Home / کالم / محمدبن سلمان کادورہ روس 

محمدبن سلمان کادورہ روس 

محمدبن سلمان کادورہ روس
عمرفاروق /آگہی
روس میں فٹبال ورلڈکپ جاری ہے اس کی افتتاحی تقریب میں سعودی عرب کے ولی عہدمحمدبن سلمان نے خصوصی طورپرشرکت کی ورلڈکپ کاافتتاحی میچ بھی میزبان روس اورسعودی عرب کے درمیان ہوایہ میچ سعودی ولی عہد نے روسی صدر ولادی میر پیوٹن کے ساتھ گرائونڈمیں دیکھا ابتدائی میچ میں سعودی عرب روس سے شکست کھاگیا جس پرولی عہدمحمدبن سلمان نے کہاکہ ہماری فٹبال ٹیم ہارے یا جیتے اس کیساتھ ہیں۔
گزشتہ مہینے ایرانی میڈ یا نے دعوی کیا کہ اس سال اپریل میںسعودی عرب میں بغاوت کی کوشش کے دوران شہزادہ محمد بن سلمان کا قتل کردیاگیاہے۔روسی خبر رساں ادارے سپوتنک نے ایرانی اخبار خیان کی رپورٹس کا حوالہ دیتے ہوئے اسی قسم کادعوی کیاتھا جس کے بعدسے افواہوں کاایک بازارگرم ہوگیا اس حوالے سے سوشل میڈیاپرجعلی تصاویراورخبریں بھی اپ لوڈ کی گئیںجس کی وجہ سے عوام میں غلط فہمیاںپیداہوئیں بعدازاں محمدبن سلمان کے ذاتی دفترسے کچھ تصاویرجاری کی گئیں جن میںدیکھاگیاکہ محمد بن سلمان کے ساتھ مصری صدر، بحرین کے شاہ اور یو اے ای کے ولی عہد ایک ساتھ کھڑے ہیں ۔ مگراس کے باوجود افواہ سازفیکٹریاں افواہیں پھیلاتی رہیں تاآنکہ محمدبن سلمان کا روس میں ،،ظہور،،ہوا اورپوری دنیانے انہیں فٹبال ورلڈکپ کی افتتاحی تقریب میں براہ راست دیکھا اس سے ظاہرہوتاہے کہ محمدبن سلمان افواہوں پرکان نہیں دھرتے وہ اپنے عمل سے جواب دیتے ہیں ۔
اس دورے کے دوران سعودی ولی عہد شہزادہ محمد نے روسی صدر ولادی میر پوتین اور توانائی کے وزیر الیگزینڈر نوواک سے ملاقات کی۔ان کے ہمراہ سعودی وزیر توانائی خالد الفالح اور وفد کے دوسرے ارکان بھی موجود تھے۔کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے قبل ازیں ایک بیان میں کہا تھا کہ دونوں ملکوں کے درمیان وفود کی سطح پر مذاکرات میں عالمی سطح پر تیل کی پیداوار میں کمی سے متعلق سمجھوتے پر تبادلہ خیال کیا جائے گاالبتہ وہ اس سمجھوتے سے دستبرداری کے بارے میں کوئی غور نہیں کریں گے۔
روس اورسعودی عرب کے تعلقات بڑھ رہے  ہیں  اورا ن میں گرم جوشی بھی آرہی ہے جولوگ یہ کہہ رہے ہیں کہ سعودی عرب مکمل طورپرامریکہ کی گود میں چلاگیاہے ان کی یہ بات محض سعودی عرب کی دشمنی ہے ،سعودی عرب امریکہ کے ساتھ ساتھ دیگرعالمی قوتوں کے ساتھ بھی برابری کی بنیادپرتعلقات قائم کررہاہے، اب سعودی عرب درست طور پر یہ سوچ رہا ہے کہ اسے عالمی بساط میں امریکہ اور چند ایک ممالک تک محدود رہنے کی بجائے ایک وسیع کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے۔ یہی وجہ ہے کہ روسی صدرکی دعوت پر گزشتہ سال اکتوبرمیں خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے روس کاتاریخی دورہ کیاتھا، جو کسی بھی سعودی سربراہ کا پہلا دورہ تھا۔ اس دورے میں سعودی عرب اور روس کے مابین دہشت گردی کے خاتمے کیلئے دونوں ممالک کے درمیان اربوں ڈالر کے 10 بڑے سمجھوتوں پر دستخط کیے تھے۔ روسی صدر ولاد میر پیوٹن اور سعودی فرمانروا شاہ سلمان نے مشرق وسطی سمیت خطے میں موجود کشیدگی کے پرامن حل پر اتفاق کیا اور دہشت گردوی کے خلاف جنگ میں متحد ہونے کے عزم کا اظہار کیاتھا۔رپورٹ کے مطابق سعودی عرب، روس سے ایس 400 ایئر ڈیفنس سسٹم خریدے گا ، ایئر ڈیفنس سسٹم کی مالیت تین ارب ڈالر سے زائد ہے ۔سعودی عرب کی جن کمپنیوں نے شاہ سلمان کے دورے کے موقع پر روسی کمپنیوں کے ساتھ مفاہمت کی یاد داشتوں پر دستخط کیئے ہیں ان میں سرکاری تیل کمپنی آرامکو بھی شامل ہے۔واضح رہے کہ سعودی عرب اور روس ہی نے تیل برآمد کرنے والے ملکوں کی تنظیم اوپیک اور غیر اوپیک ممالک کے درمیان خام تیل کی پیداوار میں کمی سے متعلق سمجھوتا طے کرانے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ان کی کوششوں کی بدولت اوپیک اور غیر اوپیک ممالک نے مارچ 2018تک تیل کی پیداوار میں کمی سے اتفاق کیا تھا۔تاکہ عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں کو مزید گرنے سے روکا جاسکے اور ان میں استحکام لایا جاسکے،اس کے علاوہ سعودی عرب کی وزارت دفاع نے روس کے ساتھ جدید ترین فضائی دفاعی نظام کی فراہمی سے متعلق کئی معاہدوں پر دستخط کیے تھے ۔
روس اور سعودی عرب کے درمیان تعلقات میں سنہ 1990کے بعد سے گرم جوشی آئی ہے۔  انیس سو نوے کے بعد دونوں ملکوں کی قیادت کے دوروں نے دو طرفہ تعلقات کو مستحکم کیا ہے۔ اس سے قبل 2007 میں روسی صدر نے سعودی عرب کا دورہ کیا تھا بعدازاں محمدبن سلمان  2015میں روس کادورہ کرچکے ہیں جس میں مختلف معاہدات طے پائے تھے سعودی عرب روس کے ساتھ تعلقات استوارکررہاہے اوراس سلسلے میں محمدبن سلمان بنیادی کرداراداکررہے ہیں، محمدبن سلمان سعودی عرب کوآگے لے کرجاناچاہتے ہیں یہی وجہ ہے کہ انہوں نے اپنے ملک میں کئی اہم اقدامات کیے ہیں محمدبن سلمان نے تیل پر مملکت کا انحصار ختم کرنے کے لیے اپریل 2016 میں “وژن 2030” کے نام سے ایک پروگرام کا اعلان کیا جو سعودی عرب کے مستقبل کی تاریخ کا ایک نیا صفحہ ہے۔۔شہزادہ محمد بن سلمان نے سعودی اقتصادیات میں انقلابی تبدیلیوں کا منصوبہ پیش کرنے کا دعوی کیا تھا جس کے مطابق ان کا ملک تیل کی آمدن کی عادت سے چھٹکارا حاصل کرے گا اور گلوبل انویسٹمنٹ طاقت بنے گا۔ان کاکہناہے کہ، ہم اپنے ملک کو بیرونی منڈیوں کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑ سکتے۔
محمدنے ثابت کیاہے کہ مشرق وسطی اور عالمی معاملات میں ا ن کے اہم ترین کردار کونظر انداز کرناممکن نہیں اور سعودی عرب مشرق وسطی میں بھر پور طریقے سے قائدانہ کردارادا کرنے اور اپنے اور اپنے دوست واتحادی عرب ممالک کے مفادات کا بخوبی تحفظ کرنے کی صلاحیت رکھتاہے۔محمدبن سلمان پہلے دن سے ہی اولوالعزم،جرات منداورباصلاحیت ہیں انہیں کم عمری میں ہی ایسے عہدوں سے نوازاگیاکہ وہ اب مکمل طورپرکاروبارحکومت چلارہے ہیں جب سے وہ ولی عہدبنے ہیں اس وقت سے وہ ہروزارت کی ماہانہ رپورٹ کاخود جائزہ لیتے ہیںاوراحکامات صادرکرتے ہیں  ، نوجوانوں میں بہت مقبول ہیں۔ وہ محنت کرتے ہیں، ان کے پاس اقتصادی اصلاحات کے لیے ایک منصوبہ ہے۔ وہ کھلے دل کے ہیں اور عوام کو سمجھتے بھی ہیں۔
 محمدبن سلمان ملکی دفاع میں بہتری کے ساتھ ساتھ ریاست میں معاشی اصلاحات لانے کے لیے گراں قدر کام سرانجام دے رہے ہیں۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مستقبل کے مشرق وسطی کی سمت کا تعین کرنے میں شہزادہ محمد بہت اہم کردار ادا کر سکتے ہیں، اور کچھ بعید نہیں کہ ان کا شمار سعودی عرب کی تاریخ کے چند ترین اہم ترین ناموں میں ہو۔
روس اور سعودی عرب کے تعلقات میں یہ بڑھتی گرم جوشی عالمی سیاست اور خاص طور پر خلیجی ا ور عرب ممالک کی خارجہ پالیسی میں اہم تبدیلیوں کا آغاز ہو سکتا ہے اور اس خطے میں روس کے اثرو رسوخ میں اضافے کا سبب بھی۔ خاص طور پر ایک ایسے وقت میں جب سعودی عرب موجودہ عالمی بساط میں امریکہ کا قریب ترین حلیف سمجھا جاتا ہے گزشتہ چند سالوں میں سعودی رہنمائوں کے  ماسکوکے دورے اور اربوں ڈالر کے معاہدے نہایت اہمیت کے حامل ہیں، اور اس خطے میں امریکی خارجہ پالیسی کی ناکامی اور کم ہوتے عالمی اثرو رسوخ کی جانب اشارہ کرتے ہیں۔
تجزیہ نگاروں کے مطابق سعودی عرب  روس کے حوالے سے اپنی خارجہ پالیسی تبدیل کررہاہے روس کوبھی اپنی پالیسی پرنظرثانی کرناہوگی کیوں کہ ان دونوں ممالک کامشرق وسطی میں کردارنہایت اہم ہے روس کوشام کے مسئلے پرامت مسلمہ کے جذبات کی ترجمانی کرناہوگی یہ بات بھی طے ہے کہ سعودی عرب کے یہ نئے اقدامات اور سی پیک کی تکمیل اس خطے میں امریکی اثرونفوذکے تابوت میں آخری کیل ثابت ہوگی اور اب پاک چین اورروس کے بڑھتے ہوئے تعلقات بھی امریکا کو مستقبل میں مشکلات کاشکار کر سکتے ہیں۔

Check Also

نور محمدی ﷺ

    نور محمدی ﷺ کالم : بزمِ درویش تحریر:پروفیسر محمد عبداللہ بھٹی ای میل: ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *