Home / کالم / میرٹ بنام پاکستان

میرٹ بنام پاکستان

 

آرزئے سحر
تحریر : انشال راو¿
عنوان: میرٹ بنام پاکستان
سندھ سے بڑھتی ہوئی غربت و افلاس و احساس محرومی ، عدم برداشت ، نفرتیں اور امن و امان کی بگڑتیءصورتحال کے خاتمے کا بہترین نسخہ تعلیم کا فروغ ہے۔ لیکن گاو¿ں کے دیسی طبیب اےسے بطور علاج نسخے تحریر کرنے سے کتراتے ہیں۔کےوں کہ چالاک طبےب جانتے ہےں کہ اگر وہ مریض کی صحےح تشخےص کرےں گے تو کل گاﺅں کے صحتمندنوجوان ان کے مقابلے مےں ڈاکٹر بن کر ان کو ورثے مےں ملی جن کی دوکان ہمےشہ ہمےشہ کے لےے بند کرنے اور دوسرے روزگار کی تلاش کی راہ پر ڈال دےنگے، مزےد ان کی آنے والی نسلےںلفظ طبےب سے بھی محروم ہو جائےں گی ۔عمر کے آخری حصے مےں موجودہ طبےب نا صرف بےروزگارہوجائے گا بلکہ آئندہ آنے والی نسل مےں منتقل کےا جانے والا منافع بخش پیسہ بھی بدلنا ہوگا اور طبےب و خاندان کے دےگر افراد کو محنت کی عادت بھی نہےں ہے اس لےے وہ سوچ چکا ہے کہ پورے گاﺅں کو تعلےمی کمزوری کا شکار کر کے ذہنی بےمار اور اپنا غلام رکھنا ہے ۔ےوں اس کی آنے والی نسلےں بھی گاﺅں کی طبےب ہونگی۔ سندھ حکومت نے تقرےباً اےک ہزار ہےڈ ماسٹر ز کو IBA جےسے مستند و اچھی ساکھ کے ادارے کے ذرےعے ٹےسٹ لے کر مےرٹ پر بھرتی کےا اور انڈکشن ٹرےننگ کر واکر مختلف اسکولوں مےں تعےنات کےا۔ سندھ کی تعلےمی صورت حال انتہائی ابتر تھی ،تو تعےناتی کے ساتھ ہی ان ہےڈ ماسٹرز کو پست شرح داخلہ،ڈراپ آﺅٹ کی بڑھتی شرح، تعلےمی سہولےات کا فقدان،بجٹ کا نہ ہونا،کھنڈر نماں عمارتےں،غےر تربےت ےافتہ اساتذہ اور ان سے بڑھ کر اےجوکےشن مافےا کی مخالفت و مزاحمت کا سامنا رہا ،جو آج بھی پےش پےش ہے۔ مگر ©© ’ہمت کرے انسان تو پھر کےا نہےں بس مےں ‘ کے مصداق ےہ ہےڈ ماسٹرز جلد ہی سندھ کے تباہ حال تعلےمی نظام مےںانقلابی تبدےلی لانے مےں کامےاب ہوئے اس ضمن مےں پرائمری سطح پر اپنی مدد آپ کے تحت E-Learning کاآغاز کےا ، نصاب کے ساتھ ساتھ غےر نصابی سرگرمےوں پر بھی توجہ دی ،اساتذہ کی اپنے طور پر ٹرےننگ،کلاس رومز کوٹےچرز سےنٹر سے اسٹوڈنٹ سےنٹر بنانا اور کمےونٹی انوالومنٹ کے ساتھ ساتھ طلبہ کی تربےت اور نظم و ضبط پر خصوصی توجہ رکھی اورکھنڈر نما ں عمارتوں کی تذئےن وآرائش کر کے اسکول کے ماحول کو بہتربناےا ۔غرضےکہ وسائل نہ ہونے کے باوجود ان ہےڈ ماسٹرز نے بےرون ممالک جےسی تعلےم کی فراہمی کو ےقےنی بناےا۔ان اقدامات سے ماضی کے پرآشوب عہد مےںجب سندھ کا تعلےمی نظام احساس شکست کی بنا پر دروں بےنی ،غیر فعالےت اور گھوسٹ کلچرکا شکار تھا تو معاشرہ گدلے پانی کے جوہڑ جےسی صورت اختےار کر گےاتھا۔IBA ہےڈ ماسٹرزاس گدلے پانی کے لےے اےسا پتھرثابت ہوئے جس سے لہروں کے بننے والے دائرے پھےلتے ہی گئے ،گھوسٹ کلچر و فرسودہ رواےتی کلچر کی تہیں جو جم چکی تھی انہیں لہروں کی نذر ہو گئیں اور آنے والے دور کے لےے انداز نو کی نوےد دی۔ لےکن اس جولائی مےںان ہےڈ ماسٹرز کا کنڑےکٹ ختم ہونے جا رہا ہے۔حکومت زےادہ سے زےادہ انہےںمزےد اےکسٹےنشن دے دے گی،کنٹرےکٹ کی دو دھاری تلوار مےرٹ پر جو ں کی توں لٹکتی رہے گی،ےوں مافےا کی حوصلہ افزائی ہوگی،سےکرےٹری سے وزےر تعلیم تک ان کی فرض شناسی کے قائل توہےں لےکن ان کی مستقلی کے لےے کوئی سنجےدہ قدم اٹھاتے نظر نہےں آتے۔’کوئی امےد بر نہےں آتی کے مصداق ماےوسی کے بادل ہمارے معاشرے پر جوں کے توں چھائے ہوئے ہےں،اگر زرتاج گل وزےر کی بہن ےا ممبرSPSC سائےںداد سولنگی کی اولاد کی بات ہو تو ارباب اقتدارفورا´ آواز بن جاتے ہےںمگر مےرٹ کی آواز سننے کے لےے ہماری حکومتوںکے نا تو کان ہےں نا ہی احساس ،ہماری رواےت ےہی رہی ہے کہ ہم نے ہمےشہ مےرٹ کا گلا گھونٹا ہے ۔ماےوسی کفر ہے مےں مےرٹ کا مقدمہ معاشرے کے سپرد کرتا ہوں،کےا معاشرے کے اکےس کروڑ لوگ ،اس معاشرے کی سول سوسائےٹی ،مےڈےا سےاست دان ،دانشور حضرات میرٹ کو عزت دلوائےں گے ؟ ےا رواےتاً میرٹ روڈ پر واٹر کینن اور لاٹھی چارج کے ذریعے بے آبرو ہوتا نظر آئے گا ؟ کیا ہم مےرٹ کو تحفظ دیں گے ؟ میں یہ سارے سوالات آج کے دن پر چھوڑتا ہوں ۔ میں ےہ سوال اس ملک کے لوگوں پر چھوڑتا ہوں ۔

Check Also

لاالہ کی بنیادحسین ؑ ہیں

  لاالہ کی بنیادحسین ؑ ہیں تحریر: علی جان(لاہور) شاہ است حسینؑ بادشاہ است حسینؑ ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *