Home / کالم / ملکی ادارے قابل محبت ہےں قابل نفرت نہےں تحرےر:بخت بےدار گےلانی

ملکی ادارے قابل محبت ہےں قابل نفرت نہےں تحرےر:بخت بےدار گےلانی

 


ہماری ملکی سےاست گزشتہ ادوار کی طرح موجودہ دور مےں بھی سےاسی رسسہ کشی کا شکار نظر آتی ہے ہر سےاسی پارٹی کے سےاسی لوگ اےک دوسرے پر غےر سےاسی اورغےر جمہوری حملہ کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہےں دےتے اور اےک دوسرے کو غےر پارلےمانی الفاظ سے بھرپور تنقےد کا نشانہ بناتے ہےں ۔بات ےہاں ختم نہےں ہو جاتی بلکہ ملک کے معزز اداروں کو بھی اپنی غلےظ اور گندی سےاسی سوچ کی بھےنٹ چڑھا کر ان پر بھی تابڑ توڑ حملے کرتے ہےں جس سے ےہ پاکستان کی عزت کو خاک مےں ملا کر رکھ دےتے ہےں۔ اپنے ذاتی مفادات کےلئے معزز اداروں کو بھر پور استعمال کرتے ہےں ۔ےہاں تک کہ ملک کے نہاےت ہی معزز ادارے جن مےں دفاعی ادارے اور ہماری عدلےہ بھی شامل ہے کی بھی بری طرح تذلےل کرنا ےہ سےاسی لوگ اپنا فرض عےں سمجھتے ہےں۔کسی نے ان اداروں کا نام اےمپا ئر رکھ کر اور کسی نے ان کو” ان دےکھی طاقت “کے نام سے بدنام کرنے کی کوشش کی۔ان دنوں مےں حلقہ NA120مےں ہونے والے حالےہ انتخاب مےںاےسا ہی ہوتا ہوا معلوم ہوتاہے کسی نے ان اداروں کی حماےت مےں اور کسی نے ان اداروں کی مخالفت مےں ان کی عزت و تکرےم کا جنازہ نکا لا۔جناب محترم عمران خاں صا حب نے فرماےا کہ عوام پاناما کےس کے فےصلے پر سپر ےم کے حق مےں ووٹ دےں اور ےہ ثابت کرےں کہ سپرےم کورٹ نے درست فےصلہ دےا ہے عوام اس کے ساتھ ہےں ا ور اسکی بھر پور تائےد کرتی ہے جبکہ دوسری طرف مسلم لےگ ن نے اس بات پر ووٹ لےنے کی کوشش کی کہ منتخب وزےر اعظم کو گھر بھےجنے کے پےچھے کچھ نا دےدہ قوتوں کا ہاتھ ہے اور نوازشرےف کونا اہل کروانے مےں ان قوتوں نے کام کےا اور نا جائز نا اہل کےا اور اب عوام ان اداروں کے خلاف ووٹ دے کر ےہ ثابت کرےں کہ عوام اس فےصلہ کو قبول نہےں کرتے اس فےصلہ پر عوام ان اداروں کے ساتھ نہےں ہےںاور عوام اس کی بھر پور تر دےد کرتے ہےں۔ اور ےہ فےصلہ حق و صداقت پر مبنی نہےں ہے۔ بھر حال بات کےسے بھی کی جائے ۔انداز مختلف ہےں لےکن مقصد اےک ہی ہے۔چا ہے ےہ لوگ پاکستان کی مخالف بےرونی قوتوں کے آلہ کارکے طور پہ کام کر رہے ہےں ےا پاکستان کے اندر موجود اےسی قوتوں کے ہاتھوں کھےل رہے ہےں جو پاکستان کو اےک مضبوط اور ترقی ےافتہ ملک نہےں دےکھ سکتے۔ پوری الےکشن مہم نے کہےں بھی عوامی مفادات کی بات نہےں ہوئی کسی نے نہ تو ترقےاتی کام کرانے کی مد مےں ووٹ مانگا اور نہ ہی کسی نے عوامی مفادات اور ترقےاتی کام نہ ہونے کی نشان دہی کی ۔اگر کسی نے کہی بھی ہے تو ڈھکے چھپے انداز مےں کہی ہو گی لےکن اس کو اےشو بنا کر ووٹ لےنے پر زور نہےں دےا گےا۔ہاں البتہ دونوں بڑی پا رٹےاں پی ٹی آئی اور مسلم لےگ ن ایک بات پر متفق نظر آئےں کہ ےہ الےکشن نہےں بلکہ پانا ما لےکس پر رےفرنڈم ہے۔اور ےہ بات ہر پاکستانی کے لئے بہت توجہ طلب ہے ملکی اداروں کو اس طرح کرےش کرنے کی کوشش نہےںکرنی چاہےے چاہے وہ پارلےمنٹ ہو ےا ملک کے دےگر ادارے ۔ ےہ نہ تو ملک کے مفاد مےں ہے او ر نہ اےسا کرنے والوں کے مفاد مےں ہے۔اداروں کی تذلےل ہونا کسی صورت مےں بھی کسی کے حق مےں نہےں ہے۔ہوسکتا ہے کہ وقتی طور پر ان اداروںکے کچھ لوگوں کے اندر اےک دوسرے کے خلاف بھڑکنے والی آگ ٹھنڈی ہو رہی ہو لےکن آنے والے وقت مےں سوائے شرمندگی کے کچھ حاصل ہونے کی توقع نہےں کی جا سکتی۔ جےسا کہ ذوالقار علی بھٹو کے فےصلوں پر عدالتےں ےا نوے کی دہائی مےں ہونے والی سےاست پر مسلم لےگ اور پےپلز پارٹی کے حالےہ بےانات ۔لےکن اس رسسہ کشی مےں جو نقصانات اس ملک نے اور قوم نے اٹھائے ہےں اس کی نظےر دنےا کے کسی اور ملک مےں شائد نہ ملے۔ان لوگوں اور اداروں کی وجہ سے ہی گزشتہ کئی دہائےو ں سے ہمارے ملک و قوم کی ترقی اس شرع سے نہےں بڑھی جےسے ہونی چاہےے تھی۔آج بھی ملک کے اندر عوام اور اداروں کے درمےان نفرت پھےلانے کی بھر پور کوشش کی جا رہی ہے جو کہ ملک و قوم کے مفاد مےں ہر گز نہےں ہو سکتا ۔ملک کے صاحب اقتدار لوگ چاہے وہ اس وقت ہےں ےا سابقہ دور مےں رہ چکے ہےں انہوں نے اپنی جا ئےدادےں اور اپنی اولاد کو بےرونی ممالک مےں آباد کر لےا ہے جس ےہ معلوم ہوتا ہے کہ ےہ ملک ان لوگوں کے رہنے کے قابل نہےں ہے اس ملک مےں صرف ان لوگوں کی محکوم عوام ہی رہ سکتی ہے ۔آج کے دور کی اس محکوم سمجھے جانی والی عوام کو اپنے آپ کو اس محکومی کی زنجےروں سے آزاد کرنے کا آ ج بھی موقع ہے ۔عوام کو اپنے ذہن اور دماغ سے سوچنے کی ضرورت ہے اپنی آنے والی نسلوں کو ان بادشاہوں اور شہنشاہوں کی آنے والی نسلوںکی محکومےت سے بچانے کی ضرورت ہے ہمےں گزشتہ سات دہائےوں کو سمجھنے اور ان پر سوچنے کی ضرورت ہے ان سات دہا ئےوں پر توجہ کرنے سے ہمےں پتہ چل سکتا ہے کہ کس ادارے اور کس سےا سی پارٹی نے ملک اورقوم کو کامےابی اور کامرانی کی طرف لے کر گئی ہے اور کون سی پارٹی نے اس ملک کو تباہی اور بربادی تک پہچا ےا ہے ۔اس وقت کون سے لوگ ہمےں اپنی آنے والی نسلوں کے محکوم بنانے پر تلے ہوئے ہےں ۔ہمےں اس کے لئے کسی دوسرے کی سوچ اور عمل پر چلنے کی ضرورت نہےں ہے۔عوام کے پاس اختےار ہے اور موقع بھی ۔اداروں چاہےے کوئی بھی ہو ہمارے ادارے ہےں ان کی عزت ہمےں عزےز ہونی چاہےے۔اچھے اور برے لوگ ہر جگہ موجود ہوتے ہےں ہر ادارے مےں ہوتے ہےں ان کی نشان دہی ہونی ضروری ہے لےکن ان لوگوں کی وجہ سے کسی بھی ادارے کے خلاف نفرت پھےلانا کسی بھی طرح ملک و قوم کے مفاد مےں نہےں ہے۔ان اداروں کے مخلص لوگوں نے اپنے ادارے اور ملک کی خا طر بہت قربا نےاں دی ہوئی ہےں اور بھی دے رہے ہےں ۔ہمےں افراد کی بجا ئے اداروں عزےز رکھنے کی ضرورت ہے۔ پاکستان زندہ باد

Check Also

ہم خیال یوتھ ووٹرز اور”الیکشن ڈے“ !!

  اشفاق رحمانی ہم خیال یوتھ ووٹرز اور”الیکشن ڈے“ !! قومی الیکشن کسی بھی ملک ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *