Home / کالم / محرم الحرام اور پیام پاکستان

محرم الحرام اور پیام پاکستان

 

محرم الحرام اور پیام پاکستان
از طرف : میمونہ صدف
محرم الحرام کے مقد س ماہ کا آغاز ہو چکا ہے ۔ اس ماہ کی دس تاریخ کو شہادت امام عالی مقام کا واقعہ ظہور پذیر ہوا۔محرم الحرام کے آغاز کے ساتھ ہی ملک کے ہر چھوٹے بڑے شہر میں اہل تشیع جلوس کا اہتمام کرتے ہیں ۔ پچھلے چند برس سے دیکھنے میں آیا ہے کہ فرقہ واریت نہ صرف پاکستان بلکہ پورے عالم اسلام کا مسئلہ بن چکا ہے ۔ سنی شیعہ فسادات کا خدشہ خصوصا محرم الحرام میں بڑھ جاتا ہے۔ دہشت گرد عناصرمحرم الحرام میں جلوسوں ، امام بارگاہوں، مساجد یا مزارات میں بم دھماکے یا مختلف مکتبہ فکر کے علماءکو شہید کرکے نہ صرف دہشت کا ماحول پیدا کرتے ہیں بلکہ عوام میں غم و غصے کو جنم دینے کا باعث بنتے ہیں۔ جس کی بنیادی وجہ ملک میں سنی شیعہ اختلافات کو ہوا دینا اور ان واقعات کو فسادات میں تبدیل کرنا ہوتا ہے۔ دہشت گرد عناصر خصوصاً غیر ملکی عناصرجو پاکستان کے عوام کومعاشی بہتری کی جانب مائل دیکھنا پسند نہیں کرتی، ان کی کوشش ہوتی ہے کہ ملک میں اندرونی مسائل کو اس قدر ہوا دی جائے کہ مختلف فرقے آپس میں دست وگریباں ہو جائیں ۔ اسلام اور ملک دشمن عناصر ان جھگڑوں کو بڑھانے کے اسباب پیدا کرتے ہیں تاکہ عوام کو آپس میں لڑوا کر ملکی سیکیورٹی کو اندرونی طور پرزک پہنچائی جاسکے ۔ امن و امان کی فضاءجب مکدر ہوجاتی ہے تو معیشت بدحالی کی جانب مائل ہو جاتی ہے ۔سرمایہ کاری میں کمی جبکہ بے روزگاری میں اضافہ ہو جاتا ہے۔
علماءپاکستان اور عوام پچھلے دس سال سے دہشت گردی کی ان کاروائیوں کا مردانہ وار مقابلہ کرتے آئے ہیں۔ان دس سالوں میں بیسیوں سنی اور شیعہ علماءکو شہید کیا گیا۔ ملکی سیکیورٹی ایجنسیوں ، افواج پاکستان اور دیگر اداروں کی بہترین کارکردگی کے ساتھ ساتھ عوام میں رواداری ملکی سلامتی میں اہم کردار ادا کرتی رہی ہے ۔ دوسری جانب علماءکسی بھی قوم کا اثاثہ ہوتے ہیں ۔ سبھی مذاہب کے لوگ اپنے اپنے مذہبی پیشواﺅں کے نقش قد م پر چلنے کو اپنا فخر قرار دیتے ہیں ۔انہیں بلاشبہ کسی بھی قوم کی آنکھیں قرار دیا جاسکتا ہے کیونکہ ایک مذہب کے پیروکار اپنے پیشواﺅں کی تحریروں اور تقریروں سے نہ صرف متاثر ہوتے ہیں بلکہ ان کو تسلیم کرتے ہوئے عمل بھی کرتے ہیں ۔ لوگوں کے اذہان اور سوچ کو تبدیل کرنے میں علماءاور میڈیا ایک اہم کردار ادا کرتا ہے ۔ اس لحاظ سے دیکھا جائے تو علماءپر ایک کڑی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ ممبر و محراب کے تقد س کو قائم رکھتے ہوئے تمام مکاتب فکر کے درمیان رواداری کی فضاءکو قائم کریں ۔کیونکہ بعض اوقات علماءکے اشتعال انگریز بیانات نہ صرف اختلافات کا سبب بنتے ہیںبلکہ یہ اختلافات بڑے پیمانے پرامن وا مان کے مسائل کی وجہ بن جاتے ہیں ۔جبکہ عوام کی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ دین اور فقہ کی مناسب تعلیم حاصل کریں۔
یہاں یہ بات قابل ِ غور ہے کہ ہمارے ملک میں دو بڑے مکاتب فکر موجود ہیں جن میں ایک سنی جبکہ دوسرا فقہ جعفریہ (شیعہ ) ہیں ۔دونوں مکاتب فکر کے پیروکارکم و بیش ہر شہر اور قصبہ میں پائے جاتے ہیں ۔ ان دونوں مکتبہ فکر کے درمیان واحد اختلاف یہ ہے کہ ایک فقہ صحابہ کرام ؓ کی شان میں گستاخی کا مرتکب ہوتا ہے جبکہ اس گستاخی کی وجہ سے دوسرا فقہ اول الذکر کو کافر قرار دیتا ہے ۔ ملکی حالات کو بہتر بنانے کے لیے ضرور ی ہے کہ فقہ جعفریہ گستاخانہ خیالات کا پرچار نہ کریں جبکہ سنی فقہ کو اپنی تکفیری سوچ کو تبدیل کر نا ہو گا۔دونوں طرف کے علماءکو اس فکری عمل کو عوام کے دلوں میں راسخ کرنے کے لیے اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔
ملک میں امن و امان کی فضاءقائم کرنے کے لیے اسلامی یونیورسٹی کی کوششوں سے پاکستان میں موجود ہر مکتبہ فکر کے علماءنے پیام پاکستان پر دستخط کرکے اسے ایک مستند دستاویز کی حیثیت دی ہے ۔ پاکستان بھر کے علماءکی جانب سے یہ ایک احسن اقدام ہے جس کی تقلید نہ صرف پاکستانی عوام کو بلکہ پوری امت مسلمہ کو کرنی چاہیے ۔کیونکہ مشرق ِ وسطٰی میں سنی شیعہ فسادات بڑے پیمانے پر قتل و غارت گری اور جنگوں کاسبب بنے ۔ جن کی وجہ سے کئی ممالک کو معاشی اور معاشرتی نقصان اٹھانا پڑا اور وہ ملک اندرونی خلفشار کا شکار ہو گیا ۔
پیام ِ پاکستان کی روح سے ایسی تقاریر جن سے فقوں کے درمیان اختلافات کا اندیشہ ہو انھیں ممنوع قرار دیا گیا ہے ۔ کیونکہ اشتعال انگیز تقاریر سن کر بعض لوگ مسلح کاروائیوں کا حصہ بن جاتے ہیں ۔ تکفیری سوچ کو بدلنا ملکی اور دینی مفادات کے لیے از حد ضروری ہے ۔ کسی بھی مکتبہ فکر کو کافر قرار دینا کسی ایک فرد واحد کا کام نہیں بلکہ ایمان کا فیصلہ کرنے والی اللہ کی ذات ہے۔اللہ کی ذات ہی حاکم اعلی ہے ۔ غلطیوں یا کوتاہیوں کی نشاندہی بھی اس انداز میں کی جانی چاہیے کہ سننے والا اس کو منفی انداز میں نہ لے بلکہ یہ نشاندہی اس حد تک تعمیری انداز میں ہو کہ سننے والا اپنی کوتاہیوں کو دور کرنے کی کوشش کرنے لگے ۔ علماءکی بنیادی ذمہ داری یہ ہے کہ تمام مکتبہ فکر کا مطالعہ کریں اور ایسی تقاریر سے گریز کریں جو کسی بھی دوسرے فقہ کے لیے باعثِ ازار ہوں ۔ کسی کے غلط فعل کی سزا کی ذمہ داری ریاستی قانون اور ریاستی اداروں کی ہے نہ کہ عوام کی ۔ کیونکہ جب عوام قانون کو اپنے ہاتھ میں لیتے ہیں تو ملک میں انارکی پھیلتی ہے۔
پچھلے چند برس میں خود کش بم دھماکوں جن کا ہدف عوام رہے کو دہشت گرد عناصر جہاد کا نام دے کر پوری دنیا میں اسلام کا عکس گمراہ کن کرنے کا باعث بنتے رہے ۔جس کی وجہ سے اسلام اور خصوصا پاکستان کو دہشت گردی کے ساتھ منسوب کیا جانے لگا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ عالمی سطح پر پاکستان کو دنیا کے خطرناک ترین ممالک میں ایک قرار دیا گیا۔غیر ملکی سرمایہ کاری میں واضح کمی ہوئی جس کی وجہ سے معیشت کو نقصان اٹھانا پڑا۔ پیام ِ پاکستان میں جہاد کو کسی ایک شخص کا فیصلہ نہیں بلکہ ریاست کا فیصلہ قرار دیا گیا ہے ۔ گویا کسی ایک گروہ کا کسی دوسرے گروہ کے خلاف مسلح کاروائیوں کو جہاد کا نام نہیں دیا جا سکتا۔خود کش بم دھماکے جن کا ہدف بے گناہ اور نہتے عوام ہوں چاہے وہ کسی بھی فقہ سے تعلق رکھتے ہوں حرام ہیں ۔ پیام ِ پاکستان جو درحقیقت تمام مکتبہ فکر کے علماءکی جانب سے ایک فتویٰ ہے اس کا نفاذ عوامی سطح پر از حد ضروری ہے ۔گویا دیگر مکاتب فکر کے ساتھ روارادی کی فضاءقائم کر نا نہ صرف ہمارا ملکی فریضہ ہے بلکہ ہمارا مذہبی فریضہ بھی ہے ۔
واضح رہے ! اگرچہ سیکیورٹی اقدامات پچھلے برس کی نسبت بہتر کرنے کی کو شش کی گئی ہے ۔ تاہم پچھلے کئی برس کی طرح اس برس بھی محرم الحرام کے جلوسوں ، امام بارگاہوں، مساجد یا علماءکو دہشت گردی کا نشانہ بنایا جانے کے خدشات بدرجہ اتم موجود ہیں ۔خدشہ یہ ظاہر کیا جارہاہے کہ ان بم دھماکوں کو فرقہ ورانہ رنگ دے کر ملک میں پھر سے خلفشار پیدا کیا جا سکے ۔ایسے حالات میں علماءاور عوام دونوں کو اپنے دشمن کو پہچاننا چاہیے ۔کیونکہ ملک دشمن عناصر نہیں چاہتے کہ پاکستان میں امن و امان کی فضاءقائم ہو ۔ اسلام اور ملک دشمن عناصر ، منفی پراپگنڈہ کے ذریعے بھی لوگوں کے دلوں میں سوشل میڈیا اور دیگر ویب سائٹس کو استعمال کرتے ہوئے نفرت ، نفاق اور تکفیری خیالات پیدا کرتے ہیں ۔اس منفی پراپگنڈے کا بھرپور جواب دیتے ہوئے عوام اس پر کسی قسم کے ردِ عمل کا اظہار نہیں کرنا چاہیے اور نہ ہی اس کسی پراپگنڈا کو خاص فرقہ سے منسوب کرنا چاہیے بلکہ تحقیق کر کے کسی بھی بات کو ماننا اور آگے پھیلانا چاہیے ۔

Check Also

زمانے کے انداز بدلے گئے!

زمانے کے انداز بدلے گئے! (شےخ خالد زاہد) سب سے پہلے کراچی والوں کیلئے دو ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *