Home / کالم / پولیس گردی نہیں چلے گی

پولیس گردی نہیں چلے گی

 

 

پولیس گردی نہیں چلے گی
تحریر:علی جان (لاہور)
aj119922@gmail.com
پولیس کے حالیہ تشدداورہلاکتوں نے پولیس اورحکومت کو شدیدتنقیدکانشانہ بنایااسی وجہ سے حکومت نے فوری طورپرپولیس اصلاحات کاعندیہ دیاپولیس کے تفتیشی افسروں کوتفتیش سکھانے اورتفتیش کیلے جدید تیکننالوجی کے استعمال کیلئے لاہورمیں پولیس کاتحقیقاتی سکول قائم کردیاجس میں جدیدتقاضوں کے مطابق ماہرتفتیشی افسربنایاجائے گااوریہ سکول ایک ہی سال میں 2000تفتیشی افسران کو تربیت فراہم کرے گا۔کوئی بھی عمارت ہوجب تک اس کے ستون مضبوط نہیں ہونگے وہ زیادہ دیرنہیں ٹھہرسکتی ہماری فوج ہرقدم پرہماری حفاظت اورہمیں دشمنوں سے بچاتی ہے الیکشن ہوں،محرم الحرام کی سیکورٹی کی ذمہ داری ہویاپولیومہم اس کے علاوہ کئی ایسی ذمہ داریاں ہیں جس میں ہماری فوج ذمہ داریاں نبھارہی ہے حالانکہ یہ کام پولیس کے کرنے کے ہیں مگرافسوس پولیس مضبوط ستون بننے کے بجائے اپنی ہی عوام پرآئے روز ظلم وتشدد کرتے نظرآتے ہیں چھوٹاساکانسٹیبل ہی کیوں نہ ہو وہ خود کوایسے سمجھتاہے کہ وہ SHOلگ گیاہے اورکوئی عام شہری اس کی زد میں آجائے تواس کی خیرنہیں اس بات میں کوئی شک نہیں کہ ہم اگرگھروں میں سکون کی نیدسورہے ہیں تواس میں ہماری فوج کے ساتھ پولیس کابھی اہم رول ہے مگرچندگندی مچھلیوں کی وجہ سے پوراڈیپارٹمنٹ بدنام ہوگیاہے کیونکہ ان میں برداشت تک نہیں سوال پوچھنے پرمارنے لگتے ہیں حالانکہ تحریک انصاف بڑے دعوے کرتی تھی کہ پولیس اصلاحات کے ذریعے پولیس کانظام تبدیل کردیں گے مگرجولائی 2019کولاہورہائی کورٹ میں ایک مقدمہ کی سماعت کے دوران جج نے صوبے کی پوری پولیس فورس کوفارغ کرکے نئی بھرتیوں کے ریمارکس دیے جویقینا ان لوگوں کیلئے لمحہ فکریہ ہے جوکہتے ہیں ساری پولیس اچھی اورایماندارہے اسی سال میں سندھ میں بھی پولیس گردی کاایک بڑاواقعہ پیش آیا جب سندھ عدالتوں میں کاروائی میں مداخلت کرنے کی پاداش میں 500پولیس اہلکاروں کوگرفتارکرنے کاحکم دیا۔پولیس کی نوکری آسانی سے نہیں ملتی کتنی پڑھائی محنت اورتگ ودو کرنی پڑتی ہے پنجاب میں دوطرح کے افسران ہیں 1پی ایس پی افسران جوڈائریکٹ 17گریڈپراے ایس پی بھرتی ہوتے ہیں اور22گریڈآئی جی تک ترقی کرپاتے ہیں ۔جوپولیس اہلکارکانسٹیبل بھرتی ہوتے ہیں وہ انسپکٹرتک ترقی کرپاتے ہیں ۔پنجاب سروس پبلک کمیشن والوں کو22سال بعدایک ترقی ملی 1993میں ASPبھرتی ہونے والے آج ایڈیشنل آئی جی بننے والے ہیں جبکہ 1993میں انسپکٹربھرتی ہونے والے SPبن سکیںگے اسی طرح1995میں ASPبھرتی ہونے والے DIGکے عہدے پرپہنچ چکے ہیں مگرمشرقی اورمغربی پاکستان میں پولیس ایک ہی سربراہ کے تحت کام کرتی رہی ،پولیس کی تحویل میں ملزمان کی ہلاکتوں کے پے درپے واقعات دراصل پولیس کے اس بوسیدہ نظام کی بدبودارعلامتیں ہیں پولیس میں دوران تفتیش بدترین تشددکے کے رجحانات میں اضافہ صرف اسی وجہ سے ہواکیونکہ آج تک ایسے جتنے بھی واقعات ہوئے ان میں پولیس کوکڑی سزائیں نہیں دی گئیں تھوڑی دیرکیلئے معطل توکیاجاتامگرمہینے کے اندراندرواپس بحال کردیاجاتارہاہے جس کیوجہ سے ایسے واقعات میں اضافہ ہونا حیرانی کی بات نہیں جیسے کہ صلاح دین کیلئے کچھ پولیس افسران کومعطل کردیااورکسی کوپتہ بھی نہیں چلے گاکہ وہی افسردوبارہ تعینات ہوجائیں گے اگرمعاملات بڑھ جائیںتو پولیس اپنے پیٹی بھائیوں کوجیل میں توبندکردیتی ہے اوران افسروں کے ٹاﺅٹ مقتول کے ورثا سے مل کران کوپیسے یادھمکاکرصلح کروالیتے ہیں اورایسے مجرم رہاہوجاتے ہیںمگراس میں بہتری سنائی میں آئی کہ 16ستمبرکو آئی جی پنجاب نے مراسلہ جاری کیاتھاجس میں کہاگیاتھا کہ تھانے میںمتعلقہ ملزم کی تشددکے دوران ہلاکت پرمتعلقہ SHOاورDPOکے خلاف مقدمہ درج ہوگااورSHOکوبلیک لسٹ کردیاجائے گاوہ کبھی SHOتعینات نہیں ہوگا جس کے بارے میں سچ بھی ہواجب ابھی چونیاں میں بچے قتل ہوئے تومظاہرین نے احتجاج کے دوران تھانے پرپتھراﺅ کیااوراس کے بعدSHOکومعطل کردیاگیا۔ یہ اچھااقدام ہے مگرمیں اس چھوٹے سے آرٹیکل میں ظلم کی کیاتفصیل لکھوں سچ تویہ ہے کہ میرے ملک کاقانون بے بسی اورناکامی کی تصویربناہواغریبوں کامنہ چڑارہاہے ہرآنے والی حکومت پولیس نظام بدلنے کے خواب دیکھاتی ہے لیکن پنجاب پولیس کے ظلم وستم سے ارباب ِ اختیاربے خبرہیں ان کے ظلم وستم سے کتنے نوجوان اپاہج ہوچکے ماورائے عدالت ہونے والے قتل کی ان گنت ایسی داستانیں جن کوسننے کاہرکس وناکس میں توازن نہیں پنجاب پولیس خوف کی علامت بن چکی ہے ۔قانون کی دھجیاں اڑانے بے گناہ کومجرم ثابت کرنے مافیااوربااثرافرادکی سرپرستی اورغریبوں پرقہربن کرٹوٹنا یہ اپنی ڈیوٹی سمجھتے ہیں ۔پنجاب پولیس ملک الموت بنی ہرسوخوف وہراس پھیلارہی ہے کوئی دن ایسانہیں ہوتاجب پولیس کے ظلم وستم کی خبرمیڈیاپرنہ چلی ہومگراس کے بعدبھی CTO لیاقت ملک کابیان آیا کہ 14,15سال پہلے کی ویڈیوچلاکرمیڈیاپولیس محکمے کوبدنام کرنے کی ساز ش کررہاہے مگرکل کے اخبارمیں تازہ خبرپڑھنے کوملی کہ شیخوپورہ میں پولیس اہلکارکابیوی پرتشددٹانگ توڑدی اورہسپتال چھوڑکرجاتے ہوئے دھمکی دی کہ اگرکسی کوبتایاتوجان سے ماردوںگااب سوال یہ اٹھتاہے جواپنی شریک حیات کے ٹانگ توڑسکتے ہیں ان کو عوام کی گردن توڑنے میں کیاتکلیف ہوگی؟۔

Check Also

کشمیر اور امت مسلمہ۔۔۔!

  کشمیر اور امت مسلمہ۔۔۔! مقبوضہ کشمےر کے تقرےباً اسی لاکھ افراد5اگست سے اپنے گھروں ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *