Home / کالم / کچھ باتیں کچھ حکائتیں

کچھ باتیں کچھ حکائتیں

ایم سرور صدیقی

جمہورکی آواز

گاہک کا تربوز والے سے سوال کیا ”یار تمہیں کیسے تربوز کو تھپکی مارنے سے پتہ چل جاتا ہے کہ تربوز میٹھا اور لال نکلے گا؟
”تربوز والا: ”پتا نہیں! ”لیکن میرے باپ نے مجھے ”سمجھایا تھا کہ ”دو تربوز پر تھپکیاں مارو ”پھر تیسرے والا تربوز ”گاہک کو پکڑا دو ”گاہک خوش ہو جاتا ہے۔
1)زرداری. 2)شریف 3)خان
اور تربوز والے نے یہی کیا، عوام کو تیسرا تربوز پکڑا دیا۔ عوام خوش ہیں
بیویوں کی تعداد کا چار ہونا اس کے ناموں کے حروف کی تعداد سے ہی اشارہ ملتا ہے:
شادی کے چار حروف—–ش–ا–د–ی
نکاح کے چار حروف—–ن–ک–ا–ح
شوہر کے چار حروف—–ش–و–ہ–ر
بیگم میں چار حروف___ب_ی_گ_م
بیوی میں چار حروف___ب_ی_و_ی
زوجہ میں چار حروف___ز_و_ج_ہ
ناوی (پشتو) میں بھی چار حروف_ن_ا_و_ی
ہندی زبان میں بھی پتنی کے چار حروف. پ_ت_ن_ی
نساءمیں بھی چار حروف۔ن-س-ا-ئ
اور WIFE میں بھی چار حروف ہیں__w_i_f_e
حتیٰ کہ ان سب ناموں سے بننے والے لفظ “دلہن” میں بھی چار حروف۔د۔ل۔ہ۔ن
ان سب ناموں کے حروف کی تعداد سے یہی اشارہ ملتا ہے کہ بیویاں چار ہی ہونی چاہییں-
ھاتھ میں بھی چار انگلیاں اور ایک انگوٹھا اس کی گواہی ھے۔
دل کے بھی چار خانے اور ہر خانے میں ایک بیوی کی تصویر۔
اللہ تعالیٰ سب مسلمان مردوں کی دلی مراد پوری فرمائیں- آمین ثمہ آمین
یہ سب کچھ اپنی ذمہ داری پر ر کریں اور ہڈیوں کے ڈاکٹر کا پتا پاس رکھیں کیونکہ ڈنڈے کے بھی چار حروف ہیں۔ یہ ایک ایسا لمحہ ¿ فکریہ جس نے ہمارے دل ودماغ کی کھڑکیاں کھول کررکھ دی ہیں 72 سالوں سے ہم کشمیریوں کے ساتھ کھڑے ہیں
لاکھوں کشمیری شہید ہوگئے، ہم ساتھ کھڑے ہیں
بہنوں بیٹیوں کے عزتیں لٹ گئیں،ہم ساتھ کھڑے ہیں۔
لاکھوں عورتیں بیوہ ہوگئی ، ہم ساتھ کھڑے ہیں۔
ہزاروں بچے یتیم ہوگئے،ہم ساتھ کھڑے ہیں
لاکھوں کشمیری معذور ہوگئے،ہم ساتھ کھڑے ہیں
اب کشمیر کی شناخت بھی ختم کردی،ہم ساتھ کھڑے ہیں
سوال یہ ہے زندہ کھڑے ہیں یا مردہ ؟؟
اگر آئی ایم ایف سے قرض لینا مجبوری ہے اور ملکی مفاد میں ہے تو ضرور لیں۔۔۔
لیکن! کیوں نا اس بار اس قرض کا بوجھ عوام پر نئے ٹیکسز لگانے کی بجائے یہ کیا جائے کہ چاروں صوبائی اسمبلیوں کے ساتھ ساتھ قومی اسمبلی و سینیٹ کے تمام ممبران اور صوبائی و وفاقی وزراء اور وزیر اعظم و صدر ؛ آرمی چیف ؛۔ اور تمام ججز صاحباں اور تمام بیوروکریٹس سے سوائے اپنی تنخواہ کے تمام تر مراعات واپس لے لی جائیں۔ انکا ہاو¿س رینٹ۔بجلی و گیس بل۔ڈیزل و پٹرول خرچ۔ماہانہ لاکھوں الاو¿نس۔ماہانہ ریفریشمنٹ خرچ۔گاڑیاں، پروٹوکول،یہ سب کچھ چند ماہ اپنی جیب سے برداشت کرلیں پھر دیکھتے ہیں۔ مہنگائی کم ہوتی ہے یا بڑھتی ہے۔ملکی خسارہ کم ہوتا ہے یا بڑھتا ہے۔ ملکی معیشت پہ قرض کا بوجھ کب تک رہتا ہے۔۔۔ ؟؟؟؟؟سب
ریاست مدینہ کی بات کر تے ہیں مگر ریاست مدینہ کہ اصولوں کے قریب تک نہیں آنے دیتے
ریاست مدینہ میں تو حاکمِ وقت نے اپنی اور مزدور کی تنخواہ برابر رکھنے کے احکامات جاری گئے تھے اور ہمارے حکمرانوںکا طرز ِ عمل کیساہے؟ یہ غوروفکرکی بات ہے۔
حقوق زوجیت کے حوالہ سے اسلامی تاریخ میں ایک واقعہ درج ہے جس سے بہت سوںکو رہنمائی مل سکتی ہے
ایک مرتبہ امیرالمومنین حضرت عمرؓ ِفاروق کے پاس ایک عورت آئی اور اس نے کہا “امیر المو¿منین! میرے شوہر جیسا نیک آدمی شاید دنیا میں کوئی نہ ہو، وہ دن بھر روزہ رکھتے اور رات بھر نماز پڑھتے رہتے ہیں” یہ کہہ کر وہ خاموش ہوگئی- حضرت عمرؓ ِ فاروق اس کی بات کا منشا پوری طرح نہ سمجھ پائے اور فرمایا: اللہ تمہیں برکت دے اور تمہاری مغفرت کرے۔ نیک عورتیں اپنے شوہر کی ایسی ہی تعریف کرتی ہیں۔“
عورت نے یہ جملہ سنا، کچھ دیر جھجکی رکی اور پھر واپس جانے کے لئے کھڑی ہوگئی۔ کعبؓ بن سوار بھی موجود تھے، انھوں نے عورت کو واپس جاتے دیکھا تو حضرت عمرؓ ِفاروق سے کہا:
”امیر المومنین ! آپ اسکی بات نہیں سمجھے، وہ اپنے شوہر کی تعریف نہیں، شکایت کرنے آئی تھی، اس کا شوہر جوش عبادت میں زوجیت کے پورے حقوق ادا نہیں کرتا۔“
”اچھا یہ بات ہے۔“ حضرت عمرؓ ِفاروق نے فرمایا ”بلاو¿ اسے!“ وہ پھر عورت واپس آئی، اس سے دریافت کرنے پر معلوم ہوا کہ واقعی حضرت کعبؓ بن سوار کا خیال صحیح تھا۔حضرت عمرؓ ِفاروق نے ان سے فرمایا کہ ” اب تم ہی اس کا فیصلہ کرو۔“
”امیر المومنین ! آپ کی موجودگی میں کیسے فیصلہ کروں؟“ حضرت کعبؓ نے کہا۔ ”ہاں تم نے ہی اس کی شکایت کو سمجھا تم ہی اس کا ازالہ کرو“ حضرت عمرؓ ِفاروق نے فرمایا.
اس پر حضرت کعبؓ نے کہا: ”امیر المومنین اللہ تعالیٰ نے ایک مرد کو زیادہ سے زیادہ چار عورتوں سے نکاح کی اجازت دی ہے، اگر کوئی شخص اس اجازت پر عمل کرتے ہوئے چار شادیاں کرے تو بھی ہر بیوی کے حصے میں چار میں سے ایک دن رات آتے ہیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ ہر چوتھا دن رات ایک بیوی کا حق ہے۔ لہٰذا آپ فیصلہ دیجئے کہ اس عورت کا شوہر تین دن عبادت کر سکتا ہے، لیکن چوتھا دن لازماً اسے اپنی بیوی کے ساتھ گزارنا چاہئے۔“ یہ فیصلہ سن کرحضرت عمرؓ ِفاروق پھڑک اٹھے اور فرمایا:” یہ فیصلہ تمہاری پہلی فہم و فراست سے بھی زیادہ عجیب ہے۔“ اس کے بعد امیرالمومنین حضرت عمرؓ ِفاروق نے حضرت کعبؓ بن سوار کو بصرہ کا قاضی بنادیا۔۔

Check Also

کورونا اوردفاعی تدابیر

  شہادت چوہدری محمدالطاف شاہد کورونا اوردفاعی تدابیر پاکستا ن میں کوروناوائرس کی تباہ کاریاں ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *