Home / کالم / نوجوانوں کے مسائل

نوجوانوں کے مسائل

نوجوانوں کے مسائل
سردار عبدالغفار ہزاروی
قوموں کی تاریخ میں نوجوان نسل کا کردار نہ صرف مثالی رہا ہے بلکہ ملکوں کی ترقی میں نوجوان ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں۔ نوجوان کسی بھی ملک و قوم کا حقیقی سرمایہ ہوتے ہیں اور یہی نوجوان اپنے عزم، جوش اور ولولے سے ملکی تعمیر و ترقی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
خوش قسمتی سے پاکستان میں 60فیصد سے زائد آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے اور پاکستانی نوجوان نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا بھر میں اپنے ملک کا نام روشن کررہے ہیں۔ نوجوان سیاست میں بھی پیش پیش ہیں۔
سیاست نوجوانوں کا جمہوری حق ہے اور پی ٹی آئی نے انہیں پلیٹ فارم دیا ہے کیونکہ ہم سمجھتے ہیں کہ ”نئے پاکستان“ کا نعرہ یوتھ کے بغیر مکمل نہیں ہوسکتا۔ ماضی کی حکومتوں نے یوتھ کے مسائل کو حل نہیں کیا جس کی وجہ سے نوجوانوں میں غصہ پایا جاتا ہے مگر تحریک انصاف سے انہیں امید ہے۔اب ایک مثبت ہوا چلی ہے لہٰذا مجھے نوجوانوں کی تقدیر بدلتی ہوئی نظر آرہی ہے۔ میں ایک عام۔انسان ہوں تندور پر روٹیاں پکاتا ہوں مگر تحریک انصاف نے میری حوصلہ افزائی کی۔
سیاست امراءکا نہیں محب وطن لوگوں کا کام ہے، ہمیں خود کو اپنے بچوں اور آنے والی نسلوں کیلئے رول ماڈل کے طور پر پیش کرنا ہوگا۔اس وقت سب سے اہم کردار نوجوانوں کا ہے، لہٰذا انہیں آگے بھی مثبت سمت میں چلنا ہوگا۔ نوجوان ہمارا مستقبل ہیں۔ ہم نظام میں اصلاحات کریں گے اور گلی، محلوں سے بچوں کو سکولوں میں لائیں گے اور نوجوانوں کو عزت دیں گے۔میرا کوئی سیاسی بیک گراو¿نڈ نہیں ہے، ہمیں حوصلہ ملا کے ہم بھی اپنے ملک کے لیے کچھ کرسکتے ہیں۔
نوجوانوں کے حوالے سے ہنگامی اقدامات کرنا ہوں گے۔ میرے نزدیک نوجوانوں کی کونسلنگ بہت ضروری ہے۔ ایم پی ایز کو چاہیے کہ وہ کونسلرز کے ساتھ مل کر گلی محلوں میں نوجوانوں اور خواتین کی تربیت کے لیے پروگرامز منعقد کریں۔ تحریک انصاف کو ووٹ دینے والوں کی زیادہ تعداد نوجوانوں کی تھی، نیا پاکستان یوتھ کا ہوگا کیونکہ نوجوان ہی سب کے چہروں پر مسکراہٹ بکھیر سکتے ہیں۔
یوتھ میں صرف یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ ہی نہیں ہیں بلکہ 20 سے 30 برس کی عمر کے وہ تمام افراد شامل ہیں جو دیہی علاقوں میں رہتے ہیں۔ زیادہ تر نوجوان ایسے علاقوں میں رہتے ہیں جہاں 3 کروڑ بچے آج بھی سکول نہیں جاتے۔ اس کا مطلب ہے کہ ماضی میں یہ تعداد اس سے بھی زیادہ ہوگی لہٰذا ہماری یوتھ کی ایک بڑی تعداد پڑھی لکھی نہیں ہے۔ جس یوتھ کو ہم تعلیم یافتہ کہتے ہیں اس میں سے کروڑوں میٹرک پاس ہیں لیکن ان کے پاس بھی ایسا کوئی ٹیکنیکل ہنر نہیں ہے جس سے وہ اپنا روزگار کما سکیں۔ یونیورسٹیوں میں تعلیم حاصل کرنے والے نوجوانوں میں انقلابی جذبہ نہیں ہوتا۔
میرے نزدیک مسائل کے حل اور سسٹم کی بہتری کے لیے ریڈیکل ریفارمز کی ضرروت ہے۔ یہ ریفارمز جاگیردار، سرمایہ دار اور امراءکے خلاف ہونے ہیں اور یہ سب نہ صرف حکومتی جماعت بلکہ تمام جماعتوں میں موجود ہیں۔ اس ملک میں سیاسی، معاشی اور معاشرتی مسائل کی وجہ یہ ہے کہ غربت زیادہ ہے اور دولت چند ہاتھوں میں مرکوز ہے۔ امراءنے جاگیروں، صنعتوں اور اداروں پر اپنا تسلط قائم کر رکھا ہے اورکوئی انہیں پکڑنے والا نہیں ہے۔ جس دن اس ملک میں نوجوانوں کی کم از کم تنخواہ ایک تولہ سونے کے برابر ہوئی، اس دن مسائل کافی حد تک حل ہوجائیں گے۔ ہمارے ہاں غیرمتوازی کام ہوتا ہے۔
نوجوانوں کا سب سے بڑا مسئلہ بے روزگاری اور طبقاتی تعلیمی نظام ہے۔ بچوں کی اکثریت سکول نہیں جاتی جبکہ تعلیمی نظام امیر اور غریب کیلئے الگ الگ ہے۔ امیر کے بچوں کیلئے انٹرنیشنل تعلیمی نظام جبکہ غریب کا بچہ گورنمنٹ سکول میں پڑھنے پر مجبور ہے۔ ہمارا معاشرہ بھی طبقات میں تقسیم ہے جس میں امیر مضبوط اور غریب کا استحصال ہورہا ہے جبکہ عام آدمی کے پاس آگے آنے کے مواقع بھی نہیں ہیں۔ ہمیں امید ہے کہ نومنتخب حکومت اس طبقاتی نظام کے خاتمے کیلئے بھرپور کردار ادا کرے گی۔نوجوانوں کو عمران خان سے بہت زیادہ توقعات ہیں کہ وہ ان کے مسائل کے حل کیلئے کام کریں گے۔
عمران خان نے کرپشن کے خلاف آواز اٹھائی جو صرف مالی ہی نہیں بلکہ سماجی اور اخلاقی کرپشن بھی ہے، اس کے خاتمے سے ملک بہتر ہوسکتا ہے۔ اگر تمام معاملات شفافیت سے آگے بڑھیں ، کرپشن نہ ہو اور سب خلوص نیت کے ساتھ کام کریں تو ملک ترقی کر سکتا ہے۔ ہماری نوجوان نسل باصلاحیت ہے اور آگے بڑھنے کی لگن رکھتی ہے مگر بہت کم لوگوں کو ترقی کے مواقع ملتے ہیں لہٰذا حکومت کو ان کیلئے نئے مواقع پیدا کرنا ہوں گے۔ ہماری نوجوان نسل تعلیم اور روزگار کے سلسلے میں بیرون ملک چلی جاتی ہے جس کا فائدہ دیگر ممالک کو ہورہا ہے، اس ٹیلنٹ کو واپس ملک میں لایا جائے تاکہ ان کی جدید تعلیم اور سکلز سے فائدہ اٹھایا جاسکے۔
نوجوانوں میں جوش، جذبہ اور انرجی زیادہ ہوتی ہے، وہ کچھ بھی کر دکھانے کی لگن رکھتے ہیں اور نئے نئے تجربات کرتے ہیں لہٰذا حکومت کو چاہیے کہ اس بڑھتی ہوئی نوجوان نسل کو بے راہ روی کا شکار ہونے سے بچانے کیلئے عملی طور پر ٹھوس اور ہنگامی اقدامات کرے جن کے اثرات دیر پا ہوں اور اس سے ملکی تعمیر و ترقی میں فائدہ اٹھایا جاسکے۔ ہمیں تحریک انصاف کی نو منتخب حکومت سے امید ہے کہ جس طرح انہوں نے نوجوانوں کو متحرک کیا، انہیں سیاست میں آگے بڑھنے کے مواقع فراہم کیے اور ایوانوں میں نمائندگی دی، اسی طرح وہ ملک کی تمام یوتھ کو تعلیم، روزگار اور آگے بڑھنے کے مواقع فراہم کرے گی۔
ہمیں امید ہے کہ حکومت تعلیمی نظام کی بہتری کے لیے کام کرے گی۔ جب سب کے پاس اچھی تعلیم ہوگی تو انہیں اپنا روزگار کمانے میں آسانی ہوگی اور ان کی معاشی حالت بہتر ہوجائے گی جس سے بیشتر مسائل کا خود ہی خاتمہ ہوجائے گا۔ہمارا ایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ ہم گفتار کے غازی ہیں مگر عملی طور پر کچھ نہیں کرتے۔ ہم ملکی بہتری کی باتیں تو کرتے ہیں مگر اس میں اپنا کردار ادا نہیں کرتے۔ اگر ہم ملک کو بدلنا چاہتے ہیں تو سب سے پہلے ہمیں خود کو بدلنا ہوگا، اپنی ذمہ داریاں اور فرائض خلوص نیت کے ساتھ ادا کرنا ہوں گے۔ یہ خوش آئند بات ہے کہ ہماری نوجوان نسل متحرک ہوچکی ہے اور اس نے ملک تبدیل کرنے کا عزم کیا ہے لہٰذا اب تبدیلی ضرور آئے گی۔

Check Also

ڈاکٹر مرسی کی رحلت

  ڈاکٹر مرسی کی رحلت مزاحمتی سیاست کا ایک درخشندہ باب بندہوگیا مصر کے سابق ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *