Home / کالم / کورونا وائرس‘ قےامت صغریٰ کا منظر

کورونا وائرس‘ قےامت صغریٰ کا منظر

 

کورونا وائرس‘ قےامت صغریٰ کا منظر
ڈاکٹر محمد نجےب قاسمی سنبھلی
دنےا مےں وقتاً فوقتاً اےسے واقعات رونما ہوتے رہتے ہےں، جن سے قےامت کا منظر ےاد آجاتا ہے۔ اےک طرف جہاں دنےا تےسری عالمی جنگ کی طرف بڑھتی نظر آرہی ہے وہےں ہمارے ملک کی سےنکڑوں سال پرانی گنگا جمنی تہذےب کے برخلاف ہندو مسلم کے درمےان نفرت اور دشمنی پےدا کرکے ملک مخالف طاقتےں ملک کے سےکولرزم کردار کو نقصان پہونچانا چاہتی ہےں۔ اقتصادی بحران سے دوچار ہمارے ملک مےں جہاں تقرےباً تےن ماہ سے CAA، NPR اور NRC کے خلاف جگہ جگہ احتجاج ہورہے ہےں، وہےں چےن کے ووہان شہر سے پھےلا کورونا وبائی مرض مختلف ملکوں کی طرح اب ہندوستان مےں بھی پہنچ گےا ہے۔ کورونا کے متعلق بہت کچھ لکھا جاچکا ہے اور اب دنےا کا ہر فرد اس مہلک بےماری اور اس کی علامات واسباب سے واقف ہے۔ ڈاکٹروں کے مطابق ےہ مرض پہلے سے موجود تھا مگر ابھی تک اس کا کوئی علاج ےا ٹےکہ اےجاد نہےں ہوسکا۔ مختلف قسم کی بےمارےوں کے علاج ومعالجہ کے لئے دواو¿ں اور ٹےکوں کے اےجاد ہونے کے باوجود اےسی نئی بےمارےاں سامنے آتی رہتی ہےں جن کے سامنے ساری دنےاوی طاقتےں زےر ہوجاتی ہےں، جس کی تازہ مثال کورونا وائرس ہے کہ اس وقت پوری دنےا مےں اس بےماری کے خوف نے لوگوں کے چےن وآرام کو چھےن لےا ہے۔ ہمےں غور وخوض کرنا چاہئے کہ سائنس نے بہت ترقی کی ہے، چنانچہ بعض لوگ چاند پر زندگی کے آثار تلاش کرنے مےں مصروف ہےں، بعض ممالک بڑے بڑے مےزائےل بناکر اےک دوسرے کو تباہ کرنے کے انتظامات کررہے ہےں۔ الےکٹرونک مےڈےا اور سوشل مےڈےا کے ذرےعہ پوری دنےا کو اےک گاو¿ں کے مانند بنانے کی کوشش کی جاری ہے۔ لےکن بعض مہلک بےمارےوں کو روکنے کا انتظام پوری دنےا کے سائنس داں مل کر بھی نہےں کرپائے ہےں۔ سائنس داں دنےا کے عجےب وغرےب نظام کو دےکھ کر ےہی کہنے پر مجبور ہےں کہ ابھی تو وہ اس دنےا کا بہت تھوڑا حصہ ہی سمجھ سکے ہےں۔ ذرا سوچےں کہ دنےا کا اتنا بڑا نظام کسی بڑی طاقت کے بغےر کےسے چل سکتا ہے؟ ہر گز نہےں، ہرگز نہےں۔ اس لےے اےسی بےماروں سے عبرت حاصل کرےں اور اس پوری کائنات کے خالق، مالک اور رازق کی طرف رجوع کرتے ہوئے اس کی مخلوقات سے ےقےنا استفادہ کرےں لےکن اس کے احکام پر عمل پےرا ہوں کےونکہ اےک دن اےسا ضرور آئے گا کہ دنےا کے کسی بڑے ملک کے سربراہ ہونے کے باوجود، دنےا مےں سب سے زےادہ دولت رکھنے کے باوجود، دنےا کے بڑے سے بڑا سائنس داں بننے کے باوجود اور دنےا مےں بہت زےادہ شہرت حاصل کرنے کے باوجود ہم بھی سارے انسانوں کی طرح اےک دن زمےن بوس ہوجائےں گے۔ صحےح معنی مےں آج سائنس ترقی حاصل کرنے کے باوجود ےہ سمجھنے سے بھی قاصر ہے کہ موت کا مزہ نہ چکھنے کی خواہش رکھنے کے باوجود آخر تمام انسان مر ہی کےوں جاتے ہےں اور وہ کےوں پےدا ہوئے ہےں؟ اورےہ دنےا آخر کےوں بنی ہے؟ ےہی اللہ تعالیٰ کے وجود اور اس کے خالق ومالک ورازق کائنات ہونے کی سب سے بڑی نشانی ہے۔
موجودہ کورونا وائرس کے پھےلنے کے متعلق مختلف باتےں سامنے آرہی ہےں کہ ےہ Biological ہتھےار کا اےک نمونہ ہے جو مستقبل مےں اےک طاقت دوسری طاقت کو کمزور کرنے کے لئے استعمال کرسکتی ہے، ےا چےن مےں اقتصادی بحران پےدا کرنے کی امرےکہ کی کوشش ہے، ےا چےن کی کوئی سازش ےا خفےہ منصوبہ ہے جس سے دنےا ابھی تک ناواقف ہے، ےا واقعی اللہ تعالیٰ کا عذاب ہے؟ مگر مسلمان ہونے کے باعث ہمےں ےہ ضرور معلوم ہونا چاہئے کہ اےسے وبائی امراض کے پھےلنے پر شرےعت اسلامےہ کی روشنی مےں ہمےں کےا کرنا چاہئے؟ قرآن وحدےث کی روشنی مےں پوری امت مسلمہ کا اتفاق ہے کہ سب سے پہلے ہمارا تعلق اللہ تعالیٰ کی ذات سے مضبوط ہونا چاہئے، لہذا ہم گناہوں سے معافی مانگنے کے ساتھ احکامِ الٰہی پر عمل پےرا ہوں۔ سےرت نبوی ﷺ پڑھنے والے حضرات بخوبی واقف ہےں کہ حالات آنے پر حضور اکرم ﷺ نے ہمےشہ صحابہ¿ کرام کو اپنے قول وعمل سے اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرنے کا پےغام دیا ہے۔ ےقےنا بعض امراض اےک شخص سے دوسرے شخص مےں منتقل ہوسکتے ہےں، اسی لئے کسی وبائی مرض کے پھےلنے پر آخری نبی ﷺنے ساری انسانےت کو ےہ پےغام دےا کہ وبائی مرض کے پھےلنے کی جگہ جانے سے احتےاط رکھی جائے اور اُس علاقہ کے لوگوں کو دوسرے علاقوں مےں جانے سے حتی الامکان بچنا چاہئے،لےکن اس ےقےن کے ساتھ کہ بےماری اور شفا اللہ کے حکم سے ہی ملتی ہے۔
اس موجودہ بےماری کا بظاہر کوئی علاج دستےاب نہےں ہے،اس لئے احتےاطی تدابےر کا اختےار کرنا شرےعت اسلامےہ کے مخالف نہےں ہے۔ مگر ہماری کوئی تدبےر قرآن وحدےث کے واضح حکم کے خلاف نہ ہو۔ بعض عرب ممالک بشمول سعودی عرب مےں احتےاطی تدابےر کے طور پر پنج وقتہ نمازوں کی جماعت اور نماز جمعہ کی ادائےگی کو پورے ملک مےں غےر معےنہ مدت کے لئے بند کردےا گےا ہے، حتی کہ مسجد حرام مےں طواف کو بھی روک دےا ہے، ےعنی مسلمانوں کی تربےت گاہےں ہی بند کردی گئی ہےں، حضور اکرم ﷺ اور خلفاءراشدےن کے عہد مبارک مےں تمام تر سےاسی، سماجی، معاملتی اور مذہبی فےصلے مساجد سے ہی ہوا کرتے تھے۔ اےسے مواقع پر مساجد مسلمانوں کے لئے پناہ گاہ کی حےثےت رکھتی ہےں۔ سعودی عرب کا تمام مساجد کو بند کرنے کا فےصلہ سعودی علماءکے پلےٹ فارم سے کراےا گےا ہے مگر سبھی جانتے ہےں کہ اس نوعےت کا فےصلہ حکومت کی ہداےات پر ہی ہوتا ہے۔ سعودی علماءکا احترام کرتے ہوئے مےں ان کے فےصلہ سے اپنا اختلاف درج کررہا ہوں کہ علماءاحناف نے قرآن وحدےث کی روشنی مےں پنج وقتہ نماز کے لئے جماعت کو فرض نہےں بلکہ واجب کہا ہے لےکن سعودی علماءحضرات کا موقف پنج وقتہ نماز کے لئے جماعت کے فرض ہونے کا ہی رہا ہے۔ ہوائی اڈے، رےلوے اسٹےشن، بس اسٹاپ اور دےگر خدمات سے پہلے خانہ¿ کعبہ کے طواف اور مساجد کو بند کرنا ہماری سمجھ سے باہر ہے۔ کورونا وائرس سے حفاظت کے لئے مساجد کو بند کرنے کے لئے اعلان مےں قرآن وحدےث کا بھی سہارا لےا گےا ہے، مگر اس حقےقت کا کوئی انکار نہےں کرسکتا ہے کہ حضور اکرمﷺ کے عہد مبارک سے لے کر آج تک ۰۰۴۱ سالہ اسلامی تارےخ مےں متعدد مرتبہ وبائی امراض دنےا مےں پھےلے، جن کی وجہ سے جانی نقصان موجودہ کورونا وائرس کے مقابلہ مےں کئی گنا زےادہ ہوا، حتی کہ دوسرے خلےفہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے عہد خلافت مےں طاعون جےسا وبائی مرض پھےلا مگر اےک مرتبہ بھی کسی بھی اسلامی حکومت نے ملک کی مساجد بند کرنے کا فےصلہ صادر نہےں فرماےا۔ جن ممالک مےں حکومتی سطح پر مساجد بند کرنے کے اعلان ہوچکا ہے وہاں کے لوگ ان شاءاللہ جماعت کے چھوڑنے کے گناہ گار نہےں ہوں گے، حکومت اور علماءکرام ہی اللہ تعالیٰ کے سامنے جواب دہ ہوں گے۔ البتہ سبھی لوگ توبہ واستغفار کا اہتمام رکھےں۔ حالت سفر مےں سخت سردی اور بارش کے وقت حضور اکرم ﷺ کا خےموں مےں نماز پڑھنے کی اجازت دےنا صرف کسی مرض کے وہم کی بنےاد پر پورے ملک کی مساجد کو بند کرنے کے لئے دلےل کے طور پر پےش کرنا قابل قبول نہےں ہے۔ ہاں اگر کسی جگہ پر وبائی مرض پھےلنے کی تحقےق ہوجائے تو صرف متاثرہ علاقہ مےں مساجد بند کرنے کی گنجائش ہوسکتی ہے نہ کہ پورے ملک کی مساجد کو بند کردےا جائے۔ قرآن کرےم (سورة النساءآےت ۲۰۱) مےں عےن جنگ کے موقع پر بھی فرض نماز کو جماعت کے ساتھ ہی پڑھنے کی تعلےم دی گئی ہے، جہاں اےک لمحہ کی غفلت سے جےتی ہوئی جنگ شکست مےں تبدےل ہوسکتی ہے۔
ےقےنا ہمےں احتےاطی تدابےر اختےار کرنی چاہئےں لےکن اللہ تعالیٰ پر توکل کرنا ہمارے اےمان کا حصہ ہے۔ اسباب وذرائع ووسائل کا استعمال کرنا منشائے شرےعت اور حکم الٰہی کے خلاف نہےں ہے۔ حضور اکرمﷺ نے اسباب ووسائل کو اختےار بھی فرماےا اور اس کا حکم بھی دےا خواہ لڑائی ہو ےا کاروبار۔ لہذا حسب استطاعت اسباب کا اختےار کرنا چاہئے، لےکن اللہ تعالیٰ پر توکل بھی ضروری ہے۔ قرآن کرےم مےں اللہ پر توکل ےعنی بھروسہ کرنے کی بار بار تاکےد کی گئی ہے۔ اختصار کے مد نظر ےہاں صرف چند آےات کا ترجمہ پےش کررہا ہوں۔ ” تم اُس ذات پر بھروسہ کرو جو زندہ ہے، جسے کبھی موت نہےں آئے گی“ (سورة الفرقان ۸۵) ”جب تم کسی کام کے کرنے کا عزم کرلو تو اللہ پر بھروسہ کرو“ (سورة آل عمران ۹۵۱) ”جو اللہ پر بھروسہ کرتا ہے اللہ اس کے لےے کافی ہوجاتا ہے“ (سورة الطلاق ۳) ”بے شک اےمان والے وہی ہےں جب ان کے سامنے اللہ کا ذکر کےا جائے تو ان کے دل نرم پڑجاتے ہےں اور جب ان پر اس کی آےات کی تلاوت کی جاتی ہے تو وہ آےات ان کے اےمان مےں اضافہ کردےتی ہےں اور وہ اپنے رب ہی پر بھروسہ کرتے ہےں“ (سورة الانفال ۳)۔ہمارے نبی نے بھی متعدد مرتبہ اللہ پر توکل کرنے کی تعلےم دی ہے، فی الحال صرف اےک حدےث پےش ہے: حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہےں کہ حضور اکرم ﷺ نے ارشاد فرماےا: اگر تم اللہ پر توکل کرتے جےسے توکل کا حق ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ تم کو اس طرح رزق عناےت فرماتے جےسا کہ پرندوں کو دےتا ہے کہ صبح سوےرے خالی پےٹ نکلتے اور شام کو پےٹ بھر کر واپس لوٹتے ہےں۔ (ترمذی)
کورونا مرض کو بڑھنے سے روکنے کے لئے احتےاطی تدابےر ضرور اختےار کرےں، اس بےماری کی علامتےں پائے جانے پر فوراً ہسپتال کا رخ کرےں اور دوسروں سے حتی الامکان دور رہےں۔ تمام لوگوں کو چاہئے کہ بار بار ہاتھ دھوتے رہےں خاص کر ہر نماز کے وقت اچھی طرح وضو کرےں۔ پانی وافرمقدار مےں پےنا چاہئے، بے ضرورت اجتماعات سے دور رہےں، مگر ےہ بات ےاد رکھےں کہ موت کا وقت اور جگہ متعےن ہے اس لئے گھبرانے کی ضرورت نہےں ہے۔ صرف اپنی وسعت کے مطابق اس مرض سے بچنے کی کوشش کرےں۔ اللہ تعالیٰ نے موت کی اس حقےقت کو بار بار بےان کےا ہے، چار آےات کا ترجمہ پےش ہے: تم جہاں بھی ہوگے(اےک نہ اےک دن) موت تمہےں جا پکڑے گی۔ چاہے تم مضبوط قلعوں مےں ہی کےوں نہ رہ رہے ہو۔ (سورة النساء۸۷) (اے نبی!) آپ کہہ دےجئے کہ جس موت سے تم بھاگتے ہو، وہ تم سے آملنے والی ہے۔ ےعنی وقت آنے پر موت تمہےں ضرور اچک لے گی۔ (سورة الجمعہ ۸) چنانچہ جب اُن کی مقررہ مےعاد آجاتی ہے تو وہ گھڑی بھر بھی اُس سے آگے پےچھے نہےں ہوسکتے۔ (سورة الاعراف ۴۳) اور نہ کسی متنفس کو ےہ پتہ ہے کہ زمےن کے کس حصہ مےں اُسے موت آئے گی۔ (سورة لقمان ۴۳) ان مذکورہ آےات سے معلوم ہوا کہ ہر شخص کا مرنا ےقےنی ہے لےکن موت کا وقت اور جگہ سوائے اللہ کی ذات کے کسی بشر کو معلوم نہےں۔ چنانچہ بعض بچپن مےں، توبعض عنفوان شباب مےں اور بعض ادھےڑ عمر مےں، جبکہ باقی بڑھاپے مےں داعی اجل کو لبےک کہہ جاتے ہےں۔ بعض صحت مند تندرست نوجوان سواری پر سوار ہوتے ہےں لےکن انہےں نہےں معلوم کہ وہ موت کی سواری پر سوار ہوچکے ہےں۔
جب ہمارا ےہ ےقےن ہے کہ حالات سب اللہ تعالیٰ ہی کی طرف سے آتے ہےں، اور وہی مشکل کشا، حاجت روا، بگڑی بنانے والا اور صحت دےنے والا ہے، لہذا ہم دعا کا خاص اہتمام رکھےں کےونکہ دعا اےک اہم عبادت بھی ہے۔ ہمےں دُعا میں ہرگز کاہلی وسستی نہےںکرنی چاہئے، یہ بڑی محرومی کی بات ہے کہ ہم مصیبتوں اور بےمارےوں کے دور ہونے کے لئے بہت سی تدبیریں کرتے ہیں مگر وہ نہیں کرتے جوہرتدبیر سے آسان اور ہرتدبیر سے بڑھ کر مفید ہے (یعنی دعا)، اس لئے ہمےں چاہئے کہ اپنے خالق ومالک کے سامنے خوب دعائےں کرےں کہ اللہ تعالیٰ پوری دنےا سے اس بےماری کو دور فرمائے، آمےن۔

Check Also

تیسری جنگ عظیم کے محرکات

اٹکل تیسری جنگ عظیم کے محرکات (حصہ اول) تحریر:۔ ملک شفقت اللہ انسان نے ترقیاتی ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *