Home / کالم / گستاخانہ خاکے اورہماراطرزعمل

گستاخانہ خاکے اورہماراطرزعمل

 

 

گستاخانہ خاکے اورہماراطرزعمل
عمرفاروق /آگہی
گستاخانہ خاکوں کا سلسلہ ستمبر 2004 میں شروع ہواتھا۔ 2004 کے آخر میں ڈنمارک کے مصنف کرے پلولیٹکن نے ذات اقدس پر ایک کتابچہ لکھا۔ وہ اس کتابچے میں (نعوذ باللہ) آپﷺ کے خاکے شائع کرنا چاہتا تھا اس نے ڈنمارک کے بے شمار مصوروں سے رابطہ کیا لیکن انہوں نے معذرت کرلی۔ وہ بعد ازاں ایک دوست کے ذریعے سے یولاند پوسٹن اخبار کے دفتر گیا۔ اس نے اخبار کے ایڈیٹر سے اپنا مسئلہ ڈسکس کیا اور اس دوران ایڈیٹر کے دماغ میں یہ شیطانی آئیڈیا آگیا۔ ایڈیٹر نے 40 کارٹونسٹوں سے رابطہ کیا۔ 28 نے انکار کردیا لیکن کرٹ ویسٹر گارڈ سمیت 12 گستاخ اس قبیح جسارت پر رضامند ہوگئے۔ یوں یہ خاکے بنے اور انہوں نے پوری دنیا کا امن غارت کردیا۔ اس وقت سے آج تک عالم اسلام اس گستاخانہ حرکت پر کوئلوں پر لوٹ رہا ہے،
2004میں صومالی نژاد مرتد خاتون آیان ہر سی علی (Ayaan Hirsi Ali)اور ہالینڈ کے فلم میکر تھیووین گاف (Theo Van Gogh)نے مل کر Submission کے نام سے ایک گستاخانہ فلم بنائی جس کا نام عربی نام اسلام رکھا گیا۔ اس فلم میں قرآن پاک کی توہین کی گئی اور ایک برہنہ خاتون کے جسم پر آیات قرآنی لکھی ہوئی دکھائی گئی۔ اس فلم کے خلاف بھی پورے عالم اسلا م میں شدید احتجاج ہوا۔ جب اس پر کوئی ایکشن نہیں لیا گیا تو اس فلم کے ڈائریکٹر اور پروڈیوسر تھیووین گاف کو 2004 میں ہالینڈ کے شہری محمد بوژہری نے قتل کرکے جہنم واصل کردیا ۔
اس کے بعد 30ستمبر 2005کو ڈنمارک کے کثیر الاشاعت اخبار جیلنڈس پوسٹن (Jyllands Posten) نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارہ گستاخانہ خاکے شائع کیے۔ اس گستاخی کے بعد پورے عالم اسلام میں ہلچل مچ گئی اور عالمی سطح پر احتجاج ریکارڈ کروایا گیا اور ڈنمارک کی مصنوعات کا بائیکاٹ بھی کیا گیا۔ بعد میں یہ مسئلہ عارضی طور پر ٹھنڈا ہوگیا۔ ایک سال بعد اس معاملے کو مزید ہوا دینے کی کوشش کی گئی۔ صیہونی ڈینٹل پائیس پھر میدان میں آیا اور یہودیو ں کے زیر اثر یورپ کے سات بڑے اخبارات میں یکم فروری 2006کو فرانس میں چارلی ہیبڈو (Charlie Hebdo)، جرمنی، اٹلی، ہالینڈ، اسپین اور سوئزرلینڈمیں جیلنڈس پوسٹن والے بارہ خاکے دوبارہ شائع کیے گئے۔ اس معاملے کو مزید بڑھایا گیا۔
2008میں ہالینڈ کے کارٹونسٹ گریکوری نیکشٹ (Gregory Nekschot)نے اپنے خاکوں سے اسلامی اقدار کا مذاق اڑایا۔ 2008میں ہی ہالینڈ میں رکن پارلیمنٹ گیرٹ ولڈرز نے ایک متنازعہ فلم فتنہ بنائی جس میں قرآن کریم کی آیات پر تنقید کی گئی جس پر پوری دنیا میں مظاہرے کیے گئے اور گیرٹ ولڈرز کے مقد مہ کا مطالبہ کیا گیا۔ لیکن اس پر بھی کوئی ایکشن نہیں لیا گیا۔ 21مارچ 2011 کو ملعون پادری ٹیری جونز (Terry Jones)نے بھی قرآن کریم کی گستاخی کی۔ اس نے قرآن پاک پر مقدمہ بناکر مجرم ٹھہرایا اور پھر سزا کے طور پر قرآن پاک کو نذر آتش کیا۔
2نومبر 2011کو فرانس کے متنازعہ ترین اخبار چارلی ہیبڈو نے پیغمبر رحمت صلی اللہ علیہ وسلم کی گستاخی والا شمارہ شریعہ ہیبڈو (Sharia Hebdo)کے نام سے جاؒؒری کرنے کا فیصلہ کیا جس کے رد عمل میں اس پر حملہ ہوا لیکن اس کا ایڈیٹر گستاخیوں سے باز نہیں آیا اور یہ سلسلہ 2012میں بھی جاری رہا۔ اسی ٹیری جونز نے ستمبر 2012میں ایک متنازعہ فلم بنائی جس کا نام مسلمانوں کی سادگی رکھا۔ یہ فلم بھی گستاخیوں سے بھری ہوئی تھی۔
2015میں ایک مسلح مسلمان نے فرانس کے دارالحکومت پیرس میں ایک میگزین چارلی ہیبڈو کے دفتر پر حملہ کر کے گستاخانہ کارٹون چھاپنے پر 12 افراد کو گولیاں مار کر ہلاک کر دیا تھا۔ اس واقعہ کے بعد چند عالمی نشریاتی اداروں نے اعلان کیا کہ وہ آئندہ ایسا کوئی گستاخانہ خاکہ نہیں چھاپیں گے جس سے کسی کی مذہبی دلآزاری ہو لیکن جس طرح مغرب نے اکٹھے ہو کر پیرس میں یہ اعلان کیا کہ ہم سب چارلی ہیں اور اگلے شمارہ میں مزید گستاخانہ خاکے شائع کر کے 6 زبانوں میں 30 لاکھ کی تعداد میں پوری دنیا میں تقسیم کئے گئے ہیں۔
ہالینڈ کی اسلام دشمن جماعت فریڈم پارٹی کے سربراہ ملعون گیرٹ ولڈرزنے ایک بار پھر دنیا کا امن داﺅ پر لگاتے ہوئے نومبر 2018میں گستاخانہ خاکوں کی نمائش کا اعلان کیا ہے گیرٹ ولڈرز کو ہالینڈ حکومت کی مکمل سرپرستی حاصل ہے۔ یہ مقابلہ پارلیمنٹ کی عمارت میں ہوگا ۔
مغرب نے اسلام اور اہل اسلام کے حوالے سے ہمیشہ منافقت سے کام لیا ہے ۔ مغرب میں ہر چیزکے حقوق متعین ہیں، لیکن وہ عظیم ہستیاں جنہوں نے اس روئے زمین کو اپنی روشن و ارفع تعلیمات سے منورکیا، ان کی کھلے عام توہین کی جاتی ہے۔ کسی یاوہ گو، دریدہ دہن، خبطی شخص کو ان مقدس شخصیات کی ذات عالی پرکیچڑ اچھالنے کو آزادی اظہار رائے کا نام دینا نہ صرف سراسر اسلام دشمنی ہے، بلکہ پرلے درجے کی انتہا پسندی، شیطانیت اور حیوانیت ہے، اگر عقل سے محروم اہل مغرب اسی کو آزادی اظہار رائے کا حق کہتے ہیں تو پھر مسلمان اس آزادی کواپنے جوتے کی نوک پر رکھتے ہیں۔
ان خاکوں کی مذمت میں جو کچھ بھی ہوتا ہے وہ صرف عوامی سطح پر ہوتا ہے۔ حکومتی سطح پر کوئی اقدامات اور بائیکاٹ نہیں کیے جاتے۔ یہ ضرور ہے کہ قومی و صوبائی اسمبلیوں میں مذمتی قرار دادیں جمع کروائی جاتی ہیں جوکہ قابلِ تحسین ہیں لیکن بدقسمتی سے ان کی حیثیت محض عارضی طور پر دل کو بہلانے اور عوام کے غصے کو ٹھنڈا کرنے کی ہوتی ہے۔ کچھ دنوں تک معاملہ زیرِ بحث رہتا ہے۔ پھر سب ٹھنڈے پڑجاتے ہیں۔ کچھ دنوں بعد گستاخی کا پھر کوئی نیا شوشا چھوڑدیا جاتا ہے۔ پھر عوام سڑکوں پر آتی ہے۔ پھر ختم ہوجاتا ہے۔ گذشتہ پندرہ بیس سالوں سے یہی ہوتا آرہا ہے۔ ویسے بھی عوام احتجاج سے زیادہ کر بھی کیا سکتی ہے؟ یہ کام تو حکمرانوں اور اعلی حکام کا ہے جو اپنے اختیارات استعمال کرکے فوری طور پر اس معاملے کو عالمی سطح پر اٹھاسکتے ہیں اور گستاخی کرنے والے ملک کا بائیکاٹ کرسکتے ہیں۔ اگر تمام اسلامی ممالک اس ملک سے اپنا اپنا سفیر واپس بلاکر اس ملک کے سفیر کو اپنے وطن سے نکال دیں اور ایمبیسی کو تالا لگادیں تو قوی امید ہے کہ اس طرز عمل سے گستاخی کرنے والے اپنے ناپاک عمل کو روکنے پر مجبور ہوجائیں گے۔
امریکی صدر جارج بش نے جب مسلمانوں کے خلاف صلیبی جنگ کا اعلان کیا تھاتو اسی وقت سمجھ لینا چاہیے تھا کہ اصل مقصد کیاہے ۔صلیبی جنگ جاری ہے،مسلمان حکمرانوں اور سرمایہ داروں کے اپنے مفادات امریکا اور مغرب سے وابستہ ہیں۔ان سے بزدلی اور مداہنت کے علاوہ اور کیا توقع کی جاسکتی ہے۔ مسئلہ محض وقتی ردعمل کا نہیں ہے بلکہ ضرورت ہے ایک مربوط حکمت عملی اور مغرب کی جنگ کے اسلوب اور اس کے محاذوں کو سمجھنے کی یہ محض چند کارٹون کسی ایک اخبار کی ناپاک جسارت کسی ایک فیس بک کا معاملہ نہیں ہے بلکہ اسلامی دنیا کے عقیدے اور تہذیب کے خلاف برملا اظہار جنگ ہے اور یہ جنگ طویل بھی ہوگی اورفیصلہ کن بھی وقت کا سب سے بڑا چیلنج ہی اس کے مقابلے کے لیے درست حکمت عملی کی ضرورت میں پنہاں ہے۔
المیہ یہ ہے کہ جو لوگ محض ایک کرسی کی خاطر آل پارٹیز کانفرنس تو بلالیتے ہیں لیکن ناموسِ رسالت کی حفاظت پر خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔ اگرچہ جمعیت علماءاسلام ف کے سربراہ مولانافضل الرحمن اورتحریک لبیک پاکستان نے ملک بھرمیں احتجاج کی کال دی ہے مگراصلی کام حکومت کے کرناہے اورنئی حکومت کے لیے یہ پہلاکڑاامتحان ہے کہ وہ اس حوالے سے کیاکرداراداکرتی ہے ۔

Check Also

بعثت و نبوتﷺ پر ایمان کی معراج

بعثت و نبوتﷺ پر ایمان کی معراج تحریر۔۔۔ رشید احمد نعیم ، پتوکی حضور صلی ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *