تھوڑے مفاد یاخوف میں نہ بیچیں،اگر آپ سمجھتے ہیں کہ قوم کا مینڈیٹ چوری ہوا ہے یا دھاندلی ہوئی ہے تو بغیر کسی خوف وخطرے اور لعب ولالچ کے فوری دوبار ہ انتخاب کا مطالبہ کردیں،اور انتخاب کے بغیر کسی اور بات پر صلح نہ کریں ،کچھ بزرجمہر دوبار ہ انتخاب میں ملک اور قوم کے نقصان کا رونا روتے ہیں ،حالانکہ احتجاج، اور دھرنوں مین بھی ملک اور قوم کا اتنا ہی نقصان ہوتا ہے جتنا انتخاب میں ہوگا،لہذا عوام کو اپنے ووٹ کی طاقت کا یقین دلانے اور مینڈیٹ چوری کرنے والوں کی راہ روکنے کا واحد ذریعہ دوبارہ الیکشن ہے،اور الیکشن کمیشن الیکشن سیاسی پارٹیوں کی مشاورت سے کسی ضابطہ اخلاق کوبنائے اور الیکشن اسکے مطابق ہو نہ کہ الیکشن کمیشن اپنی مرضی کے احکام اورقانون کے مطابق کرائے،اسی میں ملک کی بقا ہے اوریہی جمہوریت کی مضبوطی اوراداروں کی عزت کا واحد راستہ ہے ، لہذا روز روز کے رونے سے بہتر ہے ایک بار پھر عوام سے اپنے مینڈیٹ کی بھیک مانگ لیں،اورعوام کو بے خوف وخطر ووٹ ڈالنے کا موقع دیا جائے ،باقی جمہوری دنیا میں اگر کئی کئی دن الیکشن چلتے رہتے ہیں تو پاکستان میں چند گھنٹوں کا وقت مقرر کیوں ہے؟ یہاں بھی عوام کو کم از کم دودن کاوقت دیا جانا چاہیے،تو ان شاءاللہ الیکشن پرامن اور دھاندلی کے الزام کے بغیر ہوں گے ۔عرض گذاری ہمارا کام ہے ماننا آپ کی مرضی۔

Check Also

‫شہر وجود پاتا ہے جب ہوائی اڈہ ابھرتا ہے: گوانگچو میں ورلڈ روٹس 2018ء شروع گوانگچو، چین، 17 ستمبر 2018ء/سنہوا-ایشیانی

‫شہر وجود پاتا ہے جب ہوائی اڈہ ابھرتا ہے: گوانگچو میں ورلڈ روٹس 2018ء شروع ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *