Home / نیوز / پی سی بی سری لنکن ٹیم کی پاکستان آمد کیلیے پُرامید

پی سی بی سری لنکن ٹیم کی پاکستان آمد کیلیے پُرامید

سری لنکا کو آنا چاہیے ، مجھے نہیں معلوم خدشات کے پیچھے کون ہے، سرفراز۔ فوٹو: فائل

 لاہور / کراچی:  چیئرمین پی سی بی احسان مانی سری لنکن ٹیم کی پاکستان آمد کیلیے پُرامید ہیں۔

قذافی اسٹیڈیم میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے چیئرمین پی سی بی احسان مانی نے کہا کہ سری لنکن بورڈ سے بات چیت چل رہی ہے۔ ان کی طرف سے کوئی منفی چیز سامنے نہیں آئی کہ پاکستان نہیں آنا چاہتے،وہ اپنی حکومت سے کلیئرنس کی بات کررہے ہیں۔

چیئرمین نے کہا کہ سری لنکن بورڈ کا رویہ آپ نے دیکھ لیا،ان کی جانب سے چند کرکٹرز کو این او سی نہیں دیے گئے اورپابندکردیا گیاکہ اگر آپ پاکستان نہیں جاتے تو اس دوران کہیں اور بھی نہیں کھیلیں گے۔ امید ہے کہ سری لنکن ٹیم دورے پر آئے گی اور تمام میچز پاک سرزمین پر ہی ہونگے۔

انھوں نے کہا کہ ہمارا فیصلہ بہت واضح ہے کہ سری لنکا کے خلاف ہوم سیریز ملک میں ہوگی، نیوٹرل وینیو کا اب وقت نہیں ہے، دورے کیلیے اسکواڈ کا انتخاب ایس ایل سی کو کرنا ہے، ہمارے لیے اہم بات یہ ہے کہ پاکستان میں انٹرنیشنل میچز کا انعقاد ہوگا۔

دوسری جانب کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کپتان سرفراز احمد نے سری لنکا کرکٹ ٹیم سے درخواست کی وہ پاکستان کا دورہ کرے، انھوں نے کہاکہ پاکستان محفوظ ملک ہے، مہمانوں کو بھرپور سیکیورٹی دیں گے،دورے کے حوالے سے ہمیں اچھی امید رکھنی چاہیے۔ سیریز کے انعقاد کیلیے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ کراچی اور لاہور کی انتظامیہ کی جانب سے بھر پور اقدامات کیے جارہے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ مجھے نہیں معلوم کہ سری لنکن خدشات کے پیچھے کون ہے، یہ سیاسی بات ہے جو میرا کام نہیں، پی سی بی نے ملک میں کرکٹ کی بحالی کیلیے گذشتہ 10برس میں بہت کاوشیں کی ہیں، 3 سال میں اس حوالے سے بہت زیادہ پیش رفت بھی ہوئی،دہشت گردی کے باوجود ہماری قومی جونیئر ٹیم نے حال ہی میں سری لنکا کا دورہ کیا، آئی سی سی اور دیگر ممالک کے کرکٹ بورڈز کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ پاکستان کو سپورٹ کریں تاکہ ملک میں انٹرنیشنل کرکٹ بحال ہو۔

Check Also

نیب میں منی لانڈرنگ اور دہشتگردوں کی مالی امداد کے خلاف شعبہ قائم

 اسلام آباد: قومی احتساب بیورو (نیب) کے ہیڈکوارٹرزمیں اینٹی منی لانڈرنگ اور کمبیٹنگ دی فنانسنگ آف ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *