Home / کالم / پی ٹی ایم کے بعداب پشتون کونسل۔ ؟

پی ٹی ایم کے بعداب پشتون کونسل۔ ؟

 

پی ٹی ایم کے بعداب پشتون کونسل۔ ؟
عمرفاروق /آگہی
آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے گزشتہ روز افغان دارالحکومت کابل کا دورہ کیا، جہاں آرمی چیف جنرل قمرجاوید باجوہ کی افغان صدر اشرف غنی اور افغان مصالحتی کونسل کے چیئرمین عبداللہ عبداللہ سے ملاقاتیں ہوئیں ،اس موقع پرڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید اور افغانستان کے لیے حال ہی میں تعینات ہونے والے پاکستان کے نمائندہ خصوصی محمد صادق بھی ساتھ موجود تھے،آرمی چیف کایہ دورہ نہایت اہمیت کاحامل ہے، طالبان اورامریکہ امن معاہداور افغان صدر اشرف غنی کے دوبارہ صدر منتخب ہونے کے بعد پاکستان کی طرف سے اعلی سطح کا یہ پہلا دورہ ہے،اس دورے سے قبل آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے افغانستان کے لیے امریکی نمائندہ خصوصی زلمے خلیل زاد نے جی ایچ کیومیں ملاقات کی تھی،اس دورے میں پاکستان سے افغان مہاجرین کی باعزت واپسی ،بارڈرمینجمنٹ ،اورانٹرافغان امن مذاکرات سمیت اہم ایشوزپربات چیت ہوئی ۔
29فروری 2020کو امریکا اور افغان طالبان کے درمیان ہونے والے امن معاہدے کے بعد سے کئی ممالک ،تنظیموں اورشخصیات کوپریشانی لاحق ہے وہ اس معاہدے کوسبوتاژکرنے کے لیے سرگرم ہیں مختلف سازشیں کی جارہی ہیں پشتون حقوق کے تحفظ کی نام نہادٹھیکیدارپی ٹی ایم اس امن معاہدے کے بعد مسلسل یہ پروپیگنڈہ کررہی ہے کہ قبائلی علاقوں میں طالبان کی دہشتگردانہ کارروائیوں کے بڑھ گئی ہیں، جن میں اغوا، ٹارگٹ کلنگ، فنڈز اکھٹا کرنا، تنظیم نو اور دہشت گردوں کی نئی بھرتیاں شامل ہیں،پی ٹی ایم یہ تاثردے رہی ہے کہ ان دہشت گردوں کوسرکاری سرپرستی حاصل ہے ۔
اس پروپیگنڈہ کے ذریعے وہ اپنے مذموم مقاصدحاصل کرناچاہتے ہیں،پی ٹی ایم عالمی دنیاکویہ باورکروارہی ہے کہ قبائلی علاقوں میں پاکستانی حکام ایک بار پھر طالبان کو جمع کر کے قوت فراہم کررہے ہیں تاکہ افغانستان سے امریکی افواج کے انخلاء کے وقت جنگ کر سکیں۔اس سے خیبرپختون خوا کے امن کو ہی نہیں بلکہ عالمی امن کو خطرہ ہے۔حالانکہ گزشتہ دوماہ میں قبائلی علاقوں میں پاک فوج اورسیکورٹی فورسسزدہشت گردوں کے نشانے پرہیں اورسب سے زیادہ پاک فوج کانقصان ہواہے ۔
پشتون تحفظ موومنٹ کے عزائم وارادے ان تنظیموں سے مختلف نہیں جو بعض غیر ملکی قوتوں کی آلہ کار بن کر پاکستان مخالف مشن پر کمر بستہ ہیں۔ پی ٹی ایم نے اپنے قیام کے ساتھ ہی پاک فوج کو مرکزی ہدف بنا رکھا ہے، قبائلی علاقوں میں کالعدم تحریک طالبان سمیت دیگر دہشت گرد تنظیموں کے خلاف پاک فوج کی مؤثر کارروائیوں کی بدولت مقامی پختونوں کو بڑی حد تک ریلیف ملا، اسی ریلیف کی وجہ سے پشتون تحفظ موومنٹ کا قیام بھی عمل میں لایا جا سکا ورنہ اس سے قبل جب ان علاقوں میں کالعدم تحریک طالبان اور دیگر دہشت گرد گروپس سرگرم عمل تھے، پی ٹی ایم کے کسی رہنماء میں اتنی ہمت بھی نہیں تھی کہ وہ ان دہشت گرد تنظیموں کے خلاف آواز بلند کر سکے، پاک فوج کی غیر جانبدار کارروائیوں کی بدولت علاقائی امن و استحکام پیدا ہوا، جس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے پی ٹی ایم کے رہنماء علی وزیر اور محسن داوڑ قومی اسمبلی کی نشستوں پر کامیاب ہو سکے۔ تاہم پی ٹی ایم نے اس صورتحال پر پاک فوج کا احسان ماننے کے بجائے الٹا پاک فوج کو ہی ہدف تنقید بنا لیا۔
واقفان حال کے مطابق پی ٹی ایم کا قیام بعض غیر ملکی قوتوں کی پاکستان مخالف سازش کا حصہ ہے لھذا یہی وجہ ہے کہ پی ٹی ایم ایک مخصوص ایجنڈے کے تحت مسلسل پاک فوج کو ہی اپنے جھوٹے اور بے بنیاد زہریلے پروپیگنڈے کا نشانہ بنا رہی ہے۔ایک رپورٹ کے مطابق پی ٹی ایم نے آگے بڑھتے ہوئے اب دنیا کے مختلف ممالک میں پاکستان اور پاک فوج کے خلاف منافرت آمیز اور اشتعال انگیز مہم کیلئے متعدد ہ ہم نوا گروپس بھی تشکیل دے دیئے ہیں ، جن میں پشتون کونسل امریکہ، پشتون کونسل برطانیہ، پشتون کونسل جرمنی، پشتون کونسل بیلجیئم اور پشتون کونسل کینیڈا کے نام شامل ہیں۔
یکم مئی 2020 کو جنوبی وزیرستان میں پی ٹی ایم رہنماء عارف وزیر کے قتل کے بعد پشتون کونسل امریکہ نے انٹرنیشنل میڈیا کے نام ایک اعلامیہ جاری کیا، جس میں عارف وزیر کے قتل کی مذمت کرتے ہوئے پاک فوج پر انتہائی بے بنیاد گھناؤنے الزامات عائد کرتے ہوئے تحریرکیاکہ پی ٹی ایم پاکستان میں پشتونوں کے حقوق کی ایک تحریک ہے جس کا مقصد پاکستان میں ماورائے عدالت قتل ،جبری گمشدگی اور ریاست کی جانب سے شروع کی جانے والی دہشت گردی کے خلاف آواز اٹھانا ہے۔اس تحریک کا مطالبہ ہے کہ گذشتہ 15 سالوں میں پاکستان کے قبائلی علاقوں میں ہونے والے فوجی آپریشن دوران پاکستانی حکام کی جانب سے یہاں کے لوگوں کے جو انسانی حقوق مجروح ہوئے اس کی تحقیقات کے لئے ایک کمیشن تشکیل دیا جائے۔
پشتون کونسل امریکہ نے مزیدلکھا کہ پاکستانی فوج کی جانب سے عارف وزیر کے قتل کے بعدان کے خلاف سوشل میڈیا کیمپین چلائی جس کی قیادت گورنر پنجاب پاکستان کے آفیشل ٹیوٹر اکاؤنٹ سے کی گئی۔یہ بات اس شک میں مبتلا کرتی ہے کہ عارف وزیر کو گڈ طالبان نے قتل کیا ہے جو کہ پاکستان کی فوجی اسٹیبلشمنٹ کا اثاثہ ہیں۔ پی سی اے پاکستان کے علاقے خیبر پختون خوا خاص کر فاٹا کے علاقوں میں طالبان کی بڑھتی ہوئی کارروائیوں کی پر زور مذمت کرتی ہے ۔
مزیدکہاگیاکہ پشتون تحفظ موومنٹ کے آغازسے ہی پاکستانی حکام کی جانب سے چھوٹے سے چھوٹے اختلاف کو بھی دبانے کیلئے کئی سرکاری حربے استعمال کئے گئے ہیں جن میں اینٹی ٹیرر ازم، سائبر کرائم اور 3MPO پبلک آرڈر جیسے اقدامات شامل ہیں۔ پشتون تحفط موومنت کے کارکنان کو دھمکانا، مارنا، حراست میں رکھنا، گمشدہ کرنا اور قتل کیا جانا بھی شامل ہے۔ پی سی اے مطالبہ کرتی ہے کہ عارف وزیر کے قتل کی صحیح طریقے سے تفتیش کی جائے اور جو بھی اس میں ملوث ہے اس سے جواب طلب کیا جائے اور اس بات کا بھی مطالبہ کرتی ہے کہ خیبر پختون خوا میں پاکستانی حکام کی سربراہی میں ہونے والی طالبان کی دہشت گردی کو روکا جائے۔
پشتون کونسل امریکا کے اس شرمناک اعلامیہ کے بعد اقوام متحدہ، جنیوا کنونشن اور یورپی یونین کے اجلاس میں شرکت کیلئے فضل آفریدی ایڈوکیٹ اور عبدالوسیع پشتون کی سربراہی میں پی ٹی ایم کا ایک وفد بھیجا گیا، جس نے وہاں ریاست پاکستان اور پاک فوج کے خلاف جھوٹے اور بے بنیاد الزامات عائد کرتے ہوئے عالمی رہنماؤں کو بریفنگ دی۔ حال ہی میں پی ٹی ایم اور انکی سرپرست قوتوں نے پشتون کونسل جرمنی کو بھی متحرک کیا ہے جو جرمنی حکومت سے رابطہ کاری کے ساتھ ساتھ مقامی میڈیا اور سوشل میڈیا پر جرمن زبان میں منافرت آمیز مہم میں مصروف ہے۔
پی ٹی ایم کے بعد اب اس کے بغل بچے پشتون کونسل کے یہ مذموم عزائم اورمنصوبے کسی صورت ریاست کے مفادمیں نہیں ،ایک طرف یہ سازشیں ہیں تودوسری طرف چیف آف آرمی سٹاف خطے میں قیام امن کے لیے کوشاں ہیں وہ پاکستان میںامن کے ساتھ ساتھ افغانستان میں بھی امن اورخوشحالی کی بہاریں دیکھناچاہتے ہیں پاکستانی عوام اپنے اداروں اورریاست کے ساتھ کھڑے ہیں اورامیدکرتے ہیں کہ امن دشمنوں کی سازشیں اورمذموم منصوبے ناکام ہوں گے ۔

Check Also

تیسری جنگ عظیم کے محرکات

اٹکل تیسری جنگ عظیم کے محرکات (حصہ اول) تحریر:۔ ملک شفقت اللہ انسان نے ترقیاتی ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *