Home / کالم / چےن مےں مسلمانوں پر مظالم کی لمبی داستان

چےن مےں مسلمانوں پر مظالم کی لمبی داستان

 

چےن مےں مسلمانوں پر مظالم کی لمبی داستان
چےن اِن دِنوں اےک بار پھر سرخےوں مےں ہے کےونکہ اس نے حال ہی مےں اپنی تنگ نظری کے تحت مسلمانوں کو قرآن کرےم اور جانماز حکومتی اداروں کے پاس جمع کرانے کا ظالمانہ حکم جاری کےا ہے۔ تارےخ شاہد ہے کہ چےن اپنے ظالمانہ کردار کو دنےا کے سامنے ہمےشہ چھپانے کی کوشش کرتا رہا ہے، چنانچہ اس وقت بھی اس نے عالمی مےڈےا پر ہی غلط بےانی کا الزام عائد کےا ہے، حالانکہ چےن کی ظالمانہ پالےسی کو پوری دنےا حتی کہ چےن کے باشندے بھی کبھی نہےں بھول سکتے۔ ۳ اور ۴ جون ۹۸۹۱ءکو رونما ہونے والے اُس واقعہ کے عےنی شاہدےن آج بھی دنےا مےں موجود ہےں جب چےن کی حکومت کے خلاف بےجنگ شہر کے مشہور چوک پر طلبہ نے مظاہرہ کےا تھا ،جو اُن کا قانونی حق تھا، تو چےن کی فوج نے حکومت کے اشارہ پر بندوقوں اور ٹےنکوں کے ذرےعہ پُرامن مظاہر کرنے والے اپنے ہی ملک کے ہزاروں طلبہ کو موت کے گھاٹ اتار دےا تھا۔ تائےوان اور تبت پر ابھی تک ناجائز قبضہ چےن کے ظالم ہونے کی کھلی دلےل ہے۔ اسی طرح چےن ہندوستان کے ”اکسائی چن“ پر قبضہ کےے ہوئے ہے اور اپنی ہٹ دھرمی دکھاکر وقتاً فوقتاً سرحد پر کشےدگی پھےلاتا رہتا ہے۔چند ماہ قبل بھی چےن کے سخت روےہ سے ہندوستان اور چےن کے درمےان کشےدگی مےں اضافہ ہی ہوا تھا۔ مسلمانوں پر تو چےن کے مظالم کی اےک طوےل داستان ہے، جس کی خبرےں وہ دو ہزار کےلومےٹر پر محےط دےوار چےن کے باہر جانے سے روک دےتا تھا، مگر سوشل مےڈےا اور الےکٹرونک مےڈےا کے زمانہ مےں چےن کی طرف سے مسلمانوں پر ہورہے مظالم کی خبرےں وقتاً فوقتاً سامنے آتی رہتی ہےں۔ سےنکڑوں سال کی تارےخ شاہد ہے کہ چےن نے ہمےشہ مسلمانوں پر ظلم وستم کے پہاڑ توڑے ہےں۔ آئےے چےن مےں مظلوم مسلمانوں کے حالات سے آگاہی حاصل کرےں کےونکہ دنےا کے لےے باعث رحمت حضور اکرم ﷺ نے ارشاد فرماےا: اےک مسلمان دوسرے مسلمان کا بھائی ہے۔ (بخاری) اسی طرح فرمان رسول ﷺ ہے: مو¿منےن کی مثال ان کی دوستی، اتحاد اور شفقت مےں بدن کی طرح ہے۔ بدن مےں سے جب کسی حصہ کو تکلےف ہوتی ہے تو سارا بدن نےند نہ آنے اور بخار چڑھ جانے مےں اس کا شرےک ہوتا ہے۔ (مسلم)
مسلمانوں کی آبادی کے لحاظ سے چےن کو دو حصوں مےں تقسےم کےا جاسکتا ہے۔ اےک مشرقی ترکستان کا علاقہ ، جس کی سرحدےں منگولےا، روس، قازقستان، کرغستان، تاجکستان، افغانستان، پاکستان، ہندوستان اور تبت سے ملتی ہےں۔ اس صوبہ کو اب سنکےانگ ےا شنجےانگ (Xinjiang) کہتے ہےں، جس پر عرصہ¿ دراز تک مسلمانوں کی حکومت رہی ہے اور چےن نے اس علاقہ پر ناجائز قبضہ کررکھا ہے۔ اس علاقہ مےں ترکی النسل مسلمانوں کی اچھی خاصی تعداد رہتی ہے۔ اس صوبہ کا دارالحکومت ارومچی ہے، جبکہ کاشغر سب سے بڑا شہر ہے۔ دوسرے وہ مسلمان ہےں جو مشرقی ترکستان کے علاوہ چےن کے دےگر مختلف علاقوں مےں رہائش پذےر ہےں، جن کی تعداد بہت زےادہ نہےں ہے۔ مجموعی طور پر پورے چےن مےں تقرےباً دس کروڑ مسلمان رہتے ہےں، حالانکہ چےن کی حکومت تےن کروڑ بتاتی ہے جو خلاف حقےقت ہے۔ اگر غےر سرکاری اعداد وشمار کو صحےح تسلےم کرلےا جائے تو چےن مےں موجود مسلمانوں کی تعداد مصر کی آبادی سے بھی زےادہ ہوگی جو تمام عرب ممالک مےں آبادی کے اعتبار سے سب سے بڑا ملک ہے ۔
آج سے تقرےباً ۰۰۴۱ سال قبل ۹۲ ہجری مےں چےن مےں اسلام کا پےغام اُس وقت پہنچا جب تےسرے خلےفہ حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے دےن اسلام کا پےغام پہنچانے کی غرض سے اےک وفد چےن ارسال کےا تھا۔ اس کے بعد بھی وفود بھےجنے کا سلسلہ جاری رہا۔ نےز اس دوران مسلمانوں نے تجارت کی غرض سے بھی چےن کے سفر کےے۔ اس طرح چےن کے بعض علاقوں مےں لوگوں نے دےن اسلام کو ابتداءاسلام سے ہی قبول کرنا شروع کردےا تھا۔ بعد مےں چےن کے بےشتر علاقوں مےں دےن اسلام کو ماننے والے موجود ہوگئے۔ مشرقی ترکستان (سنکےانگ) جس پر چےن نے آج تک قبضہ کررکھا ہے، کو اموی خلےفہ ولےد بن مالکؒ کے دور مےں قتےبہ بن مسلم الباہلی ؒ نے ۳۹۔۴۹ھ مےں فتح کےا تھا۔ ترکستان کے معنی ترکوں کی سرزمےن کے ہےں۔ تارےخی اعتبار سے ترکستان کو مغربی ومشرقی ترکستان مےں تقسےم کےا گےا ہے۔ مغربی ترکستان وہ مسلم اکثرےتی علاقہ ہے جس پر سووےت ےونےن (روس) نے قبضہ کرلےا تھا، جو ۱۹۹۱ءمےں آزاد کردےا گےا۔ جبکہ مشرقی ترکستان ابھی تک چےن کے قبضہ مےں ہے۔ اس علاقہ پر ۸۱ وےں صدی کے وسط مےں چنگ سلطنت نے قبضہ کرلےا تھا اور ”سنکےانگ“ ےعنی نئے صوبہ کا نام دےا تھا۔ اس علاقہ مےں آباد اےغور ترک کی آبادی بتدرےج کم ہوتی جارہی ہے، حالانکہ ۸۴۹۱ءمےں ان کی آبادی خطے کی آبادی کا ۸۹ فےصد تھی۔ ےہ صوبہ چےن کا سب سے بڑا صوبہ ہے اور اس کی آبادی تقرےباً تےن کروڑ ہے۔ اس علاقہ مےں پےٹرول، کوئلے اور ےورےنےم کے ذخائر ہونے کی وجہ سے چےن کی اقتصادی اور عسکری حالت کافی حد تک اس علاقہ پر منحصر ہے۔
مشرقی ترکستان (جو اِس وقت چےن کے قبضہ مےں ہے) مےں طوےل عرصہ تک مسلمانوں کی حکومت رہنے کی وجہ سے اس علاقہ کی بڑی تعداد مسلمان ہے، لےکن ۴۴۶۱ءمےں مانچو خاندان کے قبضہ کے بعد سے مسلمانوں کے حالات خراب ہوگئے۔ ۸۴۶۱ءمےں پہلی مرتبہ اس علاقہ کے باشندوں نے مذہبی آزادی کا مطالبہ کےا جو قانونی طور پر اُن کا حق تھا، جس کی بنا پر ہزاروں مسلمانوں کا قتل عام کےا گےا۔ ۰۶۷۱ءمےں چےن نے مشرقی ترکستان پر قبضہ کرکے ہزاروں مسلمانوں کو شہےد کےا۔ متعدد مرتبہ مسلمانوں نے اس علاقہ کو حاصل کےا، ۵۷۸۱ءمےں چےن کے ظالموں نے بڑی تعداد مےں مسلمانوں کو قتل کرکے پھر قبضہ کرلےا۔ ۱۳۹۱ءمےں مسلم خواتےن پر مظالم کی وجہ سے اےک بار پھر چےن کی حکومت کے خلاف مسلمانوں نے حق کی آواز بلند کی جو آہستہ آہستہ پورے علاقہ مےں پھےل گئی ، اور ۲۱ نومبر ۳۳۹۱ءکو اس علاقہ کو مسلمانوں نے حاصل کرلےا۔ لےکن چےن نے روس کی مدد سے ۵۱ اگست ۷۳۹۱ءکو ہزاروں مسلمانوں کو شہےد کرکے اس علاقہ پر دوبارہ قبضہ کرلےا۔ ۴۴۹۱ءمےں اس علاقہ کی آزادی کے لےے اےک بار پھر آواز بلند کی گئی مگر چےن نے روس کے تعاون سے اس تحرےک کو کچل دےا۔ ۶۴۹۱ءمےں ”مسعود صبری“ کی سرپرستی مےں جزوی آزادی دی گئی مگر ۹۴۹۱ءمےں اس علاقہ پر چےن نے مسلمانوںسے لمبی جنگ کے بعد پھر قبضہ کرلےا۔ بعض علاقوں مےں مسلسل بےس روز تک جنگ چلی۔ ۹۴۹۱ءمےں چےن پر کمونےسٹ پارٹی کے اقتدار مےں آنے کے بعد سے چےن خاص کر مشرقی ترکستان مےں مسلمانوں کی مذہبی آزادی پر پابندی عائد کردی گئی۔ ان کے دےنی اداروں کو بند کردےا گےا۔ مساجد فوج کی رہائش گاہ بنا دی گئےں۔ ان کی علاقائی زبان کو ختم کرکے چےنی زبان اُن پر تھوپ دی گئی۔ شادی وغےرہ سے متعلق تمام مذہبی رسومات پر پابندی عائد کردی گئی۔ کمےونسٹوں کا اےک ہی ہدف رہا ہے کہ قرآن کرےم کی تعلےمات کو بند کےا جائے، حالانکہ قرآن کرےم انسانوں کی ہداےت کے لےے ہی نازل کےا گےا ہے۔ چےن کے مسلسل مظالم کے باوجود اس علاقہ کے مسلمان اپنی حد تک اسلامی تعلےمات پر عمل کرنے کی کوشش کرتے رہے ہےں۔ ۶۶۹۱ءمےں جب مسلمانوں نے کاشغر شہر مےں عےد الاضحی کی نماز پڑھنے کی کوشش کی تو چےن کی فوج نے اعتراض کےا اور گولےاں برساکر ہزاروں مسلمانوں کو شہےد کردےا۔ جس کے بعد پورے صوبہ مےں انقلاب برپا ہوا، اور چےن کی فوج نے حسب رواےت مسلمانوں کا قتل عام کےا، جس مےں تقرےباً ۵۷ ہزار مسلمان شہےد ہوئے۔
غرضےکہ چےن نے مسلمانوں کی کثےر آبادی والے علاقہ ”مشرقی ترکستان“ پر ناجائز قبضہ کرکے پےٹرول، کوئلے اور ےورےنےم کے ذخائر کو اپنے قبضہ مےں کر رکھا ہے۔ اور وقتاً فوقتاً وہاں کے مسلمانوں پر مظالم ڈھاتا رہتا ہے۔ مسلمانوں کی اجتماعےت کو تقرےباً ختم کردےا ہے۔ لاکھوں افراد کو اب تک قتل کےا جاچکا ہے۔ حال ہی مےں ےہ فرمان جاری ہوا ہے کہ مسلمان اللہ تعالیٰ کی کتاب اور نماز پڑھنے کے لےے جانماز کو بھی اُن کے حوالے کردےں، ےعنی اپنے گھر مےں انفرادی عبادت بھی نہ کرےں، جو عالمی قوانےن کے بھی سراسر خلاف ہے۔ اس وقت چےن مےں بڑی تعداد لا مذہب کی ہے، ےعنی وہ کہتے ہےں کہ بلّی، کتے اور بندر کی طرح انسان کی پےدائش کا کوئی مقصد ہی نہےں ہے، ےعنی جو چاہے جس پر ظلم کرے، جو چاہے جس کا مال چرائے، جس کو چاہے نا حق قتل کردے، مرنے کے بعد کوئی دوسری زندگی نہےں ہے اس لےے اس کی کوئی پکڑ نہےں ہوگی۔ حالانکہ عقل سے بھی سوچنا چاہئے کہ ہمارا اےک چھوٹا سا کام بھی کسی مقصد کے بغےر نہےں ہوتا ہے، نےز گھر، خاندان، صوبہ اور ملک کے نظام کو چلانے کے لےے اےک طاقت درکار ہوتی ہے۔ تو دنےاکا اتنا بڑا نظام خود بخود کےسے چل سکتا ہے؟ سورج کا اپنے وقت پر طلوع ہونا اور غروب ہونا، کروڑہا کروڑ ستاروں کا نکلنا، دنےا کے تےن چوتھائی حصہ مےں پانی کا ہونا، ہواو¿ں کا چلنا کسی طاقت کے بغےر کےسے وجود مےں آگئے؟ زمےن کے اندر طرح طرح کے ذخائر کہاں سے آگئے؟ زمےن مےں پےداوار کی صلاحےت کہاں سے پےدا ہوگئی؟ حضرت انسان کےسے اور کےوں پےدا ہوگئے؟ حضرت انسان مر کےوں جاتے ہےں؟ روح ےعنی جان کس چےز کانام ہے؟ ےہ کونسی چےز ہے کہ جس کے جسم سے نکلنے کے بعد آنکھ دےکھ نہےں سکتی، زبان بول نہےں سکتی، کان سن نہےں سکتے، ہاتھ پےر چل نہےں سکتے۔۔۔ نےز جب دنےا کی ہر ہر چےز کا فنا ہونا ےعنی ختم ہونا ہم اپنی آنکھوں سے دےکھتے ہےں تو دنےا بھی تو اےک دن ختم ہونی چاہئے، دنےا کے ختم ہونے کے بعد کےا ہوگا؟ اور ظاہر ہے کہ اتنے بڑے نظام کے چلنے چلانے کا آخر کوئی تو مقصد ہونا چاہئے۔ اور اتنا بڑا نظام خود بخود کےسے اور کےوں چل سکتا ہے؟ خالق، مالک ورازق کائنات کا ارشاد ہے: بےشک وہ لوگ جنہوں نے کفر اپنا لےا ہے۔ اُن کے حق مےں دونوں باتےں برابر ہےں، چاہےں آپ ان کوڈرائےں ےا نہ ڈرائےں، وہ اےمان نہےں لائےں گے۔ اللہ نے اُن کے دلوں پر اور ان کے کانوں پر مہر لگا دی ہے۔ اور اُن کی آنکھوں پر پردہ پڑا ہوا ہے، اور اُن کے لےے زبردست عذاب ہے۔ (سورة البقرة ۶ و ۷) مسلمانوں کو ناامےد نہےں ہونا چاہئے کےونکہ اللہ تعالیٰ ہمارے ساتھ ہے ، ہاں اپنی ذات سے شرےعت اسلامےہ پر عمل کرتے ہوئے دنےا کے مختلف حصوں مےں آباد مسلمان خاص کر چےن اور برما کے مظلوم مسلمانوں کو اپنی خصوصی دعاو¿ں مےں ےاد رکھےں۔
ڈاکٹر محمد نجےب قاسمی سنبھلی

Check Also

انڈی میوزک کے لیے جاپان میں بننے والا سپورٹ پلیٹ فارم الفانوٹ بھارت میں جاری

انڈی میوزک کے لیے جاپان میں بننے والا سپورٹ پلیٹ فارم الفانوٹ بھارت میں جاری ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *