Home / کالم / کشمیرسے بھارت تک

کشمیرسے بھارت تک

 

کشمیرسے بھارت تک
تحریر:علی جان
aj119922@gmail.com
انگریز دورسے ہی مسلمانوں کو بھارت سے خطرات تھے جس کی وجہ سے دوقومی نظریے سے ہم نے اپناملک الگ کرلیااورعظیم قائدنے بغیرہتھیاروں کے جنگ جیت لی تب سے لے کردونوں ملکوں میں 36کاآکڑہ ہے حالانکہ ہم نے اپنی ہی جاگیرلی ہے نہ کی انکی ریاست پرقبضہ کیاپھربھی بھارت نے ہمیشہ ہمارے خلاف دل میں ویررکھاہواہے اورپاکستان کونیچادکھانے کی ناکام کوشش کرتارہتاہے اگرکشمیریوں پرظلم کی بات کریں توآج 4ماہ) 120)دن ہونے کوآئے ہیں اورروز کشمیریوں پرظلم کے پہاڑڈھائے جارہے ہیں مگریہ غلیظ حرکت بھارت نے 5اگست 2019کو جب راتوں رات 35Aبل پاس ہوامیں اپنے قارائین کوبتاتاچلوں کہ بھارت نے جوبل370اور35Aپیش کیا ہے جس کی منسوخی سے بھارتی عام شہری ،بھارتی کارپوریشنزاوردیگرنجی سرکاری کمپنیاںجائیداد نہیں خریدسکتیں نہ بلاقانونی جواز کے جائیدادحاصل کرسکتی ہیں جس کی وجہ سے اراضی پرقبضہ اوراکثریت کواقلیت میں بدلنے کاخدشہ کسی قدرکم تھامگر5اگست2019کو اس آئین کاقتل کرکے اس شق کوختم کرکے کشمیرکی خصوصی حیثیت الگ پرچم اورآئین کااختیارغصب کیاگیا ہے جس کی وجہ سے بھارتی شہری کشمیری شہریت اور جائیدادیں بناکرآسانی سے کشمیرپرقبضہ کرسکتے ہیں۔ اقوام متحدہ کی آفیشل ویب سائٹ پراجلاس کے متعلق بیان ہے کہ کشمیرکامسئلہ 1965کے بعدپہلی بار زیربحث آیا ہے جس سے لگ رہاتھاکہ کشمیرپریاتوجنگ چھڑے گی یاپھرکشمیراقوام متحدہ کی وجہ سے آزادہوگامگرمسئلہ حل ہونے کانام ہی نہیں لے رہا۔ اس ریاستی دہشت گردی کی وجہ سے کئی نہتے کشمیری شہیدکیے جاچکے ہیں اوراب بھی یہ سلسلہ جاری ہے دوسری طرف دہلی کی ہدایت اورآرایس ایس کے دباﺅ کے تحت ریاست کی اہم شاہراہوں اورعمارتوں کے نام ہندوانتہاپسندوں کے نام پر رکھنے کاشرپسندانہ منصوبہ بنالیا گیاہے اسی حوالے سے سینٹ نے اپوزیشن نے کشمیرپالیسی کی تشکیل نوکرنے اورمسئلے کوعالمی عدالت انصاف میں لے جانے کافیصلہ کیاہے اوراسی حوالے سے بزرگ رہنماسیدعلی گیلانی جوعرصہ سے اپنے ہی گھرمیں نظربندہیں انہوں نے عمران خان کوخط لکھا کہ لائن آف کنٹرول کودوبارہ جنگ بندی بنایاجائے ۔ہم نے ہمیشہ مذاکرات کی بات کی حالانکہ ہم بھارت سے زیادہ ایٹمی طاقت رکھتے ہیں پھربھی باربارہم ہی مذاکرات کی بات کرتے ہیں ویسے توکشمیرکے حوالے سے بھارت کی پالیسی جابرانہ رہی ہے مگرمودی حکومت نے اس آگ میں مزیدگھی والاکام کیا ہے ۔اس باربھارت اپنے مزیدگھناﺅنے کام میں لگ گیا ہے اوراس نے 550فوجی ربورٹ خریدے جس کے یقیناً ارادے اچھے نہیں ہونگے اورسنائی میں آیاہے کہ یہ سیڑیاں چڑہنے اترنے رکاوٹیں عبورکرنے دستی بم داغنے کے علاوہ 25سال تک کارآمدہونگے ابھی توبھارتی فورسز کاکہناہے کہ ہم یہ اپنے دفاع کیلئے استعمال کریں گے ۔بھارتی فوج جومقبوضہ کشمیرپرقابض ہے وہ ان ربورٹس کوکشمیریوں کی تلاشی آپریشنوں کے دوران پہلی دفاعی لائن کے طورپراستعمال ہوگی جویقیناً ہمارے لیے لمحہ فکریہ ہے اگراس بارے میں سنجیدیگی سے نہ سوچاگیاتویقین مانیں بھارت بھوکے کتے کی طرح ٹوٹ پڑے گاجس کانقصان ایسے سمجھ لیں کتاکاٹ لیتاہے جس کانشان اوردردکبھی نہیں جاتااس لیے ہمیں ہرایک پرنظررکھنی ہوگی کیونکہ کشمیری بھائیوں پر ظلم وناانصافی اورانسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کاپول کھل چکاہے اگرخودبھارت کے اندرکی بات کریں تووہ اتنے شدت پسندہیں کہ اقلیتوں پرظلم کی انتہاکیے ہوئے ہیں آئے روز نئے واقعات دیکھنے کوملتے ہیں بھارتیں عدالتیں اپنی من مانیں کئے جارہی ہیں انہوں نے کہاکہ آسام کی حکومت نے دولاکھ سے زائدشہریوں کو غیرملکی قراردے دیااورحیران کرنے والی بات یہ ہے کہ یہ تمام لوگ مسلمان ہیں اگرہم خاموش رہے تو اقوام متحدہ امریکہ کوہم پرمسلط کردے گاکیونکہ اقوام متحدہ امریکہ کی کاسہ لیس ہے اورامریکہ کے بھارت کے ساتھ مفادات جڑے ہیں کیونکہ جب ٹرمپ ثالثی بناتھاتواس بات کوخوش آئندسمجھاگیاتھامگرکچھ دن بعدٹرمپ نے کہہ دیاکہ مودی نہیں مانتااس کامطلب یہی ہے کہ مودی اورٹرمپ آپس میں مل گئے اس لیے ہمیں بھی چین کوساتھ ملاکے پل کے طورپراستعمال کرناچاہیے آخرمیں بھارت کواتناکہناچاہوں گاکہ کشمیربھی لیں گے اورتجھے چیربھی دیں گے اگرجنگ چھڑی توہمارابچہ بچہ کشمیراورپاکستان کیلئے آخری سانس تک لڑنے کیلئے تیارہے اورتیرے روبوٹ آئیں یاببلوڈبلوسب کوجہنم واصل کریں گے کیونکہ ہم سپرپاورہیں اورایٹمی طاقت ہیں جس سے منٹوں میں بھارت کاصفایاکرسکتے ہیں اس لیے بہترہے بھارت بندے داپتربنڑتے کوئی بچن دی راہ کڈھے۔

Check Also

غلامی سے نجات !

  جمہورکی آواز ایم سرورصدیقی حقیقت اور دعوےٰ دو الگ الگ باتیں ہیں یہ الگ ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *