Home / انٹرویوز / ماں بولی دیہاڑکے حوالے سے گجرات میں تقریبات

ماں بولی دیہاڑکے حوالے سے گجرات میں تقریبات

 


ماں بولی دیہاڑکے حوالے سے گجرات میں تقریبات
تحریر : علی احمد گجراتی
زبانوں کے عالمی دن کے موقع پر دل دریاپاکستان کے زیرِ اہتمام گجرات میں “پنجابی پڑھاﺅ پنجابی بچاﺅ” ریلی، ک±ل پنجاب “پنجابی کانفرنس” اور “کل پنجاب پنجابی مشاعرے”کا انعقاد کیاگیا۔ ریلی سروس موڑ گجرات سے کچہری چوک گجرات تک لائی گئی۔ ریلی کا مقصد پنجاب سرکار سے پنجابی زبان کے سکولوں اور کالجوں میں نفاذ کا مطالبہ تھا۔ پنجابی زبان کے حق میں زبردست نعرے بازی کی گئی۔
ریلی کی قیادت مہان پنجابی سیوک پروفیسر ڈاکٹرعامرظہیربھٹی سرپرستِ اعلٰی دل دریا پاکستان اسلام آباد ،سیف اللہ باجوہ حافظ آباد، علی احمدگجراتی ،عبیداللہ توحیدی وزیرآباد، حکیم احمد نعیم ارشدشکرگڑھ، اصغرعلی بھٹی نارووال، بشیر کمال شکرگڑھ، پروفیسراکبر علی غازی، شبیر بلو ڈسکہ محمد حنیف ساقی حافظ آباد،مرزا عزت بیگ گجرات، رومی بیگ گجرات ،اسد عباس راز ڈنگہ نے کی۔ اس کے علاوہ ریلی میں خصوصی شرکت کرنے والوں میں عرفان کھوکھر سیالکوٹ نوید کاظمی ا،رشد مخلص منڈی بہاءالدین ،جاوید کنول ،پسرور یسین بھٹی ،کڑیانوالا مدثر عباس ،راقم ناصر حیات صحرائی جلالپور بھٹیاں اور ان کے ساتھ ساتھ گجرات سے ڈاکٹرمحمدجاوید جعفری، احسان فیصل کنجاہی، اویس باسل، رومی بیگ، سکندر ریاض چوہان، عمران سہیل فخر، عباس یاسر ادیب ،رفیق چودھری ،احسن اللہ، ساجد حیدری ،زین اللہ، صدیق مجاہد نے شرکت کی۔ اس کے علاوہ سکولوں اور کالجوں کے طالب علموں اور عوام کی ایک بڑی تعداد نے بھی اس ریلی میں شرکت کی اورپنجاب سرکار سے پنجابی زبان کے سکولوں کالجوں میں لازمی مضمون کے طور پر نفاذ کا مطالبہ کیا گیا۔ریلی سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ پنجابی زبان دنیا کی سات ہزار زبانوں میں 9ویں بڑی زبان ہے اور پاکستان کی ساٹھ فیصد آبادی کی مادری زبان بھی ہے۔ پنجابی زبان اپنے ہی اکثریتی صوبے کے سکولوں کالجوں میں نہیں پڑھائی جارہی۔ اس حوالے سے پنجاب دنیا کا وہ واحد خطہ ہے جہاں طالب علم غیر زبانوں میں تعلیم حاصل کرنے پر مجبور کردِیے گئے ہیں جس کے نتیجے میں شرح خواندگی نہایت کم رہی ہے۔اپنی زبان میں تعلیم ناخواندگی کو ختم کرتی ہے اور عوامی شعور کی بیداری اور ترقی کا سب بنتی ہے۔ہزاروں سال کا تاریخی حوالہ رکھنے والی اولیائ، صوفیائ،کی زبان کو اپنے ہی اکثریتی علاقے میں نہ پڑھایا جانا اقوامِ متحدہ کے چارٹرڈ کی خلاف ورزی بھی ہے اور پاکستان کے آئین کی توہین بھی جو کہ پاکستانی عوام کو صوبائی زبانوں میں بنیادی تعلیم کا حق دیتا ہے۔ اس موقع پر یہ بھی مطالبہ کیا گیا کہ عدالتی حکم کے آ جانے کے باوجود پنجابی زبان کو تعلیمی نظام کا حصہ نہ بنایا جانا عدالت کی توہین کے ز±مرے میں بھی آتا ہے۔پنجاب سرکار سے مطالبہ کیا گیا کہ پنجابی زبان کو پنجاب کے سکولوں کالجوں میں لازمی مضمون کے طور پر نافذ کرکے پنجاب کے بارہ کروڑ عوام کی زبان کو عزت آدر اور تحفظ دیا جائے کیونکہ وہی زبان باقی رہتی ہے اور عزت پاتی ہے جو تدریسی نظام کا حصہ ہو۔
ریلی کے اختتام پر “کل پنجاب پنجابی کانفرنس کا انعقاد” ہوا۔کانفرنس کا انعقاد ضلع کونسل ہال گجرات میں کیا گیا۔صدارت مہان پنجابی سیوک ماہرِ تعلیم ماہرِ لسانیات مترجم محقق پروفیسر ڈاکٹر عامر ظہیر بھٹی(نمل یونیورسٹی اسلام آباد) نے فرمائی. پروگرام کا آغاز اللہ کریم کے نام سے ہوا۔ تنظیم کے بانی و صدر علی احمد گجراتی نے آنے والے شرکاءکو خوش آمدید کہا اور پروگرام کی نقابت کی۔کانفرنس کے مقررین میں ادریس چیمہ اسلام آباد ،سکندر بیگ جہلم،گوہر الرحمن گہر مردانوی مردان، کامریڈضیاء اللہ ڈجکوٹ ،کامریڈسعید احمد فیصل آباد، مرزا عزت بیگ گجرات، طارق مغل گجرانوالہ، افتخار بھ±ٹہ گجرات، افتخار وڑائچ کالروی گجرات، مرزا عبدالرشیدانچارج ای لائبریری گجرات، علی احمد طاہرگجرات، شہزاد حسین بھٹی اسلام آباد، اقبال زرقاش اٹک اور ظہیر بٹ منگوال کے نام شامل ہیں۔مقررین نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے پنجابی زبان کی تاریخ پنجابی زبان کی وسعت اور اثر پزیری پر خاص طور پر بات کی مادری زبانوں کے تعلیمی نظام کا حصہ بنانے اور بنیادی تعلیم کے مادری زبانوں میں حصول کےمعاشرے پر پڑنے والے اثرات کے بارے بھی بات ہوئی۔ مقررین نے اپنی بات چیت میں پنجاب کے لوگوں پر زور دیا کہ وہ اپنی زبان کو اپنے لئے فخر اور عزت سمجھیں۔اپنی زبان میں تخلیقی اور تحقیقی کام کی ضرورت اور اہمیت پر زور دیا گیا۔ اس کانفرنس میں یہ بھی بتایا گیا کہ مادری زبانوں میں تعلیم ہی اقوام کی ترقی کا واحد ذریعہ ہے۔آج تک دنیا کی کسی بھی قوم نے ایک قوم کے طور پر غیر ملکی زبانیں پڑھ کر ترقی نہیں کی۔ غیر زبانوں کا رعب ماننا غلام ذہنوں کی نشانی ہے۔ عامر ظہیر بھٹی صاحب اپنے صدارتی خطبے میں کہا کہ ہمیں پنجابی زبان کی خدمت اور تحفظ کےلیے دن رات کام کرنے کی ضرورت ہے۔ پنجابی زبان پنجاب کے لوگوں کی پہچان بھی ہے اور پنجاب کی شرح خواندگی بڑھانے کا واحد حل پنجابی زبان کو بنیادی ذریعہ تعلیم بنانے میں ہے۔ کانفرنس کے آخر پر مہمانوں کی چائے اور دیگر لوازمات سے توضع کی گئی۔اس کے بعد “ک±ل پنجابی مشاعرہ مشاعرے”کا اہتمام کیا گیا
مشاعرے کی صدارت مہان پنجابی شاعر محمدحنیف ساقی حافظ آباد نےفرمائی۔علی احمد گجراتی اور عمران سہیل نے پروگرام کی نقابت کی۔ مہمانانِ خصوصی میں اقبال قمر جہلم ،ادریس چیمہ اسلام آباد، محمد شوکت ڈار گجرانوالہ، اعظم علی اعظم چنیوٹ ،سیف اللہ باجوہ حافظ آباد، اقبال زرقاش اٹک، بابائے مردان گوہر الرحمن گہر مردانوی مردان، تنویر طاہر کیانی جہلم، سکندر بیگ جہلم، شہزاد حسین بھٹی اسلام آباد، مقصود یاور گجرانوالہ، آصف جاوید اور شاہ دل شمس نے حافظ آباد سے شمولیت کی۔دیگر اعزازی شعراءکرام میں مظہر عباس فخر بلال پنجابی ڈاکٹرمحمد جاوید جعفری عمران سہیل مرزا سیف اللہ ساجد تنویر دانش اسدعباس راز لیاقت قندیل طارق فیاضی عصمت اللہ سیکھو انعام اللہ ناصر مان امتیاز احمد چٹھہ فیاض الرحمن قاسم علی منظر محمد اویس باسل ناصر حیات صحرائی مدثر عباس راقم گوہر علی گوہر اظہر اقبال رانجھا یاسر ادیب علی روش قیصر محمود گجر رومی بیگ نے شمولیت کرکے محفل کے رونق میں اضافہ کیا عوام کی ایک بڑی تعداد نے اس مشاعرے میں شرکت کی اور شعرائ کو دل کھول کر داد دی۔ علی احمد گجراتی بانی و صدر دل دریا پاکستان نے آنے والے تمام مان جوگ شعرائ، و ادبائ، اور مہمانوں کا شکریہ ادا کیا۔۔۔۔

Check Also

سرائیکی فلمسٹار مدیحہ ملک سے خصوصی گفتگو

نمائندہ خصوصی اظہر اقبال مغل کا فلم سٹار سٹیج ایکٹریس مدیحہ ملک سے خصوصی گفتگو ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *