Home / کالم / کتاب دوست عظیم محقق

کتاب دوست عظیم محقق

 


کتاب دوست عظیم محقق
تحریر: ڈاکٹر شجاع اختر اعوان
تحقیق اور درس و تدریس میں کتاب کی اہمیت مسلمہ ہے اگرچہ اس ڈیجیٹل انفارمیشن کے دور میں کتاب سے قاری کا رشتہ کافی کمزور ہو گیا ہے اور بدقسمتی سے ہمارا معاشرہ تقریبا دو دہائیوں سے کتاب بینی سے دور ہوتا جا رہا ہے۔ اس کی وجوہات میں تیز رفتار طر ز زندگی ، جدید انفارمیشن ٹیکنالوجی کی کی ترقی اور معیاری ادب کی تخلیق کا فقدان بھی شامل ہے مگر اس دور میں بھی علم اور کتاب دوست شخصیات موجود ہیں جنہوں نے آنے والی نسلوں کو تاریخ سے روشناس کرانے اور ان کے تحقیقی کام میں بھر پور معاونت کرنے کا بیڑا اٹھا رکھا ہے۔ ان شخصیات کی مطالعہ پر دسترس و علمی و ادبی تحقیق اس قدر وسیع ہے کہ کسی بھی عنوان پر پوچھے گئے سوال کے جواب میں کتاب کا حوالہ ، مصنف کا نام ، پبلشر زاور صفحہ نمبر تک بتا دیتے ہیں ۔ وطن عزیز میں موجود ان چند شخصیات میں سے ایک گراں قدر شخصیت کتاب دوست و عظیم محقق راجہ نور محمد نظامی کی بھی ہے جن کا تعلق ضلع اٹک کی تحصیل حسن ابدال کے ایک چھوٹے سے سرسبز وشاداب پہاڑی گاﺅں بھوئی گاڑ سے ہے ۔ راجہ نور محمدنظامی سے ہمارا غائبانہ تعارف چند سال قبل کا ہے مگر پے در پے مصروفیات کے باعث ان سے ملاقات اور کتب خانے کے دورہ کا موقع گزشتہ دنوں ملا جب ہم اپنے دوست محلف کا کتاب ، نیلاب و کھٹڑ ، عمران خان کھٹڑ اور شاعر و ادیب ، سجاد سرمد میرے بیٹے محمدامان شجاع اور دوست وحید اعوان کے ہمراہ قدیم تہذیب و تمدن کے امین علاقہ ٹیکسلا سے ہوتے ہوئے صبح صبح بھوئی گاڑ پہنچے عمران خان کھٹڑ چونکہ بھوئی گا ڑ کے راستہ اور کتب خانہ نور محمد نظامی سے مکمل آشنا تھے اس لیے وہاں تک پہنچنے میں کسی دشواری کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔ پہلے سے منتظر راجہ نور محمد نظامی صاحب نے بھرپور طریقے سے ہمارا استقبال کیا ، گھر میں موجود ایک بڑے ہال نما ں کمرے میں جب ہم داخل ہوئے تو ہم نے محسوس کیا کہ یہاں کی ایک الگ ہی دنیا ہے ۔ ہال کے چاروں طرف دیو قامت الماریوں میں ہزاروں کی تعداد میں کتابی نسخے ، ہال میں پھیلے قیمتی نوادرات ، اثار قدیمہ کو دیکھ عقل دھنگ رہ جاتی ہے، کتب خانہ میں ، عربی ، فارسی ، سندھی ، پنجابی، پشتو، اردو اور دنیا کی مختلف زبانوں پر مشتمل نایاب نسخے آٹھ سو سال نئی و پرانی تاریخی کتب جن میں ادب ، تصوف ، اثار قدیمہ ، انشاء، لغات ، مکاتیب ، اقوام و قبائل وغیرہ پر کتابیں ہاتھ سے لکھے نایاب کتابی نسخے اور مغلیہ دور کے اصلی حالت میںموجود خطوط کو بڑے بہترین طریقے سے گلدستے کی صورت میں سجا کر محفوظ کیا گیا ہے جبکہ اثار قدیمہ کے نوادرات ، پرانے زیورات ، برتن ، سکے، کرنسی نوٹ ، موتی ، پتھر کی بنی مصنوعات ،قدیم اسلحہ کے نمونے جو کہ ہزاروں سال پرانے ہیں بھی اس مکتبہ کی زینت ہیں ۔ اور ان نوادرات کی موجودگی کی وجہ سے مکتبہ کا ایک حصہ عجائب گھر کا منظر بھی پیش کرتا نظر آتا ہے۔ راجہ نور محمد نظامی صاحب وسیع قلب و نظر کے مالک ہیں انہوں نے ہمارے لیے بہترین ناشتے کا اہتمام بھی کر رکھا تھا ۔ دیسی سوغاتوں پر مشتمل صحت افزاءناشتے کے بعد ایک بار پھر گفتگو شنید کا سلسلہ شروع ہو ا ۔ راجہ صاحب نے بتایا کہ ان کو علم و تحقیق کا شوق بچپن سے ہی تھا اور انہوں نے اس مقصد کے لیے خیبر تا کراچی اور گلگت تا کوئٹہ سفر کر کے قیمتی نوادرات اور کتابو ں کے نسخے حاصل کیئے ۔ گھریلو اخراجات میں جو کچھ بچتا ہے میں اسی کام پر خرچ کر دیتا ہوں ۔مکتبہ ہی میرا زندگی کا اثاثہ ہے ۔کتاب میری معشوق اور میں اس کا عاشق ہوں ۔ کتابوں کی دیکھ بھال اپنے بچوں کی طرح کرتا ہوں ان کی جگہ میں ردو بدل ان کو دیمک سے بچاﺅکے لیے ادویات کا سپرے اور نمی دور کرنے کے لیے دھوپ لگوانے کا خصوصی خیال رکھتا ہوں ۔ انہوں نے کہا کہ میری لائبریری کو سب سے زیادہ نقصان کتاب مانگ کر لے جانے والوںنے پہنچایا سینکڑوں کتابیں ادھر سے ادھر ہو گئیں۔ اور اب ان کی واپسی ممکن نظرنہیں آتی تقریبا چودہ ہزار کتابوں پر مشتمل کتب خانہ کے لیے اب گھر میں موجود ہال چھوٹا دکھائی دیتا ہے ۔اس مقصد کے لیے وسیع عریض عمارت کی تعمیر کا ارادہ بھی زیر غور ہے جو کہ وسائل پر منحصر ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ اندورن او ربیرون ملک سے باقاعدہ اور مطالعہ اور تحقیق کی غرض سے محققین اور طالب علم اس کتب خانہ سے استفادہ کرتے ہیں ۔ علم و تحقیق کے پیاسوں کے لیے میرے دروازے ہر وقت کھلے ہیں ۔ کوئی بھی ادارہ یا فرد اس کتب خانہ سے استفادہ حاصل کرتا ہے تو مجھے بے حد خوشی محسوس ہوتی ہے۔ مکتبہ میں اندرون اور بیرون ملک سے ادیبوں ، شاعروں ، صحافیوں مختلف علوم و اثار قدیمہ پر تحقیق کرنے والوں کی آمد کا سلسلہ جاری و ساری رہتا ہے۔ اندورن اور بیرون ملک کے ٹی وی چینلز متعدد بار مکتبہ پر اپنی ڈاکومنٹری بنا چکے ہیں جن میں الجزیرہ ٹی وی ، عرب ٹی وی ، وائس آ ف امریکہ و دیگر شامل ہیں ۔ ہمارے دور کے اختتام پر راجہ نور محمد نظامی صاحب نے اپنی تازہ تصنیف ، خانقاہ فاضلیہ گڑھی شریف ، بھی ہمیں تحفہ کے طور پر پیش کی ۔ ہم مکتبہ نور محمد نظامی کے دورے کے موقع پر ان کی طرف سے بھر پور استقبال ، بہترین مہمان نوازی ، اور قیمتی وقت سے نوازنے پر ہم ان کے ممنون و مشکور ہیں ۔ راجہ صاحب کو اللہ پاک نے خدادا د صلاحیتوں سے نوازا ہے وہ اپنی ذات میں ایک ادارہ ہیں ۔ بیک وقت بہترین مقرر ، اعلی پائے کے لکھاری ، دانش ور اور محقق بھی ہیں اور علم و ادب و تحقیق کے طالبعلموں کے لیے وہ ایک بہترین راہبر اور مشعل راہ کا کردار ادا کر رہے ہیں۔ ان کی ذات اور ان کا مکتبہ ایک قیمتی اثاثہ ہیں ۔ جس کی مثال اس دور میں بہت کم ہی ملتی ہے ۔ بلاشبہ ایسی شخصیات ملک و قوم کا فخر ہوا کرتی ہیں۔ اللہ پاک ان کا یہ سلسلہ قائم و دائم رکھے (آمین)۔
ڈاکٹر شجاع اختر اعوان

37101-1774390-5

Check Also

نور محمدی ﷺ

    نور محمدی ﷺ کالم : بزمِ درویش تحریر:پروفیسر محمد عبداللہ بھٹی ای میل: ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *