Home / کالم / مجھے اپنا گھر چاہیئے

مجھے اپنا گھر چاہیئے

 

 

مجھے اپنا گھر چاہیئے
تحریر: عمران ظفر بھٹی
پرانے وقتوں میں جوائنٹ فیملی کا کلچر ہوا کرتا تھا۔ لوگ ایک ساتھ پرامن، پیار و محبت سے رہتے اور ایک دوسرے کا خیال رکھتے تھے۔ ایک ہی گھر میں چار چار ، پانچ پانچ خاندان آباد ہوتے تھے جو زیادہ تر بھائی ، بھتیجے یا کزن وغیرہ پر مشتمل گھرانہ ہوا کرتا تھا۔ لوگ ایک دوسرے کے کھانے پینے، اٹھنے بیٹھنے، کپڑے ، جوتے اور ضروریات زندگی کی تمام تر اشیاءکو خیال رکھتے تھے اگر کوئی چیز اپنے لیے لیتے تو اپنے بھائی کیلئے لیتے تھے۔ اپنے بیٹے کیلئے لیتے تو بھتیجے کیلئے بھی ضرور لیتے تھے۔جبکہ اس وقت بھی کچھ لوگ لالچی ہوا کرتے تھے جس بنا پر یہ ہنستے بستے گھرانے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوا جایا کرتے تھے۔ حسد، حرص، لالچ جیسے جیسے بڑھتی گئی لوگ علیحدہ ہوتے گئے آج صورتحال یہ ہے کہ ایک مکان میں ایک ہی خاندان ، میاں ، بیوی اور انکے بچے ہی رہتے ہیں، آج تو کئی پوتا یا بیٹا اپنے دادا یا والدین کو اپنے ساتھ رکھنے کو تیار ہی نہیں ہر کوئی دنیاوی ترقی کے چکروں میں پڑ گیا ہے اور ہماری وہ روایات کہیں کھو گئی ہیں۔
قارئین کرام! آپ کو انہی وقتوں کی ایک کہانی سناتا ہوں کہ ایک گھر میں ایک شخص رہتا تھاجس کے دو بچے تھے دونوں ہی جوان تھے ان دونوں بچوں کی والدہ وفات پا چکی تھی اور انہیں والد نے ہی پالا تھا ۔ والد نے اپنے بڑے بیٹے کی شادی بڑی دھوم دھام سے کر دی اور بہو گھر لے آیا۔ بہو نے آتے ہی گھر سنبھال لیا اور گھر کے سارے کام کاج اپنے ذمہ لے لیے گھر میں چونکہ تین افراد تھے تو زیادہ پریشانی نہ ہوتی اور نہ ہی کچھ زیادہ کام ہوتا تھا اس وجہ سے گھر بہت زیادہ خوشحال تھا اور یونہی خوشیوں میں ایک سال بیت گیا اور پتہ ہی نہ چلا۔
سال بھر میں بہو نے ایک بیٹے کو جنم دیا جو بہت ہی خوبصورت تھا اس بچے کے آنے سے دادا ، چچا اور اس بچے کا والد سبھی بہت زیادہ خوش تھے۔ سبھی بچے کیلئے کچھ نہ کچھ شہر سے لاتے رہتے تھے۔ تھوڑا عرصہ ہی گزرا تھا کہ گھر کے حالات بگڑنے لگے اور مالی حالات پریشان کن ہونے لگے ۔گھر میں جو بھی بنتا بہو سب سے پہلے اپنے شوہر کو دینے لگی۔ شوہر نے بھی اس پر کوئی نوٹس نہ لیا جو بھی اچھا بنتا پہلے شوہر کے پاس جاتا اور بچا کھچا دیور اور سسر کو دے دیتی جو اس میں گزارہ کر لیتے تھے۔سسر اکثر وقت گھر میں رہتا جبکہ دیگردونوں بھائی کمانے جاتے ۔ گھر کا سارا نظام بڑے بھائی کے ہاتھ میں تھا تو چھوٹا جو بھی کماتا بڑے بھائی کو لا کر دے دیتا اور بڑا بھائی اپنی بیوی کے حوالے کرتا ۔ اس ساری صورتحال کو دونوں بیٹوں کا والد جو اب دادا بن چکا تھا بڑے غور سے دیکھ رہا تھا۔ وہ یہ بھی دیکھتا کہ جب بہو کے رشتے دار آتے ہیں تو شاہ خرچیاں کی جاتی ہیں۔ مگر ان کو سوائے سسر کے کوئی نوٹس نہ کر سکتا تھا۔ سسر اس وجہ سے نہیں بول رہا تھا کہ کہیں بیٹے کا گھر خراب نہ ہو جائے ۔
ایک دن چھوٹے بیٹے نے والد سے کہا کہ ابا جان میری اتنی اچھی کمائی ہے بھائی بھی کماتا ہے پھر بھی گھر کا خرچ پورا نہیں ہو پاتا جبکہ اس سے پہلے تو ہماری اچھی خاصی بچت ہوا کرتی تھی مگر اب تو الٹا ادھار یا قرض لینا پڑ رہا ہے آخر وجہ کیا ہے۔؟؟؟ باپ نے اس وقت اسے ٹال دیا اور خود سوچوں میں گم ہو گیا کہ مستقبل میں میری اولاد علیحدہ نہ ہو جائے اور منصوبے بنانے لگے کہ ان کو کیسے اکٹھا رکھوں ۔ میں مگر کب تک ایک دن چھوٹا کام سے جلدی گھر آگیا اور آتے ہی کیا دیکھتا ہے کہ اسکی بھابھی کی بہنیں اور والدہ آئی بیٹھی ہیں جو چھوٹا ان کو سلام کے بعد اپنے ابا کے پاس چلا گیا بھابھی نے جو بھی پکایا ہوا تھا نہ تو سسر کو دیا اور نہ ہی دیور سے پوچھا جب سبھی چلے گئے تو چھوٹے نے کہا ابا جان بھابھی نے اپنی ماں اور اپنی بہنوں کیلئے جو پکایا تھا ہمیں چکھنے کو بھی نہ دیا حتیٰ کہ پوچھا تک بھی نہیں یہ کوئی اچھی بات تو نہیں مجھے مایوسی ہو رہی ہے کہ بھابھی کا رویہ آپ سے اور مجھ سے ٹھیک نہ ہے ۔ مجھے بے شک نہ دیتی کم از کم آپ کو تو دیتی۔ باپ نے کہا بیٹا چپ ہو جاﺅ تمہارے بھائی کا گھر خراب ٹوٹ جائے گا۔ چھوٹا بگڑ گیا اس نے تمام باتیں کہنا شروع کر دیں کہ جب بھی گھر میں کچھ پکتا ہے تو مجھے آخر میں اور بچا کھچا ملتا ہے ، کپڑے استری لگا کر نہیں دئیے جاتے، ٹھیک طرح سے دھلے ہوئے نہیں ہوتے اور درجنوں خامیاں گنوا دیںجو اس کی بھابھی بھی سن رہی تھی تو اس پربھابھی بھی بول پڑی کہ تمہاری نوکرانی نہیں ہوں۔ سارے کام کرتی ہوں پھر بھی گلا کرتے ہو۔ اتنے میں بڑا بیٹا بھی گھر میں آگیا اور یہ سب باتیں سن لیںبڑا بیٹا ویسے بھی رن مرید تھا تو اس نے بیوی کی طرف داری شروع کر دی اور کہا کہ تمہیں شاید باہر کے کسی شخص نے غلط سکھایا ہے یہ تمہاری بھابھی ہے کوئی نوکرانی نہیں سارے کام کاج کرتی ہے ، تمہیں روٹی پکا کر کھلاتی ہے، کپرے دھوتی ہے اور کیا کرے معاملات بگڑتے گئے باپ صلح کی کوشش میں لگا رہا ۔ آخر کار چھوٹے نے وہ مطالبہ کر ہی دیا جس کا ڈر تھا۔ چھوٹے نے باپ سے کہا ابا جان مجھے میرا حصہ چاہیے۔؟ مجھے میرا الگ گھر چاہیے۔؟ مجھے جائیداد کا بٹوارہ چاہیے۔باپ رونے لگا اور کہا کہ کیا تم دونوں کو اسی دن کیلئے پالا پوسا تھا کہ تم دونوں ایک دوسرے سے لڑو۔ بڑا بیٹا اور بہو اپنے کمرے میں چلے گئے اور چھوٹا اپنے باپ کے پاس بیٹھ گیااور باپ کو اپنی جائیداد کے تقسیم کرنے کیلئے راضی کرنے لگا۔
اس کہانی کو میں یہیں پرو روکتا ہوں اور قارئین سے پوچھتا ہوں کہ کیا چھوٹے کا مطالبہ ٹھیک ہے یا غلط تو یقینا جواب ہاں میں ہی ملے گا اس کی وجہ صرف بھابھی اور بھائی ہے کیونکہ اگر بھابھی غلط کر رہی تھی تو اسکے شوہر کو اسے روکنا چاہیے تھا۔ جبکہ دونوں بیٹوں کے والد کا بھی قصور ہے کیونکہ وہ اپنے بیٹوں کو ایک رکھنے کے چکر میں بڑے کو ڈھیل دیتا رہا اور چھوٹے کے ساتھ زیادتی کرتا رہا جس وجہ سے چھوٹے میں احساس محرومی میں اضافہ ہوا اور اس نے باپ سے سوالات شروع کیے اور یہ سوالات بڑھتے بڑھتے مطالبہ تک جا پہنچے اور وہ مطالبہ علیحدگی کا تھا۔ بٹوارے کا تھا۔
قارئین کرام ! مجھے امید ہے کہ آپ بھی انصاف کرینگے ۔ اسی گھر کی صورتحال کو ہم صوبہ پنجاب میں رہنے والے دو بھائیوں پنجابی اور سرائیکیوں پر فٹ کر کے دیکھتے ہیں اور یہ سرائیکی تو اس بھائی سے بھی بڑھ کر ہیں کیونکہ انہی سرائیکیوں کے نواب سرصادق خان عباسی نے پاکستان کے ملازمین کی پہلی تنخواہ، پہلا بجٹ، اور پہلے مہمان کیلئے ٹرین سے بھر کر سونے چاندی کے برتن دئیے جو آج تک واپس نہ لیے۔ کراچی کا گورنر ہاﺅس قائد اعظم کو گفٹ کر دیا۔ اس ملک کی کرنسی کی گارنٹی دی۔ لاہور کے کالجز، یونیورسٹیز، ہیلتھ و تعلیم کیلئے ہزاروں روپے کا وظیفہ دیا اور یہ وظیفہ آج کے کروڑوں روپے سے بھی بڑھ کر ہے ۔ خطہ سرائیکستان کے ساتھ چھوٹے بھائی والا رویہ نہ رکھا جاتا تو شاید اس خطہ کے لوگ بھی یہ مطالبہ نہ کرتے۔ آج بھی اگر ہم ملک پر نظر دوڑائیں تو ہر طرف چیف بڑے بھائی کے حصہ میں آئے، چیف جسٹس ، چیف آف آرمی سٹاف، چیف الیکشن کمشنر، چیف سیکریٹری و دیگر جتنے بھی چیف ہیں سبھی بڑے بھائی کے لگائے ہوئے ہیں چھوٹے بھائی کے حصہ میں تو سیکریٹری بھی نہیں آیا جو بھی اگر چھوٹے بھائی کا کسی بھی حوالے سے بات کرے تو وہ ادوار کو جمع نفی کرکے دلیل سے بات کرے کہ چھوٹے بھائی کے حصہ میں کتنا عرصہ کیا رہا اور بڑے بھائی کے پاس کیا۔ تاریخ گواہ ہے کہ اس خطہ سے صرف یوسف رضا گیلانی ہی وزیر اعظم رہے جنہیں برداشت نہ کیا گیا۔ آج بھی اگر اس خطہ کا بزدار وزیر اعلیٰ ہے تو وہ چیف صاحبان کو نہیں بھا رہا۔ اگر چودہ انسانوں کا قاتل وزیر اعلیٰ ہوتا تو اسے باخوشی قبول کر لیا جاتا کیونکہ وہ تو بھابھی کا ریکمنڈڈ شدہ ہے ۔ ہمارے مذہب اسلام میں ہے کہ جو چیز اپنے لیے پسند کرو وہی اپنے بھائی کیلئے بھی پسند کرو تو خدارا انصاف کرنا سیکھوکیونکہ رب کعبہ کو انصاف بہت پسند ہے یہاں کے باسی جو صدیوں سے یہاں آباد ہیں ان پریہ الزام مت لگاﺅ کہ تم انڈیا کے ایجنٹ ہو تمہیں باہر کے لوگ سکھاتے ہیں۔ یہ لوگ اسی دھرتی کے اصل وارث ہیں۔ اس خطہ کے لوگ پورے پاکستان کے اور اپنے خیر خواہ ہیں، پیار و محبت کرنے والے لوگ ہیں یہ اسی وجہ سے ہی اپنی ریاست سب سے پہلے پاکستان پر قربان کر دی تھی۔ رب کریم ایسے بیوقوفوں کو صحیح سوچنے ، سمجھنے کی توفیق دے جو اس علاقہ کے لوگوں کو ملک کا خیر خواہ نہیں جانتے اور اس علاقہ کو امن و محبت کا گہوارہ بنائے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کا حامی و ناصر ہو ۔ آمین
کالم نگار کا تعلق خطہ سرائیکستان کے ضلع مظفر گڑھ سے ہے

Check Also

Guangzhou Bases its Further Development on Green Innovation

Guangzhou Bases its Further Development on Green Innovation GUANGZHOU, China, Dec. 16, 2018 /Xinhua-AsiaNet/Knowledge Bylanes– ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *