Home / کالم / مقبوضہ کشمیر میں بھارتی دہشت گردی اور 42روز سے کرفیو

مقبوضہ کشمیر میں بھارتی دہشت گردی اور 42روز سے کرفیو

 

مقبوضہ کشمیر میں بھارتی دہشت گردی اور 42روز سے کرفیو
تحریر:قاسم نواز خان

مسئلہ کشمیر بنیادی طور پر بنیادی انسانی حقوق کا مسئلہ ہے ۔ یہ دوکروڑ سے زائدکشمیریوں کے بنیادی اور ناقابل تنسیخ حق خود ارادیت کا مسئلہ ہے مختصر یہ کہ یہ ایک قوم کے تاریخی مقدر اور سیاسی مستقبل کا مسئلہ ہے مگر کشمیری قوم کا المیہ ہے کہ یہ مسئلہ گزشتہ 73سال سے انکے لئے درد والم اور اذیت کا باعث بنا ہوا ہے جنگ عظیم دوئم کے بعد سے لیکر درجنوں محکوم اقوام کی آزادی کی نعمت سے سرفراز ہو چکی ہیں حتٰی کہ افریقہ کے تاریک ترین گوشے بھی آزادی کے نور سے منور ہوچکے ہیں مگر شائد قدرت کو چرپ دست اور تر دماغ کشمیری قوم کا مزید امتحان مطلوب ہے بھارت نے 5اگست 2019کو آرٹیکل 370اور 35اے کو ختم کر کے کشمیریوں سے ان کی شناخت بھی چھین لی اور آج 42ویں روز بھی مقبوضہ وادی کو بھارت کے وزیراعظم نریندر مودی جسے ”قصائی “کا نام دیا جائے تو غلط نہ ہو گا نے معصوم اور نہتے کشمیریوں پر ظلم کے وہ پہاڑ توڑ ے ہیں جس کی مثال روح زمین پر نہیں ملتی بھارت اور اس کی افواج نے گزشتہ ڈیڑھ ماہ سے معصوم کشمیریوں کوگھروں میں نظر بند کر رکھا ہے معصوم بچے خوراک کے لیے بلک رہے ہیں جبکہ بوڑھے ،جوان اور شیر خوار بچے علاج کے لیے تڑپ تڑپ کر اپنی جانیں دے رہے ہیں ان سب مظالم کے باوجود پوری دنیا بالخصوص اسلامی ممالک کا کردار انتہائی شرمناک ہے سب کچھ دیکھتے کے باوجود پوری دنیا نے چھپ سادھ لی ہے ایسے بھی یہ اندیشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان تیسری جنگ بھی ہو سکتی ہے اور میرے خیال میں مسئلہ کشمیر کا حل صرف اب جنگ ہی رہ گیا ہے کیونکہ پاکستان کی طرف سے ہر بار مذاکرات کے لیے ہاتھ بڑھائے گئے مگر بھارت نے کبھی بھی ان مذاکرات کا مثبت جواب نہیں دیا کشمیریوں نے گزشتہ کئی سالوںسے جو بے مثال تحریک مزاحمت اور مسلح جدوجہد شروع کر رکھی ہے اور انسانی تاریخ کی جو لازوال قربانیاں پیش کر رہے ہیں اسکے پیش نظر یہ بات کامل یقین اور اعتماد کے ساتھ کہی جا سکتی ہے کہ انکی مظلومیت اور محکومیت کی زنجیریں انشاءاللہ بہت جلد ٹوٹ کر رہیں گی اور یہ بھارتی سامراج کے گلے کا ہار بن جائیں گی۔ کشمیر اور کشمیری یقینا آزاد ہونگے مگر اسکی حتمی نوعیت کیا ہو گی اسکے بارے میں پیشگوئی نہیں کر سکتا ۔ کیونکہ حد متارکہ کے اس پار ہمارا کرشار ہمارے قومی فکر و فلسفہ اور نظریہ سے مطابقت رکھتا دکھائی نہیں دیتا اگر ہم نے تکمیل پاکستان کے خواب کی عملی تعبیر کرنی ہے تو ہیں اپنے طرز فکر و عمل میں مثبت تبدیلی لانی ہو گی اور اپنے پیکر خاکی میں جان پیدا کرنی ہو گی ۔ اگرچہ ہمارا مقصد اور موقف حق و صداقت پر مبنی ہے آج جبکہ غاصب اور دہشت گرد بھارتی افواج ، بارڈر سیکورٹی فورسز اور سنٹرل ریزور پولیس فورس کے انسان نما مگر خونخوار درندے مجاہدین آزادی پر اپنی تمام تر قہر سامانیوں کے ساتھ قیامت خیز مظالم ڈھا رہے ہیں۔ بستیوں نذر آتش کر رہے ہیں ننھے منے سکول کے سینکڑوں بچوں کو زندہ جلا رہے ہیں ہزاروں کو شہید کر چکے ہیں ، ہزاروں پر بھارت کے عقوبت خانوں میں انسانیت سوز مظالم ڈھا رہے ہیں اور ہماری عفت مآب ماﺅں ، بہنوں اور بیٹیوں کی وسیع پیمانہ پر بے حرمتی کر رہے ہیں ہم اقتدار کی جنگ لڑ رہے ہیں اور نظریاتی خلفشار اور قومی انتشار کے گرداب میں پھنس کر عدم استحکام اور نفاق سے دو چار ہیں ۔ اس تناظر میں یہ اور بھی ضروری ہو جاتا ہے کہ ہم مسئلہ کشمیر کے حقیقی محرکات اور اس کے پس منظر کا جائزہ لیں تاکہ تحریک آزادی کشمیر اور ہماری جدوجہد کا میابی سے ہمکنار ہو سکے ۔ تا ر یخ شا ہد ہے کہ بطل حر یت کر نل را جہ عدا لت خا ن (ملٹری سیکرٹری مہاراجہ ہری سنگھ) نے آج سے ستر بر س قبل ،بھا ر تی افو اج کی کشمیر میں د ر اندا ز ی کے ضمن میں جو تا ر یخی اور حقا ئق پر مبنی کلمات اداکیے تھے ،وہ لفظ بہ لفظ د ر ست ثا بت ہو ئے اور طویل ترین مظالم سہنے اور بے انتہا قربانیوں کے باوجود ہنوز بھارتی فوج مقبوضہ کشمیر سے نکلنے پر تیار نہ ہوئی۔پنڈ ت جو اہر لعل نہر ووز یر اعظم ہند وستا ن کی مو جو د گی میںان خیا لات کا اظہا ر،کر نل را جہ عدا لت خان جیسی غیو ر ،با کر دا ر ،جرا ت مند اور بے با ک شخصیت ہی کر سکتی تھی۔ اجتماع کے اختتا م پرجب پنڈت جواہر لعل نہر و وہا ں سے چلے گئے توشیخ عبد اللہ نے کہا کہ را جہ صا حب! ”آپ اپنے عہد ے سے سبک دوش ہو کر وا پس چلے جا ئیں و گر نہ بھا ر تی حکو مت آپ کے خلا ف سخت تا دیبی کاررو ائی عمل میں لا ئے گی “ کر نل را جہ عد الت خان اپنے اصو لی مو قف پر ڈٹے ر ہے اور ملا زمت کو ٹھو کر ما ر کر وا پس آز اد کشمیر چلے آئے ۔ اُس و قت آزاد کشمیر کے صد رکر نل سید علی احمد شا ہ تھے جو کر نل را جہ عدا لت خا ن کی خدا دا د صلا حیتو ں اور نفیس شخصیت کے قدر د ان تھے چنا نچہ انھو ں نے را جہ عد الت خا ن کو انسپکٹر جنر ل پو لیس آزا د کشمیر تعینا ت کیا ۔ پھر حکو مت پا کستا ن نے ان کی قا بلیت اور دیا نت دا ر ی کی بنا ءپر انھیں کمشنر امور منگلا ڈ یم کے عہد ہ پر فا ئز کیا ۔بطل حریت کر نل را جہ عد الت خا ن اور بطل حر یت چو ہد ر ی غلا م عبا س صد ر ”مسلم کا نفر نس “ کے نا صر ف ایک د وسر ے سے گہر ے مرا سم تھے بلکہ دو نو ں پا کستا ن سے گہر ی محبت بھی ر کھتے تھے ۔ طویل مدت گزرنے کے باوجود مسئلہ کشمیر کے حل کے ضمن میں ،بھا ر تی حکمرا ن، اقوا م متحد ہ میں کیے گئے و عدوں سے نا صر ف منحر ف ہو چکے ہیں بلکہ مقبو ضہ کشمیر کو اپنے با پ دا دا کی جا گیر تصور کر کے، 6لاکھ کشمیر ی مسلمانوں کا خون بہانے کے باوجود ، اس کے بھا ر ت کا ” اٹوٹ انگ “ہو نے کی بے بنیاد رٹ لگا نے سے بھی نہیں شر ما تے ۔ا ہلِ کشمیر ، 27اکتو بر کو مقبو ضہ کشمیر پر بھا ر تی فو جی تسلط اور بھا ر تی یوم جمہو ریہ پر ہر سا ل یو م سیا ہ منا کر پوری دنیا ،خصو صا اقوا م متحد ہ کو مقبو ضہ کشمیر پر بھا ر ت کے نا جا ئز فو جی تسلط سے نا صر ف آگا ہ کر تے ہیں بلکہ” مسئلہ کشمیر“کو استصوا ب را ئے کے ذر یعے حل کر نے کی صد ابھی بلند کر تے ہیں۔ اہل کشمیر ،اہل پا کستا ن اور دنیا میں جہاں جہاں کشمیر ی آباد ہیں مقبو ضہ کشمیر میں بھا ر تی فو ج کی طر ف سے گز شتہ 70بر س سے جا ر ی جبرو تشد د ،انسا نی حقو ق کی خلا ف ور زیوں اور ر یا ستی د ہشت گر د ی کی مذمت کر تے ہیںاور عا لمی بر اد ر ی خصو صا سلا متی کو نسل اور اسلا می ر یا ستو ں سے اپیل کر تے ہیںکہ اس انسا نی مسئلہ کو حل کر نے میں ،بھا ر ت پراپنا د با ﺅ ڈا لیں اور مستقبل میں جنو بی ایشیا بلکہ پو ر ی دنیا کو ایٹمی جنگ اور ”تیسر ی عا لم گیر جنگ “کی ہلا کت آفر ینوںسے محفو ظ بنا ئیں ۔

تحریک آزادی کشمیر ایک تاریخی عمل ہے جو ابھی تک نا تمام ہے لیکن مسئلہ کشمیر برصغیر پاک و ہند کی تقسیم کے 3جون 1947ءکے منصوبہ ، قانون آزادی ، ہند اور برطانوی ہند سے انگریز سامراج کے اقتدار کے خاتمہ کا براہ راست نتیجہ ہے میں تحریک آزادی کشمیر کی تاریخ کے اوراق الٹ پلٹ کر اس معزز قارئین کا وقت ضائع نہیں کرنا چاہتا ۔ اختصار کے ساتھ صڑف یہ کہنا چاہوں گا کہ بر صغیر کی تقسیم کے بنیادی اصول یعنی ” دو قومی نظریہ“ کی بنیاد پر بر صغیر کے عوام کو حق خود ارادیت دیا گیا جسکے تحت پاکستان اور ہندوستان کی دو آزاد اور خود مختار ممالک بالترتیب 14اور 15اگست 1947ءکو معرض وجود میں آئے لیکن مسلم اکثریت والی ریاست جموں وکشمیر کے عوام کو ایک گہری سازش کے تحت اس حق سے محروم رکھا گیا اس سازش کے بنیادی کردار ہندو کانگریسی قیادت اور رسوائے زمانہ وائسرائے ہند لارڈ ماﺅنٹ بیٹن تھے بعد ازاں ریاست کا ڈوگرہ مہاراجہ ہری سنگھ بھی اس سازش کے کردار وں میں شامل ہو گیا بنیادی طور پر سازش یہ کی گئی کہ پاکستان کو دفاعی اور معاشی اعتبار سے عدم تحفظ اور عدم استحکام سے دوچار کیا جائے تاکہ خاکم بدھن یہ زیادہ دیر تک قائم نہ رہ سکے اور مسلم اکثریت کی ریاست کو اپنے قبضہ میں رکھ کر بھارتی قیادت دو قومی نظریہ کی تہذیب کرنا چاہتی تھی او جنوبی ایشیاءکے خطہ میں بھارت کو بالا دست قوت بنانا چاہتی تھی۔ یہ ایک ناقابل ِتردید حقیقت ہے کہ کشمیری عوام کے حق وانصاف پر مبنی کاز کی سیاسی ،اخلاقی اور سفارتی حمایت کرنے کی پاداش میں پاکستان پر بعض بڑے ممالک کی طرف سے دباﺅ کا سامنا رہا ہے لیکن پاکستان نے اس کو کبھی خاطر میں نہیں لایا گزشتہ بائیس سال سے ہندوستان کی 7لاکھ سے زائد ظالم او رسفاک افواج نے مقبوضہ جموں کشمیر کے عوام کی جدوجہد آزادی کو کچلنے کیلئے جس بے دردی سے بے دریغ طاقت کا استعمال کیاہے اس میں کسی قسم کی کوئی کمی واقع نہیں ہوئی ہے لیکن بھارت کے ان مظالم نے پاکستان کی خارجہ پالیسی کو خاصا متحرک کیاہے یوں تو پاکستان کی ہر حکومت نے مسئلہ کشمیر پر اپنے اصولی موقف کے مطابق کشمیریوں کے ساتھ عملی طور مکمل یکجہتی کا اظہار کیا ہے لیکن محترمہ بینظیر بھٹو نے اپنے سابقہ دوراقتدار میںجس جوش وجذبے اور خلوص ولگن کے ساتھ مسئلہ کشمیر کو حل کرنے او راسے علاقائی او ربین الاقوامی فورم پر اجاگر کرکے ہندوستان کے گھناﺅنے عزائم او راس کے مکروہ چہرہ کو بڑی دلیری ،بیباکی اورجرات کے ساتھ بے نقاب کیا ہے اس سے بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ مسئلہ کشمیر پاکستان کی خارجہ پالیسی کا بنیادی ستون ہے ۔آخر میں یہ کہنا بے جانا ہوگا کہ کشمیرصرف خطہ ءزمین دریاﺅں ،معیشت اوردفاعی اہمیت کا ہی مسئلہ نہیں ہے بلکہ ہندوستان اور پاکستان کے درمیان یہ ایک ایسا میدان جنگ ہے جس میں نظریات کی بھی آزمائش ہورہی ہے اور اس آزمائش میں ہندوستان مکمل طور پر زلیل ورسواہوچکا ہے جبکہ پاکستان اس سارے عمل میں سرخروہے برحال مسلم اکثریتی ریاست جموں وکشمیر کے دوتہائی حصہ پر ہندوستان کا غاصبانہ اور جابرانہ قبضہ ہمارے قومی نظریہ ،علاقائی سالمیت او رملکی سلامتی کیلئے چیلنج ہی نہیں بلکہ ایک سنگین ترین خطرہ بھی ہے اوریہی وہ خطرہ ہے جس کے خلاف ہندوستانی مقبوضہ جموں وکشمیر کے عوام دورِ حاضر میں تاریخ انسانی کی بے مثال جانی ومالی اور عزت وآبرو کی قربانیاں پیش کررہے ہیں ان کی یہ قربانیاں یقینارنگ لائیں گی اور ہندوستان کو ریاست جموں وکشمیر سے زلیل ورسوا اور خوار ہوکر نکلناپڑے گا ہندوستان اس حقیقت کا جتنا جلدی احساس کرلے اتنا ہی اس کے اپنے لے اور اس خطہ میں قیام امن بلکہ عالمی امن وسلامتی کیلئے بھی بہتر ہوگا ۔

Check Also

الزام ان کو دیتے تھے

  الزام ان کو دیتے تھے تمام سیاستدان جمہوریت ۔۔ جمہوریت کا راگ الاپتے نہیں ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *