Home / کالم / وادی نیلم کے سکول کی حالات زار اور محکمہ تعلیم کے اعلیٰ احکام خاموش کیو

وادی نیلم کے سکول کی حالات زار اور محکمہ تعلیم کے اعلیٰ احکام خاموش کیو

 

 

وادی نیلم کے سکول کی حالات زار اور محکمہ تعلیم کے اعلیٰ احکام خاموش کیو
تحریر ۔جاوید چوہدری

وادی نیلم کے دور افتادہ علاقوں جن میں سرگن شادرہ کیل بگنواں، کنڈی سیری بالا نیلم ساگام نمبر 1ساگام نمبر 2ودیگر علاقوں میں پہنچے تو چشم کستا واقعات دیکھ کر ان کی آنکھ کھلی کی کھلی رہ گئیں ایسے ایسے دلخراش مناظر اور لوگوں کی گفتگو سنی جو گزشتہ 70سالوں کی حکومتوں اور موجودہ حکومتوں کی گڈگورننس داو¿ں کی نفی کرتی دکھائی دیتی تھیں نہ پینے کا پانی نہ صحت کی سہولیات سڑکیں موت کے کنویں کا منظر پیش کرتی رکھاءدے رہی تھی دشوار گزار راستوں کی وجہ سے درجنوں افراد ہستپال پہنچنے سے قبل خالق حقیقی سے جاملنے کی واقعات نے دل ویلا کر رکھ دیا تعلیمی اداروں کی زبوں حالی نے گزشتہ 70برسوں سے ان علاقوں کے بچوں کو زیور تعلیم سے محروم رکھتے ہوئے میٹرک نہ کرنے دیا گیا حالانکہ سال 2017.2018میں گورنمنٹ مڈل سکول بگنواں کی کلاس پنچم نے بورڈ کے امتحانات میں 100فیصد نتائج حاصل کیے مگر اس سے آگئے تعلیمی سہولیات محکمہ تعلیم کی بے حسی نہ جانے دیا گورنمنٹ مڈل سکول بگنوں سرگن کے صدر معلم بدرالحق سے خصوصی گفتگواپنی مدد آپ کے تحت 40سال قبل تعمیر کیا گیا گورنمنٹ بوائز پرائمری سکول بگنوںسرگن مشرف دور میں عمارت ملنے کے بعد گزشتہ دور میں اپ گریڈ ہو کر مڈل ہوا سکول میں دو مدرس تعینات تھے جن میں سے ایک احتجاجاً مستفی ہو گیا 9کلاسزز کے لیے دو مدرسین ہیں جوآج تک فرائض منصبی ادا کررہے ہیں وادنی نیلم میں بعذ سکول کی ٹھیکہ سٹم جءشدید شکایات پر میڈیا ٹیم نے علاقوں کا دورہ کرنے کی ٹھانی وادی نیلم کے دور افتادہ علاقوں جن میں سرگن شادرہ کیل بگنواں، کنڈی سیری بالا نیلم ساگام نمبر 1ساگام نمبر 2ودیگر علاقوں میں پہنچے تو چشم کستا واقعات دیکھ کر ان کی آنکھ کھلی کی کھلی رہ گئیں ایسے ایسے دلخراش مناظر اور لوگوں کی گفتگو سنی جو گزشتہ 70سالوں کی حکومتوں اور موجودہ حکومتوں کی گڈگورننس داو¿ں کی نفی کرتی دکھائی دیتی تھیں نہ پینے کا پانی نہ صحت کی سہولیات سڑکیں موت کے کنویں کا منظر پیش کرتی رکھاءدے رہی تھی دشوار گزار راستوں کی وجہ سے درجنوں افراد ہستپال پہچنے سے قبل خالق حقیقی سے جاملنے کی واقعات نے دل ویلا کر رکھ دیا تعلیمی اداروں کی زبوں حالی نے گزشتہ 70برسوں سے ان علاقوں کے بچوں کو زیور تعلیم سے محروم رکھتے ہوئے میٹرک نہ کرنے دیا گیا حالانکہ سال 2017.2018میں گورنمنٹ مڈل سکول بگنواں کی کلاس پنچم نے بورڈ کے امتحانات میں 100فیصد نتائج حاصل کیے مگر اس سے آگئے تعلیمی سہولیات محکمہ تعلیم کی بے حسی نہ جانے دیا گورنمنٹ مڈل سکول بگنوں سرگن کے صدر معلم بدرالحق سے خصوصی گفتگو میں انہوں نے بتایا کہ جن اساتذہ کو ان کے فرائض منصبی کو ایمانداری،محنت اور دیانت داری سے ادا کرنے پر سزادینی مقصود ہو انھیں ان علاقوں کے سکولوں میں تعینات کیا جاتا ہے سونے پر سیائی کہ ان کے ساتھ تعینات دیگر مدرس تو سکول ہا حاضر نہیں ہوتے توانھیں تعینات ہی نہ کیا جائے 9کلاسز کے 103طلبہ کے علاوہ قریب موجود عرصہ سے بند گورنمنٹ پرائمری سکول کی 62طالبات کو بھی زیور تعلیم سے علاقہ کے معززین کے تعاون سے پڑجارہے ہیں درجنوں مرتنہ ارباب اختیار تعلیم کو اطلاع کی مگر آج تک کسی کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگی اور سلسلہ بدستور جاری ہے اس منوقع پر علاقہ کے سماجی ہر لعزیز شخصیت محمد معروف جنہوں نے علاقائی مسائل بالخصوص تلیم اور صحت کی زبوں حالی کو اجاگر کرنے کے لیے دیگر معززین علاقہ جن میں تاج دین میرزمان لون،ولی الرحمن،دیگر سے ملکر ایک جدوجہد کا آغاز کرتے ہوئے میڈیا کو موقع پر لانے کی سنی اور کھلی کچری کا انعقاد کرواتے ہوئے علاقائی مسائل بزبانی عوام علاقہ بیان کراوئے نے بتایا کہ صرف 2اساتذہ 9کلاسزز کے بچوں کو کیسے تعلیم دے سکتے ہیں این ٹی ایس کے زریعے پاس ہونے والے اساتذہ نے تو محکمہ تعلیم کے آفیسران کو منہ پر کورا جواب دیتے ہوئے حاضری رپورٹ پیش کرنا بھی گوارہ نہ کیا ہے قاعدہ سے کلاس ہشتم تک اور پھر کلاس پنجم اور کلاس ہشتم ایلمنٹری بورڈ نیلم میں جاتی ہیں لوگوں نے بتایا کہ دی ای او نیلم اور دیگر تمام حالات سے بخوبی واقف ہیں مگر محکمہ تعلیم میں بیٹھا مافیا کے سامنے بری طرح بے بس ہیں انہوں نے کہا کہ 2004میں پرائمری سے مڈل ہونے والا سکول آج بھی اساتذہ کی کمی کاشکار ہے جبکہ قریب واقع گورنمنٹ گرلز پرائمری سکول بگنوں سرگن بھوت بنگلہ میں تبدیل ہو چکا ہے صدر معلمہ سعودیہ کے شہر ریاض جبکہ ٹیچرز جو کہ این ٹی ایس پاس ہو کر تعینات ہوئیں ایک انٹرنشینل این جی اوز میں ملازمت کرتے ہوئے مظفرآباد میں مقیم ہیں انہوں نے بااثر کاندانی اور سپیکر اسمبلی شاہ غلام قادر کی قربت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے کبھی حاضری رپورٹ پیش کرنا بھی گوارہ نہ کیا ہے جبکہ تنخوائیں باقاعدہ ہر ماہ وصول کررہی ہیں مبینہ اطلاعات کے مطابق محکمہ تعلیم میں موجود مافیا بھتہ وصول کر کے انھہیں مکمل تحفظ فراہم کرتے ہوئے حکومتی گڈگورنس میرٹ کے نام پر لگائے جانے والے نعرہ مستانہ کو خوب پامال کررہے ہیں محکمہ تعلیم کی بے حسی کے باعث سینکڑوں طلبہ و طالبات تعلیم کی نعمت سے پامال ہونے کے باعث زیور تعلیم سے کوسوں دور ہیں ہزاروں خاندانوں کے چشم چراغ اندھیروں کی نظر ہو کر برتن مانجنے گاڑیوں کے ساتھ کنڈیکٹر ز اور مزدوربننے پر مجبور ہیں حالانکہ لوگوں کے اندر اپنے بچوں کو تعلیم دلوانے کے جزبہ ٹھاٹھیں مارتا سمندر کی طرح جزن ہے ایک شخص نے انکشاف کیا پاکستان کے دیگر علاقوں میں وڈیرا شاہی میں بھی چند با اثر شخصیات نیلم کے عوام کو ناخواندرکھتے ہوئے غلامی کی زن زنجیروں سے آزاد ہوتا نہیں دیکھ سکتے جو آج بھی پاکستان کے مختلف شہریوں میں بے روزگار ناخواندہ غریب کے مارے نیلم کے لوگوں کے بچوں اور بچیوں کو اچھی زندگی روزگار کا لالچ دیکر مزموم مقاصد کے لیے استعمال کررہے ہیں یہ لوگ صرف ووٹ حاصل کرتے وقت دکھائی دیتے ہیں نمبردار ٹھیکیدار اور سیاسی پنڈتوں کے وظیفہ خوری کوعوام نے مسترد کرتے ہوئے اپنی آنے والی نسل نو کو بہتر اور خواندہ بنانے کے لیے کمر کس لی ہے تبدیلی کے اثرات نمایا دکھائی دے رہے ہیں لوگ اپنے حقوق حاصل کرنے کے لیے کسی بھی سطح تک جانے کے لیے تیار ہیں لوگ ووٹ کے طلبگاروں کے لیے مسائل پیدا کرنے کے لے حف آرا ہورہے ہیں لوگوں نے کہا کہ اپنے حقوق کے حصول کی خاطر ان جعلی عوامی نمائندوں کو روکنا ہمارا فرض ہے اور یہ فرض اب داد کریں گے اس موقع پر گھروں میں بدوں کرایہ،بدوں چوکیدار ،بدوں ڈاکٹرقائم دسپنسریاں اور مذید بھوت سکولوں کا بھی دورہ کروایا جبکہ اپنی مدد آپ کے تحت قائم کیے گئے پائیڈرل پراجیکت جو صرف 100روپے ماہانہ کی بنیاد پر شام پانچ سے صبع نو بجے تک بلا تعطیل بجلی 110واٹ کی فراہمی انہوں نے بتایا کہ 1990 حکومت کی جانب سے ایک ڈسپنسری کا اعلان ہوا مگر عمارت نہ مل سکی ابتدائی طور پر مقامی شخص کے گھر میں ایک کمرہ مختص کیا گیا جسمیں کچھ ڈرنماڈاکٹر ہی پہنچ سکا جو علاقے بھر میں ڈاکٹر بنا ہوتا ہے نے اپنے آگے ایک نائب قاصد رکھا ہے خود کبھی کبار وزٹ کرتا ہے ادویات کی عدم دستیابی کی وجہن سے زوجہ میر زمان،باسط خان کا بیٹا ،زوجہ ممتاز احمد اور دیگر درجنوں لوگ موت کی وادی میں جاچکے ہیں 28سالوں سے مقامی شخص باز خان کے گھر میں قائم ڈسپنسری آج بھی اس شخص کو کرایہ عمارت فراہم کرنے سے قاصر ہے ایک کرسی ایک ٹیبل کے علاوہ کچھ موجود نہ ہے محکمہ کے ارباب اختیار نے آج تک اس ڈسپنسری کا دورہ کرنا گوارہ نہ کیا ہے یکم نومبر سے مارچ تک یہ علاقے دیگر دنیا سے کٹ جاتے ہیں 10سے12فٹ برف باری ہوتی ہے سطع سمندر سے تقریباً نو ہزار فٹ کی بلندی پر واقع پر علاقے آج بھی زندگی کی بنیادی ضروریاسے کوسوں دور ہین اس کی بنیادی وجہ حکومت کی نااہلی اور بے حسی سمیت ٹھیکیدار مافیا کا کمال ہے ان علاقوں میں تعمیر کی جانے والی سڑکات کے نام پر اربوں روپے سالانہ ہضم کیے جاتے ہیں مگر یہ سڑکات تعمیر ہونے کا نام تک نہیں لیتی 1996سے جاریہ تعمیراتی سڑک جو صرف 47کلو میٹر پے شاردہ سے نوری ٹاپ اور کاغان کو لنک کرنے والی سڑک پر آج بھی پروگریسو ٹیکنیکل ایسوسی ایٹ کمپنی جو کہ ممبر کشمیر کونسل مختیار عباسی کی ہے کہ زریعے اربوں روپے بٹورنے کے علاوہ مقامی افراد کی قیمتی گاڑیوں کا ستیاناس ہو رہا ہے مگر کوئی پوچھنے والا نہیں جبکہ سابق وزیر حکومت شمیم علی ملک عرف شیخ ملک کے بھائی ظفر علی ملک ہر سال سولنگ بچھانے کے بعد غائب ہو جاتے ہیں اور بعد ازاں وہ سولنگ بارش برف باری کی نظر ہو جاتی ہے اس طرح یہ سلسلہ جاری رہتا ہے اور ریاستی خزانے سے بندربانٹ ہوتی رہتی ہے آزاد حکومت کی گڈ گوننس میرٹ اور تعلیمی نظام کو سفارشات سے پاک کرنے کے لیے این ٹی ایس جیسا ادارہ بنانے کے بعد بھی بھوت سکولوں کی بھرمار وادی نیلم کے دور افتادہ اداروں جن میں گورنمنٹ گرلز پرائمری سکول بگنواں سرگن مسجد سکول نیلم لسیاں سمیت کئی علاقوں میں گرلز پرائمری سکول بند پڑے ہیں این ٹی ایس کے امتحانات پا س کرنے والی ٹیچرز سعودیہ عرب مں رہائش اختیار کر گئی اور بعذ ٹیچرز مظفرآباد میں بیٹھ کر تنخوائیں وصو ل کرنے لگی محکمہ تعلیم عملی طور پر ناکام ہو چکا ہے آج بھی محکمہ تعلیم کے اندھر اپنے پنجے اگاڑ رکھے ہیںڈی ای او نیلم قمرالزمان کے بارے میں اہم انکشاف ہو ا ہے کہ وہ ڈیوٹی پر حاضر نہ ہونے والی ٹیچرز سے ماہانہ بحتہ وصول کرتا ہے گورنمنٹ گرلز پرائمری سکول بگنواں سرگن ی صدر معلمہ راشدہ لال زوجہ ظہور احمد سعودیہ عرب کے شہر ریاض میں سعودیہ حکومت کی طرف سے چلنے والے ایک سکول میں معلمہ تعینات ہے زندگی دو مزے لوٹنے لگی دو حکومتوں سے تنخواہ کے مزے لینے والے صدر معلمہ بچوں کے مستقبل کا تاریک کررہی ہے دوسری معلمہ ثوبیہ کلثوم زوجہ محمد اکبر ساکنہ خواجہ سیری مظفرآباد میں ایک انٹرنیشنیل این جی اوز کے ساتھ ملازمت کررہی ان کے بار میں انکشاف ہوا ہے کہ یہ ایک بااثر خاندان سے تعلق رکھتی ہیں سپیکر شاہ غلام قادر ان کے حمایتی ہیں جنہوں نے آج تک سکول میں حاضری رپورٹ بھی نہ دی سکول بند عوام علاقہ نے گرلز پرائمری سکول بگنواں کی بچیوں کو بوائز مڈل سکول میں منتقل کر دیا جہاں پر تعینات ہونے والی ٹیچرز نے اپنی جگہ پر ساجدد اقبال ولد فضل حسین اور دلپزیر دانش نامی لڑکوں کو 8اور 12ہزار روپے پر ماہانہ دیے جارہے ہیںجبکہ سکول بھوت بنگلے کا منظر پیش کررہا ہے سکول کے اندر محکمہ لوکل گورنمنٹ کے پائپ و دیگر سامان پڑا ہے اورسکول کے فرش کھڑکیاں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں بلیک بورڈ فرنیچرز موجود نہیں جبکہ سکول محکمہ تعلیم آزاد کشمیر کی اعلیٰ تعلمی داو¿ن کی قلعی کھولتا نظر آتا ہے آزاد کشمیر کے وزیر تعلیم بیرسٹر افتخار گیلانی اور سیکرٹری تعلمی راجہ امجد اسحاق دیگر ارباب اختیار وادی نیلم کے ان دور افتادہ علاقوں کا کبھی دورہ ہی نہیں کیا اور نہ ہی ان آفیسران کی محکمہ تعلیم کے عملے پر کوئی گرفت ہے گزشتہ روز میڈیا ٹیم نے ان علاقوں کا دورہ کیا عوام کی کھلی کچیری لگائی گی جہاں پر معززین علاقہ بگنواں،سرگن،کنڈی،ساگام ۔ ساگام 2، بالاسیری،نیلم،مالی،گموٹ،لسیاں کی عوام جن میں حوالدار یاسین،یونس میر،ولی الرحمن،محمد معروف،محمد زمان،تاج دین،نصیر اللہ،عبدالرحمن ولی الرحمن میرزمان محمد عارف صوفی عبدالرحمن،جاوید اسلم ،اورنگزیب،محمد عارف و دیگر نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ محکمہ تعلیم لوگوں کو معیاری تعلیم دینے میں ناکام ہو چکا ہے جبکہ عوام علاقہ نے وزیر اعظم آزاد کشمیر راجہ فاروق حیدر سے مطالبہ کیا ہے کہ ان علاقوں میں بسنے والے عوام کا کوئی پرسان حال نہیں آج تک 70سالوں میں صرف ووٹ لیے مگر پلٹ کر کبھی ان علاقوں کی طرف رخ نہیں کیا عوام علاقہ سپیکر اسمبلی کی ایک جھلک دیکھنے کو منتظر ہے بڑے دعویٰ کیے گئے تھے تعلیم کو عام کیا جائے گا لوگوں کو مسائل ان کے دلیز پر حل کیے جائیں نیلم کو سونے کی چڑیاں بنا دیں گے مگر عوام منتخب نمائندہ کی ایک جھلک دیکھنے کو منتظر ہے مسلم لیگ ن کی حکومت عوامی مسائل حل کرنے میں بڑی دعویدار تھی عملاً ناکام ہو چکی ہے خوش آمدی افراد آج بھی عوامی مسائل کے حل میں رکاوٹ ہیں ان علاقوں سے مسلم لیگ ن کو کامیاب کر کے بجھوایا گیا تھا دو سال ہو گئے مگر آج تک شاہ غلام قادر کی ایک جھلک ہم نہیں دیکھ سکے لوگوں نے اپنی مدد آپ کے تحت بجلی تیار کی جو تین سو سے زائد گھروں کو مہیا کی جاتی ہے اور ہر گھر سے ہم 100 روپے اس کے مینٹینس کے لیے وصول کرتے ہیں نہ حکومت ہمیں نہ بجلی دے رہی ہے نہ کو ئی تعمیر و ترقی ہو رہی اور پھر ووٹ کس کا اگر ہمارے مسائل حل نہ ہوئے تو ہم آزاد کشمیر اسمبلی کے سامنے احتجاج پر مجبور ہوں گے

Check Also

Guangzhou Bases its Further Development on Green Innovation

Guangzhou Bases its Further Development on Green Innovation GUANGZHOU, China, Dec. 16, 2018 /Xinhua-AsiaNet/Knowledge Bylanes– ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *