Home / کالم / کفر ٹوٹا خدا خدا کرکے

کفر ٹوٹا خدا خدا کرکے

کفر ٹوٹا خدا خدا کرکے
گزشتہ دو روز سے یو این نامی ایک عالمی ادارے کے ماتحت ادارے OHCHR کو ستر سال کی خون ریزی اور حیوانیت کی انتہا دیکھ کر خیال آیا کہ اب سچ تسلیم کرکے ہاتھ کھڑے کر دینے چاہیئے کہ بھارتی مقبوضہ جموں و کشمیر میں تیس سالا جاری بدترین ریاستی ظلم کی خبریں صد فیصد سچ ہیں, اور جو کشمیر میں جان سے جارہے ہیں تازہ انسانی تحقیق کی روشنی میں وہ بھی انسان ہی ہیں۔
رپورٹ قابل قبول اور قابل مذت دونوں پہلو لیئے ہوئے ہے۔
کیوں؟
کیونکہ چور چوری سے جائے پر ہیرا پھیری سے نہیں کہ مصداق بھارت نواز یو این نے رپورٹ جاری کرتے وقت پاکستان دشمنی کو نظر انداز نہیں کیا, بلکہ جہاں 70% حقائق بھارتی مقبوضہ کشمیر کے بدترین حیوانی اور ظالم کردار کو واضح اور بے نقاب کرتے ہوئے شائع کیئے ہیں وہیں 30% من گھڑت اور جھوٹی ہیومن رائٹس رپورٹس کا سہارا لیکر پاکستان ملحقہ آزاد کشمیر اور فاٹا کے حوالے سے ہیومن رائٹس وائلیشنز کا حوالہ دیکر پاکستان کا کردار بھی مسخ کرنے کی بھونڈی کوشش کی ہے۔
چلیں بھاگتے چور کی لنگوٹی کے مصداق ہمیں یہ رپورٹ اپنی اسی حالت میں ناصرف قبول بلکہ میں اپنے ملک کے حلقہ ارباب و اختیار کو یہ مشورہ دوں گا کہ وہ یو این کے ہیومن رائٹس واچ کمیشن کی خود مانگ کریں کہ وہ آئے اور آزاد کشمیر سمیت فاٹا کا غیر جانبداری سے مشاہدہ کریں, سب دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہوجائے گا کہ پاکستان میں کسی طرح کا ریاستی جبر اور ظلم اپنی رعایا پر روا نہیں۔
جبکہ یاد رہے گزشتہ دو سال کی دستیاب معلومات اور تاریخ کے مطابق بھارت کو الگ الگ طریقے اور دباؤ سے پس پردہ یو این نے ہیومن رائٹس واچ کمیشن بھیجنے اور اسکی رپورٹ تسلیم کرنے کی تجویز دی ہے جو بھارت نے ہر بار شدید غم و غصے اور ڈھٹائی کا مظاہرہ کرتے ہوئے رد کی ہے۔
ایسے میں پاکستان اگر خود دعوت دیکر مشاہدہ کرواتا ہے تو عالمی سطح پر اس سے پاکستان کا امیج مزید بہتر ہوگا اور یہ بھارت کی جاری پراکسیز اور اوچھے ہتھکنڈوں کا گھنونا چہرہ بے نقاب کرے گا۔
میں گزشتہ تین چار سال کی تاریخ اٹھاؤں تو دیکھنے میں آیا ہے کہ بھارت نے برہان وانی کی شہادت کے بعد ریاستی ظلم وجبر کا عدد گزشتہ تیس سال کے مقابلے بڑھا دیا ہے۔
جس ظلم پر یو این اور ہیومن رائٹس واچ کی آنکھیں آج کھلی ہیں اس کی داستان اتنی طویل ہے جو دو صفحوں کی رپورٹ میں بیان کرکے دامن جھاڑا جارہا ہے پر چلو کشمیر کی آواز باہر دنیا تک پھیلانے میں یہ شاید کوئی اہم کردار ادا کرسکے۔
یو این نے عین عید کے لمحات میں یہ رپورٹ جاری کرکے ایک تیر سے دوشکار کرنے کا جو منصوبہ بنایا ہے کہ ایک تو احسان ہوجائے پاکستان اور کشمیر کے عوام پر کہ ہمیں پتہ سب ہے پر تم مسلمان ہو تو اہم نہیں جبکہ دوسرا یہ کہ پاکستانی اور کشمیری عوام اور رہنما اس سے کوئی عالمی فائدہ نہ اٹھا سکیں اور تیسرا بونس یہ کہ بھارت کی مٹی پلیط نہ کرسکیں پاکستانی اور کشمیری عید کی گہماگہمی میں۔
رہ گئی بات بھارتی مظالم کے مضمرات تو وہ گینگ ریپ, ماورائے عدالت اورماورائے ریاست قتل اور گمشدگیوں  سمیت پیلٹ گن کا نہتے معصوم کشمیری عوام پر بے دریغ اور آزادانہ استعمال پر مشتمل ہے جو ناقابل برداشت ہے۔
پیلٹ گن کا استعمال تو وہ ہے جس کو جھٹلانا بلکل ممکن نہیں اور جس پر نام نہاد ہیومن رائٹس واچ, ایمنسٹی انٹرنیشنل اور بہت سی غیر جانبدار ممالک کی سفارتی مشینری کو چاہتے نا چاہتے ہوئے خالص انسانی بنیادوں پر نوٹس لینا پڑا بلکہ الگ الگ عالمی فورمز پر نشاندہی کرکے اسرائیل, بھارت اور امریکہ کی ناراضگی مول لینی پڑی۔
لیکن اگر کسی کو ہوش نہیں آئی, کسی کو فرق نہیں پڑا اور کسی کا دل اس ظلم پر بھی نہیں ہلا جیسا ہلنے کا حق تھا تو وہ ہے کشمیر کا دعویدار پاکستان, یاد رہے جب بات پاکستان کی بطور ملک ہوتی ہے تب حکومتی اور سیاسی مشینری کی ہوتی ہے عوام کی نہیں۔
اقوام متحدہ میں موجود ہماری مستقل مندوب ملیحہ لودھی, عبدالباسط جیسے دردمند اور محب وطن سفراء,  افواج پاکستان اور تحریک آزادی کشمیر کی روح رواح پاکستانی مذہبی و سیاسی جماعتوں بلخصوص حافظ محمد سعید کی یہ مہربانی ہے کہ انہوں نے باوجود جمہوری رکاوٹوں اور غداروں کی غداری کے اس اہم مسئلے کو عالمی طاقتوں کی نظروں سے ناصرف محو نہیں ہونے دیا بلکہ اتنا اجاگر کیا کہ آج یو این نے بھی غیرت اور شرم کی انگڑائی لی ہے کہ اب مزید پردہ داری اور مجرمانا خاموشی سے دنیا کو یہ باور ہوتا جارہا تھا کہ بھارت, اسرائیل اور امریکہ کی خوشنودی ہی یو این کا اہم فریضہ رہ گیا ہے یا یو این ان مذکورہ غاصب و ظالم ممالک کی رکھیل ہے۔
بہرحال اس وقت سب سے اہم مدعا یہ ہے کہ آج تک کشمیر اور پاکستان کا موقف تسلیم نہیں کیا گیا تھا پر ستر سال کی تلخ تاریخ میں یہ پہلا موقع ہے جس کا فائدہ ہماری عوام اور حکومت سمیت کشمیری حریت رہنما اور کشمیر کاز کی متحرک جماعتیں, صحافتی ادارے اور سوشل میڈیا ایکٹیوسٹس اٹھا سکتے ہیں۔
کیسے؟
مدلل اور جامع تحاریر لکھ کر۔
ٹوئیٹر پر ٹرینڈنگ کرکے۔
ہر طرح کی تنظیموں اور اداروں کو ایک چھت کے نیچے جمع کرکے۔
عام عوام اور سیاسی نمائندگوں کو باور کروا کے۔
ملک گیر تحاریک اور ریلیوں اور جلسوں کے انعقاد سے۔
روزانہ کی بنیاد پر قومی اخبارات میں اس کے متعلق کالم لکھ کر۔
فیسبک و دیگر میکرو بلاگنگ سائیٹس پر بلاگ لکھ کر۔
الغرض ہر ہر طرح سے ہر جہت ہر سمت میں شدید پراپیگیشن کی مدد سے ہم اس دو صفحوں کی مگر اہم ترین حقائق اور پاکستانی و کشمیری موقف کی تائید میں جاری رپورٹ سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔
اگر کفر ٹوٹ ہی گیا ہے خدا خدا کرکے اور عالمی اجارہ داری کا تواز غیر متوازن ہوکر ہماری جھولی میں آگرا ہے تو اس کو یونہی ہوا میں جانے دینا کشمیر کی مظلوم عوام سے دھوکے اور ظلم کے مترادف ہوگا۔
کشمیر اگر ہماری واقعی شہہ رگ ہے جو کہ ہے تو سمجھ لیں بیرونی مگر ہلکی سی مداخلت سے بھارتی خنجر تھوڑی دیر کے لیئے ہٹ جائے گا تو ہم واپس پلٹ کر شدید حملہ کرسکتے ہیں۔
کشمیر کو عزت دو کشمیر ہماری شہ رگ ہے۔
Attachments area

Check Also

شاعر مشرق علامہ محمد اقبال

﴾شاعر مشرق علامہ محمد اقبال﴿ رضوان اللہ پشاوری rizwan.peshawarii@gmail.com علامہ محمد اقبال دنیا میں ایک ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *