Home / کالم / نیا بلدیاتی نظام

نیا بلدیاتی نظام

 

 


نیا بلدیاتی نظام
تحریر ۔روفان خان
ہر ایک کی کوشش ہوتی ہے کہ کہ میرا گھر ٹھیک ہو میرا کاروبار ٹھیک ہو اور میری روزمرہ زندگی درست ہوں ہمارے بچے اچھے اور تعلیم یافتہ ہوں لیکن یہ سب کچھ وہ شخص ٹھیک کرسکتا ہے جو دوسرے گھروں کی بجائے اپنے گھر اور بچوں پرتوجہ و فکر رکھتا ہو پھروہی شخص گھر اور معاشرے میں حقیقی تبدیلی لاسکتاہے لیکن آج کل ملک میں ایسے افراد بہت کم ہیں جو اپنے گھر پر توجہ دے رہے ہوہر ایک دوسروں کاگھر اُجھاڑنے میں لگاہواہے پھر اس سے دوسروں کی بجائے اپنے گھر کا نظام بھی خراب ہوجاتاہے یہی صورتحال ملک میں بھی روز او ل سے چلی آرہی ہے چونکہ اس میں آج کل اضافہ ہواہے زیادہ آگے نہیں جاتا ہوں اقتدار اور اپوزیشن جماعتوں کی بات کرنا چارہاہوں پی ٹی آئی کے چیئرمین عمران خان نے وزیر اعظم کے منصب تک پہنچنے کا22 سالہ طویل جدوجہد کا نتیجہ کہا جاتا ہے ان کی سوچ روز اول سے بھی بہت اچھی رہی اُنہوں نے ہر اسٹیج پر نوجوانوں اورباالخصوص غریب عوام کے حقوق کی بات کی عمران خان کہتا تھے کہ اختیارات نچلے ساتھ تک لاﺅں گا کرپشن کا نظام ختم کروں گا امیر و غریب کا فرق ختم کروں گایہ سب باتیں ان کے دعوے اور وعدوں میں شامل تھے اپوزیشن جماعتیں اور پاکستانی عوام بھی حیران تھے کہ کس طرح سار ے اختیارات نچلے سطح تک آئیں گے کیونکہ اس وقت ہر محکمے میں سیاسی مداخلت بہت زیادہ تھی نظام کو درست کرنا بہت مشکل تھا ۔جب اُن کو 2013 کی الیکشن میں صوبے میں کامیابی ملی تو انہوں نے خیبر پختونخوا میں حکومت قائم کی اور آغاز وزراءسے کیا کرپشن کے الزام میں کئی وزراءکو فارغ کیا اور سزا کاٹنے کیلئے کئی ماہ تک بعض صوبائی وزیرجیل میں رہے اُنہوں نے نا صرف اپنے وزیر کا احتساب کیا بلکہ غریب عوام کوسہولیا ت مہیا کرنے کیلئے سیاسی محکموںمیں ہر ممکن حد تک نمایاں تبدیلیاں لائیں ساتھ میں بلدیاتی نظام بھی بحال کردیا اور باقاعدہ بلدیاتی انتخابات کرائیں پی ٹی آئی کی حکومت میں جب بلدیاتی انتخابات ہوئے تو اس سے ناصرف اختیارات نچلے سطح تک منتقل ہوئے بلکہ غریب عوام خان خوانین کے حجرے کے چکر لگانے سے ان کو اپنے گھر کے دہلیز پر حقوق میسر ہوئے۔پی ٹی آئی کے چیئرمین عمران خان نے ناصرف کے پی کے میں کرپشن کے خلاف مہم چلائی بلکہ اپنے دور اقتدار کے دوران اُنہوں نے کرپٹ حکمرانوں کے خلاف ڈی چوک اسلام آباد میں تین ماہ طویل دھرنا دیا یہ تاریخ میں پہلی مرتبہ طویل دھرنا تھا جو پی ٹی آئی نے دیا تھا عمران خان کاایک ہی نعرہ تھا کہ یا تو میاں محمد نواز شریف نااہل ہوں گے یا تو جیل جائیں گے دھرنا تین ماہ تک جاری رہا دھرنے کے خاتمے کے سلسلے میں مختلف سیاسی پارٹیوں نے کوشش کی کہ پی ٹی آئی کے چیئرمین عمران خان راضی ہوجائے اس سلسلے میں نہ صرف اپوزیشن جماعتوں نے بلکہ چیف آرمی سٹاف نے ہر ممکن کوشش کی لیکن پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان کا ایک ہی نعرہ تھا کہ تب خاموش بیٹھوں گا جب میاں محمد نواز شریف جیل جائیںیقین جانئے وہی ہوا ہے جو عمران خان نے کہا کرتاتھا کہ میاں محمد نوازشریف تاحیات نااہل بھی ہوگئے اور جیل بھی گئے ان کے ساتھ جیل میں داماد ریٹائرڈ کیپٹن صفدر اور ان کی صاحبزادی مریم نوازبھی ہے چونکہ دھرنے کے دوران پی ٹی آئی کی خیبر پختونخوا میں حکومت بھی تھی کچھ مخالف پارٹیوں نے اُن کو یہ خبر بھی سنائی تھی کہ دھرنا ختم کرے ورنہ ہاتھ سے خیبر پختونخوا کی حکومت چلے گی لیکن اس نے کسی کی بات بھی نہیں سنی اور اپنی جدوجہد جاری رکھی اس حد تک کوشش کہ اور تکالیفات برداشت کئے کہ اب ملک کے 22 ویں وزیر اعظم منتخب ہوئے یہ ان کی بیس سالہ طویل کوشش تھی وزیر اعظم منتخب ہوتے ہی وعدے تو زیادہ کئے ہیں لیکن اب کچھ پر عمل جاری ہے او ر کچھ پر شروع ہونے والا ہے ان میں ایک نیا بلدیاتی نظا م رائج کرنابھی ہے نیا بلدیاتی نظام کا بل قومی اسمبلی سے پاس تو نہیں ہوا ہے بلکہ ایک دو ماہ کے اندرپاس ہونے والا ہے اس میں لکھ چکاہے کہ جس طرح ایم این اے اور ایم پی اے نشستیں کیلئے امیدوار کھڑے ہوتے ہیں اسی طرح ناظم اعلیٰ اور تحصیل ناظم کیلئے بھی امیدوار کا چناﺅ ہوگا اور جس طرح وہ عوامی مینڈیٹ سے منتخب ہوتے ہیں اسی طرح ناظم اعلیٰ اور ناظم تحصیل ناظم بھی منتخب ہوتے ہوں گے ساتھ میں جس کیلئے تعلیم کے شرائط بھی رکھی گئی ہے کہ میڑک سے لے کر صرف ایم اے تک تعلیم یافتہ لوگ ہی صرف اس نیا بلدیاتی نظام میں حصہ لے سکتے ہیں چونکہ بہت اچھا عمل ہے جس سے تعلیم یافتہ لوگوں کی عزت پیدا ہوگی اور ایوان کو تعلیم یافتہ لوگ صرف پہنچیں گے اس نظام کی وجہ سے ملک تعلیم عام ہوگی ہرایک کی کوشش ہوتی ہے کاش میں کہ تعلیم یافتہ ہوتاہے تو میں بھی اس منصب تک پہنچ جاتااصل فائدہ عوام کیلئے یہ ہے کہ جس طرح پہلے ایک ناظم اعلیٰ اور تحصیل ناظم اپنے ہی علاقے کے عوام تک محدود ہوتے تھے اب اس ناظم اعلیٰ اور تحصیل ناظم کے ساتھ عوام کی فکر ہوگی کہ ہم کو صرف ایک یونین کونسل کے عوام نے نہیں بلکہ پورے ضلع کے عوام نے منتخب کیاہے خوشی کی بات تو یہ ہوگی کہ نیا بلدیاتی نظام کی وجہ سے نااہل لوگ کی تعداد میں خود بخود کمی پیشی آئیںگی امید ہے کہ نئے بلدیاتی نظا م کے نفاذ سے عوام خاظر خواہ تبدیلی محسوس کریں گے اختیارات کے نچلی سطح تک منتقلی سے عوام کو براہ راست فائدہ ہوگا کیونکہ ایک عام شخص کی ایم پی اے،ایم این اے یا وزیر تک رسائی بہت مشکل ہوتی ہے اگر نچلی سطح تک اختیارات ہونگے تو عوام کے مسائل شاید جلد ہی حل ہوسکیں گے یقینا اس دفعہ نائب نظامت کیلئے اور ناظم اعلیٰ جو بھی اور جن پارٹیوں کے امیدوار بھی ہوں گے تو وہ اعلیٰ تعلیم یا فتہ اور ضلع بھر کاحقیقی نمائندہ ہوگا۔
اگر شمس قمر کی روشنی پہ اجارہ ہے۔
کسی بیدار ماتھے سے کوئی تار ضیاءچن لے۔

Check Also

لمحہ فکریہ

  لمحہ فکریہ تحریر ۔۔۔ شیخ توصیف حسین گزشتہ روز میں نے ایک عمر رسیدہ ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *