Home / کالم / مقبوضہ کشمیر ،بھارتی ظلم وجبر کے سائے تلے الیکشن نامنظور!

مقبوضہ کشمیر ،بھارتی ظلم وجبر کے سائے تلے الیکشن نامنظور!

 

 


راشدعلی
مقبوضہ وادی کشمیر میں بھارتی انتہاپسند حکومت کے زیر سایہ8سے16اکتوبرتک بلدیاتی انتخابات کاآغاز ہوچکا ہے۔انتخابات کو چار مرحلوں میں تقسیم کیاگیا ہے۔دو علاقائی سیاسی جماعتیں نیشنل کانفرنس ،پی ڈی پی اوردو قومی سیاسی جماعتیں پی ائی ایم اوربی ایس پی نے الیکشن کابائیکاٹ کررکھا ہے۔چاروں جماعتوں کاموقف ہے کہ ہندوسرکار مقبوضہ وادی میں دفعہ 25(a)سے متعلق اپنی پوزیشن واضح کرے۔دوسری جانب حریت رہنماﺅں الیکشن کے بائیکاٹ کے ساتھ ساتھ مقبوضہ وادی میں ہڑتال کی کال دی ہے۔روزنامہ بھارت جدید کی ایک رپورٹ کے مطابق لوگ موجودہ بلدیاتی الیکشن میں حصہ نہیں لے رہے ہیں نہ ہی نمائندے عوام میں الیکشن کی مہم چلاسکیں ہیں ۔انتخابی امیدواروں نے ہائی سیکیورٹی زون والے علاقوں میں پناہ لے رکھی ہے۔حریت رہنما میرواعظ عمرفاروق کو ان کی رہائش گاہ پر نظربندکردیا گیا ہے ۔وادی میں خون بہہ رہا ہے اورنریندر مودی الیکشن کا ڈھونگ رچانے میں مصروف ہے ۔
دوسری جانب میڈیارپورٹ کے مطابق2019 کے پارلیمانی انتخابات سے قبل مقبوضہ کشمیر میں مودی مذہبی وعلاقائی بنیادوں پر فساد اوردنگے کروانا چاہتے ہیں ۔قتل عام ،تذلیل انسانیت ،غنڈا گردی ،ریپ ،پکڑدھکڑ چوری چکاری ریاستی دہشت گردی توپہلے عروج پر ہے ۔اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کمیشن نے بھارتی ریاستی دہشت گردی کا پول کھول دیا ہے ۔میڈیا رپورٹ میں یہ انکشاف ہوچکاہے کہ مسلم اقلیتی علاقوں میں ہندوﺅں کو بسایاجارہا ہے تاکہ مسلمانوںکی اکثریت کو اقلیت میں تبدیل کرکے بھارت اٹوٹ انگ کا خواب شرمندہ تعبیر کیا جاسکے ۔بھارتی ظلم وبربریت کے تمام حربے ناکام ہوچکے ہیں ۔مودی حکومت بوکھلاہٹ کا شکارہے ۔مہنگائی اورانتظامی کرپشن نے مودی کی لنگوٹی ڈھیلی کردی ہے ۔بدانتظامی ،کرپشن اورمہنگائی کا شور اتناشدید ہے کہ گر مودی اپنی لنگی گلے سے بھی باندھ لے تب بھی کھل جائے گی اور راج دھانی موصوف کے ہاتھ سے نکل جائے گی ۔
مسلمانوں کو اقلیت میں تبدیل کرنے اورمقبوضہ وادی کو مختلف حصوں میں تقسیم کرنے کا بھارتی منصوبہ کافی پرانہ ہے ۔سابق این ڈی اے حکومت 1998-2004نے اس کابرملا اظہار بھی کیا تھا ۔سن 2000میں اس کے وقت کے وزیرداخلہ ایل کے آڈوانی نے لیہہ کے دورے کے دوران لداخ اورجموں کو براہ راست مرکز کے کنڑول میں دینے کی خواہش کا اظہار کیا تھا انہی ایام میں آر ایس ایس نے مقبوضہ کشمیر کوتین یونٹ میں تقسیم کرنے کامطالبہ کیا اس مطالبے کے پیچھے علاقائی اورمذہبی تقسیم کارفرماتھی ۔مسلمانوں کی ایک یونٹ میں جمع کرکے بڑے پیمانے پرقتل عام کرنا دیگر دویونٹوں کا براہ راست کنڑول مرکز سے جوڑنا ،انہی ایام میں کشمیری پنڈتوں کی تنظیم پنن کشمیر اورلداخ بدھسٹ ایسوسی ایشن نے مشترکہ طور سابق وزیراعظم اٹل بہاری واجپائی کوایک میمورنڈم پیش کیا ،جس میں لداخ اورجموں کو علیحدہ ریاست بنانے کامطالبہ کیا گیا تھا۔
من میں چھپا چور بھلا کیسے خاموش رہے حقیقت توکردار وبیان سے ظاہر ہوہی جاتی ہے ۔ہم سب کو معلوم ہے مودی ہزاروں مسلمانوں کاقاتل ہے سانحہ گجرات سے سب ہی واقف ہیں ۔سچ پوچھو تو یہ امن دشمن سوچ کاحامل انسان ہے۔قومی اوربین الاقوامی سطح پر مودی کو شدید خفت کا سامنا ہے ۔ایران سے تیل خریداری اور روس دفاعی میزائل سسٹم پر امریکی تحفظات ،پاک بھارت تعلقات ،افغانستان میں کی گئی انویسمنٹ کا ضیاع ،بھارت ایران ناکام چاہ بہار پورٹ منصوبہ ، کانگریس کا مودی کرپشن کے خلاف ہنگامہ خیز بھونچال مودی سرکارِ کے لیے سونامی سے بھی زیادہ ہلاکت خیز معاملہ بنتا جارہا ہے ۔یہ بھونچال ایسے وقت سراٹھارہا ہے جب مرکزی الیکشن قریب آرہے ہیں ۔انتہاپسندوں ہندوﺅں نے مقبوضہ کشمیر اورہندوستان کے مسلمانوں کاجینا دوبھرکررکھا ہے ۔روزانہ درجنوں قتل اورریپ کے واقعات رپورٹ ہورہے ہیں ۔مودی سرکار مذہب اور جنگ کو ہتھیار بنا کر ہندو وٹرز کو اپنے لیے استعمال کرنا چاہتی ہے ۔روزنامہ انقلاب کی رپورٹ کے مطابق جہاں جہاں مسلمانوں تعداد کم ہیں وہاں وہاں مسجدیں کہیں مینار گرائے جارہے ہیں
بھارتی حکومت کا اقلیتوں کے حقوق پامال کرنے کاعمل ریاست کے لیے پھانسی کا پھندا ثابت ہوگا۔ظلم کی اندھیر نگری لوگوں کو” تنگ آمد بجنگ آمد یعنی درد کا حد سے گزرنا ہے دوا ہوجانا “ثابت ہوگی ۔جب لوگ اپنے حقوق کے لیے کھڑے ہوں گے تب ہرگلی چوک اورمحلے میں آزادی کی جنگ لڑے جائے گی اورمقبوضہ وادی میں لڑی جارہی ہے ،سکھ علیحدہ ریاست کامطالبہ کررہے ہیں ،سیون سسٹرز سٹیٹ یہ مطالبہ کررہی ہیں ،مسلمان یوتھ ا س طرف مائل ہورہی ہے۔مودی جی پر مذہبی بھوت سوار ہے ۔نام نہاد جمہوری سیکولر ریاست کو نفرت کی آگ میں جھونک رکھا ہے ۔بین الاقوامی ادارے اس حقیقت کو تسلیم کرچکے کہ بھارت انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں میں ملوث ہے۔ جس کا اعتراف انسانی حقوق کمیشن نے کیا ہے ۔ضد اورہٹ دھری کی پالیسی ترک کرکے بھارتی حکومت کو جامع بین الاقوامی تحقیقات کمیشن قائم کرنا چاہیے جو حقائق دنیا کے سامنے لائے ۔رپورٹ میں کشمیری خواتین کی اجتماعی عصمت دری کے سانحہ کنن پوشپورہ ،جبری گمشدگیوں اور بھارتی فوجیوں کی طرف سے مہلک پیلٹ گن کے بے دریغ استعمال اور کالے قانون پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت انہیں حاصل انسانی حقو ق کی پامالیوں کی کھلی چھوٹ اوراس کی مزمت کی گئی ہے۔
باالفاظ دیگر جنت نظیر وادی کشمیر لہو لہو ہے ۔جہاں کی فضاوں میں ختن کی خوشبو بسا کرتی تھی اب وہاں بارود اور کیمیائی اجزاءکی بدبو فضا کو الودہ کررہی ہے ۔ عوام آرمیوں کے نشانے پر ہیں، بندوق کی نالیاں نہتے عوام کی طرف ہیں اور لبلبی آن واحد میں کھلتی اور بند ہوتی ہے ۔ کاتب تقدیر نے کشمیر کے نصیب میں آگ، بارود، خون اور لاشیں ہی لکھ دی ہیںکیا ؟الیکشن کا ڈھونگ ہرطرف خاموشی ہی خاموشی کرفیو ہی کرفیو۔عوام کا سانس لینا مشکل ہوگیا ہے اور پھر چند معصوم جو مزاحمت کے جوش میں سڑکوں پر نکل آتے ہیں آرمی کے افراد انھیں دہشت گرد اور بلوائی سمجھ کر بے دریغ نشانے پر لے رہے ہیں۔دنیا کی سب بڑی جمہوریت کی اعلیٰ روایات پر ذرا نظر ڈالیے صحافت کے دروازے بند سوشل میڈیا بینڈ ،نکل وحرکت پر پابندی ،گھرگھرتلاشی مہم میں نہتے انسانوں کی بربادی ۔دنیا کی سپر جمہوریت ہونے کے زعم باطل میں مبتلا بھارتی حکومت نے ریاست کو چوتھے ستون سے ہی محروم کردیا ہے۔
آزادی کا متوالہ فریڈم فائٹربرہان وانی کی بغاوت اور کشمیری قوم کی وانی کی حمایت اور اس سے اٹھے طوفان جن دبی ہوئی چنگاری کا پتہ دیتے ہیں وہ یہ کہ کشمیری آزادی کے لیے ہرقسم کی قربانی دینے کے لیے تیار ہیں ،ان کا عزم نہ کبھی کمزور ہوانہ کبھی ہوگا ۔اب حریت پسندوں کے نعروں کی آوازیں اقوام عالم میں گونج رہی ہیں ”ہم کیا چاہتے آزادی ،ہم لے کے رہیں گے آزادی ،کشمیر بنے گا پاکستان ،پاکستان زندہ باد۔

Check Also

لمحہ فکریہ

  لمحہ فکریہ تحریر ۔۔۔ شیخ توصیف حسین گزشتہ روز میں نے ایک عمر رسیدہ ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *