تازہ ترین خبریں
Home / انٹرویوز / میرا قلم میرے درد کا درماں

میرا قلم میرے درد کا درماں

 

 

 

 

میرا قلم میرے درد کا درماں
سپیشل رپورٹ (علینہ ارشد)
خواتین کے عالمی دن کے حوالے سے آل پاکستان رائٹر ویلفیئر ایسوسی ایشن (APWWA)کے زیر اہتمام تقریب پلاک، ادبی بیٹھک میں منعقد کی گئی پروگرام کی صدارت ناہید نیازی صدر خواتین ونگ نے کی۔پروگرام کی میزبانی کے فرائض شاعرہ کالم نگار علینہ ارشد نے سرانجام دئیے۔ پروگرام کی آگنائزر فاطمہ شیروانی تھیں۔پروگرام باعنوان میرا قلم میرے درد کا درماں کے تحت مختلف شعبہ جات سے تعلق رکھنے والی معروف شخصیات نے شرکت کی۔حفظہ خالد نے تلاوت کلام پاک سے تقریب کا آغاز کیا۔اس کے بعد وائس آف پنجاب حنا ملک کی آواز میں نعت رسول مقبول نے تقریب کو شروع میں ہی مسحور کن بنا دیا۔ اس موقع کے حوالے سے نوجوان لکھاری و شاعرہ مہوش احسن نے اپنی نئی نظم © عورت ،پیش کی مہمان خصوصی سمیعہ راحیل قاضی کے علاوہ لکھاری نیلم بشیر ،پاکستان قومی زبان تحریک کے صدر فاطمہ قمر کالم نگار صبا ممتاز، چیئرپرسن دی ایجوکیٹر کرن شہزاد چوہدری اور کارپوریٹ ٹرینر عمیرہ خالد نے خصوصی طور پر شرکت کی عالمی دن کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے سمیعہ راحیل قاضی کا کہنا تھا کہ خواتین حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالی عنہا، بی بی آمنہ رضی اللہ تعالی عنہا، بی بی فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہا کے حسن پیرا ا پر عمل کرتے ہوئے زندگی میں کامیابی کا حصول ممکن بناسکتی ہیں حضرت خدیجہ ایک خاتون تھیں لیکن تجارتی دنیا میں اپنی مثال آپ تھیں اسلام نے ہر عورت کے حقوق مقرر کیے ہیںاسلام کے بنائے گئے اصول اور حدود میں رہتے ہوئے بھی کاروبار کیا جاسکتا ہے ہم مسلم امہ کی خواتین کو ان کے پیروکار بننے کی ضرورت ہے۔ نیلم بشیر نے ان کے موضوع پر بات کرتے ہوئے کہا کہ لڑکیوں کو آزادی دینی چاہیے ان پر اعتبار کرنا چاہیے والدین کو چاہیئے کہ بچیوں میں خود اعتمادی کو پروان چڑھائیں انہیں اس قابل بنایا جائے کہ وہ زندگی کے کے مختلف مراحل میں خود ڈٹی رہیں تاکہ انہیں کسی سہارے کی ضرورت نہ ہو فاطمہ کمر کا کہنا تھا کہ خواتین اچھی نسل بناتی ہیں ہمیں پاکستان بناتے وقت محترمہ فاطمہ جناح ،بیگم رعنا لیاقت جیسی خواتین کی خدمات کو نہیں بھولنا چاہیے اگر ہم انہیں رول ماڈل بنا لیں اور ان کی تاریخ پڑھیں تو ہمارے لئے منازل کا اصول آسان ہوجائے گا، صبا ممتاز نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ عورت مختلف روپ میں اپنا ہر فرض نبھا تی ہے مگر ان سب میں وہ خود کو بھول جاتی ہے ہر رشتہ کو اس کا حق ادا کرنا چاہیے تاکہ اسے بھی اپنی اہمیت کا اندازہ ہو سکے ۔
ہم مائیں ہم بہنیں ہم بیٹیاں
قوموں کی عزت ہم سے ہے
کرن شہزاد چوہدری نے بھی انڈسٹریل ایریا میں عورت کی افادیت اس کی برابری کو یقینی بناکرکامیابی حاصل کرنے گہرا راز بتایا انہوں نے کہا ہم کسی مقام پر مردوں سے کم نہیں ہیں ہمیں ضرورت ہوتی ہے صرف ایک سہارے کی کارپوریٹ ٹرنیر عمرہ خالد کا کہنا تھا کہ عورت کے لیے ڈگری صرف ایک کاغذ کا ٹکڑا ہے اسے اس کے ساتھ ہنر بھی آنا چاہیے کیوں کہ جو کام ڈگری نہیں کر سکتی وہ ہنر کر سکتا ہے۔ تقریب میں ،کم سن لکھاری فلک زاہد، نبیلہ اکبر، ثمرین زاہد ،سمندری سے آئے ہوئے سفیان فاروقی ، ایسوسی ایشن کے سنئیر نائب صدر ایم ایم علی ،نائب صدر حافظ محمد زاہد،جوائنٹ سیکرٹری شہزاد روشن گیلانی سمیت مختلف شعبہ جات سے تعلق رکھنے والے لوگوں نے کثیر تعداد میں شرکت کی، تقریب کی صدر ناہید نیازی نے تقریب کے اختتام میں تمام مہمانوں کاشکریہ ادا کیا کہ وہ اپنا قیمتی وقت نکال کر تشریف لائے آنے والے تمام معزز مہمانوں میں آل پاکستان رائٹرز ویلفیئر ایسوسی ایشن کی جانب سے خواتین کے عالمی دن کے حوالے سے شیلڈز بھی پیش کی گئیں۔

Check Also

علی پٹھان انڈین فلم انڈسٹری میں بڑے اداکاروں کے ساتھ کام کر چکے ہیں

    علی پٹھان انڈین فلم انڈسٹری میں بڑے اداکاروں کے ساتھ کام کر چکے ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *