Home / کالم / گستاخانہ خاکے اورہماری چُپی حرمت رسول پرجان بھی قربان ہے بائیکاٹ ہالینڈ

گستاخانہ خاکے اورہماری چُپی حرمت رسول پرجان بھی قربان ہے بائیکاٹ ہالینڈ

 

 

گستاخانہ خاکے اورہماری چُپی حرمت رسول پرجان بھی قربان ہے بائیکاٹ ہالینڈ
تحریر:علی جان(لاہور) ای میل

aj119922@gmail.com
دردل مسلم مقام مصطفٰی است
آبرو ئے ماز نام مصطفٰی است
مجھے جہاں تک یادپڑتا ہے کہ گستاخانہ خاکوں گھٹیا سلسلہ 2004سے شروع ہوا جب صومالی نژاداورمرتدخاتوں آیان ہرسی اور ہالی ووڈ کے فلم میکرتھیووین گاف نے مل کر”submission“کے نام سے فلم بنائی جس میں قرآن پاک کی بے حرمتی کی گئی اس فلم میں برہنہ عورت کے جسم پر آیت قرآنی لکھی ہوئی دکھائی گئیں اس فلم کے خلاف پورے عالم اسلام میں شدیداحتجاج کیا مگرجب احتجاج کے باوجود کوئی ایکشن نہیں لیا گیا تو ہالینڈ کے شہری محمدبوڑہرنے قتل کرکے جہم واصل کردیا۔2004میں ہی ایک مصنف کرے پولینکٹن نے آپ ﷺ کی ذات اقدس پر ایک کتابچہ لکھا جس میں وہ آپﷺ کے خاکے شائع کرنا چاہتا تھا جس کیلئے اس نے مختلف آرٹسٹوں سے رابطہ کیا مگرسب نے انکار کردیا جس کے بعداس نامراد نے اپنے دوست کے ذریعے یولاندپوسٹن اخبارکے دفترگیا جس میں اس نے اس اخبار کے ایڈیٹرسے اپنا مسئلہ بیان کیا تو اس ذلیل ایڈیٹرکے دماغ میں شیطانی ایڈیا آیا تو اس نے 40مصوروں سے رابطہ کیا جس میںسے 28نے یہ خاکے بنانے سے انکار کردیا اور 12بے غیرتوں نے اس ذلیل کام کی حامی بھرلی اوریہ یہ گستاخانہ خاکے بنا کے پوری دنیا کا امن غارت کردیا۔ستمبر2005میں ڈنمارک کے اخبار جیلنڈرپوسٹن نے آپ ﷺ کے 12خاکے شائع کئے جس کی وجہ سے پورے عالم اسلام میں احتجاج ریکارڈ کروائے گئے اسی دوران ڈنمارک کی مصنوعات کا بھی مکمل بائیکاٹ کیا گیا ۔یہ معاملہ آہستہ آہستہ ٹھنڈا ہورہا تھا کہ فروری 2006 جیلنڈس پوسٹن والے 12خاکے صہونی ڈینیل پائیس نے جرمنی،اٹلی،ہالینڈ ،سپین ،سوئیزرلینڈ کے 7بڑے اخباروں میں دوبارہ شائع کروا کے اس معاملہ کو مزیدہوادی ۔ یہ معاملہ یہیں نہیں رکا 2008میں ہالینڈ کے کارٹونسٹ گریگوربسکٹنت(GREGORY NEKSCHOT) نے اپنے خاکوں سے اسلامی اقدار کامذاق اڑایا۔اسی سال 2008میں ہی ہالینڈرکن پارلیمنٹ گیرٹ ویلڈرز نے ایک متنازعہ فلم بنائی جس میں قرآن پاک کی آیت پرتنقیدکی گئی جس کی وجہ سے پھر سے اسلامی ممالک میں مظاہرے اور احتجاج شروع ہوگیا یہ وہی بدبخت ہے جس نے ہالینڈ کی پارلیمنٹ میں قرآن کی ترسیل روکنے کوکہااورمسلمانوں کو آدھاقرآن پاک تلف(نعوذ باللہ)کرنے کا مطالبہ کیاتھا اور اسی ذلیل انسان نے ہی عورتوں کے پردے کا بل بھی پیش کیا خودساختہ آزادی اظہاررائے کی آڑمیں آپ ﷺ کے گستاخانہ خاکوں سے دنیا کے امن کوبرباد کرنے کی کوشش کی گئی ہے ۔اگرمعاملہ کچھ بہترہورہا تھا جن لوگوں کے سروں پرخون سوار تھا وہ خاموش ہورہے تھے تو 2011میںملعون پادری ٹیری جونزنے قرآن کریم کی گستاخی کی اس بدبخت نے قرآن کریم پرمقدمہ لگاکر مجرم ٹھہرایااورسزاکے طورپرجلا دیا۔اسی ٹیری جونز نے ستمبر2012میں ایک گستاخانہ فلم بنائی جس کا نام ”مسلمانوں کی معصومیت“رکھا یہ فلم بھی گستاخیوں سے بھری ہوئی تھی ۔2015میں پیرس کے ایک میگزین چارلی ہیبڈومیں گستاخانہ کارٹون چھاپے تو ایک مسلح مسلمان نے ان کے دفتر میں گھس کر 12لوگوں کو موت کے گھاٹ اتارا بعدازاں چندعالمی نشریاتی اداروں نے یہ اعلان کیا کہ اب کوئی ایسے مواد اخباروں میں چھاپے نہ جائیں جس سے مذہبی دل آزاری ہو۔مغرب نے اکٹھے ہوکریہ اعلان کیا کہ چارلی ہیں اور انہوں نے مزیدگستاخانہ خاکے 6مختلف زبانوں میں30لاکھ پیپرچھپواکرپوری دنیا میں تقسیم کیے گئے جس کی وجہ سے پورے عالم اسلام میںشدیداحتجاج کیے ۔ہالینڈ کی اسلام دشمن جماعت فریڈم پارٹی کے سربراہ ملعون گیرٹ نے ایک بار پھر عالم اسلام کا امن داﺅ پرلگاتے ہوے نومبر2018میں گستاخانہ خاکوںکی نمائش کا اعلان کردیااسے بے ضمیرکوحکومت ہالینڈ کی مکمل سرپرستی حاصل ہے اور یہ مقابلہ پارلیمنٹ کی عمارت میں ہوگا۔مگرمسلمان ہونے کے ناطے ہمارا فرض بنتا ہےکہ ہالینڈ کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں کیونکہ ہمارے لیے آقائے دوجہاں حضرت محمدمصطفٰی ﷺ کی ناموس سے بڑھ کرکچھ بھی نہیں آپ ﷺ کی وجہ سے ہی بنی نوانسان کہلانے کے لائق ہوئے جینے کا سلیقہ عربی عجمی کو بھائی بنایاباطل پرستی کو جھٹلاکر حقیقی رب کی عبادت کرنا سکھایا۔آپ ﷺ نے بھائی چارے کی بنیاد رکھی مگرغیرمسلم ممالک مسلمانوں مذہبی جذبات مجروح کرکے انہیں اشتعال دلانے پھردنیا بھر میں دہشت گردثابت کرنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں ۔سوشل میڈیا جسے آزادی رائے کے اظہار کا نام دیا جاتا ہے آئے روز اسی پراسلام کی توہین کی جاتی ہے سوال یہ ہے کہ یہ کیسی آزادی رائے کا اظہار ہے کہ یہودی ،عیسائی،ہندو،بدھ مت کے مذاہب کی توہین کی اجازت تو نہیں دیتا مگر اربوں کھربوں دلوں کے سلطان آقائے دوجہاں ﷺ کی شان میں گستاخی کرکے مسلمانوں کو مشتعل کیا جاتا ہے اسی گستاخانہ خاکوں کے حوالے سے سیاسی سماجی مذہبی تنظیموں کے رہنماﺅں نے مظاہرے کیے اوران میں کس نے کیا کہا سرائیکستان ڈیموکریٹک پارٹی کے چیئرمین رانا فراز نون نے کہا کہ ایسے گستاخانہ خاکے شائع کرکے اربوں لوگوں کی دل آزاری کی گئی ہے شاہنواز مشوری صدرسوجھل دھرتی واس نے کہا یقیناًیہ مسلمانوں اور اسلام کو بدنام کرنے کی سازش ہے تاکہ گستاخانہ خاکے شائع کرکے مسلمانوں کو مشتعل کردیں پھر ان پر دہشت گردی کا لیبل لگا دیں ،ایس ڈی پی کے صوبائی کوآرڈینیٹراور سینئرصحافی ڈاکٹرعاشق ظفربھٹی نے کہا میں ،میرے والدین،میرے اہل وعیال قربان جائیں سرورکائنات حضرت محمدﷺ پر ہم ہالینڈ جا کرتو نہیں روک سکتے مگر ہم اتنے بے حس اوربے ضمیرنہیں کہہ کوئی ہمارے آقاﷺ کی شان میں گستاخی کرے تو ہم دیکھتے رہیں ہم اتنے مظاہرے اور احتجاج کریں گے کہ حکومت مجبور ہوکر ہالینڈ کے خلاف ایکشن لے گی ٹیچریونین کے سیکرٹری اصغرخان لغاری نے کہا کہ ہم وزیراعظم عمران خان سے اپیل کرتے ہیں کہ گستاخانہ خاکوں کے متعلق چُپی توڑیں اور کوئی ایکشن دکھائیںمذہبی تنظیموں کے رہنما عدنان فداسعیدی نے اپنے بیان میں کہا کہ ناموس رسالت کی حفاظت ہم سب پر فرض ہے اور جب بھی ہماری ضرورت پڑی ہم جان کی بازی لگانے سے بھی دریغ نہیں کریں گے سرائیکستان نیشنل فرنٹ کی چیئرپرسن اجالالنگاہ نے وزیراعظم عمران خان سے مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم عمران خان ہمیں مدینے کی ریاست سے پہلے مدینے والے کی ناموس کی حفاظت چاہیے سماجی تنظیموں کے رہنما عمران مشتاق سعیدی نے کہا گستاخانہ خاکوں سے مسلمانوں کے جذبات مجروح ہونگے نفرت اورعدم اعتماد کو تقویت ملے گی عبدالقیوم خان لغاری ہیڈماسٹرنے کہا کہ حکومت کو چاہیے کہ فوری طور پر عالمی اسلامی سربراہی کانفرنس بلا کے مغرب ممالک کو پیغام دیا جائے کہ آزادی اظہار کی آڑ میں گستاخی کے واقعات قابل مذمت ہیں ۔اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہگستاخانہ خاکوں کو شائع کرنے والے جریدے کے حق میں چالیس سے زائد مغربی ممالک سربراہان اور اسرائیلی وزیراعظم سمیت 15لاکھ لوگ سڑکوں پر آسکتے ہیں تو ناموس رسالت کی خاطر کروڑوں مسلمان بھی سڑکوں پر نکلنے سے گریز نہیں کریں گے ۔ان توہین آمیز خاکوں پر مسلمانوں کا جو رد عمل سامنے آیا ایمان افروز ہے کہ آج بھی مسلمان اپنے جان ومال سے زیادہ حرمت رسول سے عشق کرتے ہیں ۔ہالینڈ میں اسلام کے متعلق کارٹون مقابلہ صرف پاکستان میں نہیں بلکہ پورے اسلامی ملکوں میں غم وغصہ پایا جاتا ہے ۔)اب بنے اگرخاکے……….. تو لگو دیں گے ناکے(
ان خاکوں کی مذمت میں جوکچھ بھی ہوتا ہے سب عوامی سطح پرہوتا ہے مگرسیاسی سطح پر صرف مذمتی بل جمع کروانے کے بعد سیاستدان سمجھتے ہیں انہوں نے اپنا فرض ادا کردیا حالانکہ ہم اگراپنی جان بھی آقائے دوجہاںﷺپرنثارکردیں تب بھی یہ قرض نہیں اترسکے گے جب تک مسلم ممالک ان ممالک کے سفیروں کواپنے ملکوں سے نکال نہ دیں اور اپنے سفیرواپس بلالیں اورایمبیسی کو تالا لگا دیں تب تک یہ سلسلہ رکنا مشکل نظرآتا ہے ۔اگرمغربی ممالک میں ایسے گستاخانہ واقعات رونما ہوتے رہے تو دنیا میں تیسری عالمی جنگ چھڑ سکتی ہے ۔مسلمان آزادی اظہاررائے کے حق میں ہیں مگرآقائے دوجہاں ﷺ کے نام پرمرمٹ جانے کیلئے بھی ہمہ وقت تیاررہتے ہیں۔

Check Also

پریشان حال چھوٹے کسان

    پریشان حال چھوٹے کسان چوہدری ذوالقرنین ہندل:لکھاری گوجرانوالہ سے تعلق رکھتے ہیں،مکینیکل انجینیئر ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *