Home / کالم / مکہ مکرمہ کے تارےخی مقامات

مکہ مکرمہ کے تارےخی مقامات

 

 

مکہ مکرمہ کے تارےخی مقامات
بےت اللّٰہ:بےت اللہ شرےف اللہ تعالیٰ کا گھر ہے جس کا حج اور طواف کےا جاتا ہے۔ اس کو کعبہ بھی کہتے ہےں۔ ےہ پہلا گھر ہے جو اللہ تعالیٰ نے بنی نوع انسان کے لئے زمےن پر بناےا جےسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتاہے: ”اللہ تعالیٰ کا پہلا گھر جو لوگوں کے لئے مقرر کےا گےا وہی ہے جو مکہ مکرمہ مےں ہے جو تمام دنےا کے لئے برکت وہداےت والا ہے۔“ (سورة آل عمران) بےت اللہ مسجد حرام کے قلب مےں واقع ہے اور قےامت تک ےہی مسلمانوں کا قبلہ ہے۔ چوبےس گھنٹوں مےں صرف فرض نمازوں کے وقت خانہ کعبہ کا طواف رکتا ہے باقی دن رات مےں اےک گھڑی کے لئے بھی بےت اللہ کا طواف بند نہےں ہوتا ہے۔ بےت اللہ کی اونچائی ۴۱ مےٹر ہے جبکہ چوڑائی ہر طرف سے کم وبےش ۲۱ مےٹر ہے۔ حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے رواےت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرماےا: اللہ تعالیٰ کی ۰۲۱ رحمتےں روزانہ اس گھر (خانہ کعبہ) پر نازل ہوتی ہےں جن مےں سے ساٹھ طواف کرنے والوں پر، چالےس وہاں نماز پڑھنے والوں پر اور بےس خانہ کعبہ کو دےکھنے والوں پر ۔ اگر بےت اللہ کا قرےب سے طواف کےا جائے تو سات چکر مےں تقرےباً ۰۳ منٹ لگتے ہےں، لےکن دور سے کرنے پر تقرےباً اےک سے دو گھنٹے لگ جاتے ہےں۔ طواف زےارت (حج کا طواف) کرنے مےں کبھی کبھی اس سے بھی زےادہ وقت لگ جاتا ہے۔ حدےث مےں ہے کہ بےت اللہ پر پہلی نظر پڑنے پر جو دعا مانگی جاتی ہے وہ اللہ تعالیٰ قبول فرماتا ہے۔ حضور اکرم ﷺ کی سنت کے مطابق بےت اللہ شرےف کو ہر سال غسل بھی دےا جاتا ہے۔
حطےم:ےہ دراصل بےت اللہ ہی کا حصہ ہے، لےکن قرےش مکہ کے پاس حلال مال مےسر نہ ہونے کی وجہ سے انہوں نے تعمےر کعبہ کے وقت ےہ حصہ چھوڑکر بےت اللہ کی تعمےر کی تھی۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہےں کہ مےں کعبہ شرےف مےں داخل ہوکر نمازپڑھنا چاہتی تھی۔ رسول اللہ ﷺ مےرا ہاتھ پکڑکر حطےم مےں لے گئے اور فرماےا: جب تم بےت اللہ (کعبہ) کے اندر نماز پڑھنا چاہو تو ےہاں (حطےم مےں) کھڑے ہوکر نماز پڑھ لو۔ ےہ بھی بےت اللہ شرےف کا حصہ ہے۔ تےری قوم نے بےت اللہ (کعبہ) کی تعمےر کے وقت (حلال کمائی مےسر نہ ہونے کی وجہ سے ) اسے (چھت کے بغےر) تھوڑا سا تعمےر کرادےا تھا۔ بےت اللہ کی چھت سے حطےم کی طرف بارش کے پانی کے گرنے کی جگہ (پرنالہ) مےزاب رحمت کہی جاتی ہے۔
حجر اسود: حجر اسود قےمتی پتھروں مےں سے اےک پتھر ہے، اللہ تعالیٰ نے اس کی روشنی ختم کردی ہے، اگر اللہ تعالیٰ اےسا نہ کرتا تو ےہ پتھر مشرق اور مغرب کے درمےان ہر چےز کو روشن کردےتا۔ حجر اسود جنت سے اترا ہوا پتھر ہے جو کہ دودھ سے زےادہ سفےد تھا لےکن لوگوں کے گناہوں نے اسے سےاہ کردےا ہے ۔ حجر اسود کو اللہ تعالیٰ قےامت کے دن اےسی حالت مےں اٹھائےں گے کہ اس کی دو آنکھےں ہوںگی جن سے وہ دےکھے گا اور زبان ہوگی جن سے وہ بولے گا اور گواہی دے گا اُس شخص کے حق مےں جس نے اُس کا حق کے ساتھ بوسہ لےا ہو۔ حجر اسود کے استلام سے ہی طواف شروع کےا جاتا ہے اور اسی پر ختم کےا جاتا ہے۔ حجر اسود کا بوسہ لےنا ےا اس کی طرف دونوں ےا داہنے ہاتھ سے اشارہ کرنا استلام کہلاتا ہے۔
مُلتزم: ملتزم کے معنی ہے چمٹنے کی جگہ، حجر اسود اور بےت اللہ کے دروازے کے درمےان ڈھائی گز کے قرےب کعبہ کی دےوار کا جو حصہ ہے وہ ملتزم کہلاتا ہے، حضور اکرم ﷺ نے اس جگہ چمٹ کر دعائےں مانگےں تھےں، ےہ دعاو¿ں کے قبول ہونے کی خاص جگہ ہے۔
رکن ےمانی: بےت اللہ کے تےسرے کونہ کو رکن ےمانی کہتے ہےں۔ رکن ےمانی کو چھونا گناہوں کو مٹاتا ہے۔ رکن ےمانی پر ستّر فرشتے مقرر ہےں، جو شخص وہاں جاکر ےہ دعا پڑھے: (رَبّنَا آتِنَا فِی الدُّن±ےَا حَسَنَةً وّفِی ال±اخِ©رَةِ حَسَنَةً وّقِنَا عَذَابَ النّارِ) تو وہ سب فرشتے آمےن کہتے ہےں ، ےعنی ےا اللہ! اس شخص کی دعا قبول فرما۔
مقام ابراہےم:ےہ اےک پتھر ہے جس پر کھڑے ہوکر حضرت ابراہےم علےہ السلام نے کعبہ کو تعمےر کےا تھا، اس پتھر پر حضرت ابراہےم علےہ السلام کے قدموں کے نشانات ہےں۔ ےہ کعبہ کے سامنے اےک جالی دار شےشے کے چھوٹے سے قبہ مےں محفوظ ہے جس کے اطراف مےں پےتل کی خوشنما جالی نصب ہے۔حجر اسود کی طرح ےہ پتھر بھی جنت سے لاےا گےا ہے، اللہ تعالیٰ نے اس کی روشنی ختم کردی ہے، اگر اللہ تعالیٰ اےسا نہ کرتا تو ےہ مشرق اور مغرب کے درمےان ہر چےز کو روشن کردےتا۔ طواف سے فراغت کے بعد طواف کی دو رکعت اگر سہولت سے مقامِ ابراہےم کے پےچھے جگہ مل جائے تو مقام ابراہےم کے پےچھے ہی پڑھنا بہتر ہے ۔
مسجد حرام:مسلمانوں کی سب سے بڑی مسجد (مسجد حرام) مقدس شہر مکہ مکرمہ کے وسط مےں واقع ہے۔ مسجد حرام کے درمےان مےں بےت اللہ ہے جس کی طرف رخ کرکے دنےا بھر کے مسلمان اےمان کے بعد سب سے اہم رکن ےعنی نماز کی ادائےگی کرتے ہےں۔ دنےا مےں سب سے پہلی مسجد مسجد حرام ہے جےساکہ حدےث مےں ہے کہ حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ فرماتے ہےں کہ مےں نے حضور اکرم ﷺ سے پوچھا کہ زمےن مےں سب سے پہلی کون سی مسجد بنائی گئی؟ حضور اکرم ﷺ نے ارشاد فرماےا: مسجد حرام۔ حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ فرماتے ہےں کہ مےں نے پوچھا کہ اس کے بعد کون سی؟ حضور اکرمﷺ نے ارشاد فرماےا: مسجد اقصیٰ۔ حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ فرماتے ہےں کہ مےں نے پوچھا کہ دونوں کے درمےان کتنے وقت کا فرق ہے؟ حضور اکرم ﷺ نے ارشاد فرماےا: چالےس سال کا۔ حضور اکرمﷺ نے ارشاد فرماےا: تےن مساجد کے علاوہ کسی دوسری مسجد کا سفر اختےار نہ کےا جائے مسجد نبوی، مسجد حرام اور مسجد اقصیٰ۔ حضور اکرم ﷺ نے ارشاد فرماےا: مےری اس مسجد مےں نماز کا ثواب دےگر مساجد کے مقابلے مےں ہزار گنا زےادہ ہے سوا ئے مسجد حرام کے اور مسجد حرام مےں اےک نماز کا ثواب اےک لاکھ نمازوں کے ثواب کے برابر ہے۔
صفا ومروہ:صفا ومروہ دو پہاڑےاں تھےں جو اِن دنوں حجاج کرام کی سہولت کے لئے تقرےباً ختم کردی گئی ہےں۔صفا ومروہ اور اس کے درمےان کا مکمل حصہ اب اےئرکنڈےشنڈ ہے۔ صفا ومروہ کے درمےان حضرت ہاجرہ علےہا السلام نے اپنے پےارے بےٹے حضرت اسماعےل علےہ السلام کے لئے پانی کی تلاش مےں سات چکر لگائے تھے۔ اور جہاں مرد حضرات تھوڑا تےز چلتے ہےں ےہ اُس زمانہ مےں صفا مروہ پہاڑیوں کے درمےان اےک وادی تھی جہاں سے ان کا بےٹا نظر نہےں آتا تھا، لہذا وہ اس وادی مےں تھوڑا تےز دوڑی تھےں۔ حضرت ہاجرہ علےہا السلام کی اس عظےم قربانی کو اللہ تعالیٰ نے قبول فرماکر قےامت تک آنے والے تمام مرد حاجےوں کواس جگہ تھوڑا تےز چلنے کی تعلےم دی، لےکن شرےعت اسلامےہ نے صنف نازک کے جسم کی نزاکت کے مدنظر اس کو صرف مردوں کے لئے سنت قرار دےا ہے۔ سعی کا ہر چکر تقرےباً ۵۹۳ مےٹر لمبا ہے، ےعنی سات چکر کی مسافت تقرےباً پونے تےن کےلومےٹر بنتی ہے۔ نےچے کی منزل کے مقابلہ مےں اوپر والی منزل پر ازدحام کچھ کم رہتا ہے۔ قرب قےامت کی نشانےوں مےں سے اےک نشانی ےہ بھی ہے کہ اس پہاڑی سے اےک اےسا جانور نکلے گا جو انسانی زبان مےں بات کرے گا۔
منی: منی مکہ مکرمہ سے ۴۔۵ کےلومےٹرکے فاصلہ پر دو طرفہ پہاڑوں کے درمےان اےک بہت بڑا مےدان ہے۔ حجاج کرام ۸ ذی الحجہ کو اور اسی طرح ۱۱، ۲۱ اور ۳۱ ذی الحجہ کومنی مےں قےام فرماتے ہےں۔ منی مےں اےک مسجد ہے جسے مسجد خےف کہا جاتا ہے۔ اسی مسجد کے قرےب جمرات ہےں جہاں حجاج کرام کنکرےاں مارتے ہےں۔ منی ہی مےں قربان گاہ ہے جہاں حجاج کرام کی قربانےاں کی جاتی ہےں۔
عرفات:عرفات منی سے تقرےباً ۸۔۰۱ کےلومےٹر کی دوری پر واقع ہے۔ مےدان عرفات کے شروع مےں مسجد نمرہ نامی اےک بہت بڑی مسجد ہے جس مےں زوال کے فوراً بعد خطبہ ہوتا ہے پھر اےک اذان اور دو اقامت سے ظہر اور عصر کی نمازےں جماعت سے ادا ہوتی ہےں۔اسی جگہ پر حضور اکرم ﷺ نے خطبہ دےا تھا جو خطبہ حجة الوداع کے نام سے معروف ہے۔ مسجد نمرہ کا اگلا حصہ عرفات کی حدود سے باہر ہے ۔ منی ومزدلفہ حدود حرم کے اندر، جبکہ عرفات حدود حدود حرم سے باہر ہے۔ ےہی وہ جگہ ہے جہاں حج کا سب سے اہم رکن ادا ہوتا ہے، جس کے متعلق حضور اکرم ﷺ نے ارشاد فرماےا کہ وقوف عرفہ ہی حج ہے۔
مزدلفہ:۹ ذی الحجہ کو غروب آفتاب کے بعد حجاج کرام عرفات سے مزدلفہ آکر عشاءکے وقت مےں مغرب اور عشاءکی نمازےں ادا کرتے ہےں۔ ےہاں رات کو قےام فرماتے ہےں اور نماز فجر کے بعد قبلہ رخ کھڑے ہوکر دعائےں کرتے ہےں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: فَاِذَا اَفَض±تُم± مِن± عَرَفَاتٍ فَاذ±کُرُوا اللّہَ عِن±دَ ال±مَش±عَرِ ال±حَرَامِ (سورہ البقرة، آےت ۸۹۱) جب تم عرفات سے واپس ہوکر مزدلفہ آ¶ تو ےہاں مشعر حرام کے پاس اللہ کے ذکر مےں مشغول رہو۔ اس جگہ اےک مسجد بنی ہوئی ہے جس کو مسجد مشعر حرام کہتے ہےں۔ مزدلفہ منی سے ۳۔۴ کےلومےٹر کے فاصلہ پر ہے۔
وادی محسر: منی اور مزدلفہ کے درمےان مےں اےک وادی ہے جس کو وادی محسر کہتے ہےں، ےہاں سے حضور اکرم ﷺ کی تعلےمات کے مطابق گزرتے وقت تھوڑا تےز چل کر گزرا جاتا ہے۔ ےہ وہ جگہ ہے جہاں اللہ تعالیٰ نے ابرہہ بادشاہ کے لشکر کو ہلاک وتباہ کےا تھا جو بےت اللہ کو ڈھانے کے ارادہ سے آرہا تھا۔
جمرات:ےہ منی مےں تےن مشہور مقام ہےں جہاں اب دےوار کی شکل مےں بڑے بڑے ستون بنے ہوئے ہےں۔ اللہ تعالیٰ کے حکم، نبی اکرم ﷺ کے طرےقہ اور حضرات ابراہےم علےہ السلام کی اتباع مےں ان تےن جگہوں پر کنکرےاں ماری جاتی ہےں۔ ان مےں سے جو مسجد خےف کے قرےب ہے اسے جمرہ اولیٰ، اس کے بعد بےچ والے جمرہ کو جمرہ وسطی اور اس کے بعد مکہ مکرمہ کی طرف آخری جمرہ کو جمرہ عقبہ ےا جمرہ کبری کہا جاتا ہے۔ حضرت ابراہےم علےہ السلام کو شےطان نے ان تےن مقامات پر بہکانے کی کوشش کی تھی۔ حضرت ابراہےم علےہ السلام نے ان تےن مقامات پر شےطان کو کنکرےاں ماری تھےں اور اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہےم علےہ السلام کے اس عمل کو قےامت تک آنے والے حاجےوں کے لئے لازم قرار دے دےا۔ حجاج کرام بظاہر جمرات پر کنکرےاں مارتے ہےں لےکن درحقےقت شےطان کو اس عمل کے ذرےعہ دھتکارا جاتا ہے ۔رمی ےعنی جمرات پر کنکرےاں مارنا حج کے واجبات مےں سے ہے۔ دسوےں، گےارہوےں اور بارہوےں ذی الحجہ کو رمی کرنا (ےعنی ۹۴ کنکرےاں مارنا) ہر حاجی کے لئے ضروری ہے۔ تےرہوےں ذی الحجہ کی رمی (ےعنی ۱۲ کنکرےاں مارنا) اختےاری ہے۔
مولد النبی ﷺ:مروہ کے قرےب حضور اکرمﷺ کی پےدائش کی جگہ ہے۔ ےہ وہ جگہ ہے جہاں ۹ ےا ۲۱ ربےع الاول کو نبی اکرم ﷺ رحمة للعالمےن بن کر تشرےف لائے تھے۔ اس جگہ پر ان دنوں مکتبہ (لائبرےری) قائم ہے۔
غار ثور: ےہ غار جبل ثور کی چوٹی کے پاس ہے۔ ےہ پہاڑ مکہ سے چار کےلومےٹر کے فاصلہ پر ہے اور غار اےک مےل کی چڑھائی پر واقع ہے۔ حضور اکرم ﷺ نے مکہ مکرمہ ہجرت کے وقت اسی غار مےں حضرت ابوبکر صدےق رضی اللہ عنہ کے ہمراہ تےن دن قےام فرماےا تھا۔
غار حِرا:ےہاں قران کرےم نازل ہونا شروع ہوا تھا، سورہ اقراءکی ابتدائی چند آےات اسی غار مےں نازل ہوئی تھےں، ےہ غار جبل نور (پہاڑ) پر واقع ہے۔ ےہ پہاڑ مکہ مکرمہ سے منی جانے والے اہم راستہ پر مسجد حرام سے تقرےباً ۴ کےلومےٹر کی دوری پر واقع ہے۔ اس کی اونچائی تقرےباً ۲ ہزار فٹ ہے۔
جنت المعلّٰی: ےہ مکہ مکرمہ کا قبرستان ہے۔ ےہاں پر ام المو¿منےن حضرت خدےجہ رضی اللہ عنہا، صحابہ¿ کرام، تابعےن، تبع تابعےن اور اولےاءاللہ مدفون ہےں۔
ڈاکٹر محمد نجےب قاسمی سنبھلی

Check Also

مطالعہ جامع ترمذی شریف

      مشرقی اُفق میر افسر امان مطالعہ جامع ترمذی شریف صحاح ستہ حدیث ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *