تازہ ترین خبریں
Home / کالم / گستاخانہ خاکے ۔۔معاملہ ابھی ختم نہیں ہوا

گستاخانہ خاکے ۔۔معاملہ ابھی ختم نہیں ہوا

 

 

گستاخانہ خاکے ۔۔معاملہ ابھی ختم نہیں ہوا
عمرفاروق /آگہی
ہالینڈ میں گستاخانہ خاکوں کامقابلے اگرچہ منسوخ ہوگئے ہیں مگرامت مسلمہ کے لیے یہ کافی نہیں ہے کیوں کہ ملعون گیرٹ ویلڈرنے اپنے پیغام میں کہاہے کہ معاملہ ابھی ختم نہیں ہوا۔ہالینڈ کے اسلام دشمن سیاست دان گیرٹ ویلڈرز نے اپنے تازہ ٹوئٹر پیغام میں گستاخانہ خاکوں کا مقابلہ منسوخ ہونے سے متعلق پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے پیغام پر رد عمل میں کہا ہے کہ مسلمانوں کی اخلاقی فتح کے دعوے میں اتنی جلد بازی کا مظاہرہ نہ کرو ،تمہاری بربریت مختلف طریقوں سے سامنے لاﺅں گاگیرٹ ویلڈرکایہ اعلان بتارہاہے کہ وہ اس حوالے سے اپنے عزائم سے بازنہیں آیاہے پھرہم کس بات کی خوشی منائیں ؟اس معاملے کی روک تھام کے لیے امت مسلمہ کوجرات مندانہ کرداراداکرناہوگا جب تک مقدس شخصیات کے حوالے سے بین الاقوامی سطح پرقانون سازی نہیں ہوتی اورامت مسلمہ اس مسئلے پرمتحدنہیں ہوجاتی اس وقت تک بے چینی اوراضطراب باقی رہے گا۔
چندسال پہلے کی بات ہے کہ برطانوی شہزادی اور چارلس کی بہو کیٹ میڈلٹن کی برہنہ تصاویر ایک فرانسیسی میگزین نے چھاپ دیں ۔ یہ برہنگی نہ تو برطانوی معاشرے میں معیوب تھیں اور نہ ہی کیٹ بی بی کے بیڈروم کی تصاویر تھیں۔ یہ تصاویر ان کے اپنے میاں ولیم کے ساتھ ایک پرانے فرانسیسی قلعہ کی بالکونی کی تھیں جہاں پر وہ کھلے عام سن باتھ لے رہی تھیں ۔ برطانوی و یورپی معاشرے میں پورے گروپ کا ایک ساتھ برہنہ ہونا بھی کوئی معیوب بات نہیں ہے ۔ اس واقعہ سے چنددن قبل قبل ہی انہی ولیم کے چھوٹے بھائی ہیری میاں کی ان کے دوستوں کے ساتھ برہنہ تصاویر بھی چھپ چکی تھیں ۔ اس سب کے باوجود فرانسیسی میگزین کی نہ صرف تمام کاپیاں ضبط کرلی گئیں بلکہ اس کے خلاف مقدمہ بھی کردیاگیا ۔ اس معاشرے میں یہ سب عام ہونے کے باوجود یہ سب کیوں کیا گیا ؟ صرف اس لیے کہ یہ برطانوی شاہی حکومت کے احترام کا معاملہ تھا ۔ شاہی خاندان کی حرمت کا معاملہ تھا ۔ یہ شاہی خاندان صرف چند کروڑ افراد کے لیے محترم ہے ۔ جبکہ یہاں پر ڈیڑھ ارب سے زائد افراد کے جذبات کا معاملہ ہے مگر کیٹ کے معاملے میں ان کا رویہ کچھ اور ہے اور انبیا کے معاملے میں کچھ اور ۔
آزادی اظہار کے نام پر اپنی ذہنی غلاظت کو مسلمانوں کے جذبات سے کھیلنے کے لیے الفاظ تحریر اور تصویر کا روپ دینے والے یہ انسانی بھیڑیے بنیادی انسانی اخلاقیات سے بھی عاری ہو چکے ہیں۔ یہ بے حیا اور بے رحم ذہنی مریض اپنی اس ذہنی غلاظت کو آزادی اظہار کا نام دے کر انسانیت کا منہ چڑاتے ہیں اور حیرت ہے ساری دنیا میں انسانیت کے ٹھیکے داروں کی این جی اوز جو کتوں بلیوں کے حقوق کے لیے مرنے مارنے پر تل جاتی ہیں۔ دنیا کے سب سے عظیم مذہب کے پیروکار دنیا کی دوسری بڑی آبادی کے جذبات کا احترام بھی انہیں نہیں آتا۔ شاید اس نوعیت کی درندگی کے حامل جانتے ہیں مسلمان آقائے نامدار صلی اللہ علیہ وسلم کی حرمت پر تو مرمٹنے کو تیار رہتے ہیں، لیکن وہ دیگر انبیائے کرام کی توہین کا تصور بھی نہیں کر سکتے ۔
محمدﷺ نام ہی ایسا مبارک ، متبرک اور معلی ہے کہ جس کے لیے صرف تعریفیں ہی تعریفیں،محبتیں ہی محبتیں ہیں۔ تاجدار مدینہ کے قدموں کی خوشبو ئیں بکھیرتی خاک کے صدقے کائنات میں برکتیں ہی برکتیں ،شفائیں ہی شفائیں ہیں۔عرش تافرش، مشرق سے مغرب، شمال تا جنوب صبح وشام اللہ کے بعد ایک ہی نام کی گونج ہے اور وہ ہے محمد صلی اللہ علیہ وسلم۔اللہ کریم اور فرشتے بھی جس ذکر پر ناز کریں وہ کتنا عالی شان ہو گا۔ ورفعنا لک ذکرک!
بعداز خدابزرگ توئی قصہ مختصر
چاند پر تھوکا منہ پر گرے گا۔ ہالینڈ کے دریدہ دہن کی یادہ گوئی خبث باطن کے سوا کچھ نہیں۔ چشم فلک نے نا جانے گیرٹ ویلڈرز ایسے کتنے حشرات الارض دیکھے ہوں گے جو اوندھے منہ گرے اور خاک کا رزق ہو گئے۔ ابولہب کا یہ فکری فرزند بھی ابتر ہی ٹھہرے گا۔
سوال یہ ہے کیا زبان درازی کسی مہذب انسان، خاندان، معاشرے، ملک کا خاصا ہو سکتا ہے؟ ہرگز ہرگز نہیں۔ بھونکنا صرف کتوں کا کام ہے۔ مادرپدر آزاد تہذیب کے اس آوارہ فکر سے کوئی پوچھے کہ برگزیدہ ہستیاں تو ہیں ہی مکرم، کسی عام سے آدمی کی توہین وتضحیک بھی کون سی آزادی اظہار رائے ہے؟ تم کیسے مخبوط الحواس لوگ ہو، ایک طرف جانوروں کے حقوق کے ٹھیکیدار بنے ہو، دوسری طرف تکریم انسانیت کے سب سے بڑے علم بردار پر کیچڑ اچھانے کی ناپاک جسارت کرتے ہو۔ یہ آزادی نہیں تمہارے اندر کا کینہ، تعصب اور بغض ہے۔ سیاہ دل، سیاہ رو لوگ! تمہارے ایسے بد طینت فتنہ پردازوں کی اوقات ہی کیا ہے؟ کہاں حضور اعلی۔۔۔۔ کہاں ایک تھرڈ کلاس ذہنی مریض رکن پارلیمنٹ!۔۔۔ان شانئک ہوالابتر!
گستاخانہ خاکوں کورکوانے کے لیے سوشل میڈیا پر اس کے مقابلے کے لیے طرح طرح کے علاج تجویز کیے گئے اورکیے جارہے ہیں ۔کبھی ان خاکوں کا الیکٹرونک ایڈریس دے کر کہا جاتا ہے کہ اس پر لعنت بھیج کر شیئر کریں اور اپنے ایمان کا ثبوت دیں ۔ کبھی کہا جاتا ہے کہ ہالینڈ کی مصنوعات کا بائیکاٹ کیا جائے ۔ پھر کہا گیا کہ ہولوکاسٹ یہودیوں کی کمزوری ہے ، سو اس کو پھیلایا جائے ۔ ہولوکاسٹ کی اس مہم میں معصومیت میں ہولوکاسٹ پر مبنی تصاویر اور وڈیو کلپ اس ہدایت کے ساتھ شیئر کرنے شروع کردیے گئے کہ اسے فارورڈ کرکے حب رسول کا ثبوت دیں ۔مذہبی جماعتیں بھی میدان میں آ گئیں ۔ کہیں پر آل پارٹیز کانفرنس ہوئی تو کہیں پر اسلام آباد کی طرف مارچ ۔جبکہ پاکستانی حکومت نے ڈچ نائب سفیر کو طلب کر کے دنیا بھر کے مسلمانوں کے دلوں کی ترجمانی کی ہے۔ قومی اسمبلی میں اس پر متفقہ قرار داد بھی منظور ہوئی ہے۔ وزیراعظم عمران خان نے نئے پاکستان کے لیے ریاست مدینہ کو رول ماڈل قرار دیا ہے تو امید ہے کہ وہ والئی مدینہ کے تقدس ، حرمت کی حفاظت کے لیے تمام مسلم ممالک کو ایک پلیٹ فارم میں جمع کرنے کی کوشش کریں گے۔ آزادی اظہارکے نام نہاد حق کو آڑ بنا کر مقدس شخصیات کی توہین کرنا مغرب کا مشغلہ بنا ہوا ہے۔ اس لیے اگر مسلم حکمران خواب غفلت سے بیدار نہ ہوئے اور سخت ردعمل کا اظہار نہ کیا تو عوامی احتجاج کا ہالینڈ پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ مسلم ممالک کی حکومتوں کو اس حوالے سے متحد ہونا چاہیے۔وزیراعظم کچھ روز میں اقوام متحدہ کے اجلاس میں شرکت کے لیے جارہے ہیں۔ انہیں چاہیے کہ وہاں بھی وہ اس مسئلے کو اٹھائیںاوردیگرمسلم ممالک کے ساتھ مل کرمقدس شخصیات کے حوالے سے اقوام متحدہ میں قانون سازی میں کرداراداکریں ۔
وزیراعظم پاکستان کی طرف سے قائم کی گئی اکنامک ایڈوائزری کونسل میںایک قادیانی کوشامل کرلیاہے اوریہ ایسے وقت میں کیاہے کہ جب حکومت گستاخانہ خاکے منسوخ کرانے کااعزازاپنے سینے پرسجارہی تھی اس حوالے سے سوشل میڈیاپرشدیدتنقیدکی جارہی ہے ،نہ جانے ہمار ے حکمرانوں کی کیامجبوریاں ہیں کہ وہ جب برسراقتدارآتے ہیں توقادیانیوں سے راہ ورسم بڑھانے میں ذرادیرنہیں لگاتے ہمارے پڑھے لکھے دانشوربھی اس حوالے سے غلط بیانی کرکے عوام کوگمراہ کررہے ہیں کہ غیرمسلموں کوعہدے دیے جاسکتے ہیں ہم کہتے ہیںکہ جی بالکل غیرمسلموں کوعہدے دیے جاسکتے ہیں مگرختم نبوت کے منکروں اورآئین پاکستان کونہ ماننے والوں کوکسی طورپربھی نوازانہیں جاسکتا امیدہے کہ حکومت اس حوالے سے سنجیدگی کامظاہرہ کرے گی اورقومی وملی جذبات کاحترام کرتے ہوئے اس کونسل سے قادیانی ممبرکوفارغ کرکے اپنی نیک نامی میں اضافہ کرے گی۔

Check Also

کاش بیگم کلثوم نواز زندہ ہوتی “

      ”کاش بیگم کلثوم نواز زندہ ہوتی “ یہ بہادر بیٹی کیوں رو ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *