Home / کالم / محمد مقبول بٹ شہید

محمد مقبول بٹ شہید

محمد مقبول بٹ شہید
تحریر:خالد محمودمغل
دل سے نکلے گی نہ مر کے بھی وطن کی الفت
میری مٹی سے بھی خوشبوئے وفا آئے گی

آج آزاد کشمیر ،مقبوضہ کشمیر،پاکستان ودنیا بھر میںمقیم کشمیری شہید کشمیر محمد مقبول بٹ کا 35واں ےوم شہادت پورے عقیدت واحترام سے منائےں گے۔جگہ جگہ ریلیاں،احتجاجی مظاہرے اور تقریبات منعقد کر کے شہید کشمیر کو خراج تحسین پیش کیا جائےگا۔مقبول بٹ شہید نظرےہ خود مختار کشمیر کے حامی تھے اور وہ چاہتے تھے کہ ریاست جموں وکشمیر آزاد وخودمختار ہو کر ایک اکائی میں پرو جائے ۔

مقبول بٹ کا تعلق وادی کشمیر بھارتی مقبوضہ کشمیر سے تھا۔ وہ 18 فروری 1938ءمیں ریاست جموں و کشمیر کے ضلع کپواڑہ کی تحصیل ہندواڑہ کے ایک گا¶ں تریگام میں پیدا ہوئے تھے۔ جب ریاست جموں و کشمیر پر ڈوگرہ سامراج کا مطلق العنان شخصی تھا۔ اور کشمیری مسلمان ظلم کی چکی میں پس رہے تھے۔ان کے بنیادی حوق سلب اور شہری آزادیوں پر پابندی تھی۔ اگرچہ سیاسی طور پر انہیں کام کرنے کی اجازت دی گئی تھی مگر اصل اختیارات کا مالک مہاراجہ کشمیر ہری سنگھ تھا۔ مقبول بٹ نے کالج تک اپنی تعلیم مکمل کرنے کے بعد بھارتی مقبوضہ کشمیر سے پاکستانی زیر انتظام کشمیر کی طرف اپنے چچا کے ہمراہ ہجرت کی اور عارضی جنگ بندی کو عبور کرکے آزاد کشمیر آ گئے تھے۔ پھر پاکستان کے شہر پشاور (صوبہ سرحد) میں سکونت اختیار کر لی۔ یہیں پر یونیورسٹی میں لیکچرار بھی رہے اور صحافت بھی کی۔ اس کے ساتھ ساتھ کشمیر کی آزادی کی تڑپ بھی انکے دل میں بدرجہ اتم موجود رہی۔

مقبول بٹ نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ مل کر تحریک آزادءکشمیر کیلئے سیاسی طور پر بھی جدوجہد کی اور عملی طور پر بندوق بھی اٹھائی۔ محاذ رائے شمار ی اور نیشنل لبریشن فرنٹ سے وابسطہ رہے۔ جب دیکھا کہ سیاسی اور سفارتی محاذ پر مسئلہ کشمیر کو خاطر خواہ پزیرائی نہیں مل رہی تو گوریلا جنگ کی راہ اختیار کی ۔ اپنی اس کوشش میں وہ گرفتار بھی ہوئے اور انہیں سرینگر جیل میں پابند سلاسل کیا گیا۔ وہ جیل توڑ کر وہاں سے آزاد کشمیر آنے میں کامیاب رہے تھے۔دوسری مرتبہ جب گئے تو پھر پکڑے گئے اور پھر انہیں خطرناک قیدی قرار دیکر تہاڑ جیل دہلی بھارت میں قید کر دیا گیا۔ مقبول بٹ خودمختار کشمیر کے نظرےے کے ساتھ ایک بڑے کشمیری لیڈر کے طور پر نمایاں ابھر کر سامنے آئے تھے ۔کہ پاکستان کے اس وقت کے وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو نے بھی ان سے منگلا میں مذاکرات کئے اور انہیں خودمختاری کا راستہ ترک کر دینے کا بھی کہا گیا کہ بدلے میں چاہیں تو آزاد کشمیر کی صدارت لے لیں۔ مگر آزادی کا یہ پیکر کشمیر کی مکمل آزادی اور خودمختاری سے کم کسی بات پر راضی نہ ہوا۔ مقبول بٹ پر پاکستان میں بھی مقدمات قائم ہوئے اور انہیں بھارتی ایجنٹ بلکہ غدار تک قرار دیا گیا۔ راولپنڈی جیل اور شاہی قلعہ لاہور میں قید و بند کی صعوبتیںبرداشت کیں جبکہ تشدد بھی کیا گیا۔ آخر کار انہیں پاکستانی عدالت سے انصاف ملا اور انہیں ایک محب وطن اور آزادی کا متوالا کشمیری قرار دے کر چھوڑ دیا گیا تھا۔

بھارت نے مقبول بٹ کو پاکستانی ایجنٹ قرار دیکر ظلم کے پہاڑ توڑے مگر اس مرد مجاہد کے جذبہ آزادی کوکوئی سرد نہ کر سکا۔مقبول بٹ شہید نے آزاد کشمیر اور پاکستان میں تنظیمی طور پر بھی کام کیا۔ انہوں نے مادر وطن کشمیر کی مٹی اٹھا کر قسم کھائی تھی کہ وطن کی آزادی کےلئے دشمن سے لڑیں گے۔ آزادی ملے گی یا پھر شہادت۔جموں و کشمیر انکی زندگی میں آزاد تو نہ ہو سکا مگر مقبول بٹ کو شہادت مل گئی۔بھارت نے 11فروری 1984 کو مقبول بٹ کو تہاڑ جیل دہلی میں پھانسی دے دی۔ اور شہید کی میت انکے کشمیری ورثاءکے حوالے نہیں کی تھی بلکہ جیل کے اندر احاطہ ہی میں کسی نامعلوم مقام پر دفن کر دیا۔ جو کہ انسانی حقوق کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ بھارت سرکار کو خدشہ تھا کہ اگر مقبول بٹ شہید کی میت کشمیریوں کے حوالے کی گئی تو وہ ان کے جسد خاکی کی تدفین مزار شہداءسرینگر کشمیر کے قبرستان میں اسلامی روایات اور اعزاز کے ساتھ کریں گے اور ان کی قبر آزادی کے متوالوں کا مرکز بن جائے گی۔

کشمیریوں نے قابض بھارتی فوج کے خلاف بندوق بھی اٹھائی اور ایک لاکھ کی تعداد میں شہادتیں بھی پیش کیں۔ وہ آج بھی بھارتی فوج کے ظلم و جبر کا نہتے ہو کر بھی مقابلہ کر رہے ہیں۔ بھارتی مقبوضہ کشمیر میں گمنام اجتماعی قبروں میں کشمیریوں کو ماورائے عدالت قتل کرکے دفن کیا گیا اور معصوم بچوں پر چھرے والی بندوقیں استعال کرکے انہیں آنکھیں تک پھوڑ دی گئیں۔ کشمیری خواتین کے ساتھ بداخلاقیاں کی گئیں۔ ہزاروں کشمیری آزادی کی پاداش میں قید و بند کی صعوبتیں برداشت کر رہے ہیں۔ مگر آزادی سے کم کسی بات پر راضی نہیں ہیں۔ کشمیر میں اب تک بہت خون بہہ چکا ہے مگر بھارتی فوج کے مظالم کم نہیں ہو رہے۔ اس کی سات لاکھ سے زائد مسلح فوج کشمیر میں تعینات ہے۔ ہر نکڑ پر فوجی بنکر ہے جبکہ کشمیریوں کے سر پر فوجی بندوقیں تانے کھڑے ہیں۔ کشمیر جل رہا ہے۔ کشمیری مر رہے ہیں۔ جبکہ اقوام متحدہ سمیت اگرچہ عالمی انسانی حقوق کی تنظیموں نے آواز اٹھائی ہے مگر انہیں بھارتی حکومت کی طرف سے وہاں جا کر حالات معلوم کرنے کی اجازت نہیں دی جاتی۔ اسی طرح چند ایک ممالک بھی مظلوم کشمیریوں کے حق میں آواز بلند کرتے ہیں مگر پھر کسی مصلحت کے تحت خاوشی اختیار کر لیتے ہیں۔ اب تو بھارت میں بھی کشمیریوں پر ڈھائے جانے والے مظالم پر آواز اٹھ رہی ہے کہ ان پر اور ظلم نہ کیا جائے اور آزادی دی جائے۔ مگر بھارتی سرکار میں نہ مانوں والی پالیسی اختیار کئے ہوئے ہے اور اٹوٹ انگ کی رٹ لگا رکھی ہے جبکہ ریاست جموں و کشمیر ایک متنازعہ علاقہ ہے۔ جس کا تصفیہ ہونا ابھی باقی ہے۔ ریاست کے مستقبل کا فیصلہ صرف کشمیری عوام کریں گے کہ وہ کیا چاہتے ہیں؟ ۔

مقبول بٹ شہید ہو کر امر ہو گئے۔ انکی شہادت پر آرپار مقیم اور دنیا بھر میں مقیم کشمیریوں نے بھارت کے خلاف مظاہرے کرکے شدید احتجاج کیا تھا۔ مقبول بٹ کی قربانی نے کشمیریوں میں بیداری اور جذبہ آزادی کی ایک نئی روح پھونکی۔ چناچہ کشمیر میں بھارت کے خلاف وہ شورش پیدا ہوئی کہ کشمیری اپنی آزادی کئلیے اٹھ کھڑے ہوئے۔کشمیری اپنے عظیم لیڈر کی وطن کی آزادی کی خاطر دی گئی قربانی کو بھولے نہیں اور ہر سال ان کا یوم شہادت شایان شان طریقے سے مناتے ہیں۔ آر پار منقسم کشمیر سمیت دنیا بھر میں مقیم کشمیری بھارت کے خلاف احتجاجی مظاہرے کرتے ہیں۔ جلسے جلسوس اور سیمنار منعقد کرتے ہیں۔ اور شہید وطن کی قربانی کو یاد کرتے ہیں۔

Check Also

تحریک ِ ختم ِ نبوت ﷺ کچھ یادیں کچھ باتیں

  تحریک ِ ختم ِ نبوت ﷺ کچھ یادیں کچھ باتیں جمہور کی آواز ایم ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *