Home / کالم / کشمیر اور امت مسلمہ۔۔۔!

کشمیر اور امت مسلمہ۔۔۔!

 

کشمیر اور امت مسلمہ۔۔۔!
مقبوضہ کشمےر کے تقرےباً اسی لاکھ افراد5اگست سے اپنے گھروں میں مقےد ہےں۔کشمےری لوگ جبر مسلسل برداشت کررہے ہیںلیکن دنےا خاموش ہے۔ دنےا کی اس سے بڑی بے حسی کیا ہوسکتی ہے ؟اقوام متحدہ اور انسانی حقوق تنظےموں نے زبانی جمع تفرےق کے علاوہ کچھ بھی نہیں کےا۔اقوام متحدہ اور انسانی حقوق تنظےموں سے نہ گلا ہے اور نہ کوئی شکوہ۔۔۔ کیونکہ انھوں نے پہلے مسلمانوں کےلئے کیا کچھ کیا ہے؟ اور ان سے توقع کرنا بھی احمقوں کے جنت میں رہنے کے مترادف ہے۔اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کی تنظیمےں ملالہ ےوسفزئی کے ڈرامے پر اچھلتی رہیں اور آسمان سر پر اٹھالےاتھا۔ان کو نوبل انعام سمےت دےگر انعامات سے نوازا گےا جبکہ مقبوضہ کشمےر میں ہزاروں معصوم بچےوں اور خواتےن کے ساتھ حقےقتاًآ ئے روز زےادتیاں ہورہی ہیں ،بے گناہ جوان شہید ہورہے ہیں،بچے بھوک سے نڈھال ہیں ۔اس پر اقوام متحدہ ، انسانی حقوق اور خواتےن تنظےموں نے آنکھےں اور کان بند کےے ہوئے ہیں۔اقوام متحدہ اور انسانی حقوق تنظےموں پر بات کرتے ہوئے قےمتی وقت ضائع نہیں کرنا چاہےے۔اس وقت دنےا میںتقرےباً پونے آٹھ ارب انسان بستے ہیں اور مسلمانوں کی آبادی تقرےباً اےک ارب اور نوے کروڑ ہے۔اےک ارب نوے کروڑ مسلمان آپس میں اےک دوسرے کو مسلمان کے بجائے سنی ،شےعہ، برےلوی، دےوبندی، سلفی وغےرہ سمجھتے ہیں جبکہ عالم کفر کسی کو سنی ، شےعہ ،دےوبندی، برےلوی، سلفی وغےرہ نہیں بلکہ سب کو مسلمان سمجھتے ہیں۔مےری بات پر ےقےن نہ آئے تو آپ اےک غےر جانبدارانہ سروے کرےں ،آپ پر سب عےاں ہوجائے گا۔سب مسلمانوں کو اےک ہونا چاہےے اور آپس میں اختلافات ختم کرنے چاہےےں ۔ہم سب کا مذہب اسلام ہے اور اسلام سلامتی کا مذہب ہے۔ےہ سلامتی انسانوں، حےوانوں اور پودوں سب کےلئے ہے۔اسلام میںجنگ کے دوران بچوں،خواتےن، بزرگوں، فصلوں اور پودوں کو گزند پہنچانے سے منع فرماےا ہے۔بلکہ جو جنگ نہ کرےں ،ان کو تکلیف پہنچانے سے منع کیا گےا ہے۔جو آپ کے ساتھ جنگ کرنا چاہتے ہیں،آپ ان کے ساتھ جنگ کرےں۔اپنے دلوں سے اغےار کا خوف دور کرنا چاہےے اور مسلمانوں کو صرف اور صرف اللہ تعالیٰ سے ڈرنا چاہےے۔ےہ کفار آپ کا کچھ بھی نہیں بگاڑ سکتے ہیں۔جس طرح عصر حاضر میںبڑی عالمی طاقتےں ہیں اور اسی طرح طلول اسلام کے وقت بڑی عالمی طاقتےں تھےں۔نبی کرےم ﷺ نے سب کو خطوط تحرےر کےے اور اسلام کی دعوت دی۔جہنوں نے انحراف اور روگردانی کی ،وہ سب عالمی طاقتےں ختم ہوگئےں ۔ان سب کا نام صرف تارےخ تک محدود ہوگےا جبکہ نبی کرےم ﷺ کا نام مشرق سے مغرب تک ہر وقت بلند ہوتا ہے۔ نبی کرےم ﷺ کے انتقال کے وقت گھر میں دےپ جلانے کے لئے تےل نہیں تھا لیکن دےوار پر نو تلوارےں لٹک رہی تھیں۔آج جو لوگ افواج پاکستان ےا اٹےم بم کے بارے میں بات کرتے ہیں تو ان کو نبی کرےمﷺ کی اس مثال پر غور کرنا چاہےے اوریہ عقل والوں کے لئے بڑی مثال ہے۔سابق وزےراعظم ذوالفقار علی بھٹونے کہا تھاکہ ہم گھاس کھالیں گے لیکن اٹےم بم بنائےں گے۔آپ بھی دنےا والوں کو بتادےں کہ ہم سب تکلیفےں سہہ لیں گے لیکن اپنی دفاع کو مضبوط رکھےں گے اور افواج پاکستان کے شانہ بشانہ کھڑے ہےں۔عالم اسلام کے حکمرانوں کو متحد ہوکر اپنے مسائل (چاہے مسئلہ کشمےر ہو ےا مسئلہ فلسطےن ےا کوئی اور) خود حل کرنے چاہےےں ۔اقوام متحدہ کی حالت ےہ ہے کہ 1948ءمیں مسئلہ کشمےر کے بارے میںاپنے منظور شدہ قراردادوں پر عمل در آمد نہ کراسکا اور اسی طرح مسئلہ فلسطےن کو بھی 72 سال ہوگئے ہیں لیکن حل نہ کراسکا۔ احتجاج کمزور لوگ کیا کرتے ہیں جبکہ غےرت والے بدلہ لیا کرتے ہیں۔احتجاج کی روش ترک کرےں بلکہ اپنے دست وبازو پر بھروسہ کرےں اور اللہ تعالیٰ کی نصرت کے ساتھ ہر مےدان میں کامرانی ملے گی۔80 لاکھ کشمےری مسلمان اپنے گھروں میں قےد ہیں اور ظلم وجبر کو مسلسل برداشت کررہے ہیں لیکن دنےا کے 56 مسلم ممالک عملاً خاموش ہیں۔مسلم ممالک کشمےرےوں کے لئے قطعی بندوق نہ اٹھائےں بلکہ آپ کشمےرےوں کےلئے صرف چھوٹا ساکام کرےں ۔آپ مسلمان ممالک بھارت کے ساتھ سماجی اورتجارتی تعلقات منقطع کرےں اورتمام بھارتی باشندوں کو اےک ہفتے کے نوٹس پر اپنے ممالک سے باہر نکالیں۔اس عمل سے بھارت چند دنوں میں گھٹنے ٹےکنے پر مجبور ہو جائے گا اور کشمےرےوں کی طرف کھبی بری نظر سے نہیں دےکھے گا۔دنےا بھر میں مسلمانوں کی عزت و آبرو میں اضافہ ہوگا اور ہر جگہ مسلمان محفوظ ہو جا ئےں گے۔ےہ کام حکمران طبقہ کرسکتے ہیں ۔باتوں سے نہیں بلکہ عمل سے معاملات حل ہوتے ہیں۔
“نہیں ہے تےرا نشمےن قصر سلطانی کی گنبد پر
تُو شاہین ہے بسےرا کر پہاڑوں کی چٹانوں پر”
قارئےن کرام!وزےراعظم عمران خان کو چاہےے کہ وہ اسلامی سربراہی کانفرنس بلائے اور امت مسلمہ کے حکمرانوں کو متحد کرےں۔مسئلہ کشمےر کے حل کےلئے ٹھوس حل نکالےں اور تمام مسلمان ممالک بھارت کے ساتھ سماجی وتجارتی تعلقات منقطع کرےں۔دنےا کو پےغام دےں کہ مسلمان امن پسند ہیں لیکن مسلمانوں پرجبر قطعی برداشت نہیں کرےں گے۔آپ ےقےن کرےں کہ اس سے دنےا میں امن وآشتی کا بول بالا ہوجائے گا اوردنےا ترقی کرے گی۔

خالد خان
صحافی وکالم نگار
(لب درےا)

Check Also

پیڈوفیلیا کے مضمرات!

  اٹکل ۔ پیڈوفیلیا کے مضمرات! تحریر:۔ ملک شفقت اللہ پاکستان سمیت دنیا بھر میں ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *