Home / کالم / ندامت کے آنسو

ندامت کے آنسو

 

دھوپ چھاو¿ں

الیاس محمد حسین
ندامت کے آنسو
کالم تو میں روز لکھتا ہوں سوچا کالم آپ بھی روزانہ پڑھتے ہوں گے آج آپ کو ایک کہانی سنا ﺅں شایدیہ کہانی کسی کے دل میں ترازو ہو جائے اسی طرح ہوسکتاہے کسی کا بھلاہوجائے ہمارے معاشرے کو میرے دوست کی طرح ہونا چاہےے درحقیقت احساس ایک ایسی دولت ہے جس سے پوری ذنیا گل و گلزار بنائی جا سکتی ہے
میںنے پوچھا شادی کب کررہے ہو؟ میراایک دوست کہنے لگا کہ میرا رشتہ ہوگیا تھا مگر میں نے وہ رشتہ توڑ دیا ہے۔
میں نے پوچھا کہ کیوں توڑا رشتہ ؟
کہنے لگا کہ میرے ابو رمضان شریف میں بیمار ہوگئے تھے تو میرے سسرال والے عیادت کے لئے آ ئے تو تھے مگر کچھ لائے کچھ نہیں نہ پھل نہ ہی کوئی روپیہ پیسہ دے کر گئے۔میرے باپ نے کہا کہ آج یہ لوگ ایسے ہیں تو کل کیا کریں گے مطلب نہ عیدی نہ شب بارات دن گے .اس لئے میں نے رشتہ ہی توڑ دیا۔ مگر میں نے کہا کہ یار یہ بتاﺅ کہ اس لڑکی کے گھر والوں کے حالات کیسے تھے۔ کہنے لگا کہ بہت غریب لوگ ہیں کام کاج کرتے ہیں تو دو ٹائم کی روٹی بمشکل کھاتے ہیں۔ میں نے کہا کہ میرے بھائی جب آپ ان کی غربت کے بارے میں سب جانتے ہیں۔ تو کیا آپ یہ جانتے ہیں جس سے رشتہ توڑا ہے ان ماں باپ پہ کیا گزری ہوگی ؟۔ اس بیچاری لڑکی پہ کیا گزری ہوگی کہ مجھے غربت کی وجہ سے چھوڑ دیا گیا۔ یا ر میرے ابو کہتے ہیں کہ اب رشتہ امیر گھرانے میں کرواو¿ں گا جو جہیز ، شب برات عید سب دے سکیں جو تمہیں کاروبار سیٹ کروا سکیں۔میں مسکرایا اور دل ہی دل میں سوچنے لگا کہ تمہارے ابو کہتے ہیں یا تمہارا دل کہتا ہے۔۔جاو¿ یار جو اپنے زور بازو پر یقین نہ کر سکے وہ دوست تو کیا انسان کہلانے کے لائق بھی نہیں
آج اگر بیٹی والوں کا رشتہ ٹوٹ جائے تو لوگ طرح طرح کی باتیں کرتے ہیں کہ شاید ان کی بیٹی میں کوئی خامی ہے۔۔
اگر بیٹے والوں کا رشتہ ٹوٹ جائے تو وہ فخر سے کہتا ہے یار مجھے پسند نہیں تھی اس لئے میں تے اسے چھوڑ دیا۔خدارا بیٹی والوں پے ایسا ظلم نہ کریں جو لڑکے ابھی جوان ہیں وہ کبھی بھی کسی لڑکی کو اس کی غربت پہ نہ چھوڑین نہ اس کے جذبات سے کھیلیں۔۔
یہ عورت ہی وہ ہستی ہے جو ہمیں دنیا میں لائی اور یہ عورت ہی وہ ہستی ہے جس کے قدموں سے ہمیں جنت ملے گی بس روپ بدل لیتی ہے ماں کا بیوی کا بہن کا مگر ہوتی تو عورت ہی ہے نا۔۔ میری باتیں سن کر دوست چپ ہوگیا پھر نہ جانے کیا جی میں آئی جیب سے موبائل نکال لیا میں نے تلخی سے کہا کمینے میں تم سے باتیں کررہاہوں اور تم موبائل سے کھیل رہے ہو ۔۔ اس نے موبائل کان سے لگاکر ہونٹوںپر انگلی رکھ کر مچھے خاموش رہنے کا اشارہ دیا وہ کہہ رہاتھا میں بہت شرمندہ ہوں میرے ایک دوست نے میری آنکھیں کھول دی ہیں آپ شادی کی تیاریاں کریں شام کو میرے والدین شادی کی تاریخ طے کرنے آجائیں گے میں نے دیکھا میرے دوست کی آنکھوںمیں آنسو تھے ۔۔ندامت کے آنسو

Check Also

الزام ان کو دیتے تھے

  الزام ان کو دیتے تھے تمام سیاستدان جمہوریت ۔۔ جمہوریت کا راگ الاپتے نہیں ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *