Home / کالم / پروفےسر سےد محمد سلےمان ا شرف بہاریؒ اور دو قومی نظرےہ

پروفےسر سےد محمد سلےمان ا شرف بہاریؒ اور دو قومی نظرےہ

 

 

پروفےسر سےد محمد سلےمان ا شرف بہاریؒ اور دو قومی نظرےہ
محمد احمد ترازی کی انقلاب آفرےن تحقےقی کتاب
صاحبزادہ مےاں محمد اشرف عاصمی
قارئےن اکرام اِس قحط الرجال کے دور مےں بھی اےسی ہستےاںموجود ہےں جو کہ اسلاف کی خدمات کو اپنے لےے چراغ راہ گردانتی ہےں اور اُن کے مشن کے فروغ کے لےے تگ وتاز جاری رکھے ہوئے ہےں۔ جناب محمد احمد ترازی بھی اےسی ہی ہستی کا نام ہے جنہوں آج کے اِس دور مےں بھی اسلاف کے کارناموں سے ہمےں روشناس کروانے کی ذمہ داری اپنے سر لے رکھی ہے اور اےک انقلاب آفرےں اور تحقےقی کتاب قوم کو دی ہے۔ ےقےنی طور پر جناب محمد احمد ترازی قوم کا فخر ہےں۔ جناب محمد احمد ترازی کی تحرےروں سے استفادہ کرتا رہتا ہوں اور اِن کی جانب سے لکھے گئے کئی اہم اےشوز پر مقالا جات مےرئے لےے ہمےشہ ممدومعاون رہے ہےں۔جناب محمد احمد ترازی نے اُنےسوےں صدی مےں عالم اسلام اور بالخصوص مسلمانان ہند مےں قومی و ملی شعور بےدار کرنے والی عظےم ہستی جناب پروفےسر سےد سلےمان اشرف بہاریؒ کی تحرےک ِ خلافت، ترکِ موالات، ہجرت ،ہندو مسلم اتحاد اور ترکِ گاو کشی کے حوالے سے مسلمانان ہند کی رہنمائی اور گاندھی اور گاندھی کے چےلوں کی منافقانہ سےاست کے پردئے کو چاک کےے جانے کے حوالے سے جناب پروفےسر سےد سلےمان اشرف بہاریؒ کے بھرپور کردار پر روشنی ڈالی ہے۔ اِس حوالے سے جناب محمد احمد ترازی نے اےک مکمل تحقےقی دستاوےز تےار کی ہے ۔ اِس کتاب کا ہر باب اےک مکمل دستاوےز ہے۔پہلا باب جس کا عنوان کتابِ زندگی ہے اِس مےں جناب سےد سلےمان اشرف بہاریؒ کی شخصےت کے والے سے بھرپور تحقےق کی گئی ہے جو کہ موجودہ نسل کے سکالرز کے لےے اےک بےش بہا قےمتی علمی تحفہ ہے۔اِسی طرح باب دوئم کاعنوان دو قومی نظرےہ آغاز و ارتقاءہے اس باب مےں شےخ عبدالحق محدث دہلوی سے محدث برےلوی تک کی تگ وتاز کا ذکر ہے۔اِسی طرح تےسرئے باب مےں جناب احمد ترازی نے شعور کی بےداری کے نام سے ترتےب دئے جانے والے باب مےں سےد سلےمان اشرف اور عالم کفر کی طاغوتی ےلغار اور جناب سےد سلےمان اشرف کا نظرےہ دےن و سےاست کا تذکرہ کےا ہے۔ باب چہارم جس کا عنوان جدےد علوم اور جذبہ آزادی ہے اِس مےںجناب سےد سلےمان اشرف بہاریؒ کی اُن کاوشوں کا احاطہ کےا ہے جن مےں اُنھوں نے ہندوں کے ساتھ کانگرسی ملاﺅں کے گٹھ جوڑ کا توڑ کےا۔باب پنجم تحرےک ترکِ گاﺅ کشی اور تحفظ شعائر اسلامےہ کے عنوان کے تحت ہے جس مےں جناب سےد سلےمان اشر ف بہاریؒ کی جانب سے ترک گاﺅ کشی کے حوالے سے مسلمانوں کے نقطہ نظر کو بھر پور طرےقے سے پےش کےا گےا۔باب ششم کا عنوان ہندو مسلم اتحاد ہے اِس حوالے سے جناب سےد سلےمان اشرف بہاری ؒ کے اِس کردار جو اُنھوں نے جناب محدث برےلوی کی سرپرستی مےں ہندوں کی اِس سازش کا پردہ چاک کرتے ہوئے مسلمانوںکوگاندھی کے نام نہاد ہندو مسلم اتحادد کے بہروپ سے بچاےا۔ باب ہفتم کا عنوان ملی تحرےکات اور دو قومی نظرےہ ہے اِس مےں کافی تفصےل کے ساتھ تارےخ کے گوشوںسے آگاہی کروائی گئی ہے جناب محمد احمد ترازی نے کمال تحقےق کی ہے۔ سب سے بڑی بات اُن کی جانب سے اےک اےک جملے کا حوالہ دےا گےا ہے گوےا ےہ کتاب تارےخ کا اےک انمنٹ باب ثابت ہوگی۔ جو کہ سکالرز کے لےے چراغ راہ کا کام کرئے گی۔مجھے جناب محمد احمد ترازی کی تحقےق پی اےچ ڈی لےول کے مقالے کی مانند محسوس ہوئی ہے۔ اللہ پاک جناب محمد احمد ترازی کے قلم کو ہمےشہ ملک و قوم کی رہنمائی کے لےے قائم دائم رکھے۔۔ کتاب کے مرکز و محور جناب سےد سلےمان اشرف بہاری ؒ کی زندگی کا کچھ خلاصہ قارئےن کے سامنے پےش کرتا ہوں۔ پروفیسر علامہ سیّد سلیمان اشرف بہاری جو مصنف محقق اور ماہر تعلیم تھے یہ ا شرف المحقق¸ن کے نام سے معروف ہیں۔سید سلیمان اشرف کی ولادت1295ھ/ 1878ءمحلہ میر داد، بہار، ضلع نالندہ، بہار مےں ہوئی۔آپ کے والد گرامی مولانا حکیم سید عبد اللہ کا تعلق حضرت بی بی صائمہ، خواہر حقیقی مخدوم اشرف جہانگیر سمنانی المعروف غوث العالم کے خلف و فرزندمخدوم سید درویش، بھیہ شریف، ضلع گیا، بہار سے تعلق تھا۔آپ اپنے استاذ گرامی قاری نور محمد چشتی نظامی فخری اصدقی سے بیعت و ارادت رکھتے تھے۔ سید سلیمان اشرف بہاریؒ کا تعلق خاندان اشرفیہ سے تعلق تھا اور جب سلسلہ اشرفیہ کے عظیم بزرگ سید علی حسین اشرفی میاں جیلانی کچھوچھوی ؒسے ملاقات ہوئی تو ان سے سلسلہ اشرفیہ میں طالب ہو گئے اور خلافت سلسلہ قادریہ چشتیہ اشرفیہ منوریہ سے نوازے گئے- نیز سلسلہ قادریہ برکاتیہ رضویہ میں اعلیٰ حضرت امام احمد رضا محدث بریلویؒ سے بھی خلافت و اجازت حاصل ہوئی تھی۔1903ءمیں نواب صدر یار جنگ مولانا حبیب الرحمٰن شیروانی کی کوشش سے مسلم یونیورسٹی، علی گڑھ کے شعبہ دینیات میں پروفیسر کی حیثیت سے آپ کی تقرری ہوئی۔ بعد ازاں صدر شعبہ دینیات کے عہدے پر فائز ہوئے۔ آپ علی گڑھ یونیورسٹی کے شعبہ دینیات کے سب سے پہلے صدر تھے-علی گڑھ مسلم کالج کے خلاف جب مولانا ابو الکلام آزاد، مولوی محمود الحسن دیوبندی اور مولانا محمد علی جوہر نے زبردست تحریک چلائی تو سید سلیمان اشرف بہاری نے مولانا حبیب الرحمٰن شیروانی اور ڈاکٹر سر ضیاءالدین کے ساتھ مل کر اس ادارے کی بھر پور حمایت کی اور مکمل دفاع کیا۔
آئےے جناب سےد سلےمان اشرف بہاریؒ کے علمی کام پر اےک طائرانہ نظر ڈالتے ہےں (1) المبین عربی زبان کی فوقیت اور برتری پر ایک مایہ ناز علمی و تحقیقی کتاب۔ نواب صدر یار جنگ مولانا حبیب الرحمٰن شیروانی، شاعر مشرق علامہ اقبال اور مشہور مستشرق پروفیسر برا¶ن جیسے ماہرین لسانیات نے اس کتاب کی تعریف و توصیف کی ہے۔ کتاب کی اہمیت و افادیت کے پیش نظر بر صغیر کی عظیم درس گاہ جامعہ اشرفیہ، مبارکپور، کے درجہ فضیلت میں داخل نصاب ہے۔ (2) النور: دو قومی نظریہ پر لاجواب کتاب ہے ۔ (3) الرشاد: گائے کی قربانی کے موضوع پر بے مثال کتاب ہے۔ (4) الانھار: حضرت امیر خسرو کی مثنوی ”ہشت بہشت“ پر ایک فصیح وبلیغ اور محققانہ و فاضلانہ مقدمہ جو 550 صفحات پر مشتمل ہے۔ نواب حبیب الرحمٰن شیروانی نے اس کتاب کو شبلی کی ”شعرالعجم“ سے بہتر قرار دیا ہے۔ کتاب کا موضوع فارسی شعر و ادب کی تاریخ ہے۔ (5) السّبیل: مسلم یونیورسٹی علی گڑھ کے نصابِ تعلیمات اسلامیہ کے لیے تجاویز۔ (6) الحج: حج و زیارت کے موضوع پر ایک عمدہ تصنیف، جس کا مقدمہ صدر یار جنگ بہادر مولانا حبیب الرحمٰن شیروانی صدر الصدور امور مذہبی ریاست حیدرآباد، دکن نے لکھا اور کہا کہ: حج و زیارت کے موضوع پر سب سے اچھی کتاب ہے۔ (7) نزہة المقال فی لحیة الرجال: عدمِ جوازِ حلق لحیہ یعنی داڑھی منڈوانے، ترشوانے اور ایک مشت سے کم رکھنے کی حرمت و ممانعت پر علمی اور تحقیقی رسالہ۔ ایک سو پندرہ (115) سال قبل یہ کتاب مسلم یونیورسٹی علی گڑھ سے شائع ہوئی تھی اور اب اشرفیہ اسلامک فا¶نڈیشن، حیدرآباد، دکن سے مولانا طفیل احمد مصباحی کی تحقیق و تخریج کے ساتھ دوبارہ شائع ہو رہی ہے۔ (8) البلاغ: مسلمانوں کے ملّی انحطاط، بے عملی، بدنظمی اور خلافتِ عثمانیہ کے تاریخی واقعات کے تناظر میں ملت اسلامیہ کے لیے ایک جامع اور پر سوز رہنما تحریر ہے (9) الخطاب: تقریر اور لکچرر کا مجموعہ ہے۔سید سلیمان اشرف کا 5? ربیع الاول 1358ھ/ 25 اپریل 1939بعمر 63 سال انتقال ہوا اورمسلم یونیورسٹی، علی گڑھ میں شیروانیوں کے قبرستان میں آپ کی تدفین ہوئی۔آپ نے۱۹۲۱-­۱۹۲۰ءمیں ”تحریک ترک موالات“ کی پر زور مخالفت کی اور اسی تناظر میں ”النور“ جیسی بلند پایہ کتاب کی تصنیف کی- 1925 میں آل انڈیا سنی کانفرنس میں شرکت کی۔مارچ ۱۹۲۱ءمیں جماعت رضائے مصطفیٰ، بریلی شریف کی جانب سے اہل سنت کے دینی و سیاسی افکار کی وضاحت اور معاندین اہل سنت کے نظریات و معمولات کا بھرے مجمع میں پردہ فاش کیا اور مولانا ابو الکلام آزاد جیسے زور آور خطیب کا ناطقہ بند کر دیا۔ اس کانفرنس کی روداد سناتے ہوئے صدر الافاضل علامہ سید نعیم الدین اشرفی مرادآبادی، اعلیٰ حضرت امام احمد رضا محدث بریلوی کو اپنے ایک مکتوب میں لکھتے ہیں۔”پورا میدان مولانا سلیمان اشرف صاحب کے ہاتھ میں رہا۔“
آپ کے ہم عصر علمائے اہل سنت کے نام ےہ ہےں(۱) حجة الاسلام حضرت علامہ حامد رضا خان بریلوی-(۲) حضرت مولانا معین الدین اجمیری-(۳) حضرت علامہ دیدار علی شاہ نقشبندی الوری-(۴) صدر الافاضل علامہ سید نعیم الدین اشرفی مرادآبادی-(۵) صدر الشریعہ حضرت علامہ امجد علی قادری رضوی اعظمی-(۶) ملک العلما حضرت علامہ سید ظفر الدین قادری رضوی بہاری-(۷) حضرت مولانا قاضی عبد الوحید صدیقی فردوسی عظم آبادی-(۸) قطبِ مدینہ حضرت علامہ ضیاءالدین صدیقی قادری رضوی مہاجر مدنی-(۹) سلطان الواعظین حضرت مولا عبد الاحد قادری پیلی بھیتی-(۱۰) استاذ العلما حضرت علامہ مفتی نثار احمد چشتی کان پوری-(۱۱) عالم ربانی حضرت علامہ سید احمد اشرف اشرفی جیلانی کچھوچھوی-(۱۲) محدث اعظم ہند حضرت علامہ سید محمد اشرفی جیلانی کچھوچھوی-(۱۳) صاحب الاقتدار حضرت مولانا عبد المقتدر قادری مجیدی بدایونی-(۱۴) حضرت علامہ سید عبد الرشید قادری عظیم آبادی-(۱۵) حضرت علامہ رحیم بخش آوری- (۱۶)- حضرت علامہ سید عبد الرحمٰن قادری بھاگلپوری ہےں۔غرض ےہ کہ جناب محمد احمد ترازی نے تحرےک پاکستان کی تحرےک مےں دو قومی نظرےہ کے عظےم داعی جناب سےد سلےمان اشرف بہاریؒ پر اےک مکمل دستاےز تےار کرکے پاکستان اور اُردو جاننے والوں کی بہت بڑی خدمت کی ہے۔

Check Also

بعثت و نبوتﷺ پر ایمان کی معراج

بعثت و نبوتﷺ پر ایمان کی معراج تحریر۔۔۔ رشید احمد نعیم ، پتوکی حضور صلی ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *