Home / کالم / کوئی سوچتا ہی نہیں

کوئی سوچتا ہی نہیں

 

کوئی سوچتا ہی نہیں
پاکستان میں سونامی لانے کا دعویٰ کرنے والے سیاستدان نے کہا ہے کہ مجھے سیاست میں آنے کا کوئی شوق نہیں تھا صرف پاکستان کی بہتری کےلئے سیاست میں قدم رکھاعوام کو تنہا نہیں چھوڑیں گے۔۔۔ کم و بیش یہی باتیں میاں نواز شریف بھی کرتے رہتے ہیں سابقہ صدر آصف علی زرداری بھی ۔۔میاں شہباز شریف بھی ایسی باتیں کرکے عوام کا دل موہ لیتے ہیں مجھے یقین ہے بلکہ آپ لوگ ناراض نہ ہوں تو میں سب کے سامنے دعوےٰ کرتاہوںیہی خوشنما باتیں،عوام کے ساتھ جینے مرنے کی قسمیں اوربلند بانگ دعوے ان کے سیاسی جانشین بھی کریں گے عوام پر حکمرانی کےلئے نئی کھیپ تیار ہورہی ہے کچھ عملاً سیاست میں آگئے ہیں کچھ کا انتظار کیا جارہا ہے نئی کھیپ میں محترمہ مریم نواز۔تو۔میاں نواز شریف کی جانشین ہوں گی ،بلاول بھٹو زرداری توآصف زرداری کے ہونہار صاحبزادے ہیں جو لات مارکر عمران خان کی حکومت کرانے کا دعویٰ کر چکے ہیں، ذوالفقار علی بھٹو جونیئر مرتضیٰ بھٹو کے اکلوتے بیٹے ہیں جن کا ماں کا کہناہے کہ وہ اپنے دادا کے سیاسی وارث ہیں جبکہ میاں حمزہ شہباز ۔ میاں شہباز شریف کے چکنے چکنے پوت ہیں جو متعدد بار نیب کی گرفت میں آ گئے ہیں ان کے بھائی سلمان رفیق اوربہنوئی علی عمران بھی نیب کو مطلوب ہیں اور چوہدری مونس الہی ۔۔ چوہدری خاندان کے سیاسی جانشین ہیں جن کی وزارت کےلئے چوہدری پرویز الہی مسلسل تحریک ِ انصاف کی حکومت کو پریشرائز کررہے ہیں اس کے علاوہ اور بھی کئی سیاستدانوںکی اولاد سیاست میں اپنا مقدر آزمارہی ہیں لیکن ان خانوادوں کے بارے میں کہا جارہاہے یہ پید ا ہی اقتدار کےلئے ہوئے ہیں باقی رہ گئے22کروڑ عوام کے بچے وہ اس قابل کہاں کہ انہیں چھوٹی موٹی سرکاری نوکری بھی مل سکے اونہہ کیڑے مکوڑوں کہیں کے ۔ اشرافیہ کے اسی طرز ِ عمل کی وجہ سے آج اس ملک میں زندگی سے مایوس ، حالات کی بے رحمی کا شکار ، کم وسائل رکھنے والے اور سسک سسک کر قسطوں میں مرنے کے باوجود جینے کی آرزو کرنے کے بے چارے پاکستانیوں اکثریت ہے جو زندگی کی بنیادی سہولتوں سے یکسر محروم ہیں یہ لوگ جینے کی آرزو میں جئے جارہے ہیں اور بدقسمتی سے ان کی یہ خواہش محض خواہش کے سوا کچھ نہیں اس ملک کی ستم ظریفی یہ ہے کہ ان غریبوں کےلئے کوئی بھی نہیں سوچتا حکمرانوں،فوجی ڈکٹیٹروں اور اپوزیشن سب کا رویہ عوام کے ساتھ ایک جیسا ہے شاید موجودہ حالات میں عوام کو دادرسی کے لئے اب کسی کرشمے کا انتظار ہے وزیروں، مشیروں اور ارکان اسمبلی کا تعلق خواہ کسی بھی پارٹی سے ہو ان کے مفادات ایک ہیں وہ بھی صرف اپنے لئے سوچتے ہیں یاد نہیں کسی پارٹی نے کبھی عوامی حقوق کےلئے کوئی تحریک چلانے کااعلان کیاہو ۔۔ یا کسی سیاستدان نے مہنگائی کے خلاف سڑکوں پر پولیس کی مار کھائی ہو حالانکہ اس طبقہ کی تمام آشائسیں عوام اور پاکستان کے دم سے ہیں اس کا ایک مطلب یہ بھی لیا جا سکتاہے یہ لوگ ہاتھی کے دانتوںکی طرح ہیں کھانے والے اور دکھانے والے اور حکمرانوں،اپوزیشن ارکان اور ان کے جانشین شاید یہ بھی نہیں جانتے ہوں گے کہ لاہور کے کئی علاقے آج بھی ایسے ہیں وہاں مسائل کی بھرمارہے لوگ گندے پانی کے نکاس ،پینے کا پانی انتہائی آلودہ ،ٹوٹی سڑکیں، ابلتے گٹر اور مسائل در مسائل سے یہ آبادیاںدیہات کا منظر پیش کررہی ہیں لگتا ہی نہیں یہ لاہور کا علاقہ ہے بلکہ اسے لاہور کہنا بھی لاہور کی بے عزتی محسوس ہوتی ہے یہ علا قے جنجال پورہ بنے ہوئے ہیں اس وقت آدھا لاہور مسائلستان بناہوا ہے لوگ زندگی کی بنیادی سہولتوں کو ترس رہے ہیں کیا یہ سمجھ لیا جائے کہ حکومت نے عوام کو ان کے حال اور حالات کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا ہے؟ پاکستانی قوم کے بہتر مستقبل کےلئے حکمران تمام غیر ضروری اخراجات بند کردیں ،سرکاری وسائل کا بیدردی سے استعمال بند کیا جانا ضروری ہے ،ہر شطح پر سادگی کو فروغ دیا جائے ۔تمام سرکاری محکموں کے خرچ کو کنٹرول کرنے کےلئے نئی حکمت ِ عملی وضح کرنے کی شدید ضرورت ہے، وفاقی اورتمام صوبائی حکومتوں میں مختصر کابینہ بنائی جائے وزیروں مشیروں کی فوج ظفر موج ، سرکاری محکموں میں نت نئی گاڑیاں خریدنا اور بیوروکریسی کا اختیارات سے تجاوز ہمارے ملکی وسائل کو چاٹ رہا ہے یہ وسائل عوام کی فلاح و بہبودپر خرچ کئے جائیں تومعاملات کافی بہتر کئے جا سکتے ہیں لیکن پھروہی بات کوئی سوچتا ہی نہیں۔ ہمارے حکمرانوں کے دل میں کروڑوں عوام کی خواہش کا کوئی احترام نہیں یہی وجہ ہے کہ جب بھی جمہوریت پر شب خون مارا گیا منتخب وزیر ِ اعظم کی حمایت میں کسی شخص نے سڑکوںپرآنا پسند نہیں کیا شاید حکمران اپنے آپ کو بادشاہ سلامت سمجھنے لگ جاتے ہیں۔ جب بھی یہ حکمران طبقہ عوام کو اپنا بھائی قرار دیتاہے مجھے یوں محسوس ہوتاہے جیسے یہ گالی دے رہے ہوں اشرافیہ غریبوںکو بھائی نہ سمجھے صرف عوام کو ان کے حقوق ہی دیدے تو کافی سارے مسئلے حل ہو جائیں گے لیکن کوئی سوچتاہی نہیں کوئی ان سے پوچھے اگر آپ ہمارے بھائی ہیں تو ہماری طرح گرمیوں میںگھنٹوں لوڈشیڈنگ کا عذاب برداشت کر سکتے ہیں؟۔ یہ تو بتاﺅ تمہارے بچے مہینے میں کتنے دن فاقے کرتے ہیں۔ یہ بھی بتادو سحری اور افطاری میں کھانے کو کچھ نہ ہو تو روزے کیسے رکھے جاتے ہیں؟ تم کیا جانو محرومیوں،مایوسیوں،بیماری، غربت، بیروزگاری کا کیسا ذائقہ ہوتاہے ؟ ۔ہے کوئی جواب؟ان سوالوں کا۔ یقین جانوں یہ سارے موسم غریبوں کی زندگی میں ضرور آتے ہیں لیکن کیا کریں اب تو غریبوں کی بات کرنا فیشن بن گیا ہے کوئی بااختیار غریب تو کیا عام آدمی کے بارے میں سوچتا ہی نہیں۔
دھوپ چھاو¿ں الیاس محمد حسین

Check Also

قول وفعل کا تضاد

  قول وفعل کا تضاد ایم سرور صدیقی جمہورکی آواز شہرکے ایک پوش علاقے کی ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *