تازہ ترین خبریں
Home / کالم / وزیر اعظم، چیف جسٹس اور آرمی چیف کے نام کھلا خط!

وزیر اعظم، چیف جسٹس اور آرمی چیف کے نام کھلا خط!

 

 


وزیر اعظم، چیف جسٹس اور آرمی چیف کے نام کھلا خط!
کالم نگار: پروفیسر ضیاءالرحمن کشمیری۔
ای میل:zia744@hotmail.com
ٓٓٓ
آج کا کالم فوجی فاﺅنڈیشن سکول سسٹم کے تمام اساتذہ کو درپیش ایک انتہائی اہم اور حساس مسئلہ کی جانب اعلیٰ حکام کی توجہ مبذول کروانے کے متعلق ہے۔ اس مسئلہ کی اہمیت اور حساسیت کا اندازہ اس بات سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے کہ ایک لاکھ سے زائد افراد کا مستقبل براہ راست اس معاملہ سے جڑا ہوا ہے۔ اگرپی ٹی آئی کے ایم پی اے عمران علی شاہ کی طرف سے ایک بزرگ شہری کونا حق تھپڑ مارنے پر چیف جسٹس آف پاکستان محترم ثاقب نثار سو موٹو ایکشن لے کر انصاف کا عَلم بلند کرسکتے ہیں تو ایک لاکھ افراد کے مستقبل کو تاریکیوں میں دھکیلنے والے اس مسئلہ پر تو نہ صرف چیف جسٹس کوازخود نوٹس لینا چاہئے بلکہ وزیر اعظم عمران خان اور آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کو بھی اپنی ذمہ داریوں کو محسوس کرتے ہوئے فوجی فاﺅنڈیشن سکول سسٹم کے ایک لاکھ سے زائد متاثرین کو در پیش مسائل کو اولین فرصت میں حل کرکے پوری قوم اور اساتذہ کے سامنے سرخرو ہونا چاہئے۔ان متاثرین میںفوجی فاﺅنڈیشن سکول سسٹم میں زیر تعلیم پچاس ہزارطلباء، بائیس سو اساتذہ اور ان اساتذہ کے زیر کفالت پچاس ہزار کے قریب افراد شامل ہیں ۔ اپنے مسائل کو وضاحت کے ساتھ بیان کرنے اور انصاف کے حصول کے لیے فوجی فاﺅنڈیشن سکول سسٹم کے اساتذہ نے متفقہ طور پر وزیر اعظم پاکستان محترم عمران خان ، چیف جسٹس آف پاکستان محترم ثاقب نثار اور پاک فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ کے نام ایک کھلا خط تحریر کیا ہے جو سوشل میڈیا پر ہزاروں کی تعداد میں شیئر ہو چکا ہے اور لاکھوں لوگ یہ خط پڑھ چکے ہیں ۔ یہاں اس خط کے ضروری مندرجات شامل تحریر کئے جارہے ہیں، تاکہ متعلقہ اعلیٰ حکام پہلے اس مسئلہ کو سمجھیں اور پھر اس کا حل نکالنے کے لیے فوری ایکشن لیں۔ فوجی فاﺅنڈیشن سکول سسٹم کے اساتذہ لکھتے ہیں :
”محترم جناب۔۔۔
پاکستان بھر میں 106 فوجی فا¶نڈیشن سکولز چل رہے ہیں جن کا جی پی اے ٹاپ تھری سکولز سسٹم میں شمار ہوتا ہے ۔ اس قدر شاندار تعلیمی رزلٹ یقیناً فوجی فا¶نڈیشن سکول کے اساتذہ کی انتھک محنت کا نتیجہ ہے ۔ لیکن ان ہائی کوالیفائڈ اساتذہ کی محنت اور احسن کارکردگی کا صلہ یہ دیا جا رہا ہے کہ اس ادارہ کے 2200 اساتذہ کی تنخواہیں مہنگائی کے تناسب سے بڑھانے کی بجائے پچاس فیصد کے قریب کم کی جارہی ہیں اور اساتذہ کو پرانا ایگریمنٹ ختم کر کے نیا ایگریمنٹ سائین کرنے پر مجبور کیا جارہا ہے ۔ ان حالات میںسینکڑوں اساتذہ نے اس نا انصافی کے خلاف دو مرتبہ راولپنڈی میں واقع فوجی فا¶نڈیشن کے ہیڈ آفس کے باہر بھر پور احتجاج بھی ریکارڈ کروایا لیکن کچھ حاصل نہ ہوا ۔ اب فوجی فاﺅنڈیشن ہیڈ آفس کی طرف سے ہر ٹیچر کو انفرادی لیٹر جاری کر دیا گیا ہے جس میں ”نیو کنٹریکٹ پرسائین یا ریزائین” کے دو آپشن دئیے گئے ہیں۔ ہیڈ آفس کی اس ظالمانہ پالیسی کے خلاف اساتذہ کی اکثریت نے کلاسز کے بائیکاٹ اور تیسری مرتبہ سپریم کورٹ کے سامنے احتجاج کرنے کا فیصلہ کیا ہے ، جو اگرچہ کڑوا، مشکل اور تلخ ہے لیکن اس کے علاوہ اور کوئی راستہ بھی نہیں ہے ۔یاد رہے کہ فوجی فا¶نڈیشن کے تحت اٹھارہ منافع بخش انڈسٹریز چل رہی ہیںاور فوجی فاﺅنڈیشن ان انڈسٹریز کی ہر پروڈکٹ اور ہر پروجیکٹ سے تعلیم اور صحت کے لئے اربوں روپے کے فنڈز پروڈیوس کرتا ہے، جس کا ثبوت خط کے ساتھ منسلکاشتہار میں موجود ہے ۔ اس کے علاوہ یہ ادارہ بطور ٹرسٹ منظور شدہ ہے ، یعنی ٹرسٹ کی آڑ میں سالانہ کروڑوں روپے ٹیکس بھی بچایا جاتا ہے ۔ لیکن افسوس اس سب کے باوجود محض چند کرتا دھرتا افراد کی ضد، مالی مفاد اور ہٹ دھرمی کی وجہ سے ایک ممتاز تعلیمی سسٹم کو تباہ کرنے ، 2200 سو اساتذہ اور ان کے خاندانوں کا معاشی قتل کرنے اور ان 106 سکولوں میں زیر تعلیم ساٹھ ہزار کے قریب طلباءو طالبات کا تعلیمی مستقبل تاریک کرنے کا ظالمانہ بلکہ مجرمانہ فیصلہ کر لیا گیا ہے ۔ وزیر اعظم پاکستان،چیف جسٹس آف پاکستان،چیف آف آرمی سٹاف اس ظالمانہ اور ناعاقبت اندیشانہ فیصلے کا فوری نوٹس لیں اور فوجی فا¶نڈیشن سکولز کے اساتذہ کے خلاف لانچ کی جانے والی نئی پالیسی کو کالعدم قرار دیں، اس اساتذہ دشمن پالیسی کو بنانے والے افراد کے خلاف انکوائری کمیٹی بنائیں اور اس ظالمانہ فعل میں ملوث افراد کے خلاف سخت تادیبی کارروائی عمل میں لائی جائے۔ اگر ایسا نہ کیا گیا تو اساتذہ اور طلباءکا پارلیمان ،سپریم کورٹ اور آرمی چیف کے اوپر سے اعتماد اور یقین اٹھ جائے گا۔
ملتمس:
اساتذہ ، فوجی فا¶نڈیشن ماڈل سکولز۔ پاکستان۔“
یہ خط پڑھ کر ہر باشعور اور حساس دل رکھنے والے فرد کا سر شرم سے جھک جاتا ہے کہ مہذب دنیا میں اساتذہ کو کتنا بلند درجہ اور مقام دیا گیا ہے اور ہمارے ہاں اساتذہ کے ساتھ کس قدر ناروا اور سطحی بلکہ ظالمانہ سلوک کیا جاتا ہے۔ امریکا میں دو قسم کے افراد کو VIPکا درجہ دیا جاتا ہے۔ ایک سائنس دان اور دوسرے اساتذہ۔ فرانس میں عدلیہ کے حکم پر کمرہ¿ عدالت میں اساتذہ کو کرسی پر بٹھانا لازم ہے۔ جاپان میں اگر پولیس کو کسی ٹیچر کی گرفتاری کرنا مقصود ہو تو اسے وزارتِ داخلہ سے خصوصی اجازت حاصل کرنا پڑتی ہے۔ کوریا میں اساتذہ کو وہ تمام سہولیات حاصل ہوتی ہیں جو حکومتی وزیر استعمال کرتا ہے ۔ جبکہ ہمارے ہاں بد قسمتی سے قوم کے معمار اساتذہ کو ان مہذب ممالک جیسی سہولیات اور عزت ملنا تو درکنار محض اپنی تنخواہ اور بنیادی حقوق کے لیے بھی احتجاج کرنا پڑتا ہے اور قانونی جنگ لڑنا پڑتی ہے۔تدریس ایسا مقدس پیشہ ہے جو دیگر تمام پیشوں کو تخلیق کرتا ہے ، اس لیے اس کی تکریم لازم ہے۔ مثال کے طور پر فوجی فاﺅنڈیشن ادارے کے جو چند با اختیار افراد کلیدی عہدوں پر بیٹھ کر اساتذہ کے حقوق پر نقب لگانے کی کوشش کر رہے ہیں ، وہ بھی آج ان عہدوں پر صرف اس لیے ہیں کہ ان کے اساتذہ نے ان کو تعلیم فراہم کی ۔ اگر ان کے اساتذہ ان کو تعلیم فراہم نہ کرتے تو آج وہ محض ایک عضو معطل اور معاشرے پر بد بودار بوجھ کی طرح ہوتے ۔ مگر افسوس ان کو یہ بہترین شناخت دینے والے اساتذہ آج انہی لوگوںکے ہاتھوں بد ترین جبر اور استحصال کا شکارہیں ۔ یہ بات ناقابل یقین ہے کہ فوجی فاﺅنڈیشن مالی خسارے کا شکار ہے ۔ کیونکہ فوجی فاﺅنڈیشن اور اس کی اٹھارہ انڈسٹریز پاکستان کے ٹاپ 10 منافع بخش اداروں میں شمار ہوتی ہیں۔ اور یہ بات بھی مسلمہ ہے کہ فوجی فاﺅنڈیشن اپنی ان تمام ذیلی انڈسٹریز سے تعلیم اور صحت کے نام پر سالانہ اربوں روپے کے فنڈز وصول کرتا ہے ۔ مثلاً ’فوجی سیریلز‘کے ہر فوڈ آئٹم کی پیکنگ پر واضح طور پر یہ تحریر پرنٹ ہوتی ہے:
“The profits earned by Foundation projects are diverted to the health and educational projects. Thus, the money you spend on purchase of this product shall be a contribution towards this noble cause.”
صرفی یہی نہیںبلکہ ’ٹرسٹ ‘ کے نام پر فوجی فاﺅنڈیشن ہر سال کروڑوںروپے کا ٹیکس بچاتا ہے اور اس کے علاوہ فوجی فاﺅنڈیشن سکولز میں زیر تعلیم سویلین طلباءسے جو ماہانہ فیس وصول کی جاتی ہے وہ چار ہزار سے زائد ہے ، یعنی یہ بھی ایک معقول ذریعہ آمدن ہے ۔ یہ بھی شنید ہے کہ فوجی فاﺅنڈیشن مبینہ طور پر پاک فوج کے شہداءاور ریٹائر افراد کے اہل خانہ کی فلاح و بہبود کے نام پر جی ایچ کیو سے بھی بھاری فنڈز وصول کرتا ہے لیکن اس سب کے باوجود فوجی فاﺅنڈیشن سکولز کے اساتذہ کا بدترین استحصال کرنا ،ان کی تنخواہوں میں 25سے 50فیصد تک کمی کرنا اور ان کو نئے کنٹریکٹ کے لیے مجبور کرنا سراسر بددیانتی اور نا انصافی ہے۔مجھے اس تمام معاملے کے پیچھے ایک ایسے بندے کا ہاتھ محسوس ہوتا ہے جس کو بچپن میں کسی وجہ سے اپنے اساتذہ سے نفرت یا شکایت رہی اور اب وہ اس کا بدلہ فوجی فاﺅنڈیشن سکولز کے اساتذہ کو اذیت دے کر لے رہا ہے ، وہ شائد فوجی فاﺅنڈیشن ادارے کے ایم ڈی جنرل (ر)ندیم گیلانی بھی ہوسکتے ہیں ۔شائد یہی وجہ ہے کہ احتجاج کرنے والے اساتذہ ایم ڈی ندیم گیلانی کی بر طرفی کا مطالبہ بھی شد و مد سے کر رہے ہیں ۔ میں سمجھتا ہوں کہ اگر فوجی فاﺅنڈیشن کی انتظامیہ اپنے اس ظالمانہ اقدام میں کامیاب ہوبھی گئی تو ان اساتذہ اور ان کی آنے والی نسلوں تک کے دلوںمیں فوجی فاﺅنڈیشن بلکہ فوج کے خلاف کدورت رہے گی اور مختلف شکلوں میں اس کا اظہار بھی ہوتا رہے گااور ویسے بھی مظلوموں کی بد دعائیں دائمی اثر رکھتی ہیں اور قبر تک پیچھا نہیںچھوڑتیں۔ جو آج اساتذہ کے حقوق پر ڈاکہ ڈالنے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں وہ یہ بات لکھ لیں کہ ان کے لیے دنیا و آخرت کا خسارہ لکھ دیا گیا ہے ۔ یہ بھی یاد رہے کہ جو زیادتی یہ سوچ کر کی جاتی ہے کہ کوئی میرا کیا بگاڑ لے گا ، تو ایسے معاملات اللہ کے دربار میں بہت جلد پہنچ جاتے ہیں ۔
یہ بات بھی قابل گرفت ہے کہ حکومت پاکستان ہر سال وفاقی بجٹ پیش کرتی ہے اور تمام ملکی ادارے اس بجٹ میںاعلان کردہ احکامات پر عمل در آمد کے پابند ہوتے ہیں لیکن فوجی فاﺅنڈیشن وفاقی بجٹ کی حیثیت کو تسلیم نہیں کرتا ۔ اس کا واضح ثبوت یہ ہے کہ ملازمین کی تنخواہوں میں مہنگائی کے بڑھنے کے تناسب سے جو اضافہ کا اعلان حکومت ِ وقت کی طرف سے کیا جا تا ہے اس کے مطابق فوجی فاﺅنڈیشن عمل درآمد نہیں کرتا ۔ یہی وجہ ہے کہ گزشتہ چار سال میں مہنگائی کہاں سے کہاں پہنچ گئی اور پورے چار سال سے فوجی فاﺅنڈیشن نے اساتذہ کی تنخواہوں میں بجٹ کے اعلامیہ کے مطابق اضافہ نہیں کیا۔ سوال یہ ہے کہ کیا فوجی فاﺅنڈیشن وفاقی حکومت کے احکامات ماننے کا پابند نہیں ہے؟ چار سال سے اساتذہ کی تنخواہوںمیںاضافہ نہیںکیا گیا اور الٹا اب ان کی تنخواہوں میں نصف کے قریب کٹوتی کی جارہی ہے۔ کیا یہاں جنگل کا قانون ہے؟فوجی فاﺅنڈیشن کی انتظامیہ کے اس طرز عمل پر طلباءکے والدین بھی سراپا احتجاج ہیں ۔ جتنے والدین سے راقم الحروف کی بات چیت ہوئی ، ان سب کا کہنا تھا کہ اگر اساتذہ کی تنخواہیںبڑھانے کی بجائے کم کی گئیں تو ہم اپنے بچے فوجی فاﺅنڈیشن سکول سے ہٹا لیں گے کیونکہ یہ کیسے ممکن ہے کہ ایک غیر مطمئن استاد اپنے طلبہ کو یکسوئی اور محنت سے پڑھاسکے؟ اس سے تعلیمی معیار گرے گا اور فوجی فاﺅنڈیشن سکول فرسٹ کلاس کی کیٹگری سے نکل کر تھرڈ کلاس سکولز کی کیٹگری میں چلا جائے گا ۔ اس تمام تر صورتحال میں سپریم کو ”از خود نوٹس “ کے تحت کارروائی عمل میں لانی چاہئے اور وزیر اعظم پاکستان عمران خان اور آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کوبھی فوری نوٹس لے کر ایک لاکھ متاثرین کے اس معاملے کو دیکھنا چاہیے اور اس شرمناک عمل کے پس پردہ افراد کے خلاف انکوائری کروا کر ان کا نہ صرف احتساب کیا جانا چاہئے بلکہ ان کو قرار واقعی سزائیں بھی دی جانی چاہئیں تاکہ آئندہ کوئی اور اساتذہ کے حقوق غصب کرنے کی جرا¿ت نہ کر سکے ۔اور اگر ان ایک لاکھ متاثرین کے مسئلہ کو ترجیحی بنیاد پر حل نہ کیا گیاتو یاد رہے کہ ان کا جمہوریت ، انصاف اور سپہ سالار کے اوپر اعتماد بری طرح مجروح ہوگا۔ پس کوئی ہے جو ان باتوں پر غور و فکر کرے !!

Check Also

‫شہر وجود پاتا ہے جب ہوائی اڈہ ابھرتا ہے: گوانگچو میں ورلڈ روٹس 2018ء شروع گوانگچو، چین، 17 ستمبر 2018ء/سنہوا-ایشیانی

‫شہر وجود پاتا ہے جب ہوائی اڈہ ابھرتا ہے: گوانگچو میں ورلڈ روٹس 2018ء شروع ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *