Home / کالم / مقبوضہ کشمیر میں قیامت عمران خان اور پاک فوج کی ذمہ داریاں

مقبوضہ کشمیر میں قیامت عمران خان اور پاک فوج کی ذمہ داریاں

 

مقبوضہ کشمیر میں قیامت عمران خان اور پاک فوج کی ذمہ داریاں
راجہ ذاکر خان
مقبوضہ کشمیر میں اگرچہ 72سالوں سے ہر روز قیامت کا منظر ہوتا ہے لیکن 5اگست کے بعد نریندرمودی نے جو قیامت برپا کی ہے اس پر پوری دنیا چیخ اٹھی ہے کشمیریوں کی شناخت کو ختم کردیا گیا کرفیو لگا کر کشمیریوں کو گھر بار چھوڑنے پر مجبور کیا جارہا ہے نریندرمودی نے قابض فورسز میں اضافے کے ساتھ ساتھ آر ایس ایس کے غنڈوں کو بھی مقبوضہ کشمیر بھیج دیا تا کہ مظلوم کشمیریوں کو ہندوستان سے نہ ملنے کی سزاد ی جائے ،گزشتہ 105دنوں سے کشمیریوں کو گھروں سے نکلنے کی اجازت نہیں ہے مردوں کو گھروں میں دفنایا جارہاہے بچے بھوک کی وجہ سے بھلک رہے ہیں آر ایس ایس کے غنڈے کشمیریوں کی بچیوں کو اغواکر رہے ہیں نوجوانوں کو ہدف بنا کر گرفتار کیا جارہا ہے سکول کالجز بند ہیں کسی کو بولنے کی اجازت نہیں ہے موبائل نیٹ سروسز معطل ہیں سوا کروڑ کشمیریوں کو کھلی جیل میں قید کر کے بدترین انسانی مظالم ڈھائے جارہے ہیں اور کشمیریوں کو نشانہ بنایا جارہا ہے ۔کشمیریوںکو دینی فرائض کی ادائیگی سے بھی روک دیاگیاہے۔
نریندرمودی کو یہ مشورہ اسرائیل نے دیا کہ مسئلہ کشمیر سے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے جان چھڑانے کا ایک ہی راستہ ہے کہ مقبوضہ کشمیر کے اندر مسلم اکثریت کو اقلیت میں بدل دیا جائے اس کے بعد کوئی بھی یہ مطالبہ نہیں کرے گا کہ کشمیر یوں کو حق خودارادیت دیا جائے اگر کوئی مطالبہ کرتا ہے تو آپ فوراً اس مطالبے کو منظور کرتے ہوئے حق خودارادیت کشمیریوں کو فراہم کریں چونکہ مقبوضہ کشمیر کے اندر آپ کی اکثریت ہو گی اس لیے یہ آپ کے لیے فائدے کا سودا ہوگا نریندرمودی نے اسرائیل کی اس منصوبہ بندی کو عملی جامعہ پہنانے کے لیے کشمیریوں کی خصوصی حیثیت ختم کردی اور اب ہندوستان کا ہر شہری مقبوضہ کشمیر کے اندر زمین خرید کر وہاں کا شہری بن سکتا ہے ،ہندوستان کے اس اقدام کے خلاف مقبوضہ کشمیر کے اندر وہ پارٹیاں جو خود ہندوستان کی حمایتی تھیں دو قومی نظرےے کی مخالف تھیں انہوں نے بھی مسترد کردیا ہے اور ان کشمیریوںنے کہنا شروع کردیاہے قائد اعظم کا دوقومی نظریہ درست تھا۔
نریندرمودی آر ایس ایس کے ایجنڈے کو آگے بڑھا رہے ہیں آر ایس ایس کے ایجنڈے کے مطابق ہندوستان کے اندر تمام اقلیتوں کو بل جبر مذہب تبدیل کروا کر ہندو بنوایا جائے گا مساجد ،چرچ اور کنیسٹ کو مندروں میں تبدیل کیا جائے گا مقبوضہ کشمیر کے اندر ہندو آباد کاروں کو آباد کیا جائے گا پہلے مرحلے پر آر ایس ایس کا ایجنڈا یہ تھا کہ جموں ریجن میں 1947کے قتل عام کے بعد جو مسلمان بچ گے ان کی آبادی بڑھ گئی ہے اب یہاں بھی ایک بار پھر قتل عام کیا جائے تا کہ جموں سے مسلم آبادی کو صفر پر لایا جائے اس کے لیے انہوں نے پولیس اور دیگر محکموں کے اندر سے مسلمانوں کو نکال باہر کیا تا کہ آر ایس ایس اپنے ایجنڈے کو با آسانی تکمیل کر سکے آر ایس ایس کی منصوبہ بندی یہ تھی کہ جو مسلمان ہجرت نہیں کریں گے ان کا خاتمہ کردیا جائے دوسرے مرحلے پر وادی کے اندر اسرائیل طرز کی ہندو بستیاں بسائی جائیں جن میں ان فوجیوں کو آباد کیا جائے جنہوں نے مقبوضہ کشمیر کے اندر سروسز سر انجام دی ہیں ساتھ ساتھ پنڈتوں اورہندﺅوں کو آباد کیا جائے ۔
اس ایجنڈے کی تکمیل کے لیے نریندرمودی اپنی ساری طاقت کے ساتھ مقبوضہ کشمیر میں کود پڑے ہیں مودی کا ہدف صرف مقبوضہ کشمیر پر اپنے قبضے کو دوام بخشنا نہیں بلکہ اس کے ہدف میں پاکستان سمیت دیگر پڑوسی ممالک بھی شامل ہیں نریندرمودی اور آر ایس ایس اپنے ان عزائم کا برملا اظہار کر چکے ہیںوہ اکھنڈ بھارت کے ایجنڈے کی تکمیل کے لیے سازشوں میں مصروف ہیں ۔
مقبوضہ کشمیر میں کشمیریوں کی حیثیت کو تبدیل کرنے کے اقدام کو پوری دنیا نے مسترد کردیا نریندر مودی ہٹلر ثانی کے طورپر سامنے آئے اور دنیا نے مودی کے عزائم کو خطرے ناک قراردیا کشمیریوں کی آواز دنیا کے ہر کونے میں سنائی دی گئی وہ عالمی ادارے جو کبھی بھی کشمیر کی بات نہیں کرتے تھے ان کے اندر بھی تحرک پیدا ہوا اور انہوں نے بھی کشمیریوں کی حمایت میں بات کی اور مودی کے اقدامات کو مسترد کرتے ہوئے خطے میں ایٹمی جنگ کے خطرے کا باعث قرار دیا ۔
ترکی،ملائیشیا سمیت کئی ممالک نے کھل کر پاکستان کی حمایت کی اور کشمیریوں کے حق خودارادیت کی بات کی برطانوی پارلیمنٹ سمیت یورپی ممالک کی پارلیمنٹس ،انسانی حقو ق کے ادارے سب نے یک زبان ہو کر مودی کے اقدامات کو مسترد کیا ،تاریخ میں پہلی مرتبہ مسئلہ کشمیر فلش پوائنٹ بنا اور مودی کو ہٹلر ثانی کے طور پر سامنے لایا گیا ۔
مودی کے حالیہ اقدامات اس کے گلے پڑگے اب ان اقدامات کو مزید دنیا سے مسترد کروانا اور کشمیر کی آزادی کے لیے عملی اقدامات کرنا حکومت پاکستان کی اہم ذمہ داری ہے کشمیرکی آزادی کے لیے دو محاذ تو بڑے واضح ہیں ایک ہندوستان نے کشمیریوں کی خصوصی حیثیت ختم کر کے اپنے سارے معاہدات کو عملاً منسوخ کردیا ان حالات میں حکومت پاکستان بھی دنیا کو باور کرائے کہ ہندوستان نے اقوام متحدہ اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کشمیر کی حیثیت تبدیل کردی ہے اس لیے اب ہم بھی ہندوستان کے ساتھ کسی معاہدے کے پابند نہیں ہیں حکومت پاکستان اسلامی ممالک کو ساتھ ملاتے ہوئے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں قرارداد لاتی کہ ہندوستان مقبوضہ کشمیر کے اندر جنگی جرائم کا مرتکب ہورہا ہے اور وہ تمام شرائط پوری کرتا ہے جن کی بنیاد پر اس کے خلاف فوجی کارروائی کی جانی چاہےے ،پہلے مرحلے پر اقوام متحدہ سے کہا جاتا کہ وہ فوجی کارروائی کرے اگر وہاں سے جواب نہ ملتا تو خود حکومت پاکستان کو فوجی کارروائی کر کے مقبوضہ کشمیر میں سوا کروڑ انسانوں کو آزاد کرواتی جن کو 15لاکھ قابض بھارتی فوج اور آر ا یس ایس کے غنڈوں نے غلام بنا کر قتل عام شروع کررکھا ہے اس میں اگر کوئی مشکل درپیش ہے تو دوسرا راستہ بھی کھلا ہے حکومت پاکستان عالمی دنیا کو بتائے کہ ہندوستان کی قیادت نے کشمیریوں سے وعدہ کیا تھا کہ وہ ان کو یہ حق فراہم کرے گی کہ وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ کریں اب چونکہ ہندوستان کی قیادت اپنے وعدے سے انخراف کر چکی ہے اور عالمی برادری بھی ہندوستان کو مجبور نہیں کرسکی کہ وہ اپنا وعدہ پورا کرے تو کشمیریوں کو یہ حق دیا جائے کہ وہ مسلح جدوجہد سے آزادی حاصل کریں کشمیریوں نے عالمی برادری کی ضمانت پر 1947ءمیں ہتھیار رکھے تھے اب عالمی برادری کی ضمانت پوری نہیں ہوئی تو وہ ہتھیار اٹھا سکتے ہیں اقوام متحدہ کا چارٹر کشمیریوں کو یہ حق دیتا ہے کہ وہ اپنے حق کے حصول کے لیے مسلح جدوجہد کریں ،امت مسلمہ کے ہر اس فرد کو اجازت دی جائے کہ وہ کشمیریوں کی مدد کرے اس لیے کہ کشمیریوں کو ایک سامراج نے طاقت کی بنیاد پر غلام بنا رکھا ہے اور طاقت ہی کی بنیاد پر ان کا قتل عام کیا جا رہا ہے ۔
حکومت پاکستان نے سیاسی سطح پر پوری کوشش کر کے دیکھ لیا ہے کہ ہندوستان کوئی بھی بات ماننے کے لیے تیار نہیں ہے یہ اس خطے کا بھی مسئلہ ہے کہ یہاں طاقت ہی کی زبان چلتی ہے جس کے پاس طاقت ہے وہی اپنی بات منواتا ہے وزیر اعظم پاکستان عمران خان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں جس طریقے سے مسئلہ کشمیر پیش کیا اور دنیا کو یہ باور کروایا کہ مسلمانوں کا دہشت گردی سے کوئی تعلق نہیں لیکن عالمی برادری مسلمانوں کے مسائل کے حل میں دلچسپی نہیں رکھتی ان حالات میں حکومت پاکستان کو چاہےے کہ وہ وہی پالیسی اور زبان استعمال کرے جو بھارت سمجھتا ہے سیاسی جدوجہد ان ممالک کو اقوام کے لیے قابل قبول ہوتی ہے جو تہذیب یافتہ ہیں اور انسانوں کی قدر کو جانتے اور پہچانتے ہیں یہ یورپ نہیں بلکہ جنوبی ایشیا ہے یہاں طاقت کی زبان چلتی ہے سیاسی جدوجہد سے کوئی چیز حاصل ہونے والی نہیں ہے دوسرا راستہ ہی خطے میں امن و استحکام کے لیے بہتر ہے اگر دشمن کے مقابلے میں پسپائی اختیار کی جائے تو وہ مزید شہ پا کر مظالم میں اضافہ کرتا ہے دشمن کو اس کی زبان میں بات کی جائے تو وہ ماننے کے لیے تیار ہو تا ہے نریندرمودی کشمیریوں کو یہ پیغام دے رہے ہیں کہ پاکستان آپ کی مدد کو نہیں آئے گا اس تاثرکوختم کرنے کے لیے ضروری ہے ہے کہ وہ عملی اقدامات کیے جائیں جن سے کشمیر کے اندر پائی جانے والی مایوسی کا خاتمہ ہو ۔

Check Also

وکلاگردی، نااہلی اور بدنیتی

  آرزوئے سحر تحریر: انشال را¶ وکلاگردی، نااہلی اور بدنیتی دنیا کے نامور دانشوروں نے ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *